×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

تین خبروں کی ایک کہانی!

خرداد 27, 1393 0 449

فلیپنس کے ایک وکیل اور سیاستدان ایلیکزینڈر لیکسن نے اپنی مشہور کتاب '12 لٹل تھنگ ایوری فلپنو کین ڈو ٹو ہیلپ اور کنٹری 'میں

فلپنس کو عروج پر پہنچانے کے لئے' حب الوطنی 'کے جو 12 ذرائع سجھائے ہیں، ان میں پہلا ہی ذرائع ٹریفک قوانین کے بارے میں ہے. وہ کہتے ہیں کہ 'ٹریفک قوانین ملک کے سب سے زیادہ عام بنیادی قوانین میں سے ہیں اور اگر ہر فلپنی انہیں ماننے لگے تو ملک میں کم سے کم ایک بنیادی سطح کا قومی نظم و ضبط ہم دیکھیں گے اور اسکول کی یہ ثقافت کسی بھی قوم کی  بنیاد ہوتی ہے! '

تین خبریں! تین حادثہ! ایک ملک! اور ملک کا ایک سچ! تین پہلو! ملک کے لئے نہ یہ حادثہ نئے ہیں اور نہ ان حادثوں کے آئینوں میں دکھنے والا سچ! اس بار فرق یہ ہے کہ یہ تین خبریں تقریبا ًایک ساتھ، ایک ایک کر کے آئی ہیں. ذرا ان کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھئے کہ کیسی تصویر بنتی ہے؟ اور کیا اس تصویر کو بدلے بغیر ترقی کا کوئی خاکہ بن سکتا ہے؟ کیا ترقی کا مطلب صرف جی ڈی پی، سڑک، لگزری کاریں، میٹرو اور شاپنگ مال ہی ہوتا ہے؟ یہ سب ہے، لیکن سوچ تیار نہیں، تو تہذیب کے پائیدان پر آپ کو بہت نیچے، بہت پسماندہ ہی پائے جائیں گے!

پہلی خبر. دہلی میں سڑک حادثہ میں مہاراشٹر بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی دیہی ترقی وزیر گوپی ناتھ منڈے کا انتقال. حادثات پر کسی کا بس نہیں ہیں. کبھی بھی ہو سکتے ہیں. لیکن جس حادثہ نے منڈے کی جان لے لی، اس کی ایک ہی وجہ تھی. بہت چھوٹی! اتنی چھوٹی کہ اسے نہ تو دہلی کے لوگ کچھ مانتے ہیں اور نہ ہی پولیس! کسی ایک ڈرائیور نے لال بتی کی پرواہ نہیں کی! کیوں؟ اس لئے کہ کیا ہوگا، اگر بتی پار کر گئے؟ زیادہ سے زیادہ سو روپیہ کا جرمانہ! ہوتے کیا ہیں سو روپیہ! اول تو پکڑے ہی نہیں جائیں گے اور اگر غلطی سے پکڑ بھی لئے گئے تو سو روپے پھینکیں گے اور نکل جائیں گے! اور جب چوراہے پر چالان کاٹنے والا پولیس کا بندہ ہی نہ ہو، تب کاہے کی لال بتی! حالت یہ ہے کہ جو اکا  دکا لوگ ٹریفک کے قوانین مان کر چلتے ہیں، انہیں لوگ بے وقوف کے خطاب سے نوازتے ہیں! دہلی اور بڑے شہروں میں تو پھر بھی صرف دن کے وقت ٹریفک پولیس کی موجودگی سے لوگ تھوڑا   بہت قائدے سے چل لیتے ہیں، لیکن ملک کے باقی حصوں میں تو نہ دن، نہ رات، ٹریفک قوانین نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے! کیونکہ اصول خیال اور ڈسپلن رہنا شاید ہمارے ثقافت میں نہیں ہے. ویسے بڑا ثقافتی ہے یہ ملک!


