×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

یزید بن معاویہ

آذر 05, 1393 0 265

کربلا میں جو کچھ رو نما ہو اس سے ہر مسلمان بلکہ انسان بخوبی واقف ہے ـ مظلومیت بھی ایسی جو خون کی روشنائی سے لکھی گئی ـ بیکسی

کی ایک ایسی کتاب جس کا ورق ورق ظلم و ستم کے تیروں سے چھلنی ہو ـ

بے بسی اور غریبی کا ایک ایسا نصاب جس صفحہ صفحہ پر خون کے چھینٹے ہوں ـ ورق ورق سے بے گناہوں کے ناحق خون کی بو آتی ہے ـ ایک ایسا حادثہ جس کے تصورسے ہر درد مند دل محزون اور ہر آنکھ گریہ کرنے پر مجبور ہو ـ جس میں ایک طرف ظلم و ستم اپنی انتہا پر تھا تو دوسری طرف مظلومیت اور صبر و تحمل اپنی معراج پر، اور پھر آخر کار اس مظلومانہ عزم و حوصلہ کے سامنے ظلم و ستم نے اپنے گٹھنےٹیک دئے تو تاریخ کو لکھنا پڑا کہ " خون کو تیر و تلوار پر فتح حاصل ہوگئی"
کربلا کے اس المناک حادثہ کے دومتضاد کردار ہیں ایک طرف فضائل و کمالات، تقوی و پرہیز گاری، شرافت نفس غرض کہ جملہ صفات حمیدہ ہیں اور دوسری طرف عیوب و نقائص، بے دینی، بد کرداری اور ذلت نفس گویا تمام صفات خبیثہ کا محموعہ جس نے ایک پیکر صدق و صفا کو اس بات پر مجبور کیا کہ شرافت انسانیت اور بقائے اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ظلم و بربریت کا سر نیچا کردے اور پھر کسی ظالم کو مظلوم کے سامنے سراٹھانے کی جرأت نہ رہے ـ میدان کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی قربانی ایک شخص یا ایک حاکم وقت کے مقابلے میں نہ تھی بلکہ ایک کردار کے مقابلے میں تھی جو آغاز آفرینش سے تمام بدکراریوں کا نچوڑ تھا ـ واقعہ کربلا کے صحیح اسباب و عوامل جاننے کے لئے اس منحوس کردار کے نشیب وفراز جاننے کی ضرورت ہے جس کا نام ’’یزید‘‘ہے ـ
حسب و نسب یزید
یزید کو پہچاننے کے لئے ضروری ہے کہ اس خاندان کی تربیت پر توجہ کریں ـ اس لئے کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ تربیت اور پرورش انسان کی شخصیت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے ـ ماں کا دودھ باپ کا خون اور آباؤ اجداد کا اخلاق و کردار انسان پر بہت زیادہ اثر ڈالتا ہے ـ
یزید کا خاندان
تمام لوگوں کے درمیان دعوت اسلام کے مقابلے میں خدا پرستی، توحید پرستی کی جس نے سب سے زیادہ مخالفت کی ہے اس میں سرفہرست یزید کا دادا ابو سفیان تھا ـ وہ مسلمانوں پر قطعی کامیابی کے لئے اسلام کے منور آفتاب کو خاموش کرنے کی فکر میں لگاہواتھا ـ وہ بدر، احد اور خندق میں مشرکین کے لشکر کا سردار تھا ـ
ابو سفیان، خود اس کی بیوی اور بیٹے جہاں تک ان سے ممکن تھا پیغمبر اسلامﷺ کو اذیت پہونچایا کرتے تھے اور کفر شرک کی حمایت کرتے تھے ـ جنگ بدر میں ابوسفیان کے تین بیٹے تھے معاویہ، حنظلہ اور عمر، ـ حضرت علی علیہ السلام نے حنظلہ کو واصل جہنم کردیا، عمر کو گرفتار اور معاویہ بھاگ نکلا اور اس طرح سے بھاگا کہ اس کی دونوں پنڈلیاں سوج گئیں اور دوماہ تک اس نے اپنا علاج کرایا ۔فتح مکہ کے زمانے میں ابوسفیان، اس کی بیوی اور بیٹے قتل کے خوف کی وجہ سے مجبوراً اسلام لائے تھے لیکن باطناً اپنے کفر پر قائم تھے اور جس وقت بلال ؒ نے گلدستہ اذان سے’’ اشھد ان محمد رسول اللہ ‘‘ کی آواز بلند کی تو ابوسفیان نے کہا ’’ اے عتبہ تو خوشبخت ہے کہ اس وقت کو نہ دیکھ سکا‘‘
