×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سیالکوٹ کے فٹ بال برازیل ورلڈ کپ میں

ارديبهشت 31, 1393 0 418

پاکستانی شہر سیالکوٹ کے ایک صنعت کار نے ایک خواب دیکھا اور پھر اس کی تعبیر میں انہونی کو ہونی کر دکھایا۔ برازیل میں جون میں شروع

ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ مقابلوں میں خواجہ اختر کی فیکٹری کے بنے ہوئے فٹبال استعمال ہوں گے۔یورپی ملک جرمنی میں 2006ء میں ہونے والے فٹ بال کے ورلڈ کپ مقابلوں کے دوران شائقین کے شور و غل اور مقابلوں کے ماحول کو دیکھ کر خواجہ اختر نے یہ خواب دیکھا تھا کہ دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ٹورنامنٹ میں ان کی فیکٹری میں تیار کردہ گیند استعمال ہونے چاہییں۔ پاکستان کے مغربی صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں قائم ان کی فیکٹری میں جو فٹ بال تیار کیے جاتے ہیں، وہ یورپی فٹ بال کلبوں کے اعلیٰ ترین ٹورنامنٹ چیمپئنز لیگ کے علاوہ جرمنی کی قومی فٹ بال لیگ بنڈس لیگا اور فرانسیسی لیگ میں تو استعمال ہوتے رہے ہیں تاہم خواجہ اختر کی کمپنی کو اس وقت تک ورلڈ کپ کے لیے بال تیار کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا تھا۔
گزشتہ برس البتہ یہ سب کچھ بدل گیا اور اس پاکستانی صنعت کار کو بالآخر ایک موقع ملا کہ وہ اپنے خواب سچ کر دکھائیں۔ 2013ء کے موسم خزاں میں جب خواجہ اختر کو معلوم ہوا کہ کھیلوں کا سامان تیار کرنے والی معروف جرمن کمپنی ایڈیڈاس کے لیے ورلڈ کپ کی خاطر فٹ بال تیار کرنے والی ایک چینی کمپنی طلب کو پورا کرنے سے قاصر رہی ہے، تو اختر نے فوری طور پر ایڈیڈاس کے ایک وفد کو سیالکوٹ کے دورے کی دعوت دے ڈالی تاکہ وہ اپنی کمپنی کا معائنہ کروا کر ورلڈ کپ کے لیے فٹ بال تیار کرنے کا کنٹریکٹ حاصل کر سکیں۔
اس سلسلے میں خواجہ اختر اور ایڈیڈاس کے نمائندوں کے مابین ہونے والی ابتدائی ملاقات ناکام رہی تھی۔ اختر کے سب سے بڑے بیٹے حسن مسعود خواجہ نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے کہا تھا کہ ہماری فیکٹری میں ’پتھر کے زمانے‘ کا سامان نصب ہے۔‘‘حسن مسعود خواجہ کے بقول ایڈیڈاس کے نمائندوں کی واپسی کے بعد ان کے والد نے ایک میٹنگ کی اور فیکٹری ملازمین سے کہا، ’’یہ ہمیں ملنے والا واحد موقع ہے۔ اگر ہم نے انہیں یہ دکھایا کہ ہم یہ نہیں کر سکتے، تو ہمیں دوبارہ ایسا موقع نہیں ملے گا۔‘‘
اس کے بعد آنے والے دنوں میں خواجہ اختر کی کمپنی نے انہونی کو ہونی کر دکھایا۔ عام طور پر ایک نئی پروڈکشن لائن کی تیاری کے لیے چھ ماہ درکار ہوتے ہیں لیکن ایڈیڈاس کے پاس وقت کم تھا اور اسی لیے کمپنی کو اس کام کے لیے صرف 33 دن دیے گئے۔ سیالکوٹ کے اس صنعت کار نے مقررہ ہدف پورا کر لیا اور یوں انہیں کنٹریکٹ دے دیا گیا۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.