×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کتنا اچھا بجٹ آنے والا ہے؟

تیر 18, 1393 0 669

مودی حکومت اپنا پہلا بجٹ لے کر عوام کے دروازے پر آ کھڑی ہوئی ہے. اچھے دنوں کے جملوں کے درمیان عام آدمی کو مودی حکومت

کے اس عام بجٹ سے بہت سی اچھی امیدیں بھی وابستہ ہیں. وسطی طبقہ کو لگ رہا ہے کہ اس بار کے بجٹ میں حکومت انکم ٹیکس کی حد بڈھاکر پانچ لاکھ اور 80 سی کے تحت ملنے والی چھوٹ کی حد کو بڑھا کر 1.5 لاکھ کرے گی، لیکن اس طرح کے تصور کے احساس ہونے کا خدشہ کم ہیں. ہو سکتا ہے کہ انکم ٹیکس چھوٹ کی حد کو بڑھاکر ڈھائی سے تین لاکھ کیا جائے، لیکن اسے پانچ لاکھ کی جائے گی، عملی نہیں لگتا ہے.

اسی طرح 80 سی کے تحت ملنے والی چھوٹ کی حد میں اضافہ بڑی رعایت ہو سکتی ہے، لیکن وزیر خزانہ ارون جیٹلی ایسا کریں گے، مشکوک ہے، کیونکہ 80 سی کے تحت چھوٹ کی حد بڑھانے سے خزانے پر منفی اثرات پڑ سکتا ہے. 80 سی کے تحت ملنے والی چھوٹ کی وجہ سے لوگوں میں بچت کرنے کی عادت تیار ہو رہی ہے، لیکن مالی سال 2004-05 سے 2013-14 کے درمیان چھوٹ کی حد چار گنا بڑھی ہے، جبکہ اعداد و شمار میں خوردہ مہنگائی محض دوگنا . اس لئے 80 سی کے تحت چھوٹ کی حد میں اضافہ کا اندازہ کرنا، غلط ہوگا.

بجٹ سے پہلے حکومت نے گاڑی،  سر مایہ اشیاء  اور کنزیومر ڈیوریبلس علاقہ کو  ایکسائز میں دی جا رہی رعایت کو 31 دسمبر، 2014 تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے. اس رعایت سے سرکاری خزانے کو ایک مہینہ 500 کروڑ روپیہ کے بوجھ پڑنے کا اندازہ لگایا گیا ہے. پھر بھی اچھے دن کی امید میں ایسا فیصلہ کیا گیا ہے. اس نقصان کی تلافی بجٹ میں برانڈڈ کپڑوں پر اکسائز ڈیوٹی لگا کر کی جا سکتی ہے. بجٹ میں سگریٹ پر ٹیکس 45 سے بڑھ کر 60 فیصد ہو سکتا ہے. بجٹ میں سگریٹ پر ٹیکس اضافہ کی سگبگاہٹ بھر سے خوردہ مارکیٹ میں سگریٹ کی قیمت میں 44 فیصد کا تک اچھال آ گیا ہے. ظاہر ہے مارکیٹ پر ذخیرہ اندوزوں اور کالابازاریوں کا قبضہ ہے اور حکومت صرف تماشائی بنے رہنے پر مجبور ہے.

کہا جا رہا ہے کہ بجٹ میں وزیر خزانہ گزشتہ سال کے لئے ایڈوانس پرائسنگ معاہدہ (اے پی اے) کو ہری جھنڈی دے سکتے ہیں. اس سے ووڈافون، مائیکروسافٹ وغیرہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے زیر غور منتقلی پراسنگ تنازعات کو نمٹایا جا سکتا ہے. غور طلب ہے اس کی وجہ سے کچھ ملٹی نیشنل کمپنیوں پر انکم ٹیکس چوری کا مقدمہ چل رہا ہے. ملٹی نیشنل کمپنیاں اکثر اپنی آمدنی کم دکھاتی ہیں. معلوم ہو کہ اے پی اے کے ذریعہ ایسے معاملہ آسانی سے طے کرسکتے ہیں. اے پی اے قوانین کو جون، 2012 میں نافذ کیا گیا تھا، لیکن فی الحال یہ صرف مستقبل کے لین دین پر نافذ ہوتا ہے.