ہندہ ابوسفیان کی بیوی اور یزید کی دادی
یہ اس قدر خبیث عورت تھی کہ پیغمبر اسلام ﷺاور ان کے خاندان سے بہت زیادہ دشمنی رکھتی تھی ـ یہ لوگوں کو پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف جنگ کے لئے ابھارتی تھی ـ اس کی سنگدلی اور شقاوت قلبی کا انداز جناب حمزہ علیہ السلام کی شہادت سے لگایا جاسکتا ہے ـاس لئے کہ اسی کی شازش اور اسی کے لالچ دلانے کی بنا پر اس بزدل غلام’’ وحشی‘‘ نے حضرت حمزہ علیہ السلام کو قتل کیا ـ ہندہ نے اپنے زیور اتار کر اس کو تحفہ میں دئے اور اس نے جناب حمزہ علیہ السلام کی وہ وحشتناک حالت بنائی کہ ان کے کان، ناک اور تمام اعضائے بدن کا ٹ کے ان کا ہار بناکر پہنا اوران کے جگر کو چاک کرکے اس کو چبانا چاہتی تھی مگر نہ چباسکی ـ
معاویہ بن ابی سفیان پدر یزید
جیسا کہ مشہور ہے کہ وہ ابوسفیان کا بیٹا تھا ـ لیکن علماء اس کے نسب کے بارے میں شک و تردد کا شکار ہیں جس کی وجہ اس کے خاندان کی اخلاقی برائیاں ہیں ـ اس کے ماں باپ اوراہل خاندان میں زنا فسق و فجور بہت زیادہ تھا اور یہ ان تمام چیزوں کو انجام دینے سے شرم محسوس نہیں کرتے تھے ـ ان کی اسی بدکرداری اور بے حیائی کی بنا پر ان کے حسب و نسب کی صحیح پہچان تقریباً نا ممکن ہے ـ یہی وجہ ہے کہ وہ خود بھی اپنے ماں باپ کے کردار کا نمونہ تھا ـ شراب اور ربا سے پرہیز نہیں کرتا تھا، سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا کھاتا تھا، اور لہو ولعب سے بہت زیادہ مانوس تھا، وہ فضائل اخلاقی جیسے شجاعت، عدالت، انصاف، غیرت، تقوی، امانت اور مردانگی سے بے بہرہ تھااسی نے اپنے ماں باپ کے بعد ان کے تمام منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا بیڑہ اٹھایا اور اس راہ میں جتنی عیاری و مکاری یا فریبکاری ممکن تھی اس سے دریغ نہ کیا ـ غرض کہ جتنا نقصان اس نے اسلام کو پہونچایا ہے اتنا کسی اور نے نہیں پہونچایا ۔اہل سنت کے ایک دانشمند شیخ محمد عبدہ کا کہنا ہے کہ ’’ اسلام کی فتوحات کے راستے کو وسیع ہونے سے جس نے روکا تھا وہ معاویہ تھا ‘‘ اسی نے حکومت کے لالچ میں حضرت عثمانؓ کے خون کا بہانہ بناکر جنگ بر پا کی اور ایک لاکھ بیس ہزار بے گناہ لوگ اسی کی وجہ سے قتل ہوئے اور تین سو ساٹھ اصحاب پیغمبرﷺ شہید ہوئے جنگ نہروان بھی اسی کے خروج کی بنا پر وجود میں آئی ـ معاویہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتا تھا کہ اسلام کو نیست و نابود کردے اور دین کو صرف ابوسفیان، شریعت جاہلیت اور طریقہ بنی امیہ قرار دے ـ اگر کسی کو نقاق، سرکشی، حق سے انکار، مکاری، غداری، خیانت کا ری، پیمان شکنی دیکھنا ہو تو وہ صرف معاویہ میں دیکھے جو کہ ہر برے صفات کا پیکر نظر آئے گا ـ
یزید کی پیدائش
