×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اخبار کیا کہتا ہے

ارديبهشت 14, 1393 0 397

اخبارات معلومات کا ایک وسیع ذخیرہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ گائوں، گوٹھ، ضلع، شہر، ملک سے لے کر بین الاقوامی سطح پر تمام

تر معلومات کی فراہمی اخبارات کے ذریعے ممکن ہے۔ بعض افراد کا ماننا ہے کہ ٹیلی وڑن معلومات اور آگاہی حاصل کرنے کا زیادہ مؤثر اور فوری ذریعہ ہے۔

بلا شبہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن ٹیلی وڑن پر ایک بار دکھایا جانے والا کوئی معلوماتی پروگرام ہم بار با ر اپنی مرضی سے نہیں دیکھ سکتے، جبکہ اخبارات کا معلوماتی مواد ہم جب، جہاں، جیسے اور جتنی بار چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ اشاعت شدہ تمام تر معلومات ہم صدیوں تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اسکی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ قرآن مجید آج بھی ہمارے پاس اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اسکے علاوہ صدیوں پرانے مؤجدوں اور فلسفیوں کا کتابی ورثہ بھی آج کے دور میں دستیاب ہے۔

صحافت کا ایک بڑا حصہ انہیں اخبارات سے تعلق رکھتا ہے۔ جو کہ قدیم بھی ہے اور مرکزی بھی۔ صحافت اس بات پر زور دیتی ہے کہ ہر بات کو پورے حقائق کے ساتھ پیش کیا جائے۔ زبان سے کہے ہوئے الفاظ سے تو انسان مکر سکتا ہے لیکن تحریر شدہ الفاظ ثبوت بن جاتے ہیں۔ اخبارات کی اہمیت کا اندازہ مذکورہ تحریر سے باخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں کچھ اصطلاحات ایسی استعمال ہوتی ہیں جنہیں عام قاری سمجھنے سے قاصر ہے۔ بیشتر قارئین ایسے ہیں جو اخبارات صرف خبریں پڑھنے کی غرض سے خریدتے ہیں۔ بعد ازاں اس اخبار کو ردی کے قابل سمجھا جاتا ہے۔ جو کہ ہوٹلوں اور اشیاء￿  بیچنے والوں اور نہ جانے کہاں کہاں نظر آتا ہے۔

شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد اخبارات کی تحریروں کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ خبر کے ساتھ ساتھ تحاریر بھی اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔ ذیل میں اخبار کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ان کو الگ الگ بیان کیا جارہا ہے۔ تا کہ قارئین کو ایک اخبار اور اس سے متعلق دلچسپ معلومات سے آگاہ کیا جا سکا۔ کیوں کہ جب ہم اخبار کو پڑھیں تو ہمیں اندازہ ہو کہ ہم اخبار کے کس حصہ کو کس انداز میں پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ اس میں ایسے افراد کے لیے بھی اہم معلومات ہے کہ جو نئے نئے لکھنے والے یا ابھی اس میدان میں قدم رکھنا چاہتے ہیں۔

خبر ایک ایسا تحریری اور ریکارڈ یافتہ مضمون ہے جو عوام کو حالات حاضرہ، خدشات، خیالات اور حالیہ واقعات کے بارے میں آگاہی فراہم کرتا ہے۔ ہر وہ بات خبر ہے جو انسانی دلچسپی کا سبب بنے، جو ہمیں یہ بتائے کہ ہماری آس پاس کی دنیا میں کیا کیا نئے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آج کی خبر آج ہی عوام تک پہنچ جائے کیونکہ اگلے دن وہ خبر تاریخ بن جاتی ہے خبر نہیں رہتی۔ خبر عوام کے روز مرہ مسائل اور دلچسپیوں کے مطابق مجموعی نوعیت کی ہو، ناکہ کسی ذات یا کسی افراد مسئلہ کو اجاگر کیا گیا ہو،خبر میں تازہ ترین اور محقق مواد شامل ہونا ضروری ہے۔

مراسلہ عوام کی اظہار رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ مراسلہ نگار باقاعدہ اخبار کا ملازم نہیں ہوتا، بلکہ کوئی بھی عام آدمی مراسلہ لکھ سکتا ہے۔ یہ ایک مختصر اور سادہ سی تحریر ہوتی ہے جس کے لئے اخبار میں کوئی خاص جگہ مختص نہیں ہوتی۔ مراسلے کا عنوان آزاد ہوتا ہے یعنی موضوع کی مناسبت سے اسکا عنوان تجویز کیا جاتا ہے۔ مراسلہ اخبار کے مدیر کے نام عوام کے اجتماعی مسائل سے اخبار کے توسط سے حکامِ بالا کو آگاہ کرنے کے لئے تحریر کیا جاتا ہے۔ یہ ایک جانب دار تحریر ہے جو کہ بلا معاوضہ تحریر کی جاتی ہے۔
 
