×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

محرم شمشیر پرخون کی فتح کا مہینہ

آذر 26, 1393 0 322

محرم ایک عظیم سرمایہ ہے جسے خداوندعالم نے اپنے بندوں کے حوالے کیا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرکے انسان ہمیشہ اچھے اور برے کی

تمیز کرنے کے ساتھ ساتھ حادثات زمانہ کے دوران وہ فتنوں کے سینوں کو چاک کرکے انھیں ناکام بنا سکے اور یوں وہ ان فتنوں کے ہولناک گرداب میں غرق ہونے سے بچ جائے ۔سرکار سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے بارے میں رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ معروف حدیث جس میں آپ نے فرمایا کہ فقط امام حسین کی تعریف و تمجید نہیں ہے بلکہ سرکار دوعالم نے یہ حدیث اس لئے ارشاد فرمائی تھی کہ سب کو قیامت تک کے لئے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ امام حسین علیہ السلام راہ ہدایت کے مشعل فروزاں ہیں اور سب لوگ ان کی اتباع و پیروی کرکے دین خدا کی نصرت کریں تاکہ گمراہی اور ضلالت کے گڑھوں میں گرنے سے خود کو بچا سکیں۔ پیغمبر اسلام کے پیش نظر جو چیز تھی وہ یہ کہ محرم اور تحریک عاشورہ سے زندگی گذارنے کا درس حاصل کرو اور اس طرح سے امام حسین علیہ السلام کے مقصد کو آگے بڑھاو تاکہ درس کربلا انسانی معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی شکل اختیار کرسکے اور پھر اس طرح صحیح معنوں میں ہم امام حسین علیہ السلام کے پیرو اور ان کے عزادار کہلائیں ۔اسلامی جمہوریہ ایران میں یہ کام امام خمینی رہ نے بہترین شکل میں انجام دیا امام خمینی(رہ) کا یہ معروف جملہ جس میں آپ نے فرمایا تھا محرم شمشیر پر خون کی فتح کا مہینہ ہے ان انقلابی تحریک میں عملی میں طور پر متجلی ہے اوراسی سبق نے ایران کے اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کویقینی طورپرواقعہ کے عاشورکے درس سے الہام لینے اوراس واقعہ کے پرتو میں ہی دیکھا جانا چاہئے کیونکہ اسلامی انقلاب نے واقعہ عاشورہ سے بھرپور فائدہ اٹھایا اوراسی کواپنے لئے نمونہ قراردیا اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اورآئندہ بھی ایران کا اسلامی انقلاب واقعہ عاشورہ کے ہی پرتو میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا ۔ایران کے عوام نے اسلامی انقلاب کوآسانی سے کامیاب نہیں بنایا ہے یا اس نے اپنے ملک میں جواسلامی نظام قائم کیاہے وہ آسانی سے ممکن نہیں ہوا ہے ۔ گذشتہ تیس برسوں میں ایران کے عوام نے اسلامی انقلاب اوراسلامی نظام کی حفاظت کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اورآئندہ بھی اس کے ثمرات کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ان کے سامنے واقعہ عاشورہ ہے۔حضرت امام حسین علیہ السلام نے جوانقلاب میدان کربلامیں بپا کیا تھا اس کی حفاظت میں امام زین العابدین اورجناب زینب کبری سلام اللہ علیھما نے جوقربانیاں دی ہیں وہ کربلاکے میدان میں قربانی دینے والوں کی قربانیوں سے کہیں زیادہ سخت ودشوارتھیں اورآج ایران کے عوام بھی اس بات کواچھی طرح جانتے ہیں کہ انقلاب بپا کرنے سے زیادہ سخت اس کی حفاظت اوراس کے ثمرات کا تحفظ ہے اسی لئے ایران کے عوام محرم اورصفرکوانقلاب کے ثمرات کے تحفظ کے تعلق سے بہت ہی اہم موقع کے طورپردیکھتے ہیں اوران ایام سے پوری طرح استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔امام خمینی رہ کے نقطہ نگاہ سے اسلام ایک انسان سازمکتب ہے اوراسلامی انقلاب بھی اصل اسلام کے نام پرہی برپاہوا ہے اورایران کا اسلامی نظام بھی ملت ایران کے لئے ایک سعادت بخش نطام ہے اورملت ایران نے اس کے حق میں ووٹ دے کراسے قائم کیا اورگذشتہ تیس برسوں سے اس کی حفاظت بھی کر رہی ہے ۔ ایران کے عوام آج اپنی عزت وسربلندی کو امام خمینی(رہ) کی قیادت کا مرہون منت سمجھتے ہیں جنھوں نے اس قوم کو استکبار کے چنگل سے آزاد کرایا اور استبدادی حکومتوں سے نجات دلائی۔