×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

حدیث غدیر کی سندیت و دلالت

December 16, 2014 209

اس حدیث کی حقیقت کو ظاہرکرنے کے لئے ضروری ہے کہ سند اور دلالت دونوں کے ہی بارے میں معتبر حوالوں کے ذریعہ بات کی جائے۔ غدیر

خم کا منظر : 10 ھجری کے آخری ماہ (ذی الحجہ) میں حجة الوداع کے مراسم تمام ہوئے اور مسلمانوں نے رسول اکرم سے حج کےاعمال سیکھے۔ حج کے بعد رسول اکرم نے مدینہ جانے کی غرض سے مکہ کو چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے، قافلہ کو کوچ کا حکم دیا۔ جب یہ قافلہ جحفہ( 1) سے تین میل کے فاصلے پر رابغ [2] نامی سرزمین پر پہنچا تو غدیر خم کے مقام پر جبرئیل امین وحی لے کر نازل ہوئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو اس آیت کے ذریعے خطاب کیا <یا ایہا الرسول بلغ ماانزل الیک من ربکوان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس [3] اے رسول! اس پیغام کو پہنچا دیجئے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل ہو چکا ہے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا رسالت کا کوئی کام انجام نہیں دیا؛ اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
آیت کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے کوئی ایسا عظیم کام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سپرد کیا ہے جو پوری رسالت کے ابلاغ کے برابر ہے اور دشمنوں کی مایوسی کا سبب بھی ہے۔ اس سے بڑھ کر عظیم کام اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کے سامنے حضرت علی علیہ السلام کو خلافت و وصایت و جانشینی کے منصب پر معین کریں؟ لہٰذا قافلہ کو رکنے کا حکم دیا گیا، جو لوگ آگے نکل گئے تھے وہ پیچھے کی طرف پلٹے اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ آکر قافلہ سے مل گئے۔ ظہرکا وقت تھا اورگرمی اپنے شباب پر تھی؛ حالت یہ تھی کہ کچھ لوگ اپنی عبا کا ایک حصہ سر پر اور دوسرا حصہ پیروں کے نیچے دبائے ہوئے تھے۔ پیغمبر (ص) کے لئے ایک درخت پر چادر ڈال کر سائبان تیار کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کے کجا‎وں سے بنے ہوئے منبر کی بلندی پر کھڑے ہو کر، بلند و رسا آواز میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے۔
غدیر خم میں پیغمبر کا خطبہ :
حمد و ثناءاللہ کی ذات سے مخصوص ہے۔ ہم اسی پر ایمان رکھتے ہیں، اسی پر توکل کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہم برائی اور برے کاموں سے بچنے کے لئے اس اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جس کے علاوہ کوئی دوسرا ہادی و راہنما نہیں ہے۔ اور جس نے بھی گمراہی کی طرف راہنمائی کی وہ اس کے لئے نہیں تھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔
ہاں اے لوگو! وہ وقت قریب ہے، جب میں دعوت حق پر لبیک کہتا ہوا تمھارے درمیان سے چلا جاوں گا! تم بھی جواب دہ ہو اور میں بھی جواب دہ ہوں۔
اس کے بعد آپنے فرمایا: میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا میں نے تمہارے بارے میں اپنی ذمہ داری پوری کی ہے؟
یہ سن کر پورے مجمع نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے بہت زحمتیں اٹھائیں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا ؛اللہ آپ کو اس کا بہترین اجر دے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اس پوری دنیا کا معبود ایک ہے اور محمد اس کا بندہ اور رسول ہے؟ اور جنت و جہنم وآخرت کی ابدی زندگی میں کوئی شک نہیں ہے؟