جیٹلی کے پاس فی الحال وزارت دفاع کا بھی عہدہ ہے. اس لئے بجٹ میں دفاع کے علاقہ کے لئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے، ایسی امید کی جا رہی ہے. ماہرین کے مطابق اس علاقہ میں ملکی نظریات کو پنپنے کا موقع مل سکتا ہے. مودی حکومت کا خیال ہے کہ بیرون ملک سے ہتھیار درآمد کر کے صرف فوج کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا ہے. اس لئے قیاس لگایا جا رہا ہے کہ مالی خسارے کی نازک حالت کے باوجود بھی حکومت سرمایہ کاری بڑھانے کی سمت میں کام کر سکتی ہے. ملکی دفاع آلات کی پیداوار صلاحیت بڑھانے سے مستقبل میں فوج اور بھی مزید مضبوط ہو سکتی ہے. مخصوص تکنیکی اداروں میں ایرو اسپیس انجینئرنگ کورس بھی سپانسر کئے جا سکتے ہیں، جس سے گھریلو ڈیزائن تیار کرنے میں مدد ملے گی. ساتھ ہی، اس سے اعلی تکنیک والے درمیانے درجہ کے لڑاکا طیاروں کے مینوفیکچرنگ میں بھی مدد ملے گی.

تھوک مارکیٹ میں بھلے ہی مہنگائی میں کچھ نرمی آئی ہے، لیکن خوردہ مارکیٹ میں مہنگائی اب بھی آسمان پر ہے. جیسے، تھوک بھائو میں آلو کی قیمت 10 سے 12 روپیہ فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ خوردہ مارکیٹ تک پہنچنے  تک  اس کی قیمت 20 سے 22 روپیہ فی کلو ہو جا رہی ہے. دوسری سبزیوں کی قیمت بھی خوردہ مارکیٹ میں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے. النینو کی وجہ سے مانسون کے پھیکے رہنے کا امکان ہے. جون میں ملک کے بہت سارے حصوں میں 20 سے 80 فیصد تک کم بارش ہوئی ہے، جس سے ملک میں خشک  سالی پڑنے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے. حکومت تالابوں میں کافی سٹوریج ہونے کی بات کہہ رہی ہے، لیکن تمام کسان آبپاشی کی مدد سے فصل پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے، ایسا کہنا مناسب نہیں ہوگا. وزیر خزانہ مسئلہ کے تشخیص کے لئے بجٹ میں مناسب فراہمی کر سکتے ہیں. ڈیزل مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے اور کچھ علاقوں کو چھوڑ کر بجلی کی ملک بھر میں بھاری قلت ہے. اس لئے وزیر خزانہ کو بجٹ میں ایسے فراہمی کرنا ہوں گی، جس سے کسانوں کے لئے بجلی اور ڈیزل کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے.

مودی حکومت نے لوگوں کو سبزباغ تو ضرور دکھائیں ہیں، لیکن اسے پورا کرنا بہت ہی مشکل ہے. فی الحال تو خواب دیکھنے کی جگہ عوام کو بہت سارے جھٹکے برداشت کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا.

موجودہ وقت میں مہنگائی پر قابو پانا مودی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے. حکومت مرکز اور ریاستوں کے درمیان رابطہ بنا کر مہنگائی پر قابو پانے کی بات کہہ رہی ہے. ویسے یہ کوئی نیا سجھائو نہیں ہے. یو پی اے حکومت سابق میں ایسی بات کہتی رہی ہے، لیکن کبھی بھی اس فرنٹ پر مرکز اور ریاستوں کے درمیان تال میل نہیں بیٹھ سکا. اس لئے جیٹلی کو مہنگائی پر کنٹرول کرنے کے لئے دوسرے  اختیارات پر غور کرنا ہوگا. جمع خوری اور کالابازاری پر لگام لگا کر یقینا حکومت مہنگائی پر قابو پا سکتی ہے، لیکن ذخیرہ اندوزوں اور کالابازاریوں پر نکیل کسنا آسان نہیں ہو گا، کیونکہ بدعنوانی کی جڑیں بہت گہری ہیں. چاہتے ہوئے بھی حکومت مارکیٹ کو اپنے کنٹرول میں نہیں لے سکتی ہے. قصورواروں کو جلد سے جلد سزا دینے کے لئے حکومت کی منصوبہ بندی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی ہے. یاد رہے کہ ملک میں فاسٹ ٹریک عدالت پہلے سے کام کر رہی ہیں، لیکن اس کے چاہے گئے نتیجہ بر آمد نہیں ہو رہے ہیں. اسی طرح بینکوں کے این پی اے کو کم کرنے کے لئے ڈی آرٹی کی تشکیل کی گئی تھی، جس کا مقصد تھا، بڑی رقم والے این پی اے کیس کا وقت   کے اندر نمٹاراکرنا، لیکن آج ڈی آرٹی میں معاملہ سالوں تک چلنے کے بعد بھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پاتے ہیں.

