×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

پاکستان : دہشت کی ان کہی داستان

ارديبهشت 20, 1393 0 387

یہ خوف اور دہشت کی وہ داستان نہیں جو عام ہیں۔ وہ دہشت جس میں عموماً دھماکوں کا ذکر ہوتا ہے، نہ دریافت ہونے والے سر کا

یا بکھرے اعضا کا اور نہ ہی انسانی گوشت کے ٹکڑے یہاں آپ کو نظر آئیں گے۔ یہ سب کچھ ایک لائبریری میں شروع ہوا اور یہ وہ لائبریری بھی نہیں جو القاعدہ کے رہنما کے نام سے منسوب ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اس طرح کی روایتی دہشت کی داستانوں کیلئے بہت جگہ ہے اور گنجائش بھی لیکن اس کہانی کے لئے کوئی آوازموجود نہیں۔

دہشت اور بربریت کا مرکزی اسٹیج پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ ان جامعات میں ہزاروں افراد امید لئے آتے ہیں، امتحانات میں بیٹھتے ہیں اور اچھی ملازمتوں کا خواب لئے یہاں سے رخصت ہوتے ہیں۔

سرسبز لان کے درمیان اس کے کئی کیمپس ہیں جہاں ہزاروں لڑکیاں پڑھتی ہیں۔ ان کی کارکردگی مرد طالبعلموں کے مقابلے میں کئی گنا بہتر بھی ہے لیکن اب تک اس بارے میں بہت کم تجزیے یا مطالعے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں خواتین کی بالادستی کے حقائق کو ذیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ جہاں تک بات ہے لڑکیوں کی انہیں ملک کی تقسیم اور تفریق کے اس ماحول میں مخلوط تعلیم کے حامل کیمپس میں خود کو بچانے کیلئے مختلف حکمتِ عملی اپنانا پڑتی ہے۔

بعض کو اسکارف پہننا پڑتا ہے تو کچھ چہرے پر سنجیدگی رکھتی ہیں، بعض خود کو کپڑوں میں لپیٹے رکھتی ہیں۔ تعلیم کے حصول میں انہیں جو بھی کام کرنا پڑے وہ ہر جگہ سمجھوتے کا راہ اپناتی ہیں۔ خواہ انکار کرتے ہوئے والدین ہوں، چیختے چلاتے کلرک ہوں، ہراساں کرتے ہوئے مرد طالبعلم یا تفریق رکھنے والی انتظامیہ ہو۔

ان تمام پس منظر کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اۤٹھائے ایک نوجوان خاتون طالبعلم یونیورسٹی میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز کی لائبریری میں گئی۔

وہ خزاں کا ایک عام سا دن تھا جبکہ وہ بھی ایک عام سی لڑکی تھی۔ اکثر طالبعلموں کی طرح اسے بھی ریسرچ مواد کی ضرورت تھی۔ ایک پیپر میں حوالہ جات کیلئے اسے تحقیق کرنا تھی اور اسکے لئے لائبریری معاون ثابت ہوسکتی تھی۔

اسی مقصد کو ذہن میں لئے وہ لائبریری کے ایک اسٹاف ممبر کے پاس پہنچی۔ اس نے بتایا کہ اس موضوع کی اکثر کتابیں لائبریری کی دوسری جانب سیکنڈ فلور پر موجود ہیں۔

وہاں پہنچ کر اس نے خاتون پر جنسی حملہ کیا۔

وحشت بھری دہشت کی اس داستان میں جرم کی شکار لڑکی زندہ درگور ہوگئ ۔ اب اگروہ انتظامیہ کے پاس جاتی تو اسے اپنی شناخت بتانی پڑتی۔ اپنی شناخت بتانے پر اسے پاکستان میں ریپ کی شکار ہونے والی تمام خواتین کی طرح بے غیرتی اور الزام تراشی کے دہکتے ہوئے انگاروں پر گھسیٹا جائے گا۔ کتابوں میں لکھا قانون ہے کہ پہلے وہ چار عینی گواہ پیش کرے۔ باقی کیسوں کی طرح یہ بھی ایک اس کے لئے ایک ناممکن بات تھی۔

پھر آواز اٹھانے والی کالج کی لڑکیوں کی دلخراش کہاںیوں نے اسے چوکنا کردیا۔ گزشتہ سال کالج سے گھر آنے والی ایک لڑکی کو ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور بعد میں ایک پولیس اسٹیشن کے سامنے اس نے خود کو آگ لگا لی تھی۔ اس کا ریپ کرنے والا ہر شخص ایک کے بعد ایک رہا ہوتا گیا۔ ایسی بہت سی کہانیاں ہیں اور ہر پاکستانی لڑکی اس سے واقف ہے۔

اس قسم کے خوفناک عمل جو لائبریریوں میں ہوتے ہیں، یا مصروف دفاتر کے نامانوس کونوں کھدروں میں پلتے ہیں، انہیں دھمکیوں ، شرمندگیوں اور خوف کے رکاوٹوں سے برتا جاتا ہے لیکن یہ فائرنگ اور بمباری جیسے واضح اور زوردار دہشتگردی کی کارروائیوں کے مقابلے میں کئی گنا ذیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

یہ مرض نظر نہیں آرہا لیکن انکار کرنے والے اس ملک کو اندر سے کھا رہا ہے۔ پاکستانی لڑکیوں کیلئے جو بھی راستہ رہ جاتا ہے وہ بد ترین ہے، لب کھولو اور خوفناک سزا کیلئے تیار رہو یا پھر خاموش رہ کر اندر گھٹ گھٹ کر مرتے رہو۔

لڑکیاں کبھی اپنی یہ کہانی کسی کو نہیں سنا پاتیں، وہ الگ تھلگ رہتی ہیں ۔ ان میں سے کتنی ہی خبیث لائبریرین کا شکار ہوئیں، کتنی ہی ہوس ذدہ باس سے آلودہ ہوئیں اور مجرم پروفیسر کے ہتھے چڑھیں ۔ اب نہ جانے کتنی سینکڑوں ہزاروں اسی جرم کے ہاتھوں تکالیف اور اذیت سہتی رہیں گی۔

Last modified on یکشنبه, 28 ارديبهشت 1393 13:06

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.