سب نے کہا کہ صحیح ہے ہم گواہی دیتے ہیں۔
اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو!میں تمھارے درمیان دو اہم چیزیں چھوڑ ے جا رہا ہوں، میں دیکھوں گا کہ تم میرے بعد، میری ان دونوں یادگاروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو؟
اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور بلند آواز میں سوال کیا کہ ان دو اہم چیزوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اللہ کی کتاب ہے جس کا ایک سرا اللہ کی قدرت میں ہے اور دوسرا تمھارے ہاتھوں میں ہے اور دوسرے میری عترت اور اہلبیت ہیں، اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ ہرگز ایک دوسرے جدا نہ ہوں گے۔
ہاں اے لوگو! قرآن اور میری عترت سے سبقت نہ لینا اور ان دونوں کے حکم کی تعمیل میں بھی کوتاہی نہ کرنا، ورنہ ہلاک ہو جاو گے۔
اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اتنا اونچا اٹھایا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی، سب کو نظر آنے لگی پھر علی (ع) کو سب لوگوں سے متعارف کرایا۔
اس کے بعد فرمایا: کون ہے جو مومنین پر ان کے نفوس سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے ؟
سب نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ میرا مولیٰ ہے اور میں مومنین کا مولا ہوں اور میں ان کے نفسوں پر ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہوں۔
ہاں اے لوگو!”‌ من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ و احب من احبہ و ابغض من ابغضہ وانصر من نصرہ واخذل من خذلہ و ادر الحق معہ حیث دار ۔
ترجمہ: جس جس کا میں مولیٰ ہوں اس اس کے یہ علی (ع) مولا ہیں، [4] اے اللہ تو اسکو دوست رکھ جو علی (ع) کو دوست رکھے اور اس کو دشمن رکھ جو علی (ع) کو دشمن رکھے، اس سے محبت کر جو علی (ع) سے محبت کرے اور اس پر غضبناک ہو جو علی (ع) پر غضبناک ہو، اس کی مدد کرجو علی (ع) کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو علی (ع) کو رسوا کر ے اور حق کو اسی موڑ دے جدھر علی (ع) مڑتے ہیں [5]۔
اوپر لکھے خطبہ [6] کو اگر انصاف کے ساتھ دیکھا جائے تو اس میں جگہ جگہ پر حضرت علی علیہ السلام کی امامت کی دلیلیں موجو د ہیں (ہم جلد ہی اس قول کی وضاحت کریں گے )
حدیث غدیر کی ابدیت:
اللہ کا حکیمانہ ارادہ ہے کہ غدیر کا تاریخی واقعہ ایک زندہ حقیقت کی صورت میں ہر زمانے میں باقی رہے اور لوگوں کے دل اس کی طرف جذب ہوتے رہیں۔ اسلامی قلمکار ہر زمانے میں تفسیر، حدیث، کلام اور تاریخ کی کتابوں میں اس کے بارے میں لکھتے رہیں اور مذہبی خطیب، اس کو وعظ و نصیحت کی مجالس میں حضرت علی علیہ السلام کے ناقابل انکار فضائل کی صورت میں بیان کر تے رہیں۔ اور فقط خطیب ہی نہیں بلکہ شعراء حضرات بھی اپنے ادبی ذوق، تخیل اور اخلاص کے ذریعے اس واقعے کی عظمت کو چار چاند لگائیں اور مختلف زبانوں میں مختلف انداز سے بہترین اشعار کہہ کر اپنی یادگار چھوڑیں (مرحوم علامہ امینی نے مختلف صدیوں میں غدیر کے سلسلے میں کہے گئے اہم اشعار کو شاعر کی زندگی کے حالات کے ساتھ معروف ترین اسلامی منابع سے نقل کرکے اپنی کتاب الغدیر میں جو کہ گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے، بیان کیا ہے۔ )
