×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

محرم ایک عظیم سرمایہ ہے

آذر 26, 1393 0 228

محرم ایک عظیم سرمایہ ہے جسے خداوندعالم نے اپنے بندوں کے حوالے کیاہے تاکہ اس سے استفادہ کرکے انسان ہمیشہ اچھے اوربرے کی تمیز

کر نے کے ساتھ ساتھ حادثات زمانہ کے دوران وہ فتنوں کے سینوں کوچاک کرکے انھیں ناکام بناسکے اوریوں وہ ان فتنوں کے ہولناک گرداب میں غرق ہونےسے بچ جائے ۔
سرکارسید الشہداءامام حسین علیہ السلام کے بارے میں رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ معروف حدیث جس میں آپ نے فرمایاکہ فقط امام حسین کی تعریف وتمجید نہیں ہے بلکہ سرکاردوعالم نے یہ حدیث اس لئے ارشادفرمائی تھی کہ سب کوقیامت تک کے لئے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ امام حسین علیہ السلام راہ ہدایت کے مشعل فروزاں ہیں اورسب لوگ ان کی اتباع وپیروی کرکے دین خداکی نصرت کریں تاکہ گمراہی اورضلالت کے گڑھوں میں گرنے سے خود کوبچاسکیں ۔
پیغمبراسلام کے پیش نظر جوچیزتھی وہ یہ کہ محرم اورتحریک عاشورہ سے زندگی گذارنے کا درس حاصل کرو اوراس طرح سے امام حسین علیہ السلام کے مقصدکوآگے بڑھا و تاکہ درس کربلا انسانی معاشرے کی انفرادی اوراجتماعی زندگی میں عملی شکل اختیارکرسکے اورپھر اس طرح صحیح معنوں میں ہم امام حسین علیہ السلام کے پیرواوران کے عزادارکہلائیں ۔
اسلامی جمہوریہ ایران میں یہ کام امام خمینی رہ نے بہترین شکل میں انجام دیا امام خمینی رہ کا یہ معروف جملہ جس میں آپ نے فرمایا تھا محرم شمشیرپرخون کی فتح کا مہینہ ہے ان انقلابی تحریک میں عملی میں طورپرمتجلی ہے اوراسی سبق نے ایران کے اسلامی انقلاب کوکامیابی سے ہمکنار کیا۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کویقینی طورپرواقعہ کے عاشورکے درس سے الہام لینے اوراس واقعہ کے پرتومیں ہی دیکھا جانا چاہئے کیونکہ اسلامی انقلاب نے واقعہ عاشورہ سے بھرپورفائدہ اٹھایا اوراسی کواپنے لئے نمونہ قراردیا اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اورآئندہ بھی ایران کا اسلامی انقلاب واقعہ عاشورہ کے ہی پرتو میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا ۔ایران کے عوام نے اسلامی انقلاب کوآسانی سے کامیاب نہیں بنایا ہے یا اس نے اپنے ملک میں جواسلامی نظام قائم کیاہے وہ آسانی سے ممکن نہیں ہوا ہے ۔
گذشتہ تیس برسوں میں ایران کے عوام نے اسلامی انقلاب اوراسلامی نظام کی حفاظت کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اورآئندہ بھی اس کے ثمرات کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ان کے سامنے واقعہ عاشورہ ہے۔حضرت امام حسین علیہ السلام نے جوانقلاب میدان کربلامیں بپا کیا تھا اس کی حفاظت میں امام زین العابدین اورجناب زینب کبری سلام اللہ علیھما نے جوقربانیاں دی ہیں وہ کربلاکے میدان میں قربانی دینے والوں کی قربانیوں سے کہیں زیادہ سخت و دشوارتھیں اورآج ایران کے عوام بھی اس بات کواچھی طرح جانتے ہیں کہ انقلاب بپا کرنے سے زیادہ سخت اس کی حفاظت اوراس کے ثمرات کا تحفظ ہے اسی لئے ایران کے عوام محرم اور صفرکو انقلاب کے ثمرات کے تحفظ کے تعلق سے بہت ہی اہم موقع کے طورپردیکھتے ہیں اوران ایام سے پوری طرح استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
امام خمینی رہ کے نقطہ نگاہ سے اسلام ایک انسان سازمکتب ہے اوراسلامی انقلاب بھی اصل اسلام کے نام پرہی برپاہوا ہے اورایران کا اسلامی نظام بھی ملت ایران کے لئے ایک سعادت بخش نطام ہے اورملت ایران نے اس کے حق میں ووٹ دے کراسے قائم کیا اورگذشتہ تیس برسوں سے اس کی حفاظت بھی کررہی ہے ۔
ایران کے عوام آج اپنی عزت وسربلندی کوامام خمینی رہ کی قیادت کا مرہون منت سمجھتے ہیں جنھوں نے اس قوم کواستکبارکے چنگل سے آزاد کرایا اوراستبدادی حکومتوں سے نجات دلائی۔