اب نتن گڈکری جی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ٹریفک کے سخت قوانین بنائیں گے، امریکہ، کینیڈا، انگلینڈ، جرمنی، جاپان اور سنگاپور کے قوانین کو دیکھا جا رہا ہے، ہمارے قانون اب ان سے نرم نہیں ہوں گے! کاش، یہ عقل ایک وزیر کی جان گنوائے بغیر ہی آ گئی ہوتی! لیکن کیسے آتی! جب تک کوئی بڑا واقعہ نہ ہو، تب تک کسی کے کان پر کوئی جوں نہیں رینگتی! چلئے دیر آئے، درست آئے! قانون تو بن جائے گا، لیکن عمل کیسے ہوگا؟ کون کرائے گا؟ کون کرے گا؟

کہیں دیکھ رہا تھا، کسی نے دلچسپ تبصرہ کیا ہے کہ اگر بھارت میں لوگ صرف ٹریفک قوانین ماننے لگ جائیں تو ملک خود ہی بہت ترقی کر جائے گا! ٹھیک یہی بات فلپنس کے ایک وکیل اور سیاستدان ایلیکذینڈر لیکسن نے اپنی مشہور کتاب '12 لٹل تھنگ ایوری فلپنو کین ڈو ٹو ہیلپ  اور کنٹری 'میں لکھی ہے. فلپنس کو عروج پر پہنچانے کے لئے انہوں نے 'حب الوطنی' کے جو 12 ذرائع سجھائے ہیں، ان میں پہلا ہی ذرائع ٹریفک قوانین کے بارے میں ہے. وہ کہتے ہیں کہ 'ٹریفک قوانین ملک کے سب سے زیادہ عام بنیادی قوانین میں سے ہیں اور اگر ہر فلپنی انہیں ماننے لگے تو ملک میں کم سے کم ایک بنیادی سطح کا قومی نظم و ضبط ہم دیکھیں گے اور اسکول کی یہ ثقافت کسی بھی قوم کی قسمت ہوتی ہے! 'تو گڈکری جی، سخت قانون بنائیے، اچھی بات ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ لوگوں میں یہ ذمہ داری پیدا کی جائے کہ وہ قانون ماننے لگیں!

دوسری خبر. بدایوں میں عصمت دری کے بعد دو بہنوں کا پھانسی پرلٹکا کر قتل! رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ ہے یہ. لیکن اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے وہ بے حیائی کی باتیں جو اکھلیش - ملائم خاندان کی طرف سے کہی جا رہی ہیں. ملائم تو پہلے ہی اپنی انتخابی جلسوں میں یہ 'معصوم' دلیل دے چکے ہیں کہ 'لڑکوں سے  غلطی سے ہو جاتی ہے.' اب ملائم جی کہہ رہے ہیں کہ اتر پردیش میں 'ڈر' لگتا ہے تو جا کر دہلی میں رہو! ان کے بیٹے جی کہہ رہے ہیں کہ عصمت دری کوئی خالی اتر پردیش میں ہی تھوڑے ہی ہوتی ہے. گوگل کر کے دیکھ لو، کہاں کہاں عصمت دری ہوتی ہے، اس پر کیوں نہیں لکھتے؟ اتنی بے حسی، اتنی غیر  ذمہ داری اور اتنی بے شرمی! سب کو معلوم ہے کہ اتر پردیش میں تو اب شاید قانون نام کی کوئی چیز رہ ہی نہیں گئی ہے. لیکن وزیر اعلی اور ان کے خاندان کو کوئی پرواہ نہیں! حیرت ہے کہ انتخابات میں ہوئی کراری شکست کے باوجود کوئی پرواہ نہیں! لیکن اس معاملے میں وہ اکیلے نہیں ہیں. تمام پارٹیوں کے سیاستدانوں کا یہی حال ہے! شیوراج سنگھ چوہان کے 'گڈ گورننس' والا مدھیہ پردیش عصمت دری کے معاملہ میں ملک میں پہلے نمبر پر ہے! وہاں کے وزیر بابو لال غور کہتے ہیں کہ عصمت دری تو بھگوان ہی روک سکتا ہے کیونکہ زنا کرنے والاکیا پہلے سے بتا کر جاتا ہے کہ عصمت دری کرنے جا رہا ہے؟ تو حکومت کیسے روک سکتی ہے عصمت دری؟ ترس آتا ہے؟ آپ بتائیں کہ آپ نے روکنے کے لئے کیا قدم اٹھائے؟ آپ کی پولیس کتنی چست ہے؟ رپورٹ درج ہوتی ہے؟ جانچ مستعدی سے ہوتی ہے؟ مجرم پکڑے جاتے ہیں؟ مقدمہ کتنی جلدی نپٹتے ہیں؟ کتنے مقدمات میں سزا ہو پاتی ہے؟ اور سب سے اہم یہ کہ عصمت دری کے خلاف سماج میں بیداری پھیلانے کے لئے آپ نے کوئی مہم چلائی کیا؟ اسکولوں کالجوں میں نوجوانوں کے درمیان جا کر زیادتی کے خلاف کوئی ماحول بنانے کی کوشش کی؟ جواب جی ہاں ہو تو بتائیں گے!

