×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

قرآن مجيد کي آيات ميں محکم اور متشابہ سے کيا مراد ہے؟ (حصّہ دوّم)

February 12, 2014 445

”‌متشابہ” وہ آيات ہيں

جو خداوند عالم کے صفات اور معاد کي کيفيت کے بارے ميں ہيں ہم يہاں پر چند آيات کو نمونہ کے طور پر بيان کرتے ہيں:<يَدُ اللهِ فُوقَ اَيْدِيْہِم> (خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے) جو خداوند عالم کي قدرت کے بارے ميں ہے، اسي طرح <وَاللهُ سَمِيْعُ عَلِيْمُ> (خدا سننے والا اور عالم ہے) يہ آيت خداوند عالم کے علم کے بارے ميں دليل ہے، اسي طرح <وَنَضَعُ المَوَازِينَ القِسْطِ لِيَومِ القَيَامَةِ>( ہم روزِ قيامت عدالت کي ترازو قائم کريں گے) يہ آيت اعمال کے حساب کے بارے ميں ہے- يہ بات ظاہر ہے کہ نہ خداوند عالم کے ہاتھ ہيں اور نہ ہي وہ آنکھ اور کان رکھتا ہے، اور نہ ہي اعمال کے حساب و کتاب کے لئے ہمارے جيسي ترازو رکھتا ہے بلکہ يہ سب خداوندعالم کي قدرت اور اس کے علم کي طرف اشارہ ہيں-
يہاں اس نکتہ کي ياد دہاني کرانا ضروري ہے کہ قرآن مجيد ميں محکم اور متشابہ دوسرے معني ميں بھي آئے ہيں جيسا کہ سورہ ہود کے شروع ميں ارشاد ہوتا ہے: <کتاب احکمت آياتہ>اس آيت ميں تمام قرآني آيات کو ”‌محکم” قرار ديا ہے، جس کا مطلب يہ ہے کہ قرآن کريم کي آيات آپس ميں ايک دوسرے سے تعلق رکھتي ہيں ،اور سورہ زمر ميں آيت نمبر 23 ميں ارشاد ہوتا ہے: <کتاباً متشابہ>اس آيت ميں قرآ ن کي تمام آيات کو متشابہ قرارديا گيا ہے کيو نکہ يہاں متشابہ کے معني حقيقت ،صحيح اور درست ہونے کے لحاظ سے تمام آيات ايک دوسرے جيسي ہيں-

لہٰذا محکم اور متشابہ کے حوالہ سے ہمارے بيان کئے ہو ئے مطالب کے پيش نظر معلوم ہوجاتا ہے ايک حقيقت پسند اور حق تلاش کرنے والے انسان کے لئے خداوند عالم کے کلام کو سمجھنے کا يہي ايک راستہ ہے کہ تمام آيات کو پيش نظر رکھے اور ان سے حقيقت تک پہنچ جائے ، چنانچہ اگر بعض آيات ميں ابتدائي لحاظ سے کوئي ابہام اور پيچيدگي ديکھے تو دوسري آيات کے ذريعہ اس ابہام اور پيچيدگي کو دور کرکے اصل تک پہنچ جائے، درحقيقت ”‌آيات محکمات” ايک شاہراہ کي طرح ہيں اور ”‌آيات متشابہات” فرعي راستوں کي طرح ہيں ، کيونکہ يہ بات واضح ہے کہ اگر انسان فرعي راستوں ميں بھٹک جائے تو کوشش کرتا ہے کہ اصلي راستہ پر پہنچ جائے، اور وہاں پہنچ کرصحيح راستہ کو معين کرلے-

چنا نچہ آيات محکمات کو ”‌امّ الکتاب” کہا جانا بھي اس حقيقت کي تاکيد کرتا ہے، کيونکہ عربي ميں لفظ ”‌امّ” کے معني ”‌اصل اور بنياد” کے ہيں، اور اگر ماں کو ”‌امّ” کہا جاتا ہے تو اسي وجہ سے کہ بچوں کي اصل اور اپني اولاد کي مختلف مشکلات اور حوادث ميں پناہ گاہ ہوتي ہے، اسي طرح آيات محکمات دوسري آيات کي اصل اور ماں شمار ہوتي ہيں-

Last modified on Wednesday, 07 May 2014 14:15
Login to post comments