×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سیرت رسول ؐ کی اہمیت؛ قرآن کی روشنی میں

دی 17, 1393 0 320

قرآن گذشتہ تمام آسمانی کتابوں کا عطر ہے ،جس طرح موسم بہار میں پھول کھلتے ہیں ،ہرطرف رنگ و بو کا ماحول چھا جاتاہے اور یہ

وقتی رنگ و بو کا ماحول ایک مدت میں ختم ہوجاتاہے لیکن عطر ساز اس محدود رنگ و بو کو عطر بناکر ابدی شکل عطا کردیتاہے اسی طرح خداوندعالم نے گذشتہ شریعتوں اور آسمانی کتابوں کو ابدی شکل دے کر اس کا عطر سیرت محمدیؐ اور قرآن کی صورت میں نازل فرمایاہے ۔
اگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ مقام شناخت میں یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں جس طرح قرآن کی صحیح شناخت رسول اسلام ؐاور اہل بیت ؑکے بغیر ممکن نہیں ہے اسی طرح رسول اکرم ؐکی سیرت کی شناخت قرآن کے بغیر ممکن نہیںہے۔اسی لئے ضروری ہے کہ ہم سیرت رسول ؐکی معرفت حاصل کرنے کے لئے قرآن کے دامن سے متمسک ہوں۔قرآن مجید نے سیرت رسول اکرؐم کے متعلق تفصیلی انداز میں گفتگو کی ہے اور تقریباً آپ کی زندگی کے ہر پہلو کو مختلف پیرایہ میں بیان کیاہے ،کبھی آپ کی انفرادی زندگی کو مورد بحث قرار دیا تو کبھی اجتماعی حیات پر قدرے تفصیل سے بحث کی ہے یا پھر کبھی کلی بحث کے ذریعہ آپ کی زندگی کو مکمل طور سے اپنے لئے اسوہ اور نمونہ بنانے کی تاکید کی ہے۔
قرآن نے آپ کی زندگی کے ہر ہر قدم پر وحی کا پہرہ لگا کر آپ کی سیرت کو خطا ونسیان سے منزہ قرار دیاہے ،خدا کا ارشاد ہے :{وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْہَوَی، إِنْ ہُوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُوحَی،عَلَّمَہُ شَدِیدُ الْقُوَی }’’ اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ،اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے اسے نہایت طاقت والے نے تعلیم دی ہے‘‘ ۔(۱)
قرآن مجید کی یہ آیت صرف رسول اسلام ؐکے زبان و بیان کے معتبر ہونے کی سند نہیں ہے بلکہ آپ کی منطق گفتار ،سنت و رفتار اور آپ کے حسن سیرت پر بھی الہی سند ہے کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ انسان کی زبان اس کے دل کی ترجمان ہوتی ہے عموماً انسان وہی بات اپنی زبان کے ذریعہ لوگوں کے سامنے بیان کرتاہے جو اس کی نگاہ میں پسندیدہ ہوتی ہیں،تاریخ عرب گواہ ہے کہ رسول اسلامؐ نے اسلامی آئین و معارف کی نشرواشاعت کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دیا اور اپنی زندگی کی سب سے قیمتی اور محبوب شیٔ ان ہی معارف و حقائق کو قرار دیا تھا انہوں نے ابتدا ئے حیات ہی سے اپنے انسانی میلانات و رجحانات کا گلاگھونٹ کر اسلامی معارف کو اہمیت دی ۔ظاہر ہے جو انسان دین و شریعت کے سلسلہ میں اتنا حساس ہو اسی کی زندگی اور زندگی کا ہر قدم ،ہر لمحہ اتباع کے قابل ہو سکتاہے ۔
اس کے علاوہ خداوندعالم نے بہت سی آیات میں اس بات پر زور دیاہے کہ سیرت و سنت رسول ؐہر جہت سے مسلمانوںکے لئے حجت کی حیثیت رکھتی ہے ،یہاں اس سلسلے کی بعض آیات کو اختصار کے ساتھ ذکر کیاجارہاہے :
۱۔ خدا وندعالم کا ارشاد ہے :{ قُلْ أَطِیعُوا اﷲَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اﷲَ لاَیُحِبُّ الْکَافِرِینَ }’’کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرواب اگر کوئی اس سے روگردانی کرے گا تو(سن لے) خدا کافرین کو ہرگز دوست نہیں رکھتا‘‘ ۔(۲)
