×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام رضا (ع) کی دس احادیث

آذر 25, 1393 0 254

1۔ قالَ الرضا علیه السلام: الصَّلوةُ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ تَعْدِلُ عِنْدَاللّهِ عَزَّوَ جَلَّ التَّسْبیحَ وَالتَّهْلیلَ وَالتَّكْبیرَ۔(1)
امام رضا (ع) نے فرمایا:

محمد اور اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر صلوات اور تحیّت کا ثواب سبحان اللّه ، لا إ له إلاّاللّه ، اللّه اكبر کے ثواب کے برابر ہے۔
2۔ قالَ الرضا علیه السلام: لَوْخَلَتِ الاْ رْض طَرْفَةَعَیْنٍ مِنْ حُجَّةٍ لَساخَتْ بِاهْلِها (2)
اگر زمین لمحہ بھر حجت سے خالی ہوجائے تو یہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے گی۔
3۔ قالَ الرضا علیه السلام : عَلَیْكُمْ بِسِلاحِالاْ نْبیاءِ، فَقیلَ لَهُ: وَ ما سِلاحُ الاْ نْبِیاءِ؟ یَا ابْنَ رَسُولِ اللّه ! فَقالَ علیه السلام : الدُّعاءُ۔ (3)
آپ کو انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار استعمال کرنا چاہئے، پوچھا گیا: انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے قرمایا: انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار خدا کی طرف توجہ دینا، دعا کرنا اور خدا سے مدد مانگنا ہے۔
4۔ قالَ الرضا علیه السلام : صاحِبُ النِّعْمَةِ یَجِبُ عَلَیْهِ التَّوْسِعَةُ عَلى عَیالِهِ۔ (4)
نعمت و دولت کے مالک کو اپنی قوت کے مطابق اپنے اہل و عیال کے لئے خرچ کرنے چاہئے۔
5۔ قالَ الرضا علیه السلام : المَرَضُ لِلْمُوْمِنِ تَطْهیرٌ وَ رَحْمَةٌ وَلِلْكافِرِ تَعْذیبٌ وَلَعْنَةٌ، وَ إ نَّ الْمَرَضَ لایَزالُ بِالْمُوْمِنِ حَتّى لایَكُونَ عَلَیْهِ ذَنْبٌ (5)
بیماری مومن کے لئے رحمت اور گناہوں کی مغفرت کا سبب اور کافر کے لئے عذاب اور لعنت ہے۔
امام علیہ السلام نے مزید فرمایا: بیماری ہمیشہ مومن کے ہمراہ ہے تا کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہ رہے اور موت کے بعد آسودہ خاطر ہو۔
 6۔ قالَ الرضا علیه السلام: مَنْ زارَ قَبْرَالْحُسَیْنِ علیه السلام بِشَطِّ الْفُراتِ، كانَ كَمَنْ زارَاللّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ۔۔ (6)
جس نے دریائے فرات کے کنارے قبر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے عرش پر حضرت حق تعالی کی زیارت کی ہو۔
7۔ كَتَبَ الرضا علیه السلام: ابْلِغْ شیعَتى : إنَّزِیارَتى تَعْدِلُ عِنْدَاللّهِ عَزَّ وَ جَلَّ اءلْفَ حَجَّةٍ، فَقُلْتُ لاِ بى جَعْفَرٍ علیه السلام : اءلْفُ حَجَّةٍ؟! قالَ: إ ى وَاللّهُ، وَ اءلْفُاءلْفِ حَجَّةٍ، لِمَنْ زارَهُ عارِفا بِحَقِّهِ۔ (7)
امام رضا علیہ السلام نے اپنے دوست کو خط میں مرقوم قرمایا: ہمارے دوستوں اور عقیدتمندوں سے کہو: میری قبر کی زیارت ایک ہزار بار [مستحب] حج  کے برابر ہے۔
راوى کہتا ہے: میں نے امام محمد تقی الجواد علیہ السلام سے عرض کیا: کیا آپ کے والد کی زیارت کے لئے ایک ہزار بار حج کا ثواب ہے؟
ہاں! جس نے معرفت کے ساتھ میرے والد کی زیارت کی اس کو ایک ہزار ہزار [دس لاکھ] بار حج [مستحب] کا ثواب مقرر ہے۔
8۔ قالَ الرضا علیه السلام: اءوَّلُ ما یُحاسَبُ الْعَبْدُ عَلَیْهِ،الصَّلاةُ، فَإ نْ صَحَّتْ لَهُ الصَّلاةُ صَحَّ ماسِواها، وَ إ نْ رُدَّتْ رُدَّماسِواها۔ (8)
سب سے پہلے انسان کے جس عمل کا حساب و کتاب اور محاسبہ ہوگا وہ نماز ہے، اگر انسان کی نماز صحیح ہو اور مقبول واقع ہوجائے تو اس کے دوسرے عامال بھی قبول ہونگے ورنہ تمام اعمال رد کئے جائیں گے۔
9۔ قالَ علیه السلام : لِلصَّلاةِاءرْبَعَةُ آلاف بابٍ۔ (9)
نماز چار ہزار شرطوں اور اجزاء کی حامل ہے۔
10۔ قالَ الرضا علیه السلام: الصَّلاةُ قُرْبانُ كُلِّ تَقىٍّ۔ (10)
نماز ہر متقی اور پرہیزگار شخص کو اللہ سے قریب تر کردیتی ہے۔ (ختم شد)
حوالہ جات:
1۔ امالى شیخ صدوق ص 68، بحارالا نوار: ج 91، ص 47، ضمن ح 2۔
2۔ علل الشّرایع : ص 198، ح 21۔
3۔ بصائرالدّرجات : جزء 6، ص 308، باب 8، ح 5۔
4۔ وسائل الشّیعة : ج 21، ص 540، ح 27807۔
5۔ بحارالا نوار: ج 78، ص 183، ح 35، ثواب الا عمال : ص 175۔
6۔ مستدرك الوسائل : ج 10، ص 250، ح 38۔
7۔ مستدرك الوسائل : ج 10، ص 359، ح 2.
8۔ مستدرك الوسائل : ج 3، ص 25، ح 4۔
9۔ تهذیب الا حكام : ج 2، ص 242، ح 957۔
10۔ وسائل الشّیعة : ج 4، ص 43، ح 4469۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.