یزید حضرت عثمانؓ کے زمانے خلافت میں سنہ ۲۵ ھ میں پیدا ہوا اس کی ماں ایک صحرائی عورت تھی جو کہ شہری تہذیب و اخلاق سے بے بہرہ تھی ـ اس کانام میسونہ بن نجدل کلبیہ تھا یہ اپنے باپ کے غلام کی عاشق تھی لیکن معاویہ نے اپنے دربار کے بااثر لوگوں کے ذریعہ اس کے باپ کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اپنی بیٹی معاویہ کے عقد میں دے دےـچنانچہ میسونہ معاویہ کے عقد میں آکر صحرائی عورت ہونے کے باوجود دارالامارہ کی زینت بن گئی ـ لیکن معاویہ کے لئے یہ شادی ہمیشہ طرح طرح کے رنج و غم کا باعث بنی رہی اور کبھی بھی میسونہ سے اس کی نہ بنی ـ اگر چہ وہ صحرائی قبیلہ کی تھی، مفلس و پریشان حال اور اب شام کے دارالامارہ کی آرائشوں کو دیکھ کر یقین تھا کہ وہ نہایت متاثر ہوگی اور معاویہ کی الفت و محبت میں اپنی زندگی کے دونوں کو سکون و آرام سے گزاردے گی ـ مگر برعکس ان سب باتوں کے اس کو معاویہ سے محبت کے بجائے نفرت ہوگئی اور یہ نفرت اتنی بڑھی کہ اس نے معاویہ کی نسبت اشعار کہے جس میں اس کو ’’علج علوق‘‘ ناک چھیدے ہوئے بچھڑے سے تشبیہ دی ـ معاویہ اس وقت قصر میں موجود تھا جب وہ یہ اشعار پڑھ رہی تھی، اس وقت قصر میں موجود تھا جب وہ یہ اشعار پڑھ رہی تھی، اس نے اشعار کو سن لیا معاویہ نے اس سے کہا کہ تو مجھ سے رضامند نہیں ہے جو ایسے کریہ الفاظ سے تشبیہ دے رہی ہے ـ پس اس نے میسونہ کو تین طلاقیں دے دیں ـ میسونہ چونکہ خوبصورت عورت تھی اور معاویہ اس پر فریفتہ تھا لہذا اس کی جدائی برداشت نہ ہوئی اور دوبارہ اس کو بلوالیا پھر بغیر نکاح ثانی کے اس سے مباشرت کی اس کو یزید کا حمل ہوا پس اس صحرامیں یزید پیدا ہوا ۔
دو برس تک یزید ماں کے پاس پرورش پاتا رہا اس کے بعد معاویہ یزید کو اپنے پاس لے آیا یزید کے خونخوار ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے شروع سے ہی صحراء میں پرورش پائی ـ صحرائی آب و ہوا نے یزید کی طبیعت سے انسانیت کے جوہر نکال کر حیوانیت کے تمام اجزاء کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا اس میں نہ تہذیب تھی نہ شائشتگی، نہ اخلاق تھا اور نہ آداب، اس لئے کہ اہل عرب کے سماج سے بالکل علیحدہ تھا، نہ اس قبیلہ میں کوئی پڑھا لکھا یا تہذیب یافتہ موجود تھا، نہ ایسے لوگوں کی وہاں آمد ورفت تھی جس کی وجہ سے یزید کی تعلیم و تربیت کی امید کی جاسکے ـ اس تاریک حالت میں ابتدا سے انتہا تک رہا ایسے ماحول میں تربیت یافتہ ماں کی تربیت اور دودھ کا اثر تھا کہ دنیا کے محاسن سے اس محروم ازلی کو کوئی حصہ نہ مل سکا اس قبیلہ میں اس نے جو کچھ سیکھا وہ ظلم و شقاوت اور مردم آزاری کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔
یزید کی تربیت
یزید تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مغرور، بے تدبر، خود سر، کم عقل، کوتاہ فکر اور خواہش پرست آدمی تھا اس کی لاپرواہی اور احساسات و جذبات کی اندھا دھند پیروی اس کی فطرت میں شامل تھی ـ دوسال تک یزید کی تربیت مسیحیت کے مطابق ہوتی رہی تھی یہی وجہ تھی کہ اس میں مسیحیت کا رجحان تھا یزید کی ماں عیسائی تھی لہذا تربیت بھی عیسائی آئین و دستور کے مطابق ہوئی اور اسی مسیحی تربیت، مسیحیت سے قریب ہونے کی وجہ سے اس کا اسلام کے ساتھ رابطہ بہت کمزور تھا یزید نے تربیت و پرورش ننھیال میں پائی ہے و دادھیال میں نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کا دادھیال تعلیم و تربیت یافتہ گھرانہ تھا نہیں بلکہ وہ تو ایک دم ظاہر و آشکار ہے ـ لیکن خود اس کاننھیال کتنا تربیت یافتہ تھا اس کاانداز