اس آیت میں رسول اکرؐم کی اطاعت سے روگردانی کو کفر سے تعبیر کیاگیاہے یعنی اگر کوئی شخص اعتقادات کے اعتبار سے روگردانی کا مظاہرہ کررہاہے تو وہ عقیدہ میں کفر کا مرتکب ہوا ہے اور اگر کوئی شخص رسول اکرم ؐپر نازل تمام باتوں کا اعتقاد رکھتاہے لیکن عمل میں روگردانی کا مظاہرہ کرے تووہ عملی میدان میں کفر کا مرتکب ہوا ہے ۔
۲۔خدا وندعالم ارشاد فرماتاہے : { أَطِیعُوا اﷲَ وَالرَّسُول لعلکم ترحمون}’’اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو کہ شاید رحم کے قابل ہو جائو‘‘۔(۳)
رحمت خدا کا دائرہ بہت وسیع ہے جس کا تعلق صرف دنیا سے نہیں ہے بلکہ آخرت میں بھی انسان قدم قدم پر خداوندعالم کی وسیع رحمت کا شدید محتاج ہے لیکن خدا کی رحمت اسی وقت انسانوں کے شامل حال ہو سکتی ہے جب وہ رسول اکرمؐ کی سیرت کی پوری طرح پیروی کریں جن کی زندگی اطاعت رسول ؐسے خالی ہے ان کی رحمت خدا سے امید فضول ہے ۔
۳۔خداوندعالم فرماتاہے ـ:{تِلْکَ حُدُودُ اﷲِ وَمَنْ یُطِعْ اﷲَ وَرَسُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ }اور جو اللہ و رسول کی اطاعت کرے گا خدا اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوںگی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور در حقیقت یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔(۴)
۴۔خدا فرماتاہے :{ وَمَنْ یَعْصِ اﷲَ وَرَسُولَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیہَا وَلَہُ عَذَابٌ مُہِینٌ }اور جو خدا و رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے حدود سے تجاوز کرے گا خدا اسے جہنم میں داخل کر دے گا اور وہ وہیں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔ (۵)
۵۔خدا وندعالم کا ارشاد ہے :{یا ایھا الذین آمنو ا اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم و ان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ و الرسول ان کنتم تؤ منون باللہ والیوم الآخر ذالک خیرو احسن تأ ویلا}ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو ،رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمہیں میںسے ہیںپھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا و رسول کی طرف پلٹادو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو۔یہی تمہارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے۔ (۶)
ان آیات سے معلوم ہوتاہے کہ جس طرح خداوندعالم کے فرمان کی پیروی اور اطاعت واجب ہے اسی طرح رسول اسلامؐ کی پیروی بھی لازم و واجب ہے اس لئے کہ رسول کی اطاعت در اصل خدا کی اطاعت ہے ،رسول اسلام ؐکے حوالے سے جو کچھ دین کی ضروریات ،اسلام کے قوانین ،اعتقادی ،تربیتی ،اقتصادی ،سیاسی یا کسی بھی دوسرے دائرے میں بیان ہوئی ہیں مسلمانوں کے لئے ان تمام چیزوں پر عمل کرنا واجب ہے کیونکہ آپ کی سیرت اسوہ اور نمونہ ہے۔
خداکا ارشاد ہے :{ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کا یرجو اللہ و الیوم الآخرۃ و ذکر اللہ کثیرا}مسلمانو!تم میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونۂ عمل ہے جو اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتاہے ۔(۷)
سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری
حوالہ جات
۱۔نجم ؍ ۳۔۴
۲۔آل عمران ؍ ۳۲
۳۔آل عمران ؍۱۳۲
۴۔نساء ؍۱۳
۵۔نساء ؍ ۱۴
۶۔نساء ؍ ۵۹
۷۔احزاب ؍۲۱

 

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.