×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

47۔ روزعرفہ کی دعا

October 24, 2013 562

سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ بارالہا! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں ۔ اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے!

اے بزرگی واعزاز والے! اے پالنے والوں کے پالنے والے ! اے ہر پرستار کے معبود! اے ہر مخلوق کے خالق اور ہرچیز کے مالک و وارث ۔ اس کے مثل کوئی چیز نہیں ہے اور نہ کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ ہے ۔ وہ ہر چیز پر حاوی ہے اور ہرشے پر نگران ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں. جو ایک اکیلا یکتا ویگانہ ہے اورتو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں جو بخشنے والا اورانتہائی بخشنے والا ، عظمت والا اور انتہائی عظمت والا ، اوربڑا اور انتہائی بڑا ہے اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں جو بلند وبرتر اوربڑی قوت وتدبیروالا ہے اورتو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، جو فیض رساں ، مہربان اور علم وحکمت والا ہے اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں جو سننے والا ، دیکھنے والا ، قدیم و ازلی اور ہر چیز سے آگاہ ہے اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں جو کریم اور سب سے بڑھ کر کریم اور دائم وجاوید ہے اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ جو ہر شے سے پہلے اور ہر شمار میں آنے والی شے کے بعد ہے اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں جو ( کائنات کے دسترس سے ) بالا ہونے کے باوجود نزدیک اور نزدیک ہونے کے باوجود (فہم وادراک سے ) بلند ہے ۔اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں جو جمال وبزرگی اور عظمت وستائش والا ہے اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، جس نے بغیر مواد کے تمام چیزوں کو پیدا کیا اوربغیر کسی نمونہ و مثال کے صورتوں کی نقش آرائی کی اور بغیر کسی کی پیروی کئے موجودات کو خلعت وجود بخشا ۔ تو ہی وہ ہے جس نے ہر چیز کا اندازہ ٹھہرایا ہے اورہر چیز کو اس کے وظائف کی انجام دہی پر آمادہ کیا ہے اور کائنات عالم میں سے ہر چیز کی تدبیر و کارسازی کی ہے تو وہ ہے کہ آفرینش عالم میں کسی شریک کار نے تیرا ہاتھ نہیں بٹایا اورنہ کسی معاون نے تیرے کام میں تجھے مدد دی ہے اورنہ کوئی تیرا دیکھنے والا اور نہ کوئی تیرا مثل ونظیر تھا اور تو نے جو ارادہ کیا وہ حتمی ولازمی اور فیصلہ کیا وہ عدل کے تقاضوں کے عین مطابق اور جو حکم دیا وہ انصاف پر مبنی تھا تو وہ ہے جسے کوئی جگہ گھیرے ہوئے نہیں ہے اور نہ تیرے اقتدار کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ تو دلیل وبرہان اورکسی چیز کو واضح طور پر پیش کرنے سے عاجز ہے تو وہ ہے جس نے ایک ایک چیز کو شمار کر رکھا ہے اورہر چیز کی ایک مدت مقرر کر د ی ہے اورہر شے کا ایک اندازہ ٹھہرادیا ہے تو وہ ہے کہ تیری کنہ ذات کو سمجھنے سے واہمے قاصر اور تیری کیفیت کو جاننے سے عقلیں عاجز ہیں اور تیری کوئی جگہ نہیں ہے کہ آنکھیں اس کا کھوج لگا سکتیں ۔ تو وہ ہے کہ تیری کوئی حدو نہایت نہیں ہے۔ کہ تو محدود قرار پائے اور نہ تیرا تصور کیا جا سکتا ہے کہ تو تصور کی ہوئی صورت کے ساتھ ذہن میں موجود ہو سکے اور نہ تیرے کوئی اولاد ہے کہ تیرے متعلق کسی کی اولاد ہونے کا احتمال ہو ، تو وہ ہے کہ تیرا کوئی مد مقابل نہیں ہے کہ تجھ سے ٹکرائے اور نہ تیرا کوئی ہمسرہے کہ تجھ پر غالب آئیکہ تجھ پر غالب آئے اورنہ تیرا کوئی مثل نظیر ہے کہ تجھ سے برابری کرے تو وہ ہے جس نے خلق کائنات کی ابتداء کی عالم کو ایجاد کیا اور اس کی بنیاد قائم کی ۔ اور بغیر کسی مادہ و اصل کے اسے وجود میں لایا اور جو بنایا اسے اپنے حسن صنعت کا نمونہ بنایا ۔ تو ہر عیب سے منزہ ہے تیری شان کس قدر بزرگ اورتمام جگہوں میں تیرا پایہ کتنا بلند اورتیری حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب کس قدر حق کو آشکارا کرنے والی ہے ۔ تو منزہ ہے اے صاحب لطف واحسان توکس قدر لطف فرمانے والا ہے ۔اے مہربان تو کس قدر مہربانی کرنے والا ہے۔ اے حکمت والے تو کتنا جاننے والا ہے پاک ہے تیری ذات اے صاحب اقتدار تو کس قدر قوی وتوانا ہے اے کریم ! تیرا دامن کرم کتنا وسیع ہے۔ اے بلند مرتبہ ، تیرا مرتبہ کتنا بلند ہے توحسن وخوبی شرف وبزرگی ، عظمت وکبریائی اور حمد وستائش کا مالک ہے۔ پاک ہے تیری ذات تو نے بھلائیوں کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا ہے تجھ ہی سے ہدایت کا عرفان حاصل ہوا ہے لہذا جو تجھے دین یا دنیا کے لیے طلب کرے تجھے پا لے گا۔ تو منزہ وپاک ہے جو بھی تیرے علم میں ہے وہ تیرے سامنے سرنگوں اور جو کچھ عرش کے نیچے ہے وہ تیری عظمت کے آگے سر بہ خم اورجملہ مخلوقات تیری اطاعت کا جو ا اپنی گردن میں ڈالے ہوئے ہے۔ پاک ہے تیری ذات کہ نہ حواس سے تجھے جانا جا سکتا ہے ، نہ تجھے ٹٹولا اور چھوا جا سکتا ہے نہ تجھ پر کسی کا حیلہ چل سکتا ہے نہ تجھے دور کیا جا سکتا ہے نہ تجھ سے نزاع ہو سکتی ہے نہ مقابلہ نہ تجھ سے جھگڑا کیا جا سکتا ہے اور نہ تجھے دھوکا اورفریب دیا جا سکتا ہے۔ پاک ہے تیری ذات تیرا راستہ سیدھا اور ہموار ، تیرا فرمان سراسر حق وصواب اورتو زندہ و بے نیاز ہے ۔ پاک ہے تو تیری گفتار حکمت آمیز ، تیرا فیصلہ قطعی اور تیرا ارادہ حتمی ہے پاک ہے تو نہ کوئی تیری مشیت کو رد کر دسکتا ہے اور نہ کوئی تیری باتو ں کو بدل سکتا ہے۔ پاک ہے تو اے درخشندہ نشانیوں والے ۔اے آسمانوں کے خلق فرمانے والے اور ذی روح چیزوں کے پیدا کرنے والے تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں ایسی تعریفیں جن کی ہمیشگی تیری ہمیشگی سے وابستہ ہے اور تیرے ہی لیے ستائش ہے ایسی ستائش جو تیری نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ باقی رہے ۔ اورتیرے ہی لیے حمد وثناء ہے ایسی جو تیرے کرم واحسان کے برابر ہو اور تیرے ہی لیے حمد ہے ا یسی جو تیری رضا مندی سے بڑھ جائے ۔ اور تیرے ہی لیے حمد وسپاس ہے ایسی جو ہر حمد گزار کی حمد پر مشتمل ہو اور جس کے مقابلہ میں ہر شکر گزار کا شکر پیچھے رہ جائے ۔ایسی حمد جو تیرے علاوہ کسی کے لیے سزاوار نہ ہو اور نہ تیرے سوا کسی کے تقرب کا وسیلہ بنے۔ ایسی حمد جو پہلی حمد کے دوام کا سبب قرار پائے اوراس کے ذریعہ آخری حمد کے دوام کی التجاء کی جائے ۔ایسی حمد جو زمانہ کی گردشوں کے ساتھ بڑھتی جائے اور پے در پے اضافوں سے زیادہ ہوتی رہے ایسی حمد کہ نگہبانی کرنے والے فرشتے اس کے شمار سے عاجز آ جائیں ۔ ایسی حمد کہ جو کاتبان اعمال نے تیری کتاب میں لکھ دیا ہے اس سے بڑھ جائے ایسی حمد جو تیرے عرش بزرگ کے ہم وزن اور تیری بلند پائی کرسی کے برابر ہو۔ ایسی حمد جس کا اجر وثواب تیری طرف سے کامل اور جس کی جزا تمام جزاؤں کو شامل ہو ایسی حمد کہ جس کا ظاہر ، باطن سے ہمنوا اور باطن صدق نیت سے ہم آہنگ ہو ۔ ایسی حمد کہ کسی مخلوق نے ویسی تیری حمد نہ کی ہو اور تیرے سوا کوئی اس کی فضلیت وبرتری سے آشنا نہ ہو ۔ ایسی حمد کہ جو اسے بکثرت بجا لانے کے لیے کوشاں ہو ۔ اسے ( تیری طرف سے ) مدد حاصل ہو اور جو اسے انجام تک پہنچانے کے لیے سعی بلیغ کرے اسے توفیق وتائید نصیب ہو ، ایسی حمد جو تمام اقسام حمد کی جامع ہو جنہیں تو موجود کر چکا ہے اور ان اقسام کو بھی شامل ہو جنہیں تو بعد میں موجود کرے گا۔ایسی حمد کہ اس سے بڑھ کر کوئی حمد تیری مراد سے قریب تر نہ ہو اور جو شخص اس طرح کی حمد کرے اس سے بڑھ کر کوئی حمد گزار نہ ہو ۔ ایسی حمد جو تیرے فضل وکرم سے اپنی فراوانی کے باعث افزائش نعمت کا سبب ہو اورتو اپنے لطف واحسان سے اس کے ساتھ پیہم اضافہ کا سلسلہ قائم رکھے ۔ ایسی حمد جو تیری بزرگی ذات کے شایاں تیرے شرف جلال کے ہمدوش ہو پرودگارا!محمد اور ان کی آل پر سب رحمتوں سے افضل وبرتر رحمت نازل فرما ! وہ محمد جو برگزیدہ معزز وگرامی مقرب ہیں اوران پر اپنی کامل ترین برکتوں کا اضافہ فرما اور اپنی نفع رساں رحمتوں کے ساتھ ان پر رحم وکرم فرما۔ پروردگارا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت فراواں نازل کر جس سے فراوانی میں کوئی رحمت نہ بڑھ سکے ۔ اور ان پر ایسی بڑھنے والی رحمت نازل فرما جس سے زیادہ کوئی رحمت بڑھنے والی نہ ہو اوران پر ایسی پسندیدہ رحمت نازل فرما جس سے بالا تر کوئی رحمت نہ ہو ۔ پروردگارا! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما جو انہیں خوش وخوشنود کرے اور ان کی خوشنودی سے بڑھ جائے ۔ اور ان پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تو ان کے لیے اس کے سوا کسی رحمت کو پسند نہ کرے اور نہ ان کے علاوہ کسی کو اس رحمت کا سزاوار سمجھے۔ پروردگارا! محمد اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تیری جانب سے جس رضا مندی کے وہ مستحق ہیں اس سے بڑھ جائے اور اس کا پیوند تیرے بقاء ودوام سے جڑا رہے اور اس کا سلسلہ کہیں ختم نہ ہو جس طرح تیرے کلمے ختم نہ ہوں گے ۔ پروردگارا! محمد اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما ۔ جو تیرے فرشتوں ، نبیوں ،رسولوں اور اطاعت کرنے والوں کے درود ورحمت کو شامل ہو اور تیرے بندوں میں سے جنوں ،انسانوں اور تیری دعوت کو قبول کرنے والوں کے درود وسلام پر مشتمل ہو اورتیری ہر قسم کی مخلوقات کہ جنہیں تو نے خلق کیا اور عالم وجود میں لایا سب کی رحمتوں پر حاوی ہو۔ پروردگارا! آنحضرت پر، ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جو گذشتہ اور آئندہ سب رحمتوں کو محیط ہوں ان پر اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جو تیرے نزدیک اورتیرے علاوہ دوسروں کے نزدیک پسندیدہ ہو۔ اور ان رحمتوں کے ساتھ ایسی رحمتیں بھیجتا رہے کہ ان کے بھیجنے کے وقت تو پہلی رحمتوں کو دگنا کر دے ۔اور انہیں زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ دو چند کرکے اتنا بڑھاتا جائے کہ جنہیں تیرے علاوہ کوئی شمار نہ کر سکے ۔ پروردگارا ان کے اہل بیت اطہارپر رحمت نازل فرما جنہیں تو نے امر دین وشریعت کے لیے منتخب فرمایا۔ اے علم کا خزینہ دار اور اپنے دین کا محافظ اور زمین میں اپنا خلیفہ وجانشین اور بندوں پر اپنی حجت بنایا اور جنہیں اپنے ارادہ (ازلی ) سے ہر قسم کی نجاست وآلودگی سے پاک وصاف رکھا اور جنہیں اپنے تک پہنچنے کا وسیلہ اور جنت تک آنے کا راستہ قرار دیا۔ پروردگار! محمد اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جس کے ذریعہ تو ان کے لیے اپنی بخشش وکرامت کو فراواں اور ان کے لیے عطایا وانعامات کامل کرے اوراپنے تحائف ومنافع میں سے انہیں وافر حصہ بخشے۔ پروردگارا! ان پر اور ان کے اہل بیت پر ایسی رحمت نازل فرما کہ نہ اس کی ابتدا کی کوئی مدت ، نہ اس مدت کی کوئی انتہا اورنہ اس کا کوئی آخری کنارا ہو ۔ پروردگارا!ان پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تیرے عرش اورجو کچھ زیر عرش ہے سب کے ہموزن ہو اور اس مقدار میں ہو کہ آسمانوں اور جو کچھ آسمانوں کے اوپرہے سب کو بھر دے اورزمینوں اور جو کچھ زمینوں کے نیچے اور ان کے اندر ہے ان کے شمار کے برابر ہو ایسی رحمت جو انہیں تیرے تقرب کی منزل اعلے پر پہنچا دے اور تیرے لیے اور ان کے لیے سرمایہ خوشنودی ہو اور اپنے جیسی دوسری رحمتوں سے ہمیشہ متصل رہے ۔ بارالہا! تو نے ہر زمانہ میں ایک ایسے امام کے ذریعہ اپنے دین کی تائید فرمائی ہے جسے تو نے اپنے بندوں کے لیے نشان راہ قرار دیا اورشہروں میں منار ہدایت بنا کر قائم کیا جبکہ تو نے اپنے پیمان اطاعت کو اس کے پیمان اطاعت سے وابستہ کر دیا جسے اپنی رضا وخوشنودی کا ذریعہ قرار دیا جس کی اطاعت فرض کر دی جس کی نافرمانی سے ڈریا جس کے احکام کی بجا آوری اورجس کے منع کر نے پر باز رہنے کا حکم دیا ۔ اور یہ کہ کوئی آگے بڑھنے والا اس سے آگے نہ بڑھے اورکوئی پیچھے رہ جانے والا اس سے پیچھے نہ رہے ۔ وہ پناہ طلب کرنے والوں کے لیے سروسامان حفاظت ،اہل ایمان کے لیے جائے پناہ وابستگان دامن کے لیے مضبوط سہارا اورتمام جہان کی رونق وزیبائش ہے بارالہا! اپنے ولی وپیشوا کے دل میں اس انعام پر جو اسے بخشا ہے ادائے شکر کا الہام فرما اور اس کے وجود کے باعث ویسا ہی ادائے شکر کا جذبہ ہمارے دل میں پیدا کر اور اسے اپنی طرف سے ایسا تسلط عطا فرما جس سے ہر طرح کی مدد پہنچے اوراس کے لیے کامیابی وکامرانی کی راہ بآسانی کھول دے اور اپنے مضبوط سہارے سے اس کی مدد فرما ۔ اس کی پشت کو مضبوط اور باز کو قوی کر اپنی نظر توجہ سے اس کی حفاظت اوراپنی نگہداشت سے اس کی حمایت فرما اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس کی مدد اور اپنے غالب آنے والے سپاہ ولشکر سے اس کی کمک فرما اور اس کے ذریعہ اپنی کتاب اور حدود واحکام اور اپنے رسول ( ان پر اے اللہ تیری طرف سے درود و رحمت ہو ) کی روشوں کو قائم کر اور ان کے ذریعہ ظالموں نے دین کے جن نشانات کو مٹا ڈالا ہے از سر نو زند ہ کر دے اور ظلم وجور کے زنگ کو اپنی شریعت سے دور اور اپنی راہ کی دشواریوں کو برطرف کر دے ۔اور جو لوگ تیری راہ صواب سے رو گردانی کرنے والے ہیں انہیں ختم اور جو تیرے راہ راست میں کجی پیدا کرتے ہیں انہیں نیست ونابود کر دے ۔ اور اسے اپنے دوستوں کے لیے نرم و بردبار قرار دے ۔ اور دشمنوں ( پر غلبہ و تسلط ) کے لۓ اس کے ہاتھوں کو کھول دے اور ہمیں اس کی طرف سے رافت ورحمت اور شفقت ومہربانی عطا فرما اور اس کی بات پر کان دھرنے والا اور اطاعت کرنے والا اور اس کی خوشنودی کے لیے کوشاں رہنے والا اور اس کی نصرت وتائید اور دشمنوں سے دفاع کے سلسلہ میں مدد دینے والا اور اس وسیلہ سے تجھ سے اور تیرے رسول ( اے خدا ان پر تیرا درود سلام ہو ) سے تقرب چاہنے والا قرار دے ۔ اے اللہ ان کے دوستوں پر بھی رحمت نازل فرما جو ان کے مرتبہ ومقام کے معترف ، ان کے طریق ومسلک کے تابع ، ان کے نقش قدم پر گامزن ۔ ان کے سر رشتہ دین سے وابستہ، ان کی دوستی و ولایت سے متمسک ، ان کی امامت کے پیرو، ان کے احکام کے فرما نبردار ، ان کی اطاعت میں سرگرم عمل ، ان کے زمانہ اقتدار کے منتظر اور ان کے لیے چشم براہ ہیں ۔ ایسی رحمت جو بابرکت ، پاکیزہ اوربڑھنے والی اورہر صبح وشام نازل ہونے والی ہو اور ان پر اوران کے ارواح ( طیبہ ) پر سلامتی نازل فرما اور ان کے کاموں کو صلاح وتقوی کی بنیادوں پر قائم کر اور ان کے حالات کی اصلاح فرما اور ان کی توبہ قبول فرما بیشک تو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ، اور سب سے بہتر بخشنے والا ہے اور ہمیں اپنی رحمت کے وسیلہ سے ان کے ساتھ دارالسلام ( جنت ) میں جگہ دے۔ اے سب رحیموں سے زیادہ رحیم ، پروردگارا! یہ روز عرفہ وہ دن ہے جسے تو نے شرف ، عزت اورعظمت بخشی ہے جس میں اپنی رحمتیں پھیلا دیں اور اپنے عفو ودرگزر سے احسان فرمایا۔اپنے عطیوں کو فراواں کیا اوراس کے وسیلہ سے اپنے بندوں پر تفضل فرمایا ہے ۔ اے اللہ میں تیرا وہ بندہ ہوں جس پر تو نے اس کی خلقت سے پہلے اور خلقت کے بعد انعام واحسان فرمایا ہے اس طرح کہ اسے ان لوگوں میں سے قرار دیا جنہیں تو نے اپنے دین کی ہدایت کی ، اپنے ادائے حق کی توفیق بخشی جن کی اپنی ریسماں کے ذریعہ حفاظت کی جنہیں اپنی جماعت میں داخل کیا اوراپنے دوستوں کی دوستی اوردشمنوں کی دشمنی کی ہدایت فرمائی ہے۔ با ایں ہمہ تو نے اسے حکم دیا تو اس نے حکم نہ مانا ، اور منع کیا تو وہ باز نہ آیا اور اپنی معصیت سے روکا تو وہ تیرے حکم کے خلاف امر ممنوع کا مرتکب ہوا، یہ تجھ سے عناد اورتیرے مقابلہ میں تکبر کی رو سے نہ تھا بلکہ خواہش نفس نے اسے ایسے کاموں کی دعوت دی جب سے تو نے روکا اور ڈرایا تھا ۔ اور تیرے دشمن اور اس کے دشمن ( شیطان ملعون ) نے ان کاموں میں اس کی مدد کی ۔ چنانچہ اس نے تیری دھمکی سے آگاہ ہونے کے باوجود تیرے عفو کی امید کرتے ہوئے اور تیرے درگزر پر بھروسا رکھتے ہوئے گناہ کی طرف اقدام کیا ۔ حالانکہ ان احسانات کی وجہ سے جو تو نے اس پر کئے تھے تمام بندوں میں وہ اس کا سزا وار تھا کہ ایسا نہ کرتا ، اچھا پھر میں تیرے سامنے کھڑا ہوں بالکل خواروذلیل ، سراپا عجز ونیاز اور لرزاں وترساں۔ ان عظیم گناہوں کا جن کا بوجھ اپنے سر اٹھایا ہے اوران بڑی خطاؤں کا جن کا ارتکاب کیا ہے اعتراف کرتا ہوا تیرے دامن عفو میں پناہ چاہتا ہوا اور تیری رحمت کا سہارا ڈھونڈتا ہوا اور یہ یقین رکھتا ہوا کہ کوئی پناہ دینے والا( تیرے عذاب سے مجھے پناہ نہیں دے سکتا)اور کوئی بچانے والا تیرے غضب سے ) مجھے بچا نہیں سکتا۔ لہذا( اس اعتراف گناہ واظہار ندامت کے بعد ) تو میری پردہ پوشی فرما جس طرح گناہگاروں کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور مجھے معافی عطا کر جس طرح ان لوگوں کو معافی عطا کرتا ہے جنہوں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا ہو ۔اور مجھ پر اس بخشش وآمرزش کے ساتھ احسان فرما کہ جس بخشش وآمرزش سے تو اپنے امیدوار پر احسان کرتا ہے تو تجھے بڑی نہیں معلوم ہوتی ۔ اورمیرے لیے آج کے دن ایسا حظ ونصیب قرار دے کہ جس کے ذریعہ تیری رضا مندی کا کچھ حصہ پا سکوں اور تیرے عبادت گزار بندے جو ( اجر وثواب کے ) تحائف لے کر پلٹے ہیں مجھے ان سے خالی ہاتھ نہ پھیر ۔ اگرچہ وہ نیک اعمال جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں میں نے آگے نہیں بھیجے لیکن میں نے تیری وحدت ویکتائی کا عقیدہ اور یہ کہ تیرا کوئی حریف شریک کار اورمثل ونظیر نہیں ہے پیش کیا ہے اور انہی دروازوں سے جن دروازوں سے تو نے آنے کا حکم دیا ہے آیا ہوں اور ایسی چیز کے ذریعہ جس کے بغیر کوئی تجھ سے تقرب حاصل نہیں کر سکتا ، تقرب چاہا ہے پھر تیری طرف رجوع وبازگشت ، تیری بارگاہ میں تذلل وعاجزی اور تجھ سے نیک گمان اور تیری رحمت پر اعتماد کو طلب تقرب کے ہمراہ رکھا ہے اور اس کے ساتھ ایسی امید کا ضمیمہ بھی لگا دیا ہے جس کے ہوتے ہوئے تجھ سے امید رکھنے والا محروم نہیں رہتا اور تجھ سے اسی طرح سوال کیا ہے جس طرح کوئی بے قدر ، ذلیل ، شکستہ حال ، تہی دست خوف زدہ اور طلبگار پناہ سوال کرتا ہوں اوراس حالت کے باوجود میرا یہ سوال خوف ،عجز ونیازمندی ،پناہ طلبی اور امان خواہی کی رو سے ہے نہ متکبروں کے تکبر کے ساتھ برتری جتلانے ، نہ اطاعت گزاروں کے ( اپنی عبادت پر ) فخر واعتماد کی بنا پر اتراتے اور نہ سفارش کرنے والوں کی سفارش پرسر بلندی دکھاتے ہوئے اور میں اس اعتراف کے ساتھ تمام کمتروں سے کمترم خواروذلیل لوگوں سے ذلیل تر اور ایک چیونٹی کے مانند بلکہ اس سے بھی پست تر ہوں ۔ اے وہ جو گنہگاروں پر عذاب کرنے میں جلدی نہیں کرتا اور نہ سرکشوں کو ( اپنی نعمتوں سے ) روکتا ہے۔ اے وہ جو لغزش کرنے والوں سے درگزر فرما کر احسان کرتا ہے اور گنہگاروں کو مہلت دے کر تفصل فرماتا ہے میں وہ ہوں جو گنہگار گناہ کا معترف ،خطا کار اور لغزش کرنے والا ہوں ۔ میں وہ ہوں جس نے تیرے مقابلہ میں جرات سے کام لیتے ہوئے پیش قدمی کی ۔ میں وہ ہوں جس نے دیدہ دانستہ گناہ کیے ۔ میں وہ ہوں جس نے اپنے گناہوں کو تیرے بندوں سے چھپایا اور تیرے سامنے کھلم کھلا مخالفت کی ۔ میں وہ ہوں جو تیرے بندوں سے ڈرتا رہا، اور تجھ سے بیخوف رہا ،میں وہ ہوں جو تیری ہیبت سے ہراساں اور تیرے عذاب سے خوف زدہ نہ ہوا۔ میں خود ہی اپنے حق میں مجرم اور بلا و مصیبت کے ہاتھوں میں گروی ہوں میں ہی شرم وحیا سے عاری اور طویل رنج وتکلیف میں مبتلا ہوں میں تجھے اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے مخلوقات میں سے منتخب کیا ۔ اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے اپنے لیے پسند فرمایا۔ اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے کائنات میں سے برگزیدہ کیا اور جسے اپنے احکام ( کی تبلیغ ) کے لیے چن لیا ۔ اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جس کی اطاعت کو اپنی اطاعت سے ملا دیا اور جس کی نا فرمانی کو اپنی نافرمانی کے مانند قرار دیا ۔ اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جس کی محبت کو اپنی محبت سے مقرون اور جس کی دشمنی کو اپنی دشمنی سے وابستہ کیا ہے ۔مجھے آج کے دن اس دامن رحمت میں ڈھانپ لے جس سے ایسے شخص کو ڈھانپتا ہے جو گناہوں سے دست بردار ہو کر تجھ سے نالہ وفریاد کرے اور تائب ہو کر تیرے دامن مغفرت میں پناہ چاہے اور جس طرح اپنے اطاعت گزاروں اورقرب ومنزلت والوں کی سر پرستی فرماتا ہے اسی طرح میری سرپرستی فرما اور جس طرح ان لوگوں پر جنہوں نے تیرے عہد کو پورا کیا تیری خاطر اپنے کو تعب ومشقت میں ڈالا اور تیری رضا مندیوں کے لیے سختیوں کو جھیلا ۔خود تن تنہا احسان کرتا ہے اس طرح مجھ پر بھی تن تنہا احسان فرما اور تیرے حق میں کوتاہی کرنے ،تیرے حدود سے متجاوز ہونے اور تیرے احکام کے پس پشت ڈالنے پر میرا مواخذہ نہ کر اور مجھے اس شخص کے مہلت دینے کی طرح مہلت دے کر رفتہ رفتہ اپنے عذاب کا مستحق نہ بنا ، جس نے اپنی بھلائی کو مجھ سے روک لیا اور سمجھتا یہ ہے کہ بس وہی نعمت کا دینے والا ہے یہاں تک کہ تجھے بھی ان نعمتوں کے دینے میں شریک نہ سمجھا ہو ۔ مجھے غفلت شعاروں کی نیند ، بے راہرؤوں کے خواب اور حرماں نصیبوں کی غفلت سے ہوشیار کر دے اور میرے دل کو اس راہ عمل پر لگا جس پر تو نے اطاعت گزاروں کو لگایا ہے اوراس عبادت کی طرف مائل فرما جو عبادت گزاروں سے تو نے چاہی ہے اوران چیزوں کی ہدایت کر جن کے وسیلہ سے سہل انگاروں کو رہائی بخشی ہے اورجو باتیں تیری بارگاہ سے دور کردیں اور میرے اور تیرے ہاں کے حظ ونصیب کے درمیان حائل اورتیرے ہاں کے مقصد ومراد سے مانع ہو جائیں ان سے محفوظ رکھ اور نیکیوں کی راہ پیمائی اور ان کی طرف سبقت جس طرح تو نے حکم دیا ہے اوران کی بڑھ چڑھ کر خواہش جیسا کہ تو نے چاہا ہے میرے لیے سہل وآسان کر اور اپنے عذاب و وعید کو سبک سمجھنے والوں کے ساتھ کہ جنہیں تو تباہ کرے گا مجھے تباہ نہ کرنا اور جنہیں دشمنی پر آمادہ ہونے کی وجہ سے ہلاک کرے گا ان کے ساتھ مجھے ہلاک نہ کرنا اور اپنی سیدھی راہوں سے انحراف کرنے والوں کے زمرہ میں کہ جنہیں تو برباد کرے گا مجھے برباد نہ کرنا اور فتنہ وفساد کے بھنور سے مجھے نجات دے اور بلا کے منہ سے چھڑا لے اور زمانہ مہلت ( کی بد اعمالیوں ) پر گرفت سے پناہ دے اوراس دشمن کے درمیان جو مجھے بہکائے اور اس خواہش نفس کے درمیان جو مجھے تباہ وبرباد کرے اور اس نقص وعیب کے درمیان جو مجھے گھیر لے حائل ہو جا اورجیسے اس شخص سے کہ جس پر غضب ناک ہونے کے بعد تو راضی نہ ہو رخ پھیر لیتا ہے اسی طرح مجھ سے رخ نہ پھیر اور جو امیدیں تیرے دامن سے وابستہ کئے ہوئے ہوں ان میں مجھے بے آس نہ کر کہ تیری رحمت سے یاس وناامیدی مجھ پر غالب آ جائے ۔ اور مجھے اتنی نعمتیں بھی نہ بخش کہ جن کے اٹھانے کی میں طاقت نہیں رکھتا کہ تو فروانی محبت سے مجھ پر وہ بار لاد دے جو مجھے گرانبار کر دے ۔ اورمجھے اس طرح اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑ دے جس طرح اسے چھوڑ دیتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہ ہو اور نہ مجھے اس سے کوئی مطلب ہو اورنہ اس کے لیے توبہ وبازگشت ہو ، اور مجھے اس طرح نہ پھینک دے جس طرح اسے پھینک دیتا ہے جو تیری نظر توجہ سے گر چکا ہو، اور تیری طرف سے ذلت و رسوائی اس پر چھائی ہوئی ہو بلکہ گرنے والوں کے گرنے سے اور کج روؤں کے خوف وہراس سے اور فریب خوردہ لوگوں کے لغزش کھانے سے اور ہلاک ہونے والوں کے ورطہ ہلاکت میں گرنے سے میرا ہاتھ تھام لے اور اپنے بندوں اورکنیزوں کے مختلف طبقوں کو جن چیزوں میں مبتلا کیا ہے ان سے مجھے عافیت وسلامتی بخش ۔ اور جنہیں تو نے مورد عنایت قرار دیا ، جنہیں نعمتیں عطا کیں ، جن سے راضی وخوشنود ہوا، جنہیں قابل ستائش زندگی بخشی اورسعادت وکامرانی کے ساتھ موت دی ان کے مراتب ودرجات پر مجھے فائز کر ۔ اور وہ چیزیں جو نیکیوں کو محو اور برکتوں کو زائل کر دیں ان سے کنارہ کشی اس طرح میرے لیے لازم کر دے جس طرح گردن میں پڑا ہوا طوق ۔ اوربرے گناہوں اور رسوا کرنے والی معصیتوں سے علیحدگی ونفرت کو میرے دل کے لیے اس طرح ضروری قرار دے جس طرح بدن سے چمٹا ہوا لباس اور مجھے دنیا میں مصروف کرکے کہ جسے تیری مدد کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا ان اعمال سے کہ جن کے علاوہ تجھے کوئی اور چیز مجھ سے خوش نہیں کر سکتی ، روک نہ دے اوراس پست دنیا کی محبت کہ جو تیرے ہاں کی سعادت ابدی کی طرف متوجہ ہونے سے مانع اور تیری طرف وسیلہ طلب کرنے سے سد راہ اور تیرا تقرب حاصل کرنے سے غافل کرنے والی ہے میرے دل سے نکال دے اور مجھے ملکہ عصمت عطا فرما جو مجھے تیرے خوف سے قریب ، ارتکاب محرمات سے الگ اور کبیرہ گناہوں کے بندھنوں سے رہا کر دے اور مجھے گناہوں کی آلودگی سے پاکیزگی عطا فرما اور معصیت کی کثافتوں کو مجھ سے دور کر دے اور عافیت کا جامہ مجھے پہنا دے اور اپنی سلامتی کی چادر اڑھا دے اور اپنی وسیع نعمتوں سے مجھے ڈھانپ لے اور میرے لیے اپنے عطایا وانعامات کا سلسلہ پیہم جاری رکھ اوراپنی توفیق وراہ حق کی رہنمائی سے مجھے تقویت دے اور پاکیزہ نیت ، پسندیدہ گفتار اور شائستہ کردار کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔ اور اپنی قوت وطاقت کے بجائے مجھے میری قوت وطاقت کے حوالے نہ کر ۔ اور جس دن مجھے اپنی ملاقات کے لیے اٹھائے مجھے ذلیل وخوار اوراپنے دوستوں کے سامنے رسوا نہ کرنا، اوراپنی یاد میرے دل سے فراموش نہ ہونے دے اور اپنا شکر وسپاس مجھ سے زائل نہ کر ۔ بلکہ جب تیری نعمتوں سے بے خبر ، سہو و غفلت کے عالم میں ہوں ، میرے لیے ادائے شکر لازم قرار دے ، اور میرے دل میں یہ بات ڈال دے کہ جو نعمتیں تو نے بخشی ہیں ان پر حمد وتوصیف اور جو احسانات مجھ پر کئے ہیں ان کا اعتراف کروں ، اور اپنی طرف میری توجہ کو تمام توجہ کرنے والوں سے بالاتر اور میری حمد سرائی کو تمام حمد کرنے والوں سے بلند تر قرار دے اور جب مجھے تیری احتیاج ہو تو مجھے اپنی نصرت سے محروم نہ کرنا اور جن اعمال کو تیری بارگاہ میں پیش کیا ہے ان کو میرے لیے وجہ ہلاکت نہ قرار دینا، اور جس عمل وکردار کے پیش نظر تو نے اپنے نافرمانوں کو دھتکارا ہے یوں مجھے اپنی بارگاہ سے دھتکار نہ دینا، اس لیے کہ میں تیرا مطیع وفرمانبردار ہوں اور یہ جانتا ہوں کہ حجت وبرہان تیرے ہی لئے ہے اور تو فضل وبخشش کا زیادہ سزاوار اور لطف واحسان کے ساتھ فائدہ رساں اور اس لائق ہے کہ تجھ سے ڈرا جائے اور اس کا اہل ہے کہ مغفرت سے کام لے اور اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ سزا دینے کے بجائے پردہ پوشی تیری روش سے قریب تر ہے ۔ تو پھر مجھے ایسی پاکیزہ زندگی دے جو میرے حسب دل خواہ امور پر مشتمل اور میری دلپسند چیزوں پر منتہی ہو اس طرح کہ جس کام کو تو ناپسند کرے اسے بجا نہ لاؤں اورجس سے منع کرے اس کا ارتکاب نہ کروں ۔ اور مجھے اس شخص کی سی موت دے جس کا نور اس کے آگے اور اس کے داہنی طرف چلتا ہو اورمجھے اپنی بارگاہ میں عاجز ونگوں سار اور لوگوں کے نزدیک با وقار بنا دے ۔ اور جب تجھ سے تخلیہ میں رازونیاز کروں تو مجھے پست وسرافگندہ اوراپنے بندوں میں بلند مرتبہ قرار دے اورجومجھ سے بے نیاز ہو اس سے مجھے بے نیاز کر دے اور میرے فقرو احتیاج کو اپنی طرف بڑھا دے اوردشمنوں کے خندہ زیر لب ، بلاؤں کے ورود اور ذلت وسختی سے پناہ دے اورمیرے ان گناہوں کے بارے میں کہ جن پر تو مطیع ہے اس شخص کے مانند میری پردہ پوشی فرما کہ اگر اس کا حلم مانع نہ ہوتا تو وہ سخت گرفت پر قادر ہوتا اوراگر اس کی روش میں نرمی نہ ہوتی وہ گناہوں پر مواخذہ کرتا۔ اور جب کسی جماعت کو تو مصیبت میں گرفتار یا بلاؤ نکبت سے دوچار کرنا چاہے، تو درصورتیکہ میں تجھ سے پنا ہ طلب ہوں اس مصیبت سے نجات دے اور جب کہ تو نے مجھے دنیا میں رسوائی کے موقف میں کھڑا نہیں کیا تو اس طرح آخرت میں بھی رسوائی کے مقام پر کھڑا نہ کرنا۔اورمیرے لیے دنیوی نعمتوں کو اخروی نعمتوں سے اور قدیم فائدوں کو جدید فائدوں سے ملا دے اور مجھے اتنی مہلت نہ دے کہ اس کے نتیجہ میں میرا دل سخت ہو جائے ۔ اور ایسی مصیبت میں مبتلا نہ کر جس سے میری عزت وآبرو جاتی رہے اورایسی ذلت سے دوچار نہ کر جس سے میری قدرومنزلت کم ہو جائے اور ایسے عیب میں گرفتار نہ کر جس سے میرا مرتبہ ومقام جانا نہ جا سکے ۔ اور مجھے اتنا خوف زدہ نہ کر کہ میں مایوس ہو جاؤں اور ایسا خوف نہ دلا کہ ہراساں ہو جاؤں ۔ میرے خوف کو اپنی وعید وسرزنش میں اور میرے اندیشہ کوتیرے عذر تمام کرنے اور ڈرانے میں منحصر کر دے اور میرے خوف وہراس کو آیات ( قرآنی ) کی تلاوت کے وقت قرار دے اور مجھے اپنی عبادت کے لیے بیدار رکھنے ، خلوت وتنہائی میں دعا ومناجات کے لیے جاگنے ، سب سے الگ رہ کر تجھ سے لو لگانے، تیرے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرنے ، دوزخ سے گلو خلاصی کے لیے بار بار التجاء کرنے ، اورتیرے اس عذاب سے جس میں اہل دوزخ گرفتار ہیں پناہ مانگنے کے وسیلہ سے میری راتوں کو آباد کر اور مجھے سرکشی میں سرگردان چھوڑ نہ دے اور نہ غفلت میں ایک خاص وقت تک غافل و بے خبر پڑا رہنے دے اور مجھے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور دیکھنے والوں کے لیے فتنہ وگمراہی کا سبب نہ قرار دے اورمجھے ان لوگوں میں جن سے تو ( ان کے مکر کی پاداش میں ) مکر کرے گا شمار نہ کر اور ( انعام و بخشش کے لۓ ) میرے عوض دوسرے کو انتخاب نہ کر۔ میرے نام میں تغیر اور جسم میں تبدیلی نہ فرما اور مجھے مخلوقات کے لیے مضحکہ اور اپنی بارگاہ میں لائق استہزا نہ قرار دے ۔ مجھے صرف ان چیزوں کا پابند بنا جن سے تیری رضا مندی وابستہ ہے اورصرف اس زحمت سے دو چار کر جو (تیرے دشمنوں سے ) انتقام لینے کے سلسلہ میں ہو اور اپنے عفو ودرگزر کی لذت اوررحمت ، راحت وآسائش گل وریحان اور جنت نعیم کی شیرینی سے آشنا کر اور اپنی وسعت وتونگری کی بدولت ایسی فراغت سے روشناس کر جس میں تیرے پسندیدہ کاموں کو بجا لا سکوں اور ایسی سعی وکوشش کی توفیق دے جوتیری بارگاہ میں تقرب کا باعث ہو اور اپنے تحفوں میں سے مجھے نت نیا تحفہ دے۔ اورمیری اخروی تجارت کو نفع بخش اور میری بازگشت کو بے ضرر قرار دے اور مجھے اپنے مقام وموقف سے ڈرا اور اپنی ملاقات کا مشتاق بنا ۔ اور ایسی سچی توبہ کی توفیق عطا فرما کہ جس کے ساتھ میرے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو باقی نہ رکھے اورکھلی اور ڈھکی معصیتوں کو محو کر دے اور اہل ایمان کی طرف سے میرے دل سے کینہ وبغض کو نکال دے اور انکسار وفروتنی کرنے والوں پر میرے دل کو مہربان بنا دے اور میرے لیے تو ایسا ہو جا جیسا نیکوکاروں کے لیے ہے اورپرہیزگاروں کے زیور سے مجھے آراستہ کر دے اور آئندہ آنے والی نسلوں میں میرا ذکر روز افزوں برقرار رکھ اور سابقون الاولون کے محل ومقام میں مجھے پہنچا دے اورفراخی نعمت کو مجھ پر تمام کر ، اور اس کی منفعتوں کا سلسلہ پیہم جاری رکھ ، اپنی نعمتوں سے میرے ہاتھوں کو بھر دے اور اپنی گراں قدر بخششوں کو میری طرف بڑھا دے اور جنت میں جسے تو نے اپنے برگزیدہ بندوں کے لیے سجایا ہے مجھے اپنے پاکیزہ دوستوں کا ہمسایہ قرار دے اوران جگہوں میں جنہیں اپنے دوستداروں کے لیے مہیا کیا ہے مجھے عمدہ ونفیس عطیوں کے خلعت اوڑھا دے اور میرے لیے وہ آرامگاہ کہ جہاں میں اطمینان سے بے کھٹکے رہوں اور وہ منزل کہ جہاں میں ٹھہروں اوراپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں اپنے نزدیک قراردے ، اورمجھے میرے عظیم گناہوں کے لحاظ سے سزا نہ دینا اور جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے مجھے ہلاک نہ کرنا، ہر شک وشبہ کو مجھ سے دور کر دے اور میرے لیے ہر سمت سے حق تک پہنچنے کی راہ پیدا کر دے اوراپنی عطا وبخشش کے حصے میرے لیے زیادہ کر دے اور اپنے فضل سے نیکی واحسان سے حظ فراواں عطا کر۔ اوراپنے ہاں کی چیزوں پر میرا دل مطمئن اور اپنے کاموں کے لیے میری فکر کو یک سو کر دے اور مجھ سے وہی کام لے جو اپنے مخصوص بندوں سے لیتا ہے اور جب عقلیں غفلت میں پڑ جائیں اس وقت میرے دل میں اطاعت کا ولولہ سمو دے اور میرے لیے تونگری ، پاکدامنی ، آسائش سلامتی ، تندرستی ، فراخی اطمینان اور عافیت کو جمع کر دے ۔ اور میری نیکیوں کو گناہوں کی آمیزش کی وجہ سے اور میری تنہائیوں کو ان مفسدوں کے باعث جو از راہ امتحان پیش آتے ہیں تباہ نہ کر ۔ اور اہل عالم میں سے کسی ایک کے آگے ہاتھ پھیلانے سے میری عزت وآبرو کو بچائے رکھ اور ان چیزوں کی طلب وخواہش سے جو بدکرداروں کے پاس ہیں مجھے روک دے اور مجھے ظالموں کا پشت پناہ نہ بنا اور نہ (احکام ) کتاب کے محو کرنے پر ان کا ناصر ومددگار قرار دے اورمیری اس طرح نگہداشت کر کہ مجھے خبر بھی نہ ہونے پائے ۔ ایسی نگہداشت کہ جس کے ذریعہ تو مجھے ( ہلاکت وتباہی ) سے بچا لے جائے اور میرے لئے تو بہ ورحمت ، لطف و رافت اورکشادہ روزی کے دروازے کھول دے ۔ اس لیے کہ میں تیری جانب رغبت و خواہش کرنے والوں میں سے ہوں اور میرے لیے اپنی نعمتوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دے اس لیے کہ تو انعام وبخشش کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے اور میری بقیہ عمر کو حج وعمرہ اور اپنی رضا جوئی کے لیے قرار دے۔ اے تمام جہانوں کے پالنے والے ! رحمت کرے اللہ تعالی ٰ محمد اوران کی پاک وپاکیزہ آل پر اور ان پر اور ان کی اولاد پر ہمیشہ ہمیشہ درود وسلام ہو ۔

الحمد لله رب العالمين .اللهم لك الحمد بديع السموات و الارض ، ذا الجلال و الاكرام ، رب الارباب ، و آله كل مألوه ، و خالق كل مخلوق ، و وارث كل شي ء ، ليس كمثله شي ء ، و لا يعزب عنه علم شي ء ، و هو بكل شي ء محيط ، و هو علي كل شي ء رقيب .أنت الله لا إله إلا أنت ، الاحد المتوحد الفرد المتفرد .و أنت الله لا إله إلا أنت ، الكريم المتكرم ، العظيم المتعظم ، و الكبير المتكبر .و أنت الله لا إله إلا أنت ، العلي المتعال ، الشديد المحال .و أنت الله لا إله إلا أنت ، الرحمن الرحيم ، العليم الحكيم .و أنت الله لا إله إلا أنت ، السميع البصير ، القديم الخبير .و أنت الله لا إله إلا أنت ، الكريم الاكرم ، الدائم الادوم .و أنت الله لا إله إلا أنت ، الاول قبل كل احد ، و الاخر بعد كل عدد .و أنت الله لا إله إلا أنت ، الداني في علوه ، و العالي في دنوه .و أنت الله لا إله إلا أنت ، ذو البهاء و المجد ، و الكبرياء و الحمد .و أنت الله لا إله إلا أنت ، الذي أنشأت الاشياء من غير سنخ ، و صورت ما صورت من غير مثال ، و ابتدعت المبتدعات بلا احتذاء .أنت الذي قدرت كل شي ء تقديرا ، و يسرت كل شي ء تيسيرا ، و دبرت ما دونك تدبيرا .أنت الذي لم يعنك علي خلقك شريك ، و لم يوازرك في امرك وزير ، و لم يكن لك مشاهد و لا نظير .أنت الذي اردت فكان حتما ما اردت ، و قضيت فكان عدلا ما قضيت ، و حكمت فكان نصفا ما حكمت .أنت الذي لا يحويك مكان ، و لم يقم لسلطانك سلطان ، و لم يعيك برهان و لا بيان .أنت الذي احصيت كل شي ء عددا ، و جعلت لكل شي ء امدا ، و قدرت كل شي ء تقديرا .أنت الذي قصرت الاوهام عن ذاتيتك ، و عجزت الافهام عن كيفيتك ، و لم تدرك الابصار موضع اينيتك .أنت الذي لا تحد فتكون محدودا ، و لم تمثل فتكون موجودا ، و لم تلد فتكون مولودا .أنت الذي لا ضد معك فيعاندك ، و لا عدل لك فيكاثرك ، و لاند لك فيعارضك .أنت الذي ابتدء و اخترع ، و استحدث ، و ابتدع ، و احسن صنع ما صنع .سبحانك ! ما اجل شأنك ، و اسني في الاماكن مكانك ، و اصدع بالحق فرقانك !سبحانك ! من لطيف ما الطفك ، و رؤوف ما ارءفك ، و حكيم ما اعرفك !سبحانك ! من مليك ما امنعك ، و جواد ما اوسعك ، و رفيع ما ارفعك ! ذو البهاء و المجد و الكبرياء و الحمد .سبحانك ! بسطت بالخيرات يدك ، و عرفت الهداية من عندك ، فمن التمسك لدين أو دنيا وجدك !سبحانك ! خضع لك من جري في علمك ، و خشع لعظمتك ما دون عرشك ، و انقاد للتسليم لك كل خلقك .سبحانك ! لا تحس و لا تجس و لا تمس و لا تكاد و لا تماط و لا تنازع و لا تجاري و لا تماري و لا تخادع و لا تماكر .سبحانك ! سبيلك جدد ، و امرك رشد ، و أنت حي صمد .سبحانك ! قولك حكم ، و قضاوءك حتم ، و ارادتك عزم !سبحانك ! لا راد لمشيتك ، و لا مبدل لكلماتك !سبحانك ! باهر الايات ، فاطر السموات ، بارئ النسمات !لك الحمد حمدا يدوم بدوامك .و لك الحمد حمدا خالدا بنعمتك .و لك الحمد حمدا يوازي صنعك .و لك الحمد حمدا يزيد علي رضاك .و لك الحمد حمدا مع كل حامد ، و شكرا يقصر عنه شكر كل شاكر .حمدا لا ينبغي إلا لك ، و لا يتقرب به إلا اليك .حمدا يستدام به الاول ، و يستدعي به دوام الاخر .حمدا يتضاعف علي كرور الازمنة ، و يتزايد اضعافا مترادفة .حمدا يعجز عن احصائه الحفظة ، و يزيد علي ما احصته في كتابك الكتبة .حمدا يوازن عرشك المجيد ، و يعادل كرسيك الرفيع .حمدا يكمل لديك ثوابه ، و يستغرق كل جزاء جزاؤه .حمدا ظاهره وفق لباطنه ، و باطنه وفق لصدق النية .حمدا لم يحمدك خلق مثله ، و لا يعرف احد سواك فضله .حمدا يعان من اجتهد في تعديده ، و يؤيد من اغرق نزعا في توفيته .حمدا يجمع ما خلقت من الحمد ، و ينتظم ما أنت خالقه من بعد .حمدا لا حمد اقرب الي قولك منه ، و لا احمد ممن يحمدك به .حمدا يوجب بكرمك المزيد بوفوره ، و تصله بمزيد بعد مزيد طولا منك .حمدا يجب لكرم وجهك ، و يقابل عز جلالك .رب صل علي محمد و آل محمد : المنتجب المصطفي المكرم المقرب ، افضل صلواتك ، و بارك عليه اتم بركاتك ، و ترحم عليه امتع رحماتك .رب صل علي محمد و آله ، صلوة زاكية لا تكون صلوة ازكي منها و صل عليه صلوة نامية لا تكون صلوة انمي منها ، و صل عليه صلوة راضية لا تكون صلوة فوقها .رب صل علي محمد و آله ، صلوة ترضيه و تزيد علي رضاه ، و صل عليه صلوة ترضيك و تزيد علي رضاك له ، و صل عليه صلوة لا ترضي له إلا بها ، و لا تري غيره لها اهلا .رب صل علي محمد و آله ، صلوة تجاوز رضوانك ، و يتصل اتصالها ببقائك ، و لا ينفد كما لا تنفد كلماتك .