×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام جعفر صادق ؑ کی منتخب حديثیں ( پنجم)

بهمن 17, 1392 0 366

قالَ عليه السلام:

كُلُوامايَقَعُ مِنَ الْمائِدَةِ فِى الْحَضَرِ، فَانَّ فيهِ شِفاءٌ مِنْ كُلِّ داءٍ وَلاتَاكُلُوامايَقَعُ مِنْهافِى الصَّحارى.

ترجمہ:

کهانے کے دوران جو کچھ دسترخوان کے ارد گرد گرتاہے اٹھاکر کهایاکرو کہ ان میں اندرونی بیماریوں کی شفا ہے لیکن اگر تم دشت و صحرا میں کهانا کهاؤ تو جو کچھ گرتا ہے اس کو مت اٹھاؤ (تاکہ جانور اس سے استفادہ کریں).

قالَ عليه السلام: ارْبَعَةٌ مِنْ اخْلاقِ الانْبياء: الْبِرُّ وَالسَّخاءُ وَالصَّبْرُ عَلَى النّائِبَةِ وَالْقِيامُ بِحَقِّ الْمُؤمِنِ.

ترجمہ:

چار چيزیں انبیاء الهی کی پسندیده اخلاقیات میں سے ہیں: نيكى، سخاوت، مصائب و مشكلات میں صبر و بردباری، مؤمنین کے درمیان حق و عدل قائم کرنا.

قالَ عليه السلام: امْتَحِنُواشيعتَناعِنْدَ ثَلاثٍ: عِنْدَ مَواقيتِ الصَّلاةِ كَيْفَ مُحافَظَتُهُمْ عَلَيْها وَ عِنْدَ اسْرارِهِمْ كَيْفَ حِفْظُهُمْ لَهاعِنْدَ عَدُوِّنا وَ الى امْوالِهِمْ كَيْفَ مُواساتھمْ لاخْوانِهِمْ فيها.

ترجمہ:

ہمارے شیعوں کو تین چیزوں میں ازماؤ:

1 – نماز کے وقت، کہ وہ نماز کی کس طرح رعایت کرتے ہیں؟

2 – ایک دوسرے کے رازوں کو کس طرح چهپاتے یافاش کرتے ہیں؟

3 – اپنے اموال اور دولت سے کس طرح دوسروں کے مسائل حل کرتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کو کس طرح اداکرتے ہیں.

 قالَ عليه السلام: مَنْ مَلَكَ نَفْسَهُ اذارَغِبَ وَ اذارَهِبَ وَ اذَااشْتَهى، واذاغَضِبَ وَ اذارَضِىَ، حَرَّمَ اللّهُ جَسَدَهُ عَلَى النّار.ِ

ترجمہ:

جو شخص رفاه اور وسع کی حالت میں، دشواری او تنگدستی کے دوران، اشتہا اور ارزو کے وقت اور غیظ و غضب کے دوران اپنے نفس کا مالک ہو (اور اس کو قابو میں رکھ لے)؛ خداوند متعال اگ کو اس کے جسم پر حرام کردیتا ہے.

 قالَ عليه السلام: انَّ النَّهارَ اذاجاءَ قالَ: يَابْنَ ادَم، اعْجِلْ فى يَوْمِكَ هذاخَيْرا، اشْهَدُ لَكَ بِهِ عِنْدَ رَبِّكَ يَوْمَ الْقيامَةِ، فَانّى لَمْ اتِكَ فيمامَضى وَلااتيكَ فيمابَقِىَ، فَاذاجاءَاللَّيْلُ قالَ مِثْلُ ذلِكَ.

ترجمہ:

جب دن چڑھ جائے کہتاہے: اے فرزند ادم نیکی کے کاموں میں جلدی کرو کیونکہ میں قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں شہادت دوں گااور جان لو کہ میں اس سے قبل تمہارے اختیار میں نہیں تهااور اس کے بعد بھی تمہارے پاس نہیں رہوں گا. اسی طرح جب رات چھاجاتی ہے وہ بھی اسی طرح کا تقاضاکرتی ہے.

 قالَ عليه السلام: يَنْبَغى لِلْمُؤْمِنِ انْ يَكُونَ فيهِ ثَمان خِصال:

وَقُورٌ عِنْدَ الْهَزاهِزِ، صَبُورٌ عِنْدَ الْبَلاءِ، شَكُورٌ عِنْدَ الرَّخاءِ، قانِعٌ بِمارَزَقَهُ اللّهُ، لايَظْلِمُ الاعْداءَ وَ لايَتَحامَلُ لِلاصْدِقاءِ، بَدَنُهُ مِنْهُ فى تَعِبٌ وَ النّاسُ مِنْهُ فى راحَةٍ.

ترجمہ:

ضروری ہے کہ مؤمن اٹھ خصلتوں کاحامل ہو:

فتنوں اور اشوب میں باوقار و پرسکون، ازمائشوں اور بلایا میں بردبار و صبور، رفاہ و توانگری میں شکرگزار اور خداکی طرف سے مقرر کردہ رزق و روزی پر قناعت کرنے والا ہو.

اپنے دشمنوں پر ظلم و ستم روانہ رکھے، دوستوں پر اپنی بات مسلط نہ کرے، اس کااپنابدن اس کے اپنے ہاتھوں تھکاماندہ ہو اور دوسرے اس کی وجہ سے ارام و اسائش میں ہوں.

 قالَ عليه السلام: من ماتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عارِفابِحَقِّناعُتِقَ مِنَ النّارِ وَ كُتِبَ لَهُ بَرائَةٌ مِنْ عَذابِ الْقَبْرِ.

ترجمہ:

جو شخص روز جمعہ انتقال کرکے دنیاسے رخصت ہوجائے اور ہم اہل بیت عصمت و طہارت کے حقوق کی معرفت رکھتاہو جہنم کی کڑکڑاتی اگ سے امان میں ہوگا

Last modified on سه شنبه, 23 ارديبهشت 1393 14:16

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.