بالفاظ دیگر دنیا میں بہت کم ایسے تاریخی واقعات ہیں جو غدیر کی طرح محدثوں، مفسروں، متکلموں، فلسفیوں، خطیبوں، شاعروں، مورخوں اور سیرت نگاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوں۔ اس حدیث کے جاودانی ہونے کی ایک علت یہ ہے کہ اس واقعے سے متعلق دو آیتیں قرآن کریم میں موجودہیں [7] لہٰذا جب تک قرآن باقی رہے گا یہ تاریخی واقعہ بھی زندہ رہے گا۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآن ابدی حقیقت ہے اور یہ حقیقت ابد تک باقی رہے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اٹھارہویں ذی الحجة الحرام مسلمانوں کے درمیان روز عید غدیر کے نام سے مشہور تھی یہاں تک کہ ابن خلکان، المستعلی بن المستنصر کے بارے میں لکھتا ہے کہ 487 ھ میں عید غدیر خم کے دن جو کہ اٹھارہ ذی الحجة الحرام ہے، لوگوں نے اس کی بیعت کی [8] اور المستنصر باللہ کے بارے میں لکھتا ہے کہ 487 ھ میں جب ذی الحجہ کی آخری بارہ راتیں باقی رہ گئیں تو وہ اس دنیا سے گیا اور جس رات میں وہ دنیا سے گیا ماہ ذی الحجہ کی اٹھارہویں شب تھی جو کہ شب عید غدیر ہے۔ [9]
اس سے بھی زیادہ دلچسپ امر یہ ہے کہ ابوریحان البیرونی نے اپنی کتاب الآثار الباقیہ میں عیدغدیر کو ان عیدوں میں شمار کیا ہے جن میں تمام مسلمان خوشیاں مناتے تھے اور اہتمام کرتے تھے [10]
صرف ابن خلکان اور ابوریحان بیرونی نے ہی اس دن کو عید کا دن نہیں کہا ہے، بلکہ اہل سنت کے مشہور معروف عالم ثعلبی نے بھی شب غدیر کو امت مسلمہ کے درمیان مشہور شبوں میں شمار کیا ہے [11] اس اسلامی عید کی بنیاد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہی رکھی جا چکی تھی، کیونکہ آپ نے اس دن تمام مہاجر، انصار اور اپنی ازواج کو حکم دیا کہ علی علیہ السلام کے پاس جاکر آپ (ع) کو امامت و ولایت کے سلسلہ میں مبارکباد دیں۔
زید ابن ارقم کہتے ہیں کہ ابوبکر، عمر، عثمان، طلحہ و زبیر مہاجرین میں سے وہ پہلے افراد تھے جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی اور مبارکباد دی۔ بیعت اور مبارکبادی کیا یہ سلسلہ مغربت ک چلتا رہا۔
راویان حدیث :
اس تاریخی واقعے کی اہمیت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک سو دس اصحاب نے نقل کیا ہے۔ [13] البتہ اس جملے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحابہ کی اتنی بڑی تعداد میں سے صرف ان ہی اصحاب نے اس واقعے کو بیان کیا ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اہل سنت کے علماء نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں صرف انہی ایک سو دس افرادکا ذکر ملتا ہے۔
دوسر صدی، جس کو تابعین کا دور کہا گیا ہے، میں 89 افراد نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ بعد کی صدیوں میں بھی اہل سنت کے تین سو ساٹھ علماء نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے اور علماء اہل سنت کی ایک بڑی تعداد نے اس حدیث کی سند کو صحیح تسلیم کیا ہے۔
اس گروہ نے صرف اس حدیث کو بیان کرنے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس حدیث کی سند اور افادیت کے بارے میں مستقل طور کتابیں بھی لکھی ہیں۔
عجیب بات تویہ ہے کہ عالم اسلام کے سب سے بڑے مورخ طبری نے ”‌ الولایة فی طرقِ حدیث الغدیر“ نامی کتاب لکھی اور اس حدیث کو 75 طُرُق سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا۔ ابن عقدہ کوفی نے اپنے رسالا ولایت میں اس حدیث کو 105افراد سے نقل کیا ہے۔ ابوبکر محمد بن عمر بغدادی جو کہ جمعانی کے نام سے مشہور ہیں نے اس حدیث کو 25 طریقوں سے بیان کیا ہے۔
اہل سنت کےمشہور علماء اور حدیث غدیر :
احمد بن حنبل شیبانی، ابن حجر عسقلانی، جزریشافعی، ابوسعید سجستانی، امیر محمد یمنی، نسائی، ابوالعلاء الحسن بن احمد الہمدانی، اور ابوالعرفان حبان نے اس حدیث کو بہت سی سندوں [14] کے ساتھ نقل کیا ہے۔
