شکارپور دھماکہ: ہلاکتیں 61 ہوگئیں، سندھ میں سوگ

January 31, 2015 5309
شکارپور دھماکہ: ہلاکتیں 61 ہوگئیں، سندھ میں سوگ All images are copyrighted to their respective owners.

شکار پور،پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق صوبہ سندھ کے شہر شکار پور کی امام بارگاہ میں جمعے کو ہونے والے دھماکے

میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 61 تک پہنچ گئی ہے۔ہلاک شدگان میں سے بیشتر کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔صوبہ سندھ میں اس سانحے پر سرکاری سطح پر ایک دن کا سوگ منایا جا رہا ہے اور وزیرِ اعلیٰ نے ہلاک شدگان لواحقین کے لیے 20 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔
سنیچر کو ہلاک شدگان کی نمازِ جنارہ کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے اور شکار پور سمیت اندونِ سندھ کے کئی شہروں میں کاروبارِ زندگی معطل ہے۔اس واقعے کے خلاف کراچی سمیت سندھ میں وکلا نے بھی عدالتی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا ہے جبکہ شیعہ تنظیموں کی کال پر صوبے کے مختلف علاقوں میں ہڑتال کی جا رہی ہے۔
حکومتِ سندھ نے اس واقعے پر سنیچر کو صوبے میں ایک دن کا سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔
پی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سنیچر کو شکار پور کا دورہ کیا ہے اور وہ ہلاک شدگان کی نمازِ جنارہ میں بھی شرکت کریں گے۔شیعہ تنظیم مجلسِ وحدت المسلمین کے مطابق اجتماعی نمازِ جنازہ سنیچر کی صبح شکار پور میں ادا کی جا رہی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے پولیس حکام کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ صوبے میں ہائی الرٹ کیا جائے کیونکہ شہروں میں گھیرا تنگ ہونے کے بعد دہشت گردوں نے چھوٹے شہروں اور قصبوں کا رخ کیا ہے۔دھماکے کے زخمی اس وقت شکارپور، سکھر اور لاڑکانہ کے علاوہ کراچی میں زیرعلاج ہیں۔
یہ دھماکہ جمعے کو شکار پور کے علاقے لکھی در کی امام بارگاہ مولا علی میں نمازِ جمعہ کے موقع پر ہوا تھا۔جمعے کی شب شکارپور کی پولیس کی جانب سے اس واقعے میں تین بچوں سمیت 57 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی تاہم سنیچر کی صبح پی ٹی وی نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مزید چار افرد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس دھماکے میں 59 افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن میں سے متعدد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ صحافی علی حسن کے مطابق یہ زخمی کراچی کے علاوہ شکارپور، سکھر اور لاڑکانہ میں زیرعلاج ہیں۔
مجلسِ وحدتِ مسلمین کا بھی کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد 60 سے زیادہ ہے کیونکہ کچھ لاشیں ورثا اپنے علاقوں میں بھی لے گئے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین نے شکار پور دھماکے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔جماعت کے مرکزی رہنما امین شہیدی کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تاحال متضاد اطلاعات ہیں۔
شکار پور ڈی ایس پی عبدالقدوس نے بی بی سی کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر لوگوں کے مطابق ایک شخص تھیلے سمیت امام بار گاہ کے اندر آیا، جس کے فوری بعد دھماکہ ہوا اور تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ بم نصب کیا گیا تھا یا یہ خودکش حملہ تھا۔مقامی ایس ایچ او بشیر کھوکھر کا کہنا ہے کہ دھماکے وقت امام بارگاہ میں سو کے قریب افراد نچلی منزل اور 60 سے 70 افراد پہلی منزل پر موجود تھے۔
انھوں نے بتایا کہ پہلی منزل کے لیے جانے والی سیڑھیوں کے قریب زیادہ نقصان ہوا۔ایس ایچ او بشیر کھوکھر کے مطابق امام بارگاہ کے باہر سکیورٹی انتظامات پولیس کے پاس ہوتے ہیں جبکہ اندر کی سکیورٹی کی ذمہ داری امام بارگاہ کے عملے کے پاس ہوتی ہے۔سکھر کے ڈی آئی جی سائیں رکھیو میرانی کے مطابق امام بارہ گاہ کے باہر سکیورٹی انتظامات نہ ہونے کی اطلاعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
شکار پور میں ماضی میں بھی فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور جنوری 2013 میں ہی شہر سے دس کلومیٹر دور واقع درگاہ غازی شاہ میں بم دھماکے میں گدی نشین سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔2010 میں بھی شکار پور میں عاشور? محرم کے موقع پر ایک مجلس پر حملے کی کوشش کے دوران ایک مشتبہ خودکش بمبار مارا گیا تھا۔

Last modified on Thursday, 07 May 2020 11:09
Login to post comments