آپ خود اس کی تربیت سے لگا سکتے ہیں یزید کی ننھیال میں لڑکوں اور لڑکیوں کو تعلیم و تربیت کے بجائے ناچنے اور گانے کی تربیت دی جاتی تھی ، جہاں کوئی بچہ سن شعور کو پہونچا اس کو ناچنے اور گانے پر لگا دیا ـ یعنی ان کا پیشہ ہی ناچ گانا تھا لہذا ہر وقت ناچنے گانے اور شراب پینے کا ماحول رہتا تھا ایسے ماحول میں جہاں ہر وقت ناچ گانے اور شراب کا ماحول ہوتو ایسے ماحول میں بچہ ابھر کر سامنے آتا ہے وہ یزید ہی بن سکتا ہے ـ
فسق و فجور یزید
یزید بن معاویہ ایک فاسق و فاجر، بدکردار بے شرم آدمی تھا۔ نوجوانی کی عمر سے ہی وہ لہوولعب میں مبتلا ہوگیا اورسن کے ساتھ ساتھ اس کے ان صفات میں بھی ترقی ہوتی گئی یزید لہوولعب، شکار، شراب، شکاری کتوں اور عورتوں سے بہت زیادہ رغبت رکھتا تھا ـ حتی اپنے کتوں کو سونے اور چاندی کے گھنگھرو اور ہار پہانایا کرتا تھا اور ہر کتے کے لئے ایک ایک غلام خدمت کے لئے معین کررکھا تھا اس کا فسق وفجور اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ وہ کلام خدا کا مضحکہ اڑاتا تھا ـ آیات خدا کی توہین کرتا تھا ـ شراب خوری سگ بازی اور بے دینی حدوں کو پار کرچکی تھی اور اسقدر شراب اور شراب خوری کو پسند کرتھا کہ عبداللہ بن زبیر نے اس کا نام’’ سکران‘‘ یعنی بدمست رکھ دیا تھا ـ کسی موقع پر وہ مصلحتاً بھی اپنی اس خبیث عادت کو ترک کرنے پر آمادہ نہ تھا ـ صحبت شراب و کباب میں وہ اتنا بدمست ہوجاتا تھا کہ اس کو کسی قسم کی انسانی یاغیر انسانی تمیز باقی نہیں رہتی تھی ـ ایک دن جب شراب و کباب کی محفل جمی ہوئی تھی اسی دوران خمر کے ممنوع ہونے اور شارب خمر کے سزا پانے کے بارے میں تذکرہ ہوا تو اس نے بے ساختہ یہ شعر پڑھا کہ جو اس کے فسق و فجور کی مکمل دلیل ہے :
ماقال ربک ویل شربوا
بل قال ربک ویل للمصلین
’’ ترے خدا نے یہ نہیں کہا جہنم ان کے لئے ہے جو پیتے ہیں بلکہ تیرے خدا نے یہ کہا ہے کہ جہنم ان کے لئے ہے جو نمازیں پڑھتے ہیں ‘‘
اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یزید جو اپنے باپ کے بعد خلافت پر بیٹھنے والاتھا کس قدر قرآن کا ادب کرتا تھا اور اس کے دل میں اقوال و احکام پرور دگار کی کتنی قدر و منزلت تھی ـ اگر اس کے دل میں قرآن کی کچھ اہمیت و وقعت ہوتی تو وہ عام کلام انسانی کی طرح سے حکم خدا کا اس انداز سے مذاق نہ اڑاتا اس کے فسق وفجور کی انتہا صرف یہیں پرنہیں ہوتی ہے بلکہ وہ ایسا درندہ تھا جو اپنی سوتیلی ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں تک کو نہ چھوڑتا تھا شراب آزادی سے پیتا تھا اور نمازیں ترک کرتا تھا عبد اللہ بن حنظلہ غسیل ملائکہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم یزید کی حکومت میں یہ خوف ہوگیا تھا کہ اب آسمان سے ہم پر پتھر برسیں گے ـ اس کی سرکشی مغرور اور مرتد طبیعت نے اس کو ایسے ناشائستہ اقدام کی طرف جرأت دلائی کہ جو کبھی بھی کوئی مسلمان نہیں کرسکتا اس کے اسی فعل سے خدا اور رسول دونوں کا انکار قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے ۔