شیعہ علماء نے بھی اس تاریخی واقعے کے بارے میں بہت سی اہم کتابیں لکھی ہیں اور اہل سنت کی مشہور کتابوں کا حوالہ دیا ہے۔
ان میں سے جامع ترین کتاب ”‌ الغدیر“ ہے،جو عالم اسلام کے مشہور مولف مرحوم علامہ امینی کے قلم کا شاہکار ہے۔ (اس کتابچے کو لکھنے کے لئے اس کتاب سے بہت زیادہ استفادہ کیاگیا ہے) بہرحال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمومنین علی علیہ السلام کو اپنا جانشین بنانے کے بعد فرمایا:”‌ اے لوگو! ابھی ابھی جبرئیل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے <الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً [15]
ترجمہ: آج میں نے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمتوں کو بھی تمام کیا اور تمھارے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔
اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےتکبیر کہی اور فرمایا: اللہ کاشکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنے آئین اور نعمتوں کو پورا کیا اور میرے بعد علی علیہ السلام کی وصایت و جانشینی سے خوشنود ہوا۔
اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلندی سے نیچے تشریف لائے اور حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ:”‌ جاو خیمے میں جاکر بیٹھو، تاکہ اسلام کی بزرگ شخصیتیں آپ کی بیعت کرتے ہوئے مبارکبادپیش کریں۔
سب سے پہلے شیخین (ابوبکر و عمر) نے حضرت علی علیہ السلام کو مبارکباد پیش کی اور ان کو اپنا مولا تسلیم کیا۔ حسان بن ثابت نے موقع سےفائدہ اٹھایا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے ایک قصیدہ کہہ کر پڑھا،یہاں پر اس قصیدے کے صرف دو اہم اشعا ر بیان کر رہے ہیں:
فقال لہ قم یا علی فاننی
رضیتک من بعدی اماماً و ہادیاً
فمن کنت مولاہ فہٰذا ولیہ
فکونو لہ اتباع صدق موالیا
ترجمہ: (رسول اللہ (ص) نے) علی علیہ السلام سے فرمایا :”‌ اٹھو میں نے آپ کو اپنی جانشینی اور اپنے بعد لوگوں کی امامت و راہنمائی کے لئے منتخب کرلیا۔
جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے علی مولا ہیں۔
تم،کہ ان کو دل سے دوست رکھتے ہو، بس ان کی پیروی کرو۔ [16]
یہ حدیث علی علیہ السلام کی تمام صحابہ پر فضیلت اور برتری کی بھی سب سے بڑی دلیل ہے۔
یہاں تک کہ امیر المومنین علیہ السلام نے مجلس شورائے خلافت میں (جوکہ دوسرے خلیفہ کی وفات کے بعد منعقد ہوئی) [17] اور عثمان کی خلافت کے زمانے میں اور اپنی خلافت کے دوران بھی اس پر احتجاج و استناد کیا۔
اس کے علاوہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا جیسی عظیم شخصیت نے بھی حضرت علی علیہ السلام کی والا مقامی سے انکار کرنے والوں کے سامنے، اسی حدیث سے استدلال کیا۔
مولیٰ سے کیا مراد ہے؟
یہاں پر سب سے اہم مسئلہ مولیٰ کے معنی کی تفسیر ہے جو کہ وضاحت میں عدم توجہ اور لاپرواہی کا نشانہ بنی ہوئی ہے کیونکہ اس حدیث کے بارے میں جو کچھ بیان کیاگیا ہے اس سے اس حدیث کی سندکے قطعی ہونے میں کوئی شک و تردید باقی نہیں رہ جاتی، لہٰذا بہانہ تراشنے والے افراد اس حدیث کے معنی و مفہوم میں شک و تردید پیدا کرنے میں لگ گئے، خاص طور پر لفظ مولیٰ کے معنی میں، مگر اس میں بھی کامیاب نہ ہوسکے۔
صراحت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ لفظ مولیٰ اس حدیث میں بلکہ اکثرمقامات پر ایک سے زیادہ معنی نہیں دیتا اور وہ "اولویت اور شائستگی" ہے دوسرے الفاظ میں مولیٰ کے معنی "سرپرستی" ہے قرآن میں بہت سی آیات میں لفظ مولیٰ سرپرستی اور اولیٰ کے معنی میں استعمال ہواہے۔