امام خمینی نے اس قوم کو جس کی اپنی قدیم تہذیب اور درخشاں ماضی ہے اور جس پر استبداد کا تسلط تھا آزادی و خودمختاری کی نعمت سے سرفراز کیا چنانچہ گذشتہ روز جمعہ یکم محرم الحرام کو پورے ملک میں پیر و جوان خورد و بزرگ بچوں اور بوڑھوں نے جس طرح سے سڑکوں پر نکل کراپنے رہبر کبیر کے اصولوں اور ان کے بتائے ہوئے راستوں پرچلنے کا عہد کیا وہ اس بات کو دنیا پر واضح کردیتا ہے کہ ایران کے عاشورائی عوام اپنے قائد و رہبر کے اصولوں کو کربلا کے ہی درس سے عبارت سمجھتے ہیں جنھیں وہ کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے اورنہ ہی ان کے احسانات کو کبھی بھول سکتے ہیں ۔ بعض ناعاقبت اندیش اور احسان فراموش عناصر کے ذریعہ پچھلے دنوں امام خمینی رہ کی شان میں کی گئی اہانت کے بعد گذشتہ ایک ڈیڑھ ہفتے سے ایران کے تمام شہروں میں ہر طبقے سے تعلق رکھنےوالوں نے اس مذموم اور منافقانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے امام خمینی سے اپنی عقیدت اورمحبت کا اسی طرح سے اظہار کیا جس طرح اسلامی انقلاب کی تحریک کے دوران اور اس سے پہلے و بعد کے برسوں میں کیا کرتے تھے ۔محرم کی پہلی تاریخ کو ایران کے عاشورائی عوام نے کربلا والوں کے درس سے الہام لیتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ جو قوم اپنے نیک و صالح رہبر کی احسان مند رہتی اور ان کے اصولوں کی پاسداری کرتی ہے اس کا دنیا کی کوئی بھی طاقت کچھ بھی نہیں بگاڑسکتی اور یہی پیغام عاشورہ کا ایک بہت بڑا جزء بھی ہے ۔اس کے علاوہ محرم دشمن کو پہچاننے کا بھی ایک بہترین موقع ہے یزید شمر،ابن زیاد و عمرسعد صرف وہی نہیں تھے جوسن اکسٹھ ہجری میں کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب پرظلم کرنے کے لئے موجودتھےبلکہ آج بھی یزید، شمر،حرملہ، ابن زیاد اور عمرسعد پائے جاتے ہیں جو اسلام کو مٹانے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے طاقت کے ہر حربے کا استعمال کررہے ہیں آج بھی وقت کے یزید عاشورہ کے پیغام کو مٹانے کے درپئے رہتے ہیں آج بھی وقت کے ابن زیاد ہر اس تحریک اورانقلاب کو نابود کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں جو عاشورہ سے درس لے کرآگے بڑھ رہی ہو۔یہ اور بات ہے کہ اس وقت کا بھی یزید و شمر و حرملہ وابن زیاد پیغام حسینیت کو نہیں روک سکا تھا اور آج کے بھی یزید عاشورہ کے آفاقی پیغام کونہیں روک پارہے ہیں اگرچہ پیغام عاشورہ پرعمل کرنےوالوں کواس کے لئے بھاری تاوان ادا کرنا پڑرہاہے۔ فوجی سیاسی اوراقتصادی طورپرسامراجی طاقتوں کے دباوکا سامنا کرنا پڑرہاہے لیکن مصباح الہدی وسفینۃ النجات کی نصرت و مدد کے زیرسایہ حسینیت کے پیرو بڑی سے بڑی مشکلات کا بہت ہی بے جگری سے سامنا کرتے ہیں اور تمام مسائل ومصائب کا ہنس کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں ۔آج کون نہیں جانتا کہ اگرکل یزید اور اس کے کارندے ابن زیاد و حرملہ شمر جیسے فاسق و فاجر و بدشعار عناصر اسلام کے دشمن تھے تو آج امریکہ اور اس کے اتحادی جن میں فرانس برطانیہ اور صہیونی حکومت شامل ہیں دین اسلام کے کھلے دشمن ہیں اور اگر آج ایران کے اسلامی نظام اور انقلاب سے ان کی کھلی دشمنی ہے تواس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب کربلاکے آفاقی انقلاب کا ہی ایک پرتو ہے آج ان دشمنوں اور ان کی سازشوں کوسمجھنا تمام حسینیوں اور مسلمانوں پرفرض و لازم ہے اور اگر اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی کی گئی تورسول اسلام امام حسین اورسب سے بڑھ کر خدا کے حضور کو سب کو جواب دینا ہوگا آج محرم اور عاشورہ جب سب کو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دے رہاہے اور دشمنوں کے چہروں پر پڑی ہوئی نقاب کو اتار پھینکنے کے لئے آگے قدم بڑھانے کا حکم دے رہا ہے تو ایسے میں اگر ہم امام عالیمقام کے عاشق ہونے کا دم بھرتے ہیں تو عملی طورپر اپنے آپ کو بہرحال ثابت کرنا ہوگا آج محرم وعاشورہ سے فائدہ اٹھاکر عراق فلسطین اور افغانستان سمیت دنیا کے دیگر علاقوں میں وقت کے یزیدیوں کے ظلم کے خلاف سب کو آواز بلند کرنا ہوگا اسی صورت میں عزاداری اور محرم کا حق ادا ہوسکے گا۔ کیونکہ عزاداری ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوم کی مظلومیت کوعام کرنے کا نام ہے۔

Last modified on چهارشنبه, 26 آذر 1393 10:55

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.