عراق بحران کا فی الوقت کوئی حل نکلتا نظر نہیں آ رہا ہے. واضح ہے اس سے افراط زر پر دباؤ پڑے گا اور افراط زر زیادہ رہے گی. ، تھوک قیمت انڈیکس کی بنیاد مہنگائی کی شرح پر حکومت کو  حاصل پٹیل کمیٹی کی رپورٹ کی سفارشات کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہوگی، تاکہ صورتحال پر کنٹرول رکھا جا سکے. اس لئے وزیر خزانہ کو اس معاملہ میں بجٹ میں فراہمی کرنے ہوں گے. ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنا مودی حکومت کے لیے آسان نہیں ہوگا. جی ہاں، بجٹ میں مرکزی حکومت فنڈ تعمیر کی سمت میں قدم بڑھا سکتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد مل سکے. بتا دیں کہ سابق میں پانچویں اور چھٹے تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کی وجہ سے ہی مالی خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کے 4.5 فیصد تک پہنچ گیا تھا.

کہا جا رہا ہے کہ مالی سال 2014-15 میں سرکاری نقصان بڑھ سکتا ہے، کیونکہ حکومت سبسڈی اور بقایے کے ادا کرنے کی سمت میں اگر کاروائی کر سکتی ہے. یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ مالی خسارہ کو کم کرنے کے لئے بجٹ میں جیٹلی سخت قدم اٹھا سکتے ہیں.  مالی خسارے کو 3 فیصد تک لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے. ماہرین کے مطابق رواں مالی سال میں سرکاری خسارہ جی ڈی پی کے 4.3 فیصد سے 4.5 فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے. اس سال مالیاتی خسارہ 4.5 فیصد سے کم ہے. اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ خرچ اور ٹیکس اصلاحات کی شناخت کرکے اس سمت میں قدم اٹھائے. اگر اس سلسلہ میں فوری اصلاحی قدم اٹھایا جاتا ہے تو مالی نقصان کی 4.5 فیصد کی شرح کے ساتھ بھی مرکز اور ریاست کا مجموعی خسارہ 7 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گا، کیونکہ ریاستوں کا نقصان مارکیٹ شرح پر جی ڈی پی کے 2.5 فیصد تک محدود ہے اور خسارے کا مجموعی سطح جی ڈی پی کے 6 فیصد کے برابر ہے.
 بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں ڈبل "ٹیکس" کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، جسے صدر کے خطاب میں بھی بار بار کہا گیا ہے. کہا گیا کہ موجودہ پالیسی کاروباری ماحول کے منفی نہیں ہونا چاہئے، لیکن مالی نقصان کی موجودہ صورت حال حکومت کو اس سمت میں مثبت قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دے گی. بہر حال موجودہ میں سرکاری خزانے کی حالت بہت ہی خراب ہے. حکومت کو حالات پر قابو پانے کے لئے بہت سارے سخت قدم اٹھانے ہوں گے، لیکن بھارت کے جمہوری اور فلاحی ملک ہونے کی وجہ سے اقتصادی فرنٹ پر بہت سخت فیصلہ لینا ممکن نہیں ہے، کیونکہ غریبوں کو خود کشی کے لئے مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے. عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2014 میں بھارت میں 148 ملین لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں اور انہیں دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہے. اچھے دن لانا پہلے ان کے لئے ضروری ہے جو صرف کڑوی دوا پلاکر نہیں لائے جا سکتے.
 ستیش سنگھ

Last modified on چهارشنبه, 18 تیر 1393 10:40

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.