تیسری خبر. پونے میں فیس بک کی فرضی پوسٹ کے ذریعہ فساد بھڑکانے کی سازش اور اسی کے نتیجے میں ایک مسلم نوجوان کا قتل. پکڑے گئے لوگ 'ہندو راشٹر  سینا' کے بتائے جاتے ہیں. خبر ہے کہ قتل کے بعد انہوں نے ایس ایم ایس کیا کہ 'پہلا وکٹ گیا!' لوک سبھا انتخابات کے پہلے اترپردیش کے مظفرنگر میں فساد بھڑک اٹھے تھے. بعد میں 'بے عزتی کا بدلہ' لینے کے لئے ووٹ دینے کی اپیلیں جاری ہوئی تھیں. فساد بھڑکانے کے ایک ملزم اب مرکز میں وزیر ہیں! مہاراشٹر میں کچھ ماہ بعد اسمبلی انتخابات ہونے ہیں. کہیں اتر پردیش کی سکرپٹ مہاراشٹر میں دہرانے کی تیاری تو نہیں! یا یہ تیس سال بعد سنگھ کے 'حتمی شان و شوکت' کے مقصد کے حصول کے لیے سفر کا آغاز ہے؟ بات بات پر ٹویٹ کرنے والے وزیر اعظم کو   ان لائنوں کے لکھے جانے تک بھی 'ہندو راشٹر  سینا' کو پھٹکارتے ہوئے کوئی ٹویٹ نہیں آیا؟ * تھوڑی حیرانی ہوئی! اس کا پیغام کیا ہے؟

تو یہ تین خبروں کی کہانی تھی! ایک قانون نہ ماننے کی، دوسری قانون نافذ نہ کرنے کی اور تیسری قانون کی آنکھیں پھیر لینے کی! تو قانون تو اب بھی بہت ہیں، دل چاہے جتنے اور بنا بھی لیں، لیکن کیا ہم دل سے، ایمانداری سے، صافگوئی سے، پوری وفاداری سے قانون کا احترام کرنے کا وعدہ لیں گے، اسے نہ خود توڑیں گے، نہ کسی کو توڑنے دیں گے، بغیر کسی امتیاز کے قانون کو نافذ کریں گے! مسئلہ کی جڑ یہاں ہے. اور مہذب ترقی کی سیڑھیاں کا راستہ قانون کی انہی گلیوں سے ہو کر جاتا ہے! طے کرنا ہے کہ ترقی کا کون سا ماڈل آپ کو سہاتا ہے!

 قمر وحید نقوی
(قمر وحید نقوی. سینئر صحافی اور ہندی ٹیلی ویژن صحافت کے بانی میں سے ایک ہیں. رویوار، چوتھی دنیا، نوبھارت ٹائمز اور آج تک جیسے اداروں میں سب سے ا علی عہدوں پر رہے نقوی صاحب انڈیا ٹی وی میں بھی اداریاتی ڈائریکٹر تھے.  ہندی میں ہر ہفتہ ان کا ہفتہ وار کالم راگ دیش شائع ہوتا ہے.)

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.