×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شکست سے سبق نہیں لے رہی کانگریس

تیر 17, 1393 0 531

نئی دہلی! کانگریس پارٹی میں لوک سبھا 2014 انتخابات میں شکست کے بعد بحران اور گہراتا جا رہا ہے. مہاراشٹر، اتر پردیش، آسام اور ہریانہ

میں قیادت کی تبدیلی کی مانگ بہت تیزی سے چل رہی ہے، لیکن تینوں ہی ریاستوں میں غیر یقینی کا ماحول بنا ہوا ہے. انتخابات میں شکست کے بعد بھی کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اپنے کو کسی سے کمزور ماننے کو تیار نہیں ہیں. ساری دنیا کے سیاسی تجزیہ اور کانگریسی یہ مانتے ہیں کہ انتخابات میں شکست کا سبب وزیر راہل گاندھی ہی ہیں لیکن راہل گاندھی اب بھی یہ کہتے پائے جا رہے ہیں کہ وہ سب ٹھیک کر دیں گے.
  چاروں ریاست میں قیادت کی تبدیلی کی بات پر اس لئے  غیر یقینی حالت بنی ہوئی ہے کیونکہ انتخابات کے بعد راہل گاندھی  ملک سے باہر چلے گئے تھے. اب سونیا گاندھی اترانچل چلی گئیں ہیں. امید ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے چاروں ریاستوں میں قیادت کی تبدیلی ہو جائے گی لیکن فی الحال تو غیر یقینی کی وجہ سے کانگریس قیادت فی الحال سیلف گول کرنے کا احساس کا شکار لگ رہی ہے. کانگریس اعلی کمان نے تقریباً طے کر لیا ہے کہ مہاراشٹر، اتر پردیش، ہریانہ اور آسام کے موجودہ رہنماؤں کی قیادت میں انتخاب نہیں لڑا جائے گا. آسام اور ہریانہ میں تو کوئی دقت نہیں ہے، وہاں جو بھی سونیا گاندھی کہیںگی، وہی مان لیا جائے گا لیکن، مہاراشٹر میں سب سے زیادہ مشکل معاملہ ہے. مہاراشٹر کے وزیراعلی پرتھوی چوان کا ہٹنا طے ہے لیکن ریاست میں کانگریس کی اتحادی پارٹی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے معاملہ رکا دیا ہے. ریاست اور ملک میں کانگریس کی خستہ حالت کی وجہ سے کانگریس قیادت ریاست کی سیاست میں کوئی بھی تبدیلی بغیر شرد پوار کی مشورہ کے کرنے کی حالت میں نہیں ہے. شرد پوار کی حالت یہ ہے کہ وہ کسی بھی مضبوط مراٹھا لیڈر کو کانگریس میں اہمیت ملتے نہیں دیکھنا چاہتے. اس لئے ان کی ضد ہے کہ پرتھوی راج  چوہان کو ہٹا کر سشیل کمار شندے کو وزیر اعلی بنا دیا جائے لیکن شندے وزیر اعلی بننے کو تیار نہیں ہیں. وہ خود چاہتے ہیں کہ کسی مضبوط مراٹھا لیڈر کو وزیر اعلی بنایا جائے جس کا فائدہ پارٹی کو اب سے چار ماہ بعد ہونے والے انتخابات میں مل جائے گا لیکن شرد پوار کسی غیر مراٹھا کو لانے کے لئے اپنی ضد نہیں چھوڑ رہے ہے. نتیجہ یہ ہے کہ کانگریس اعلی کمان کی مرضی نہیں چل پا رہی ہے. اتر پردیش کی حالت اور بدتر ہے. بڑے کانگریسی یہ کہتے دیکھے جا رہے ہیں کہ اتر پردیش میں اگر کانگریس مضبوط نہیں ہوتی تو پارٹی کے مضبوط ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے. وہاں کے موجودہ کانگریس صدر فیض آباد کے سابق ایم پی نرمل کھتری ہیں. تمام کانگریسیوں میں اس بات پر ایک رائے ہے کہ نرمل کھتری کو ہٹا کر کسی اور کو لیڈر بنا دیا جانا چاہئے. کہنے والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ نرمل کھتری کی بھی یہی رائے ہے لیکن کانگریس نائب صدر اور اترپردیش کے انچارج جنرل سکریٹری مدھسودن مستری کی ہمت نہیں پڑ رہی ہے کہ کسی اور کا نام تجویز کریں. ماحول یہ ہے کہ اگر کسی کا نام پیش کر دیا جائے گا تو باقی امیدوار ناراض ہو جائیں گے.

اس تنازعہ سے بچنے کے لئے نرمل کھتری کو ہی برقرار رکھنے پر کانگریس نائب صدر متفق ہوتے دکھ رہے ہیں. اگرچہ مدھسودن مستری کے مشورہ پر جن ناموں پر غور ہو رہا ہے وہ کانگریس کو ضروری رفتار دے سکیں گے، اس میں سبھی کو شک ہے. پتہ چلا ہے کہ مستری جی کی طرف سے راجہ پال اور پی ایل پنیا کا نام چل رہا ہے. اتر پردیش کی سیاست کی ضروری حقیقت یہ ہے کہ پی ایل پنیا کو اب بھی ریاست کے پرانے کانگریسی ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی کے سیکرٹری کے طور پر ہی مزید دیکھتے ہیں، ان کو کانگریسی ماننے کو تیار نہیں ہیں. راجارام پال پارلیمنٹ رکن کے طور پر 11 ہزار روپیہ کے کسی تنازعہ میں بحث میں آ چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کا امکان بھی کمزور ہے. ریاست میں کانگریس صدر کے عہدے کے لئے وارانسی کے سابق ایم پی راجیش مشرا کے نام کا بھی ذکر ہے اور ان کو بلا کر سونیا گاندھی نے ریاست کی سیاسی صورتحال کی معلومات بھی لی ہے. لیکن ابھی اتر پردیش کے بارے میں کچھ کہہ پانا ممکن نہیں ہے. امید ہے کہ اس ہفتہ کے آخر تک کوئی نہ کوئی فیصلہ ہو جائے گا.
شیش نارائن سنگھ

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.