اپنی ولیعہدی کے زمانے میں اس نے ام المومنین حضرت عائشہؓ سے عقد کا پیغام بھیجوایا اور ایسی عمر میں کہ ان کا سن ساٹھ سال کے قریب پہونچ چکا تھا اور وفات میں تھوڑا عرصہ باقی تھا اس کی یہ حرکت کس بنا پر تھی یہ تو معلوم نہیں اگریزید قرآن اور اس کے احکام پر ایمان لایا ہوتا اور اس کی آنکھوں میں رسول خداﷺ کی کچھ حرمت ہوتی تو وہ کبھی ایسی ناشائستہ حرکت کی جرأت نہ کرتا۔ـ
یزیدی ولیعہدی اور امام حسین علیہ السلام کا رد عمل
ایسی خبیث صفتوں کے مالک یزید کی ولیعہدی کے لئے اس کا باپ معاویہ ہمیشہ راستہ ہموار کرتا رہا اور معاویہ نے چاہا کہ یزید کی خلافت کو جن لوگوں سے خطرہ ہے ان کو درمیان سے ہٹادے ـ معاویہ نے بہت کوشش کی کہ وہ امام حسین علیہ السلام سےیزید کی بیعت لےلے یا انھیں یزید کی خلافت کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کردے لیکن اس کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی اور آخر کار وہ کوشش کرتا کرتا جہنم و اصل ہوگیا لیکن امام حسین علیہ السلام اپنے موقف پر ثابت قدم رہے ـ معاویہ کے مرنے کے بعد یزید تخت نشین ہوا مرگ معاویہ کے بعد اس کا سب سے بڑا مقصد تھا کہ ان چند لوگوں سے بیعت لے لی جائے جو اس کی ولیعہدی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں ـ چنانچہ اس نے اپنے نمائندہ ولید بن عقبہ کو مدینہ خط لکھا جس میں معاویہ کے مرنے کی خبر کے بعد اس نے لکھا کہ ’’بغیر کسی نرمی کے حسین علیہ السلام سے بیعت لئے بغیر ان سے ہاتھ نہ اٹھانا‘‘ ولید نے بیعت لینے کی بہت کوشش کی تو امام علیہ السلام نے پر امن طریقے سے اس کے شرسے خلاصی حاصل کرنے کے لئے فرمایا مجھ جیسا آدمی چھپ کر بیعت نہیں کرتا اور نہ ایسی بیعت قابل قبول ہے ـ جب سب لوگوں کی عام بیعت کا حکم دے گا تو اس وقت ہم سب کا ایک ہی موقف ہوگا لیکن مروان نے ولید کو بھڑکایا اور کہا کہ اگر حسین علیہ السلام اس وقت ہاتھ سے نکل گئے تو پھر ہم اس وقت تک قابو نہیں پاسکتے جب تک ہمارے اور ان کے افراد نہ مارے جائیں ـ اگر حسین علیہ السلام اسی وقت بیعت نہیں کرتے تو ان کو قتل کردے ـ امام نے جب یہ سنا تو مروان سے مخاطب ہوئے اور فرمایا’’ اے زرقاء کے بیٹے تو میرے قتل کا حکم دیتا ہے تو نے جھوٹ بول کر اپنی پستی کا ثبوت فراہم کیا ہے ‘‘اور اس کے بعد فاسق و فاجر شراب خور اور قاتل ہے جو علی الاعلان فسق وفجور کا ارتکاب کرتا ہے ـ مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا‘‘ ان کلمات کے ساتھ امام حسین علیہ السلام نے اموی حکومت کے خلاف اپنے قیام کا اعلان کردیا اوریہ کہتے ہوئےمدینہ سے کربلا کی طرف روانہ ہوئے۔
’’ انی لم اخرج اشراً و لابطراً ولامفسداً ظالما وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ سلم ارید ان آمر بالمعروف و النھی عن المنکر و اسیر بسیرة جدی و ابی علی بن ابی طالب علیہ السلام‘‘ میں نے فتنہ، سرکشی، فساد یا ظلم کے لئے قیام نہیں کیا ہے بلکہ میں اپنے جد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لئے نکلاہوں ـ میں چاہتا ہون کہ امر بالمعروف اور نہی از منکر کروں ـ اور اپنے جد و والدین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی سیرت پر گامزن رہوں ـ ۔

 

Last modified on چهارشنبه, 05 آذر 1393 16:42

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.