×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حج کي منتخب حديثيں (حصّہ هفتم)

بهمن 22, 1392 0 312

حج کي راہ ميں موت

قال الصادق(ع): عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰہِ(ع)

قَالَ: مَنْ مَاتَ فِي طَرِیقِ مَکَّةَ ذَاھِباًاَّوُ جَائِیاً اٴَمِنَ مِنَ الّفَزَعِ الّاٴَکْبَرِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ۔

عبد اللہ ابن سنان سے روایت ھے کہ امام جعفر صادق ٍ(ع)نے فرمایا:

”جو شخص مکہ کی راہ میں جاتے وقت یا واپسهوتے وقت مرجائے وہ قیامت کے دن کے عظیم خوف ھراس سے امان میں ر ھے گا “۔

حج میں انفاق کرنا

قال الصادق (ع): ”دِرْھَمٌ فِي الْحَجِّ اٴَفْضَلُ مِنْ اٴَلْفِيْ اٴَلْفٍ فِیمَا سِوَی ذَلِکَ مِنْ سَبِیلِ اللّٰہِ “۔

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ھیں:

”حج کی راہ میں ایک درھم خرچ کرنا حج کے علاوہ کسی اور دینی راہ میں بیس لاکھ درھم خرچ کرنے سے بھتر ھے“۔

احرام کا فلسفہ

عَنِ الرِّضَا(ع): فَاِنْ قَالَ:فَلِمَ اُمِرُوا بِالإحْرٰامٍ؟قیل:لِاَ ن یَتَخَشَّعُوا قَبْلَ دُخُولِ حَرَمَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاَمْنِہِ وَلِئَلاّٰ یَلْھُوا وَیَشْتَغِلُوا بِشَیْءٍ مِنْ اٴمُرِ الدُّنْیَا وَزِینَتِھَا وَالَذَّاتِھَا وَیَکُونُوا جَادِّینَ فِیمَا ھُمْ فِیہِ قَاصِدِینَ نَحْوَہُ،مُقْبِلِینَ عَلَیْہِ بِکُلِّیِّتِھِمْ،مَعَ مَا فِیہِ مِنَ التَّعْظیمِ لِلّٰہِ تَعٰالی وَلِبَیْتِہِ،وَالتَّذَلُّلِ لِاٴَنْفُسِھِمْ عِنْدَ قَصْدِ ھِمْ إِلَی اللّٰہِ تَعٰالیٰ وَوِفَادَتِھِمْ إِلَیْہِ، رَاجِینَ ثَوَابَہُ،رَاھِبِینَ مِنْ عِقَابِہِ،مَاضِینَ نَحْوَہُ مُقْبِلِینَ إِلَیْہِ بِالذُّلِّ وَالِاسْتِکَانَةِ وَالْخُضُوعِ۔

امام علی رضا (ع) نے فرمایا:

”اگر یہ کھا جائے کہ لوگوں کواحرام پہننے کا حکم کیوں دیا گیا ھے ؟ تو یہ کھا جائے گا کہ :اس لئے کہ لوگ اللہ کے حرم اور امن وامان کی جگہ میں واردهونے سے پھلے خاشع اور منکسر مزاجهوں ، امور دنیا ،اس کی لذتوں اور زینتوں میں سے کسی بھی چیز میں خودکو مشغول نہ کرےں جس کام کے لئے آئے ھیںاور جس کا ارادہ رکھتے ھیں اس پر صابر رھیں اور پورے وجود سے اس پر عمل کریں۔ اس کے علاوہ احرام میں خدااور اس کے گھر کی تعظیم۔ اپنی فروتنی اور باطنی ذلت وحقارت ، خدا کی طرف قصد اور اس کے حضور واردهونا ھے،جب کہ وہ اس سے جزا کی امید رکھتے ھیں اس کے عقاب اور سزا سے خوف زدہ ھیں اور انکسار وفروتنی اور ذلت خوا ری کی حالت میں اس کی طرف رخ کئے هوئے ھیں“۔

احرام کا ادب

قَالَ اٴَبُو عَبْدِ اللّٰہِ(ع): إِذَا اٴَحْرَمْتَ فَعَلَیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ،وَذِکْرِ اللّٰہِ کَثِیراً،وَقِلَّةِ الْکَلاٰمِ إِلاَّ بِخَیْرٍ،فَإِنَّ مِنْ تَمَامٍ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ اٴَنْ یَحْفَظَ الْمَرْءُ لِسَانَہُ إِلاَّ مِنْ خَیْرٍ۔

امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا :

”جب محرمهو جاوٴ تو تم پر لازم ھے کہ باتقویٰ رہو ،خدا کو بھت یاد کرو ،نیکی کے علاوہ کوئی بات نہ کرو کہ بلا شبہ حج اور عمرہ کا کاملهونا یہ ھے کہ انسان اپنی زبان کو نیکی کے علاوہ کسی اور امر میں نہ کھو لے “۔

حقیقی لبیک

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص): مَا مِنْ مُلَبٍّ یُلَبّی اِلاَّ لَبّٰی مَا عَنْ یَمینِہِ وَشِمٰالِہِ مِنْ حَجَرٍاٴَوْ شَجَرٍاٴَْومَدَرٍحَتّٰی تَنْقَطِعَ الاَرْضُ مِنْ ھٰا ھُنَا وَھٰاھُنَا۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”کوئی شخص لبیک نھیں کھتا مگر یہ کہ اس کے دائیں بائیں ،پتھر درخت ،ڈھیلے اس کے ساتھ لبیک کھتے ھیں یھاں تک کہ وہ زمین کو یھاں سے وھاں تک طے کر لے “۔

Last modified on جمعه, 19 ارديبهشت 1393 14:40

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.