×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

مجروح اکیڈمی ممبئی کا اپنی نوعیت کا انوکھا پروگرام

خرداد 01, 1393 0 402

اردو اکیڈمی سولاپور کے عہدیداران واراکین کا استقبالیہ ۔ اُردو اکیڈمی سولاپور کے نوجوان عہدیداران واراکین کے ذریعے اردو کی

سرگرمیوں کو فعالیت کے ساتھ انجام دینے پر مجروح اکیڈمی، ممبئی کے زیر اہتمام ڈاکٹر ظہیر قاضی کی صدارت میں منگل ۲۰؍ مئی ۲۰۱۴ء کی شام، انجمن اسلام احمد زکریا ہال میں اعزازی جلسہ منعقد کیا گیا۔
ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہا کہ جس خوش دلی اور سنجیدگی سے اہلیان سولاپور اردو کی ترقی وترویج میں پیش پیش رہتے ہیں اس کا ذاتی طور پر مجھے بھی تجربہ ہے اور مجھے اردو کی سب سے زیادہ سرگرم نوجوان نسل سولاپور میں دکھائی دیتی ہے اس لیے میں سولاپور کو اردو کی زرخیز زمین سے یاد کرنا چاہوں گا۔ آپ نے کہا کہ انجمن اسلام ممبئی کی سرگرمیاں سولاپور میں بھی جاری ہیں اور ہم وہاں گیارہ ایکٹر کی ذاتی زمین پر انگریزی اور اردو میڈیم اسکولوںکے ساتھ پروفیشنل تعلیم کا بھی نظم رکھیں گے ۔ اُردو کی سرگرمیوں کے لیے وہاں کے متحرک نوجوانوں اور اردو اکیڈمی سولاپور کو اپنے ساتھ رکھیں گے۔
مہمان خصوصی رزاق خان نے انجمن اسلام میں اپنے طالب علمی کے زمانے کے مختلف واقعات سے محفل کو قہقہہ زار بنادیا۔ آپ نے کہا کہ’ یتیم خانہ‘ لفظ کی کوئی خوبصورت ترکیب بنائی جائے جس سے وہاں پڑھنے والے بچے مایوسی سے باہر نکل پائیں گے۔ آپ نے کہا کہ اسکول کا زمانہ ہر کسی کے لیے یادگار دور ہے اور میرے لیے یہ دور اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مرحوم خلیفہ ضیاء الدین جیسی عظیم المرتبت شخصیت نے تعلیم کے ساتھ میری خوبصورت تربیت بھی کی۔
مجروح اکیڈمی کے صدر ڈاکٹر شیخ عبداللہ نے اپنے تمہیدی کلمات میں مجروح اکیڈمی کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے اردو کی زبوں حالی کے وجوہات کا جامع انداز میں تذکرہ کیا۔ آپ نے مہمانان اور سامعین کے سامنے اردو کی ترقی پر کئی سوالات اٹھائے۔
مجروح اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفی پنجابی نے مہمانان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سولاپور اردو اکیڈمی کے عہدیداران واراکین کی کام کے تئیں دلچسپی اور سنجیدگی کا تقاضہ تھا کہ مجروح اکیڈمی ،انھیں یہاں بلاکر اعزاز سے نوازتی۔ آپ نے کہا کہ سولاپور میں مختلف تنظیمیں منظم انداز میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں۔ آپ نے ہال میں موجود ایک ایک شخص کا نام بہ نام تعارف کرایا اور کہا کہ جلسے کی کامیابی دراصل شرکائے جلسہ کی مرہون منت ہوا کرتی ہے۔ ڈاکٹر قاسم امام نے سولاپور کے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے سولاپور کو اردو کی بڑی اور زندہ بستی قرار دیا۔ حامد اقبال صدیقی نے کہا کہ سولاپور کی تنظیمیں بہت زیادہ کام کر کے کہیں ذکر تک نہیں کرتیں۔ اس موقع پر فاروق سید سمیت سولاپور کے اعجاز منظور عالم، سمیر سید، وجاہت عبدالستار، محمود نواز اور اردو اکیڈمی سولاپور کے صدر اشفاق مجاہد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آصف اقبال نے جلسے کی خوبصورت نظامت کی۔ مہمانان کے ہاتھوں اردو اکیڈمی سولاپور کے تمام عہدیداران واراکین کی خدمت میں گلدستے اور مومینٹو پیش کیے گئے۔ اس سے قبل مجروح اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفی پنجابی کے دفتر پر ظہرانے کا اہتمام کیا گیا جس میں مشہور مزاحیہ اداکارہ جانی لیور نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ ڈاکٹر آدم شیخ، ڈاکٹر شیخ عبداللہ، عارف صدیقی، سمیت کئی معززین شریک تھے۔ بدھ کی شام مہاڈا کے چیئر مین ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے اردو اکیڈمی سولاپور کے ذمہ داران کے لیے عشائیہ کا اہتمام کیا۔ جس میں پرنسپل محمد سہیل لوکھنڈ والا، فلم اداکار علی خان،ڈاکٹر مصطفی پنجابی، ڈاکٹر قاسم امام، حامد اقبال صدیقی اور فاروق سید شریک تھے۔

اردو اکیڈمی سولاپور کے عہدیداران واراکین کا استقبالیہ

Last modified on شنبه, 10 خرداد 1393 12:00

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.