رب صل علي محمد و آله ، صلوة تنتظم صلوات ملائكتك و أنبيائك و رسلك و آله طاعتك ، و تشتمل علي صلوات عبادك من جنك و إنسك و اهل إجابتك ، و تجتمع علي صلوة كل من ذرات و برأت من اصناف خلقك .رب صل عليه و آله ، صلوة تحيط بكل صلوة سالفة و مستأنفة ، و صل عليه و علي آله ، صلوة مرضية لك و لمن دونك ، و تنشئ مع ذلك صلوات تضاعف معها تلك الصلوات عندها ، و تزيدها علي كرور الايام زيادة في تضاعيف لا يعدها غيرك .رب صل علي اطائب اهل بيته الذين اخترتهم لأمرك ، و جعلتهم خزنة علمك ، و حفظة دينك ، و خلفاءك في أرضك ، و حججك علي عبادك ، و طهرتهم من الرجس و الدنس تطهيرا بارادتك ، و جعلتهم الوسيلة اليك ، و المسلك إلي جنتك .رب صل علي محمد و آله ، صلوة تجزل لهم بها من نحلك و كرامتك ، و تكمل لهم الاشياء من عطاياك و نوافلك ، و توفر عليهم الحظ من عوائدك و فوائدك .رب صل عليه و عليهم صلوة لا أمد في أولها ، و لا غاية لأمدها ، و لا نهاية لاخرها .رب صل عليهم زنة عرشك و ما دونه ، و ملأ سمواتك و ما فوقهن ، و عدد أرضيك و ما تحتهن و ما بينهن ، صلوة تقربهم منك زلفي ، و تكون لك و لهم رضي ، و متصلة بنظائرهن أبدا .اللهم إنك أيدت دينك في كل أوان بإمام أقمته علما لعبادك ، و منارا في بلادك بعد أن وصلت حبله بحبلك ، و جعلته الذريعة إلي رضوانك ، و افترضت طاعته ، و حذرت معصيته ، و أمرت بامتثال أوامره ، و الانتهاء عند نهيه ، و ألا يتقدمه متقدم ، و لا يتأخر عنه متأخر ، فهو عصمة اللائذين ، و كهف المؤمنين ، و عروة المتمسكين ، و بهاء العالمين .اللهم فأوزع لوليك شكرما أنعمت به عليه ، و أوزعنا مثله فيه ، و اته من لدنك سلطانا نصيرا ، و افتح له فتحا يسيرا ، و أعنه بركنك الأعز ، و اشدد أزره ، و قو عضده ، وراعه بعينك ، و احمه بحفظك ، و انصره بملائكتك ، و امدده بجندك الاغلب .و أقم به كتابك و حدودك و شرائعك و سنن رسولك ، - صلواتك اللهم - عليه و آله ، و أحي به ما اماته الظالمون من معالم دينك ، و اجل به صداء الجور عن طريقتك ، و أبن به الضراء من سبيلك ، و ازل به الناكبين عن صراطك ، و امحق به بغاة قصدك عوجا .و ألن جانبه لأوليائك ، و ابسط يده علي اعدائك ، و هب لنا رافته و رحمته و تعطفه و تحننه ، و اجعلنا له سامعين مطيعين ، و في رضاه ساعين ، و إلي نصرته و المدافعة عنه مكنفين ، و إليك و إلي رسولك - صلواتك اللهم عليه و آله - بذلك متقربين .اللهم و صل علي أوليائهم المعترفين بمقامهم ، المتبعين منهجهم ، المقتفين اثارهم ، المستمسكين بعروتهم ، المتمسكين بولايتهم المؤتمين بإمامتهم المسلمين لأمرهم ، المجتهدين في طاعتهم ، المنتظرين أيامهم ، المادين إليهم أعينهم ، الصلوات المباركات الزاكيات الناميات الغاديات الرائحات .و سلم عليهم و علي ارواحهم ، و اجمع علي التقوي أمرهم ، و أصلح لهم شؤونهم ، و تب عليهم ، إنك أنت التواب الرحيم ، و خير الغافرين ، و اجعلنا معهم في دار السلام برحمتك ، يا أرحم الراحمين .اللهم هذا يوم عرفة يوم شرفته و كرمته و عظمته ، نشرت فيه رحمتك و مننت فيه بعفوك ، و أجزلت فيه عطيتك ، و تفضلت به علي عبادك .اللهم و أنا عبدك الذي أنعمت عليه قبل خلقك له و بعد خلقك إياه ، فجعلته ممن هديته لدينك ، و وفقته لحقك ، و عصمته بحبلك ، و أدخلته في حزبك ، و ارشدته لموالاة أوليائك و معاداة أعدائك .ثم أمرته فلم يأتمر ، و زجرته فلم ينزجر ، و نهيته عن معصيتك فخالف أمرك إلي نهيك ، لا معاندة لك ، و لا استكبارا عليك ، بل دعاه هواه إلي ما زيلته و إلي ما حذرته ، و أعانه علي ذلك عدوك و عدوه ، فاقدم عليه عارفا بوعيدك ، راجيا لعفوك ، واثقا بتجاوزك ، و كان احق عبادك مع ما مننت عليه ألا يفعل .و ها أنا ذا بين يديك صاغرا ذليلا خاضعا خاشعا خائفا ، معترفا بعظيم من الذنوب تحملته ، و جليل من الخطايا اجترمته ، مستجيرا بصفحك ، لائذا برحمتك ، موقنا أنه لا يجيرني منك مجير ، و لا يمنعني منك مانع .فعد علي بما تعود به علي من اقترف من تغمدك ، وجد علي بما تجود به علي من ألقي بيده إليك من عفوك ، و امنن علي بما لا يتعاظمك أن تمن به علي من أملك من غفرانك .و اجعل لي في هذا اليوم نصيبا أنال به حظا من رضوانك ، و لا تردني صفرا مما ينقلب به المتعبدون لك من عبادك .و إني و إن لم اقدم ما قدموه من الصالحات فقد قدمت توحيدك و نفي الاضداد و الانداد و الاشباه عنك ، و أتيتك من الابواب التي أمرت أن تؤتي منها ، و تقربت إليك بما لا يقرب أحد منك إلا بالتقرب به .ثم أتبعت ذلك بالانابة إليك ، و التذلل و الاستكانة لك ، و حسن الظن بك ، و الثقة بما عندك ، و شفعته برجائك الذي قل ما يخيب عليه راجيك .و سألتك مسئلة الحقير الذليل البائس الفقير الخائف المستجير ، و مع ذلك خيفة و تضرعا و تعوذا و تلوذا ، لا مستطيلا بتكبر المتكبرين ، و لا متعاليا بدالة المطيعين ، و لا مستطيلا بشفاعة الشافعين .و أنا بعد أقل الاقلين ، و أذل الاذلين ، و مثل الذرة أو دونها ، فيا من لم يعاجل المسيئين ، و لا ينده المترفين ، و يا من يمن باقالة العاثرين ، و يتفضل بانظار الخاطئين .أنا المسيئي المعترف الخاطئ العاثر .أنا الذي أقدم عليك مجترئا .أنا الذي عصاك متعمدا .أنا الذي استخفي من عبادك و بارزك .أنا الذي هاب عبادك و أمنك .أنا الذي لم يرهب سطوتك ، و لم يخف بأسك .أنا الجاني علي نفسه .أنا المرتهن ببليته .أنا القليل الحياء .أنا الطويل العناء .بحق من انتجبت من خلقك ، و بمن اصطفيته لنفسك ، بحق من اخترت من بريتك ، و من اجتبيت لشأنك ، بحق من وصلت طاعته بطاعتك ، و من جعلت معصيته كمعصيتك ، بحق من قرنت موالاته بموالاتك ، و من نطت معاداته بمعاداتك ، تغمدني في يومي هذا بما تتغمد به من جار إليك متنصلا ، و عاذ باستغفارك تائبا .و تولني بما تتولي به أهل طاعتك و الزلفي لديك و المكانة منك .و توحدني بما تتوحد به من وفي بعهدك ، و أتعب نفسه في ذاتك ، و أجهدها في مرضاتك .و لا تؤاخذني بتفريطي في جنبك ، و تعدي طوري في حدودك ، و مجاوزة أحكامك .و لا تستدرجني باملائك لي استدراج من منعني خير ما عنده و لم يشركك في حلول نعمته بي .و نبهني من رقدة الغافلين ، و سنة المسرفين ، و نعسة المخذولين .و خذ بقلبي إلي ما استعملت به القانتين ، و استعبدت به المتعبدين ، و استنقذت به المتهاونين .و أعذني مما يباعدني عنك ، و يحول بيني و بين حظي منك ، و يصدني عما احاول لديك .