×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کنگ میکر کہلانے والا مسلمان پیس میکر بھی نہ بن سکا

خرداد 01, 1393 0 349

  الکشن کے زمانے میں ہر سیاسی پارٹی کو مسلمانوں کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ انکے لیے سبھی فکر مند نظر آتے ہیں ۔مسلمانوںکے

ساتھ آزادی کے بعد سے ابتک جتنی زیادتیاں ہوئی ہیں وہ سب یاد آجاتی ہیں ۔ اس بار بی جے پی اور آر ایس ایس نے بھی مسلمانوں کی اہمیت کو محسوس کیا اور انکی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ مسلمان ایک ووٹ بینک ہے ۔ وہ ہمیشہ کنگ میکر رہا  ہے ۔جسکی طرف نظر اٹھا دیا وہ بادشاہ بن گیا ۔ آزادی کے بعد سے مرکز میں کانگریس کو اقتدار کی کرسی تک پہنچانے میں مسلمانوں کا سب سے بڑا ہاتھ رہا ہے ۔ اتر پردیش ، بنگال اورکیرل جیسے صوبہ میں بھی مسلمان کنگ میکر کی حیثیت رکھتا ہے ۔مایاوتی کی طرف سے نظریں پھیر لیں تووہ عرش سے فرش پر آگئیں ۔ اقتدار سماجوادی کے ہاتھ میں آگیا ۔ ممتابنرجی کی طرف مسلمان جھک گیا تو کمیونسٹ پارٹی کا سورج ڈوب گیا ۔ بنگال میں برسوں سے حکومت کرنے والی پارٹیاں آج اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی ناکام کوشش کررہی ہیںیہ صرف اس لیے ہوا کہ مسلمانوں نے انکی طرف سے رخ پھیر لیا۔   
    موجودہ پارلیمانی الکشن میں مسلمانوں کا کیا کردار رہا یہ ایک اہم سوال ہے ۔کنگ میکر کہلانے والا مسلمان آج جس مقام پر کھڑا ہے وہ تشویشناک ہے ۔ پورے اترپردیش سے نہ توکوئی مسلمان پارلیمنٹ پہنچ سکا نہ بی جے پی کے امیدوارکو جیتنے سے روکنے میںکامیاب ہوا۔ بی جے پی کو ہرانے والی حکمت عملی بر ی طرح فیل ہوگئی۔ بھاری اکثریت سے بی جے پی اقتدار میں آگئی ۔اترپردیش میں جہاں دس سیٹ بھی لانا بی جے پی کے لیے مشکل ہوجاتا تھا وہاں ۷۱ سیٹوں پر قبضہ کر لینا اس بات کا پیغام ہے کہ اگر مسلمان بی جے پی کو ہرانے کے لیے متحد ہوسکتا ہے تو ہر طبقے اور فرقے کا ہندو بھی بی جے پی کو جتانے کے لیے ایک جُٹ ہوسکتا ہے ۔
    ہر سیاسی پارٹی نے مسلمانوں کو بی جے پی کے خلاف استعمال کرنے کی ہمیشہ کوشش کی ۔انکے ذہن میں ہر الکشن میں یہ ڈال دیا جاتا کہ بی جے پی اقتدار میں آگئی تو غضب ہوجائیگا ۔ہمیں ووٹ دیدو ہم تمہارے خدا بن کر تمہاری حفاظت کریں گے ۔ایک خدا پر یقین رکھنے والا مسلمان الکشن میں اپنے عقائد بدلتا رہا ۔ کبھی کانگریس پر بھروسہ کیا تو کبھی سماجوادی کے ذمہ اپنی حفاطت سونپ دی تو کبھی مایاوتی مسلمانوں کی نجات دہندہ بن گئیں ۔مسلمانوں کی اکثریت بی جے پی سے پرہیز کرتی رہی اور بی جے پی صوبوں کی کمان سنبھالتے ہوے مرکز تک پہنچ گئی ۔مسلمانوں نے کبھی اس بات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیاکہ انکے عدم تعاون کے بعد بھی جہاںبی جے پی اقتدار میں آئی اس نے مسلمانوں سے بدلے کارویہ اختیار نہیں کیا ۔ مسلمانوں نے کبھی یہ بھی نہیں سوچا کہ انکے ووٹ کی قیمت اس سے زیادہ نہیں لگائی گئی کہ وہ بی جے پی کو ہرادیگااورہمیں کامیاب بنا دیگا ۔ دوسری قوموں کی طرح مسلمانوں کو یہ سوچنے نہیں دیاگیا کہ ہماراووٹ ہندوستان کو کہاں لے جائیگا ؟ ہماری اپنی قوم کی ترقی کس طرح ہوگی ؟ ہمارے ووٹ کی قیمت بی جے پی کے خوف سے نجات کے علاوہ کچھ نہیں رہی ۔
    مولوی صاحبان بی جے پی کو ہرانے کی اپیل کے بہانے سیاسی پارٹیوںسے قربتیں حاصل کرنے لگے ۔ مولانا ارشد مدنی نے کھل کر اگر کسی کو ووٹ دینے کی اپیل نہیں کی تو فرقہ پرست اور سیکولرامیدوار کہہ کر یہ واضح کردیا کہ بی جے پی کوووٹ نہیں دینا ہے ۔خود کو شاہی امام کہلانے والے سید احمد بخاری نے باقاعدہ کانگریس کی حمایت کی ۔ مولانا توقیر رضا نے بی ایس پی کی صرف حمایت کا اعلان نہیں کیا بلکہ سماجوادی کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف شہروں کے دورے بھی کیے ۔مولانا کلب جواد نے کانگریس کے خلاف محاذ کھول دیا ۔ اسطرح مولوی صاحبان نے مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کراکے جہاں مسلمانوں کو بے وقعت بنا دیا وہیں بی جے پی کی جیت کاراستہ بھی آسان کردیا ۔مسلمانوں نے جسکو ووٹ دیا اس پارٹی کو جتا نہ سکے جسکو نہیں دیا اسکو ناراض کردیا ۔اور جس بی جے پی کے خلاف ووٹنگ کی اسکو روکنے میں کامیاب بھی نہیں ہوے ۔نتیجہ یہ نکلا کہ جو مسلمان ابھی تک کنگ میکر کہلاتا تھا وہی مسلمان اس الکشن میں پیس میکر کا کام بھی نہ کرسکا جو تھوڑی مدت کے لیے دل کو چلا نے کام کرجاتا ہے ۔
  منظرمہدی فیض آبادی  صدر اردو پریس ایسو سی ایشن

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.