اما م خمینی نے اس قوم کوجس کی اپنی قدیم تہذیب اوردرخشاں ماضی ہے اورجس پراستبدادکا تسلط تھا آزادی وخودمختاری کی نعمت سے سرفرازکیا چنانچہ گذشتہ روزجمعہ یکم محرم الحرام کوپورے ملک میں پیروجوان خورد وبزرگ بچوں اوربوڑھوں نے جس طرح سے سڑکوں پرنکل کراپنے رہبرکبیرکے اصولوں اوران کے بتائے ہوئے راستوں پرچلنے کا عہدکیا وہ اس بات کودنیا پرواضح کردیتا ہے کہ ایران کے عاشورائی عوام اپنے قائد ورہبرکے اصولوں کوکربلاکے ہی درس سے عبارت سمجھتے ہیں جنھیں وہ کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے اورنہ ہی ان کے احسانات کوکبھی بھول سکتے ہیں ۔
بعض ناعاقبت اندیش اوراحسان فراموش عناصرکے ذریعہ پچھلے دنوں امام خمینی رہ کی شان میں کی گئی اہانت کے بعد گذشتہ ایک ڈیڑھ ہفتے سے ایران کے تمام شہروں میں ہرطبقے سے تعلق رکھنےوالوں نے اس مذموم اورمنافقانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے امام خمینی سے اپنی عقیدت اور محبت کا اسی طرح سے اظہار کیا جس طرح اسلامی انقلاب کی تحریک کے دوران اور اس سے پہلے و بعد کے برسوں میں کیا کرتے تھے ۔ محرم کی پہلی تاریخ کو ایران کے عاشورائی عوام نے کربلا والوں کے درس سے الہام لیتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ جو قوم اپنے نیک و صالح رہبر کی احسان مند رہتی اور ان کے اصولوں کی پاسداری کرتی ہے اس کا دنیا کی کوئی بھی طاقت کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی اور یہی پیغام عاشورہ کا ایک بہت بڑا جزء بھی ہے ۔
اس کے علاوہ محرم دشمن کو پہچاننے کا بھی ایک بہترین موقع ہے یزید شمر ابن زیاد و عمرسعد صرف وہی نہیں تھے جو سن اکسٹھ ہجری میں کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب پر ظلم کرنے کے لئے موجود تھےبلکہ آج بھی یزید، شمر،حرملہ، ابن زیاد اور عمرسعد پائے جاتے ہیں جو اسلام کو مٹانے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے طاقت کے ہر حربے کا استعمال کر رہے ہیں آج بھی وقت کے یزید عاشورہ کے پیغام کو مٹانے کے درپئے رہتے ہیں آج بھی وقت کے ابن زیادہراس تحریک اورانقلاب کونابود کرنےکی پوری کوشش کرتے ہیں جوعاشورہ سے درس لے کرآگے بڑھ رہی ہو۔یہ اوربات ہے کہ اس وقت کا بھی یزید وشمر و حرملہ و ابن زیاد پیغام حسینیت کو نہیں روک سکا تھا اور آج کے بھی یزید عاشورہ کے آفاقی پیغام کو نہیں روک پا رہے ہیں اگرچہ پیغام عاشورہ پر عمل کرنے والوں کو اس کے لئے بھاری تاوان ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ فوجی سیاسی اور اقتصادی طور پر سامراجی طاقتوں کے دباو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن مصباح الہدی و سفینۃ النجات کی نصرت و مدد کے زیرسایہ حسینیت کے پیرو بڑی سے بڑی مشکلات کا بہت ہی بے جگری سے سامنا کرتے ہیں اور تمام مسائل و مصائب کا ہنس کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں ۔
آج کون نہیں جانتا کہ اگر کل یزید اور اس کے کارندے ابن زیاد وحرملہ شمرجیسے فاسق و فاجر وبد شعار عناصر اسلام کے دشمن تھے تو آج امریکہ اور اس کے اتحادی جن میں فرانس برطانیہ اور صہیونی حکومت شامل ہیں دین اسلام کے کھلے دشمن ہیں اور اگر آج ایران کے اسلامی نظام اور انقلاب سے ان کی کھلی دشمنی ہے تواس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب کربلا کے آفاقی انقلاب کا ہی ایک پرتو ہے آج ان دشمنوں اور ان کی سازشوں کو سمجھنا تمام حسینیوں اور مسلمانوں پر فرض و لازم ہے اور اگر اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی کی گئی تو رسول اسلام امام حسین اور سب سے بڑھ کرخدا کے حضور کو سب کو جواب دینا ہوگا آج محرم اور عاشورہ جب سب کوظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دے رہاہے اوردشمنوں کے چہروں پرپڑی ہوئی نقاب کو اتار پھینکنے کے لئے آگے قدم بڑھانے کا حکم دے رہا ہے تو ایسے میں اگرہ م امام عالیمقام کے عاشق ہونے کا دم بھرتے ہیں توعملی طورپراپنے آپ کوبہرحال ثابت کرنا ہوگا آج محرم وعاشورہ سے فائدہ اٹھاکرعراق فلسطین اورافغانستان سمیت دنیا کے دیگرعلاقوں میں وقت کے یزیدیوں کے ظلم کے خلاف سب کوآوازبلند کرنا ہوگا اسی صورت میں عزاداری اورمحرم کاحق اداہوسکے گا۔ کیونکہ عزاداری نام ہے ظلم کے خلاف آوازبلند کرنے اورمظلوم کی مظلومیت کوعام کرنے کا ۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.