×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ایک شریف سیاستداں کی موت

خرداد 16, 1393 0 340

مرکزی وزیر اور  بی جے پی کے سینئر لیڈر گوپی  ناتھ منڈے کی آج صبح دہلی میں سڑک حادثہ میں موت نہ صرف بی جے پی کا بلکہ ملک کا

ایک عظیم نقصان ہے ۔ جو لوگ  سیاست میں شرافت انکساری ، خدمت اور سبھی کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت کی  قدر کرتے ہیں ان سب کو منڈے جی کی اس نا وقت موت  سے صدمہ پہنچا ہے ۔ منڈے جی  مہاراشٹر کے مسلم  ارتکاز والے حلقہ بیڑسے پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوتے رہے ہیں وہ سابقہ  پارلیمنٹ میں بی جے پی کے ڈپٹی   لیڈر بھی تھے ۔ بی جے پی  کے اہم لیڈر ہوتے ہوئے بھی منڈے جی نے کبھی فرقہ وارانہ  سیاست نہیں کی اس وجہ سے وہ اپنے حلقہ میں سبھی طبقوں میں یکساں طور سے مقبول تھے ۔ گذشتہ پارلیمنٹ میں اردو اخبارات کے  حالات پر جب اسپیکر صاحبہ نے خصوصی بحث کی اجازت دی تھی تو اس وقت اردو کی حمایت میں آنجہانی  گوپی ناتھ منڈے اور شتروگھن سنہا نے زبردست تقریر کی تھی اور حکومت کو مجبور کردیا تھا کہ وہ اردو اخبارات کے حالات سدھارنے کے لئے قدم اٹھائے  ۔ مسٹر پرنب مکھرجی کی قیادت میں اس  سلسلہ میں ایک کمیٹی بھی بنی تھی  لیکن ان کے راشٹرپتی بھون منتقل ہونے کے بعد یہ کمیٹی اپنی موت مر گئی تھی  ۔ مہاراشٹر سے اظہر الدین شیخ صاحب نے  فیس بک میں اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ بی اے ایم یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے قیام کا45 سال پرانا مطالبہ  منڈے جی کی کوششوں سے پورا ہوا تھا ۔
 آنجہانی گوپی  ناتھ  منڈے کو نئی سر کار میں دیہی وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور یہ ان کی پسند اور خواہش کی وزارت تھی وہ گاؤں کے رہنے والے تھے اور سیاست میں اتنی بلندی پر پہنچنے کے بعد بھی گاؤں سے اپنا رشتہ نہیں  توڑا تھا۔ گاؤں ، کسان کاشتکاری دیہی صنعت مویشی پر وری وغیرہ  میں ان  کی  ذاتی دلچسپی تھی انہوں نے وزارتی   ذمہ دارایاں سنبھالنے کے بعد سابقہ حکومت کی دیہی روز گار گارنٹی  اسکیم کو  مزید فعال اور موثر بنانے کا عندیہ ظاہر کیا تھا  اور امید تھی کہ ان کی قیادت میں نہ  وزارت نہ صرف دیہی بیروز گاری دور کرنے میں معاون ہوگی بلکہ اثاثوں کی تشکیل پیدا وار میں اضافہ کا بھی ذریعہ بنے گی ۔ آج جب کارپوریٹ باؤسیز کی نازبرداری اور ان کے مفاد کے تحفظ کو ہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی مانا جانے لگا ہے ایسے میں منڈے جیسے دیہی معیشت کے لئے فکر مند لیڈروں کا چلا جانا ایک سانحہ سے کم نہیں ہے۔
 آنجہانی گوپی ناتھ منڈ ے سابقہ شیو سینا بی جے پی اتحاد حکومت میں مہاراشٹر کے  نائب وزیر اعلیٰ  تھے اور اس بار بی جے پی انہیں وزیر اعلیٰ کے طور پر پرو جیکٹ کرکے مہاراشٹر کے انتخابی دنگل میں اترنے کی تیاری کررہی تھی ۔ وہ پارٹی کے ایک دوسرے  سینئر لیڈر آنجہانی پر مود مہاجن کے قریبی عزیز تھی ان کی موت بھی بہت درد ناک حالات میں ہوئی تھی خود ان کے چھوٹے  بھاتی نے ہی انہیں گولیوں سے بھون دیا تھا  جس کی  بعد میں جیل کے اسپتال  ہی میں موت ہوگئی تھی  ۔
بتایا جاتاہے کہ آنجہانی گوپی ناتھ منڈے جو چند دنوں  قبل ہی پہلی بار مرکزی کابینہ میں شامل ہوئے اپنے انتخابی حلقہ میں ہونے والے ایک استقبالیہ ریلی میں شرکت کے لئے  آج صبح دہلی کے اپنے گھر سے ہوائی اڈہ کے لئے روانہ ہوئے تھے  ۔ تھوڑی  دور پر ہی دہلی کے پر تھوی راج روڈ پر غلط سمت سے آئی ایک انڈیکا کارنے ان کی کار کو ٹکر مار دی جس سے بظاہر انہیں کوئی  چوٹ نہیں لگی انہوں نے ڈرائیور سے پانی مانگ کر پیا اور اسپتال چلنے کو کہا انہیں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ  لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا ۔ پوسٹ  مارٹم رپورٹ کے مطابق حادثہ  سے ان کے اندرونی  چوٹ لگی تھی  اور اندر ہی خون بہنا شروع ہوگیا تھا لیکن موت حادثہ کے بد  پڑے دل کے دورہ سے ہوئی۔ انڈیکا جیسی چھوٹی گاڑی سے ایسا خطر ناک  حادثہ اور وہ بھی اسی سمت جس طرف منڈے جی بیٹھے تھے کئی سوال کھڑے کررہا ہے ۔ ان کے اہل خانہ نے واقعہ کی سی بی آئی جانچ کی  مانگ کی ہے ۔ انڈیکا کا ڈرائیور گرفتار کرلیا گیا ہے اور پولیس اس سے پوچھ گچھ کررہی ہے  ۔ معاملہ کی گہرائی سے جانچ ضروری ہے کیونکہ اتنی صبح غلط سمت سے آئی  گاڑی کی ٹکر کئی سوال تو کھڑے ہی کرتی ہے۔
 منڈے جی کا انتقال ایک قومی سانحہ ہے۔ اردو اپنے ایک محسن سے اور ملک ایک شریف سیاستداں سے محروم ہوگیا ۔ ان کی  آتما کو شانتی ملے اور اہل خانہ کو صبر و تحمل اس دعا کے علاوہ اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے۔
(عبید اللہ ناصر)
(مضمون نگار روزنامہ’ قومی خبریں‘  لکھنؤ کے ایڈیٹر ہیں)

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.