×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت طیبہ

آذر 26, 1393 0 301

آپ کا نسب
حضرت امام جعفر صاد ق (ع) پیغمبر اسلام (ص) کے چھٹے جانشین اور سلسلہ عصمت کی آٹھویں کڑیں ہیں آپ کے والد ماجد امام محمدباقر (ع)

تھے اور مادر گرامی جناب ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر تھیں ۔ آپ منصوص من اللہ معصومت ھے،علامہ ابن خلقان تحریر فرماتے ہیں کہ آپ سادات اہل بیت (ع) سے تھے اورآپ کی فضیلت اور آپ کا فضل و کرم محتاج بیان نہیں ہے (دفیات الاعیان ،ج/1،ص/105)
آپ کی ولادت
آپ سترہ ربیع الاول 83 ھ مطابق 702ء روز دوشنبہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپکی ولادت تاریخ کو خدا نے بڑی عزت دے رکھی ہے اس احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کو روزہ رکھنا ایک سال کے روزہ کے برابر ہے ۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ میرا فرزند ان چند مخصوص افراد میں سے ہے جن کہ وجود سے خدانے بندوں پر احسان فرمایا ہے اور یہی میرے بعد میرا جانشین ہوگا.
آپ کا اس گرامی و کنیت و القاب
آپ کا اس گرامی جعفر (ع) ۔ آپ کی کنیت عبد اللہ ،ابو اسماعیل ، اور آپ کے القاب صادق، صابر ،فاضل ، طاہر وغیرہ ہیں ۔علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جناب رسول خدا (ص)نےاپنی ظاہری زندگی میں حضرت جعفر بن محمد علیہ السلام کو صادق کے لقب سے ملقب فرمایاتھا ۔
علما ء کا بیان ہے کی جعفر نامی جنت میں ایک شیریں نہر ہے اسی کی مناسبت سےآپ کا لقب جعفر رکھا گیا ہے ،کیونکہ آپ کا فیض عام جاری نہر کی طرح تھا لہذا اسی لقب سے ملقب ہوئے (ارجح المطالب ،ص/361)
بادشاہان وقت
آپ کی ولادت کے وقت عبد الملک بن مروان بادشاہ وقت تھا پھر ولید، سلیمان ،عمربن عبد العزیز بن عبد الملک ،ہشام بن عبدالملک ،ولید بن یزید بن عبد الملک ،یزید الناقص ،ابراہیم بن ولید اور مروان الحمار اسی ترتیب سے خلیفہ مقرر ہوئے مروان الحمار کےبعد سلطنت بنی امیہ کا چراغ گل ہوگیا اور بنی عباس نے حکومت پہ قبضہ کرلیا .بنی عباس کا پہلا بادشاہ ابوالعباس ،سفاح اور دوسرا منصور دوانقی ہوا ہے . اسی منصورنے اپنی حکومت کے دوسال گزرنے کہ بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کو زہرسے شہید کردیا۔(انوار لحسینیہ ، ص/50)
آپ (ع)کے شاگرد
تمام اسلامی فقہا کے استاد امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں بالخصوص امام ابوحنیفہ ، یحیٰ بن سعید انصاری،ابن جریح ،امام مالک ابن انس ،امام سفیان ثوری ،سفیانبن عینیہ ،ایوب سجتیانی وغیرہ کا نام آپ کے شاگردوں میں ذکر ہے ۔ادارئہ معارف القرآن کی جلد 3 کے صفحہ 109 طبع مصر میں ہے کہ آپ کے شاگردوں میں جابر بن حیان صوفی طرسوسی بھی ہیں ۔
آپ کے بعض شاگردوں کی جلالت اور ان کی تصانیف اور علمیخدمات پر روشنی ڈالنی تو بے انتہا دشوار ہے اس لئے اس جگہ صرف جابر ابن حیان طرسوسیجو کہ انتہائی باکمال ہونے کے باوجود شاگرد امام کی حیثیت سے عوام کی نظروں سےپوشیدہ ہیں ۔اور بعض دوسرے فرقوں کے امام و پیشوا مانے جاتے ہیں ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں کو امام کے عنوان سے مانتے مگرخود امام جعفر صادق علیہ السلام کو امام قبول نہیں کرتے یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔
امام صادق (ع)کی چند حدیثیں
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
1)۔ وہ انسان سعادتمند ہے جو تنہائی میں اپنے کو لوگوں سے بے نیاز اور خدا کی طرف جھکا ہوا پائے۔
2)۔ اگر کوئی شخص کسی برادر مومن کا دل خوش کرے تو خداوند عالم اس کے لئے ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو اس کی طرف سے عبادت کرتا ہے ،اور قبر کا مونس، قیامت میں ثابت قدمی کا باعث، منزل شفاعت میں شفیع اور جنت میں پہچانے میں رہبر ہوگا۔
3)۔ نیکی کا یہ ہے کہ اس میں جلدی کر و اور اسے کم سمجھواور چھپا کرکرو۔
4)۔توبہ کرنے میں تاخیر کرنا اپنے نفس کو دھوکا دینا ہے ۔
5)۔چار چیزیں ایسی ہیں جس کی کمی کو کثرت سمجھنا چاہئے ۔ 1۔1غ¤گ،2۔ دشمن ،3۔فقیری ،4۔مرض۔
6)۔کسی کے ساتھ بیس دن رہنا عزیز داری کے مانند ہے ۔
7)۔ شیطان کے غلبہ سے بچنے کے لئے لوگوں پر احسان کرو۔
8)۔ لڑکی رحمت ہے اور لڑکا نعمت خدا رحمت پرثواب دیتاہے اور نعمت پر سوال کرے گا ۔
9)۔ جو تمھیں عزت کی نگاہ سے دیکھے تو تم بھی اس کی عزت کرو اورجو تمھیں ذلیل سمجھے تم اس سے خودداری کرو۔
10)۔ جو دوسروں کی دولت کوللچائی ہوئی نگاہ سے دیکھے گا وہ ہمیشہ فقیر رہے گا۔
[نور الابصار،ص/134]

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.