×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

آسيہ، بنت مزاحم و زوجہ فرعون

February 10, 2014 462

موسي کي پرورش اور

جان بچانے کے سلسلے ميں آسيہ نے تين جگہوں پر اہم کردار ادا کيا ہے:

1۔ جب موسي کو صندوق سے نکالا گيا۔

2۔ موسي کي والده کو دائي کے عنوان سے قبول کرانے کے سلسلہ ميں کوشش کي ۔

3۔ جب موسي نے فرعون داڑهي نوچ لي تهي۔

آسيہ يہ کردار اس وقت ادا کيا جب فرعون کو ان کے دل کا حال معلوم نہيں تها۔ فرعون يہ سوچتا تها کہ مصر کي ملکہ آرائش و شہوت اور مادي دنيا کي زرق و برق کي شيفتہ ہے اور ظلالت و گمراہي ، مصر کے کمزور طبقہ اور بني اسرائيل پر ظلم کرنے کے سلسلہ ميں وه اس کے ساته ہے۔ ليکن وه پيغمبر کے نسل سے تهيں يہ ممتاز برگزيده اور مومنوں کے لئے پناه گاه و مدد گار عورت تهي اور ہر لمحہ اپنے اعلي مقاصد کے حصول ميں مشغول رہتي تهيں۔ ليکن يہ اسي وقت ممکن ہے کہ جب انسان ميں ايسي صلاحيت ہو کہ وه نازک حالات ميں اپنے مذہب کو چهپا سکتا ہو۔ مگر ايک گهر ميں کسي کے ساته رہتے ہوئے اپنے ايمان و مذہب کو مخفي رکهنا آسان کام نہيں ہے وه بهي اس عورت کے لئے کہ جس کا خالص ايمان، پارسائي اور تقوي معاصر عورتوں ميں بے نظير ہو۔ آخر کار راز فاش ہو گيا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے: وه موسي پر اس وقت ايمان لائيں جب موسي فرعون کے دربار ميں جادوگروں پر غالب آگئے اور وه مغلوب ہوکر موسي پر ايمان لے آئے۔ شايد اس وقت آسيہ نے اپنا ايمان ظاہر کيا تها۔ اس وقت ايمان نہيں لائي تهيں، کيونکہ بعض روايات مين بيان ہوا ہے کہ انہوں نے چشم زدن کے لئے بهي کفر اختيار نہيں کيا تها۔ ممکن انہوں نے اپنے قصد و اراده سے اپنے ايمان کا اظہار کيا ہو کيونکہ قرآن مجيد ان کي دعا کو خود ان کي زباني اسي طرح نقل کرتا ہے: اے پروردگار ميرے لئے جنت ميں ايک گهر بنا دے اور مجهے فرعون اور اس کے عمل سے نجات عطا فرما اور ظالم لوگوں سے رہائي عطا کر۔

Last modified on Saturday, 10 May 2014 10:54
Login to post comments