و سهل لي مسلك الخيرات إليك و المسابقة إليها من حيث أمرت ، و المشاحة فيها علي ما اردت .و لا تمحقني فيمن تمحق من المستخفين بما اوعدت .و لا تهلكني مع من تهلك من المتعرضين لمقتك .و لا تتبرني فيمن تتبر من المنحرفين عن سبلك .و نجني من غمرات الفتنة ، و خلصني من لهوات البلوي ، و أجرني من أخذ الاملاء .و حل بيني و بين عدو يضلني ، و هوي يوبقني ، و منقصة ترهقني .و لا تعرض عني إعراض من لا ترضي عنه بعد غضبك .و لا تؤيسني من الامل فيك فيغلب علي القنوط من رحمتك .و لا تمنحني بما لا طاقة لي به فتبهظني مما تحملنيه من فضل محبتك .و لا ترسلني من يدك إرسال من لا خير فيه ، و لا حاجة بك اليه ، و لا إنابة له .و لا ترم بي رمي من سقط من عين رعايتك ، و من اشتمل عليه الخزي من عندك ، بل خذ بيدي من سقطة المتردين ، و وهلة المتعسفين ، و زلة المغرورين ، و ورطة الهالكين .و عافني مما ابتليت ، به طبقات عبيدك و إمائك ، و بلغني مبالغ من عنيت به ، و أنعمت عليه ، و رضيت عنه ، فاعشته حميدا ، و توفيته سعيدا .و طوقني طوق الاقلاع عما يحبط الحسنات ، و يذهب بالبركات .و أشعر قلبي الازدجار عن قبائح السيئات و فواضح الحوبات .و لا تشغلني بما لا ادركه إلا بك عما لا يرضيك عني غيره .و انزع من قلبي حب دنيا دنية تنهي عما عندك ، و تصد عن ابتغاء الوسيلة اليك ، و تذهل عن التقرب منك .و زين لي التفرد بمناجاتك بالليل و النهار .و هب لي عصمة تدنيني من خشيتك ، و تقطعني عن ركوب محارمك ، و تفكني من اسر العظائم .و هب لي التطهير من دنس العصيان ، و أذهب عني درن الخطايا ، و سربلني بسربال عافيتك ، و ردني رداء معافاتك ، و جللني سوابغ نعمائك ، و ظاهر لدي فضلك و طولك .و أيدني بتوفيقك و تسديدك ، و اعني علي صالح النية ، و مرضي القول ، و مستحسن العمل ، و لا تكلني إلي حولي و قوتي دون حولك و قوتك .و لا تخزني يوم تبعثني للقائك ، و لا تفضحني بين يدي أوليائك ، و لا تنسني ذكرك ، و لا تذهب عني شكرك ، بل الزمنيه في أحوال السهو عند غفلات الجاهلين لالائك ، و اوزعني أن أثني بما أوليتنيه ، و أعترف بما أسديته إلي .و اجعل رغبتي إليك فوق رغبة الراغبين ، و حمدي إياك فوق حمد الحامدين .و لا تخذلني عند فاقتي إليك و لا تهلكني بما أسديته إليك ، و لا تجبهني بما جبهت به المعاندين لك ، فإني لك مسلم ، أعلم أن الحجة لك ، و أنك أولي بالفضل ، و أعود بالاحسان ، و اهل التقوي ، و اهل المغفرة ، و أنك بأن تعفو أولي منك بأن تعاقب ، و أنك بأن تستر أقرب منك إلي أن تشهر .فاحيني حيوة طيبة تنتظم بما اريد ، و تبلغ ما احب من حيث لا اتي ما تكره ، و لا ارتكب ما نهيت عنه ، و أمتني ميتة من يسعي نوره بين يديه و عن يمينه .و ذللني بين يديك ، و أعزني عند خلقك ، وضعني إذا خلوت بك ، و ارفعني بين عبادك ، و أغنني عمن هو غني عني ، و زدني اليك فاقة و فقرا .و اعذني من شماتة الاعداء ، و من حلول البلاء ، و من الذل و العناء ، تغمدني فيما اطلعت عليه مني بما يتغمد به القادر علي البطش لولا حلمه ، و الاخذ علي الجريرة لولا اناته .و إذا اردت بقوم فتنة أو سوء فنجني منها لواذا بك ، و إذ لم تقمني مقام فضيحة في دنياك فلا تقمني مثله في آخرتك .و اشفع لي اوائل مننك باواخرها و قديم فوائدك بحوادثها ، و لا تمدد لي مدا يقسو معه قلبي و لا تقرعني قارعة يذهب لها بهائي ، و لا تسمني خسيسة يصغر لها قدري و لا نقيصة يجهل من اجلها مكاني .و لا ترعني روعة ابلس بها ، و لا خيفة اوجس دونها ، اجعل هيبتي في وعيدك ، و حذري من اعذارك و انذارك ، و رهبتي عند تلاوة اياتك .و اعمر ليلي بايقاظي فيه لعبادتك ، و تفردي بالتهجد لك ، و تجردي بسكوني اليك ، و انزال حوائجي بك ، و منازلتي اياك في فكاك رقبتي من نارك ، و اجارتي مما فيه اهلها من عذابك .و لا تذرني في طغياني عامها ، و لا في غمرتي ساهيا حتي حين ، و لا تجعلني عظة لمن اتعظ و لا نكالا لمن اعتبر ، و لا فتنة لمن نظر ، و لا تمكر بي فيمن تمكر به ، و لا تستبدل بي غيري ، و لا تغير لي اسما ، و لا تبدل لي جسما ، و لا تتخذني هزوا لخلقك ، و لا سخريا لك ، و لا تبعا إلا لمرضاتك ، و لا ممتهنا إلا بالانتقام لك .و اوجدني برد عفوك ، و حلاوة رحمتك و روحك و ريحانك ، و جنة نعيمك ، و اذقني طعم الفراغ لما تحب بسعة من سعتك ، و الاجتهاد فيما يزلف لديك و عندك و اتحفني بتحفة من تحفاتك .و اجعل تجارتي رابحة ، و كرتي غير خاسرة و اخفني مقامك ، و شوقني لقاءك ، و تب علي توبه نصوحا لا تبق معها ذنوبا صغيرة و لا كبيرة ، و لا تذر معها علانية و لا سريرة .و انزع الغل من صدري للمؤمنين ، و اعطف بقلبي علي الخاشعين ، و كن لي كما تكون للصالحين ، و حلني حلية المتقين ، و اجعل لي لسان صدق في الغابرين ، و ذكرا ناميا في الاخرين ، و واف بي عرصة الاولين .و تمم سبوغ نعمتك علي ، و ظاهر كراماتها لدي ، املأ من فوائدك يدي ، و سق كرائم مواهبك الي ، و جاور بي الاطيبين من اوليائك في الجنان التي زينتها لاصفيائك ، و جللني شرائف نحلك في المقامات المعدة لاحبائك .و اجعل لي عندك مقيلا اوي اليه مطمئنا ، و مثابة اتبوؤها ، و اقر عينا ، و لا تقايسني بعظيمات الجرائر ، و لا تهلكني يوم تبلي السرائر ، و اذل عني كل شك و شبهة ، و اجعل لي في الحق طريقا من كل رحمة ، و اجزل لي قسم المواهب من نوالك ، و وفر علي حظوظ الاحسان من افضالك .و اجعل قلبي واثقا بما عندك ، و همي مستفرغا لما هو لك ، و استعملني بما تستعمل به خالصتك ، و اشرب قلبي عند ذهول العقول طاعتك ، و اجمع لي الغني و العفاف و الدعة و المعافات و الصحة و السعة و الطمأنينة و العافية .و لا تحبط حسناتي بما يشوبها من معصيتك ، و لا خلواتي بما يعرض لي من نزغات فتنتك ، و صن وجهي عن الطلب الي احد من العالمين ، و ذبني عن التماس ما عند الفاسقين .و لا تجعلني للظالمين ظهيرا ، و لا لهم علي محو كتابك يدا و نصيرا ، و حطني من حيث لا اعلم حياطة تقيني بها ، وافتح لي ابواب توبتك و رحمتك و رأفتك و رزقك الواسع ، إني اليك من الراغبين و اتمم لي إنعامك ، إنك خير المنعمين .و اجعل باقي عمري في الحج و العمرة ابتغاء وجهك ، يا رب العالمين ، و صلي الله علي محمد و آله الطيبين الطاهرين ، و السلام عليه و عليهم ابد الابدين .
Last modified on Wednesday, 13 August 2014 15:34
Login to post comments