کالم ایک جانبدار اور آزاد تحریر ہے۔ کالم نگار کیلئے ضروری ہے کہ وہ باقاعدہ اخبار کا ملازم ہو یا عارضی بنیاد پر اخبار سے وابستہ ہو۔ کالم نگار اپنے کالموں میں صحافیانہ تجزیہ اور دانشورانہ تبصرہ پیش کرتے ہیں۔ کالم نگاروں کی ادارتی صفحہ پر اپنی اپنی مستقل جگہ متعین ہوتی ہے۔ کالم نگار بہ عوض معاوضہ کالم تحریر کرتا ہے۔ کالم ایک مستقل عنوان اور ایک ذیلی عنوان پر مشتمل ہوتا ہے۔ کالم رائے عامہ کی تشکیل میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ عموماً سنجیدہ طبقے کے افراد کالم کے مخصوص قارئین میں شمار ہوتی ہیں۔

اداریہ ایک سنجیدہ ، مدبّرانہ اور مدلّل تحریر ہے۔ اداریہ اخبار کا مدیر یا مدیران حالات حاضرہ سے متعلق ملک و قوم کے حوالے سے اہم ترین موضوع پر تحریر کرتا ہے۔ اداریے کی اخبار میں ایک خاص جگہ متعیّن ہے۔ مدیر یعنی اداریہ نویس باقاعدہ اخبار کا تنخواہ دار ملازم ہوتا ہے۔ اداریہ ایک غیر جانبدار تحریر ہے جو کہ اخبار کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اداریہ سنجیدہ طرزِ فکر کے لوگوں میں زیادہ مؤثر حیثیت رکھتا ہے جو کہ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں۔

شذرہ کہتے ہیں جو اداریے میں ہی کچھ الگ موضوع پر بحث کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے مضمون لکھے ہوتے ہیں۔ شروع صحافت میں تو صرف ایک اداریہ ہی ہوتا تھا مگر بعد میں مختلف موضوعات کو سمیٹنے کے لئے شذرات کی ضرور پڑنے لگی، جو کہ اداریے میں شمار ہوتے ہیں۔

مضمون شعبہ ہائے زندگی پر گہری نظر رکھنے والے مشہور شخصیات کی جانب سے لکھی جانے والی تحریر کو کہتے ہیں۔ مضمون میں عموماً عام موضوعات کا احاطہ کیا جاتا ہے ،اسکا کوئی مخصوص موضوع نہیں ہوتا۔ ہر وہ شخص مضمون تحریر کر سکتا ہے جو کسی بھی موضوع کے بارے میں گہری جانکاری اور الفاظ کا ذخیرہ رکھتا ہو۔مضمون اور کالم میں فرق ایسے ہے جیسے موسمی پھول اور صدا بہار پھولوں میں فرق ہوتا ہے۔ کالم حالات حاضرہ پر لکھے جاتے ہیں جبکہ مضمون میں ایسے موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا ہے کہ جو کبھی بھی لکھے جاسکتے ہیں۔

فیچر ایک طویل اور دلچسپ تحریر کو کہتے ہیں۔ جو کم سے کم3 ہزار اور زیادہ سے زیادہ5 ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں موضوع کے ان تمام پہلوؤں کی پلک نوک سنوار کر پیش کیا جاتا ہے جن پہ کسی کی خاص توجہ نہ ہو۔ فیچر نگار ایسا طرزِ تحریر اختیار کرتے ہیں جو جاذبِ نظر ہو۔ فیچر ایک جامع اور محقق تحریر ہے۔ فیچر نگار کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک تحقیق کرنے والا شخص ہو، چاہے صحافی ہو یا غیر صحافی۔

بظاہر تو ہر تحریر ایک دوسرے سے منفرد نظر آتی ہے لیکن اہمیت کے اعتبار سے ہر تحریر یکساں اہمیت کی حامل ہے۔ امید ہے کہ یہ تمام تر معلومات قارئین کیلئے کسی بھی اخبار کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو گی۔
تحریر: حافظہ حمنہ خان

Last modified on سه شنبه, 06 خرداد 1393 13:06

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.