×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

موت کیوں پسند نہیں ہے ؟

آذر 26, 1393 0 216

موت کا ڈر اور اس حقیقت سے فرار ایک ایسا انکار ناپذیر موضوع ہے کہ کم و بیش تمام انسانوں نے اس کا تجربہ کیا ہے ۔ اس مقالے میں ہم اس

موضوع پر روشنی ڈالیں گے کہ ہم موت سے کیوں ڈرتے ہیں یا اس دلیل کی وجہ سے کیوں پریشان ہوتے ہیں ۔
مال سے لگاو
اس کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض افراد مال و اموال کو دنیاوی زندگی میں جمع کرتے ہیں اور اس سے بہت زیادہ وابستگی پیدا کر لیتے ہیں ۔ ایسے افراد اس حد تک اپنے مال سے وابستہ ہو جاتے ہیں کہ پھر ان کے دل میں پائی جانے والی دنیا کے مال کی حوس سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے ۔
امامصادق(علیه السلام) نے اپنے والد اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ " ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں موت کو پسند نہیں کرتا ؟ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ألکمال؟ کیا آپ کے پاس مال و دولت ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں ! پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا یہ مال ایسی چیز ہے جسے تم نے بھیجا ؟ اس نے جواب دیا کہ کچھ نہیں بھیجا ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! یہی وجہ ہے کہ موت کو پسند نہیں کرتے ہو ۔ "
ایک دوسری روایت میں ہے کہ انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ مال کے پاس ہمیشہ رہے ۔ جس جگہ اس کا مال ہوتا ہے ، وہ بھی چاہتا ہے کہ اسی جگہ رہے ۔ اگر وہ کسی جگہ اپنے مال کو بھیجے تو وہ چاہتا ہے کہ وہ بھی مال کے ساتھ جائے اور اگر مال کو کسی جگہ نہ بھیجے تب اس کی خواہش ہوتی ہے کہ مال کے پاس اسی جگہ پر موجود رہے ۔
یہ ایک دلیل ہے کہ جس سے ہم بڑی آسانی سے اس مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں ۔ دنیاکےمال اور دنیا کی دوسری چیزوں سےانسان کی دلبستگی اسےاس حدتک مشغول کردیتی ہےکہ انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جس دنیا میں وہ زندگی گزار رہا ہے اور جو زندگی وہ گزار رہا ہے وہ فانی ہے ۔
موت سے ناپسندیدگی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان جانتا ہے کہ موت اسے زندگی میں ہر اس چیز سے دور کر دے گی جسے وہ عزیز رکھتا ہے ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ ہم اپنے بیوی بچوں کو محبوب نہ رکھیں ؟
موت سے ڈر کی ایک وجہ مال و دولت سے وابستگی ہے لیکن موت سے بےخوف رہنے کے ساتھ دنیاوی مال کے ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ موت سے خوف کی اصل وجہ وہ مال نہیں ہے بلکہ مال سے ہماری وابستگی یا محبت ہے جو ہمارے اوپر موت کا خوف طاری کر دیتی ہے ۔
جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ مال کو پسند نہ کریں یعنی مال و دولت سے وابستہ نہ ہوں ۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہمارے پاس مال ہی نہ ہو ۔ انسان کو بہتر زندگی کے لیے کوشش کرنی چاہئے ۔ انسان اگر علم حاصل نہ کرے اور بہتر زندگی کے لئے کوشش نہ کرے تو وہ زندگی میں ایک کامیاب انسان نہیں بن سکتا ہے ۔ اگر وہ چاہے کہ کوئی چیز بھیجے تو اس چیز کا اس کے پاس ہونا بھی ضروری ہے ۔ خدا کی طرف سے اگر انسان کو کوئی نعمت عطا ہوتی ہے تو انسان کو اس کا اسیر نہیں ہونا چاہئے ۔ اس نعمت کا انسان کے پاس ہونا اچھی بات ہے ، اس نعمت کے ہونے پر اسے خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے مگر اس نعمت کے ساتھ دنیاوی وابستگی اختیار نہیں کرنی چاہئے ۔ جہاں ضرورت ہو اس نعمت کو خرچ کرنا چاہئے اور انسان کو ہر حال میں قانع رہنا چاہئے۔
یہ جو کہا جاتا ہے کہ انسان کا مال ، موت سے خوف کا باعث بنتا ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس کے پاس بھی دولت ہے وہ موت کو پسند نہیں کرتا ۔
ائمه علیهم السلام فقیر نہیں تھے بلکہ دولت مند تھے مگر انہوں نے دولت سے لگاؤ پیدا نہیں کیا ۔ امیرالمومنین(علیه السلام) کے پاس بہت مال و دولت تھا مگر وہ لوگوں میں بانٹ دیتے ۔ اگر امیرالمومنین اپنا مال دوسروں کو نہیں دیتے تو اپنے دور کے امیرترین فرد ہوتے لیکن چونکہ وہ دوسروں کو دے دیا کرتے تھے اس لئے ان کے پاس مال جمع نہیں ہوا کرتا تھا ۔
انسان موت سے اس لئے ڈرتا ہے کہ موت انسان کو اس کی محبوب چیزوں سے دور کر دیتی ہے ۔ وہ کھیتی جسے انسان نے آباد کیا ہوتا ہے ، وہ کنویں جو اس نے کھودے اور دوسری بہت ساری اشیاء جو انسان اپنی زندگی میں بناتا ہے ، اس کی موت کے سینکڑوں سال بعد بھی باقی رہتی ہیں مگر خود انسان فانی ہے اور ایک محدود زندگی گزار کر وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے ۔ آج بھی مدینہ کے علاقے ذولغریف میں مسجد شجرہ کے نزدیک حضرت علی علیہ السلام کے کنویں موجود ہیں جو دشمنان اسلام کی تمام تر سازشوں کے باوجود باقی رہے ہیں ۔ اس زمانے میں ان کنووں کی قیمت بہت زیادہ تھی لیکن حضرت ایک ہی لمحے میں بطور مثال کسی باغ کو بیچتے اور اس کی کمائی غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.