×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

قنوت میں شرِ شیطان کو دورکرنے کیلئے امام رضا علیہ السلام کی دعا

January 01, 2014 428

* قنوت میں شرِ شیطان کو

دورکرنے کیلئے امام رضا علیہ السلام کی دعا

اے پروردگار! اے ہر طرف پھیلی ہوئی قدرت کے مالک اور وسیع رحمت کے مالک، یکے بعد دیگرے احسانات کے مالک، پے در پے نعمتوں کے مالک، خوبصورت الطاف اور بہت زیادہ بخششوں کے مالک۔

اے وہ ذات جس کا مثال کے ذریعے سے وصف بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جس کا کوئی مشابہہ اور نظیر نہیں ہے۔ جو کسی غالب آنے والے سے مغلوب نہیں ہوتا۔

اے وہ ذات جس نے پیدا کیا اور رزق دیا، جس نے الہام کیا اور بات کرنے والا بنایا، بغیر نمونہ کے خلق کیا اور پھر شروع کیا، برتر ہوا اور بلند ہوگیا۔ بہترین تصویربنائی اور مضبوط تصویر کھینچی۔ احتجاج کیا اور ابلاغ فرمایا، نعمت دی اور اُسے ہرطرف پھیلا دیا۔ عطاکیا اور بہت زیادہ عنایت کی۔

ا ے وہ ذات جو عزت میں برترہوا۔ یہاں تک کہ آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔لطف و بخشش میں نزدیک ہوا۔ یہاں تک کہ فکروں سے تجاوز کرگیا۔ اے وہ ذات جو حکمرانی میں یکتا ہوا۔ اسی وجہ سے اُس کی حاکمیت مطلقہ میں اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور عظمت میں اکیلا ہے۔ پس اُس کی قدرت اور عظمت میں اُس کا کوئی مخالف نہیں ہے۔

اے وہ ذات جس کی عظمت کی ہیبت میں وہم و خیالات حیران اور اُس کی عظمت کو پالینے میں آدمیوں کی آنکھیں مایوس ہیں۔ اے وہ ذات جو عالمین کے دلوں کی چیزوں کو جاننے والا ہے۔ اے وہ ذات جو دیکھنے والوں کی آنکھوں کے جھپکنے کو دیکھتا ہے۔

اے وہ ذات جس کی ہیبت سے تمام چہرے خاک میں مل گئے۔ جس کی جلالت و بزرگی اور مقابلہ میں گردنیں جھکی ہوئی ہیں اور اُس کے خوف سے دل کانپتے ہیں۔ اُس کے ڈر سے بدنوں میں کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔

اے ابتداء کرنے والے، اے پیدا کرنے والے، اے طاقتور، اے منع کرنے والے، اے برتر، اے بلند تر، درود بھیج اُس پر جس پر دورد بھیجنے کی وجہ سے نماز میں شرافت پیداہوئی۔ میرے دشمنوں سے اور اُن سے جو مجھے حقیر سمجھتے ہیں ، میرے شیعوں کو میرے دروازے سے واپس لوٹانے والوں سے انتقام لے۔اُسے تلخی و ذلت اور رسوائی کا مزہ چکھا، جس طرح اُس نے مجھے چکھایا ہے۔اُسے گندگیوں اور نجاستوں میں پھینکا ہوا قرار دے۔(عیون الاخبار:ج۲، ص۱۷۳)۔

**  قنوت میں امام رضا علیہ السلام کی دعا

اے اللہ! بخش دے اور رحم کر۔ جس کو تو جانتا ہے، اُس سے درگزر فرما۔ بے شک تو عزیز تر، بلند تر اور بڑے اکرام والا ہے۔(عیون الاخبار:ج۲، ص۱۸۲)۔

Last modified on Wednesday, 01 January 2014 11:22
Login to post comments