قرآن کریم میں لفظ مولیٰ 18 آیات میں استعمال ہوا ہے جن میں سے دس مقامات پر یہ لفظ اللہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی مولائیت اس کی سرپرستی اور اولویت کے معنی میں ہے۔
لفظ مولیٰ بہت کم مقامات پردوست کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس بنیادپر مولیٰ کے معنی میں درجہ اول میں اولیٰ، ہونے میں کوئی شک و تردید نہیں کرنی چاہئے۔
حدیث غدیر میں بھی لفظ مولا اولویت کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس حدیث کے ساتھ بہت سے ایسے قرائن و شواہد ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ یہاں پر مولا سے مراد اولویت اور سرپرستی ہی ہے۔ (ختم شد)
حوالہ جات:
[1] یہ جگہ احرام کے میقات کی ہے اور ماضی میں یہاںسے عراق،مصر اور مدینہ کے راستے جدا ہو جاتے تھے۔
[2] رابغ اب بھی مکہ اورمدینہ کے بیچ میں واقع ہے۔
[3] سورہ مائدہ آیہ/ 67
[4] پیغمبر اسلام صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم نے اطمینان کے لئے اس جملے کو تین بار کہا تاکہ بعدمیں کوئی مغالطہ نہ ہو۔
[5] یہ پوری حدیث غدیر یا فقط اس کا پہلا حصہ یافقط دوسرا حصہ ان مسندوں میں آیا ہے۔ (الف)مسند احمد ابن حنبل ص/ 256( ب) تاریخ دمشق ج/ 42 ص/ 207، 208، 448 ( ج)خصائص نسائی ص/ 181 ( د)المجملکبیر ج/ 17 ص/ 39 ( ہ) سنن ترمذی ج/ 5 ص/ 633( و) المستدرک الصحیحین ج/ 132ص/ 135 ( ز) المعجم الاوسط ج/ 6 ص/ 95 ( ح) مسند ابی یعلی ج/ 1 ص / 280،المحاسن والمساوی ص/ 41( ط)مناقب خوارزمی ص/ 104،اور دیگر کتب۔
[6] اسخطبہ کو اہل سنت کے بہت سے علماء نے اپنی کتابوںمیں ذکرکیا ہے۔ جیسے (الف) مسند احمد ج/ 1، ص/ 84، 88، 118، 119، 152، 332، 281، 331،اور370( ب) سنن ابن ماجہ ج/ 1،ص/ 55، 58 ( ج) المستدرک الصحیحین نیشاپوریج/ 3 ص/ 118، 613( ج) سنن ترمزی ج/ 5 ص/ 633( د) فتح الباری ج/ 79 ص/ 74 ( ہ) تاریخ خطیب بغدادی ج/ 8 ص/ 290 ( و) تاریخ خلفاء،سیوطی/ 114،اوردیگر کتب۔
[7] سورہ مائدہ آیہ/ 3، 67
[8] وفایة الآیان 60/1
[9] وفایةالآیان ج/ 2 ص/ 223
[10] ترجمہ آثارالبقایہ ص/ 395،الغدیر/ 1،ص/ 267
[11] ثمار القبول اعیان/ 11
[12] عمر بن خطاب کی مبارک بادی کا واقعہ اہلسنت کی بہت سی کتابوں میں ذکر ہوا ہے۔ ان میں سے خاص خاص یہ ہیں (الف) مسند ابن حنبل ج/ 6،ص/ 104 ( ب) البدایہ ونہایہ ج/ 5 ص/ 209 ( ج)الفصولالمہمہ ابن صباغ ص/ 40 ( د)فرائد السمطین،ج/ 1،/ 71،اسی طرح ابوبکر،عمر،عثمان،طلحہ و زبیرکی مبارکبادی کا ماجرا بھی بہت سی دوسر ی کتابوں میں بیان ہوا ہے جیسےمناقب علی بن ابی طالب،تالیف :احمدبن محمد طبری،الغدیر ج/ 1 ص/ 270
[13] اس اہم سند کا ذکر دوسری جگہ پر کریں گے
[14] سندوں کا یہ مجموعہ الغدیرکی پہلی جلد میں موجود ہے جو اہل سنت کی مشہور کتابوں سے جمع کیا گیا ہے۔
[15] سورہ مائدہ آیہ/ 3
[16] حسان کے اشعار بہت سی کتابوں میں نقل ہوئےہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں :مناقب خوارزمی،ص/ 135،مقتل الحسین خوارزمی،ج/ 1،ص/ 47،فرائد السمطین ج/ 1،ص/ 73 و 74،النور المشتعل،ص/ 56،المناقب کوثر ج/ 1،ص/ 118 و 362
[17] یہ احتجاج جس کو اصطلاح میں”‌ مناشدہ “کہا جاتا ہے حسب ذیل کتابوں میں بیان ہوا ہے : مناقب اخطب خوارزمیحنفی ص/ 217،فرائد السمطین حموینی باب/ 58،الدر النظیم ابن حاتم شامی،وصواعق المحرقہ ابن حجر عسقلانی ص/ 75، امالی بن عقدہ ص/ 7 و 212، شرحنہج البلاغہ ابن الحدید ج/ 2 ص/ 61، الاستیعاب ابن عبد البر ج/ 3،ص/ 35،تفسیر طبری ج/ 3 ص/ 418،سورہ مائدہ کی 55 آیہ کے تحت۔

Login to post comments