×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

بچوں میں تشدد کا عنصر..

May 29, 2014 449

آپ ذرا تصور کیجئے 30 سے 35 بچوں کی کلاس جن کی عمریں تقریباً 15، 16 سال کے درمیان ہیں۔ بڑے آرام و سکون سیاپنی کلاس روم

میں اپنی پیاری سی استانی ٹیچر جنہوں نے اپنی ساری زندگی بچوں کی تعلیم و تربیت میں گزار دی۔ اب صرف چند قدم یعنی کہ چند برس بعد وہ ٹیچر جیسے مقدس پیشے سے ریٹائر ہونے والی تھی۔ کلاس میں ایک بچہ جو کسی بات پر اپنی ٹیچر سے خفا تھا اٹھا چاقو نکالا اور پے در پے وار کرکیاپنی پیاری ٹیچر کو ہمیشہ کیلئے موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ٹھیک ہے بچہ گرفتار ہوگیا کیس چلا کم عمر کا فائدہ بچے کو پہنچے گا۔ سزا میں تھوڑی کمی واقع ہوگی۔ یا پھر بچے کو کسی چھوٹی بچوں کی جیل میں رکھاجائے گا۔ مگر ہم اس عظیم ٹیچر کو واپس نہیں لاسکتے۔ جس نے پوری زندگی بچوں کو دے دی۔ یہ واقعہ برطانیہ کے تیسرے بڑے شہر لیڈز میں پیش آیا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ایک ہی واقعہ کو بنیاد بنا کرمختلف قسم کے مرضی کے نتائج اخذ کر لیتے ہیں۔ خداناخواستہ یہ واقع کسی ٹروجن ہارس کے متاثرہ سکول میں ہوتا تو سختی آجاتی۔ پالیسیاں تک تبدیل ہوجاتی۔ یا کسی اسلامک سکول میں ہوتا تو تمام تر قلابے افغانستان میں طالبان کیساتھ ملائے جاتے۔لیکن چونکہ یہ واقعہ اکثریتی سفید کمیونٹی کے سکول میں پیش آیا اس لئے معمول کی کارروائی، پولیس سرچ، عدالتی کارروائی ہوگی۔ آج کل کرتے کرتے دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوتے جائیں گے۔
اپنی نوعیت کا یہ واحد واقع نہیں بلکہ برمنگھ میں چھرا، چاقو، گھونپنے کے تین واقعات گزشتہ ایک برس میں پیش آچکے ہیں۔ جن میں پندرہ سے اٹھارہ برس تک کے بچے شامل تھے۔ چھوٹے چھوٹے اختلافات کوبنیاد بنا کر چھرا گھونپنا بچوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ چند برس قبل بھی ڈڈلی میں روحانی پیشوا حاجی عبداللہ عتیق صاحب پر بالکل اسی طرح حملہ ہوا تھا۔ مگر رب تعالیٰ نے انہیں نئی زندگی عطا کی انہیں گہرے زخموں سے جو جان لیوا تھے بچ گئے۔ ہم حملہ آور کو پاگل، دیوانہ یا جنونی کہہ کر ہاسپٹل سے رپورٹ لیکر کسی دوسرے کی جان لینے کیلئے پھر کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔
جب بچے پرتشدد کاروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں تو والدین کو الزام دیا جاتا ہے کہ والدین نے اچھی تربیت نہیں کی۔ والدین بے چارے کیا کریں جب بچہ یا بچی تین برس کے ہوتے ہیں تو پری نرسری بھیج دیا جاتا ہے۔ پھر 18 کے ہوکر سکول کالج اور یونیورسٹی کا طویل سفر طے کرکے جب گھر واپس آجاتے ہیں تو الٹا والدین کو سمجھاتے ہیں کہ اب ماڈرن دور ہے، آپ پرانے زمانے کے ہیں۔ آپ کو پتا نہیں۔ بچپن میں جس بیٹے کو باپ انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے بڑا ہوکر وہی بچہ والدین کو پرانے زمانے کا کہہ کر جھڑک دیتا ہے۔ بات دور نکل گئی۔ اصل موضوع تھا کہ بچوں میں تشدد کا عنصر کس طرح پید اہوتا ہے۔ آپ اگر ایک نظر بچوں کے کھلونوں، کمپیوٹر گیم، بچوں کیلئے انٹرنیٹ، TV پروگراموں، کتابوں، پوسٹروں پر چھری چاقو کے کارٹون، نمونے کمپیوٹر گیم میں ایک کلک سے چلنے والی گن جو ہزاروں گولیاں اپنے ہدف پر لگاتی ہے۔ بچے چونکہ معصوم ذہن کے مالک ہوتے ہیں ان کے دل سفید کاغذ کی مانند ہوتے ہیں۔ ان پر جو لکھا جائے ان کے کردار سے وہی سامنے آتا ہے۔ اگر والدین بچوں کو بہتر مستقبل کی خاطر انہیں تھوڑا بہت جھڑک دیں۔ پھر تو سوشل ورکروں کی آنے کی دیر ہے۔ پھر معاملہ آپ کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ بچوں کا سب سے بڑا ہمدرد تو ان کا خاندان والدین ہوتے ہیں سوشل ورکروں کی بزنس ہے۔ جتنے بچے ان کے پاس زیر کفالت ہوں گے وہ اس سے کئی زیادہ پیسے کلیم کریں گے۔ سوشل ورکروں یا پھر سوشل میڈیا کی مار پڑی کوئی کوئی اٹھ کھڑا نہیں ہوسکتا ہے۔ انہیں تو مادر پدر آزادی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کمپیوٹر جنریشن کے پروان چڑھنے میں تھوڑی تربیت باقی بھی کریں وگرنہ نئی جنریشن ہر کسی کو کمپیوٹر گیم کی طرح ٹریٹ کریگی۔ ابھی تو تشدد کا عنصر ہے۔ مستقبل میں معاشرے کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے۔
 آصف محمود براہٹلوی … برمنگھم

Login to post comments