×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ظہیر خان کی بھارتی ٹیم میں واپسی سے کوچ بھی ناامید

خرداد 09, 1393 0 312

ظہیر خان کے بھارتی اسکواڈ سے اخراج کے بعد جب سدھیر نائیک سے ان کی رائے پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ

سلیکٹرز انہیں مستقبل میں بھی قابل غور سمجھیں گے۔‘‘آئی پی ایل میں ممبئی انڈینز کی نمائندگی کرتے ہوئے ظہیر خان کمر کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے تھے جس کے علاج کیلئے انہیں لندن بھی جانا پڑا لیکن وہ اب واپس ممبئی پہنچ گئے ہیں۔سدھیر نائیک کا کہنا ہے کہ ظہیر کی واپسی کا واحد راستہ یہ ہے کہ انگلینڈ کے دورے کیلئے جن نوجوان پیسرز پر بھروسہ کیا گیا ہے وہ بہت بری طرح ناکامی سے دوچار ہو جائیں،دوسری صورت میں سلیکٹرز ان پر کسی طرح بھی بھروسہ نہیں کریں گے اور ظہیر خان کی بھارتی ٹیم میں واپسی کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ انگلینڈ ٹور کیلئے بھارت کے چھ رکنی پیس اٹیک میں ظہیرخان کی عدم شمولیت کے بارے میں بی سی سی آئی کی جانب سے کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آسکی لیکن سدھیر نائیک کے مطابق سلیکٹرز کو شاید اس بات پر ہی شک ہے کہ وہ پانچ ٹیسٹ میچوں تک ٹیم کا ساتھ نبھا سکیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیسٹ سیریز کیلئے ظہیر خان فٹ ہو سکتے ہیں لیکن سلیکٹرز ان کی فٹنس کے حوالے سے کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے کیونکہ انہیں تو اس بات پر بھی یقین نہیں ہے کہ ظہیر خان پوری سیریز کھیل سکتے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں منتخب نہیں کیا گیا۔ پینتیس سالہ ظہیر خان بانوے ٹیسٹ میچوں میں 311وکٹوں کے ساتھ بھارتی بالرز میں چوتھے نمبر پر موجود ہیں لیکن دو ہزار گیارہ میں جب وہ انگلینڈ کے دورے پر گئے تھے تو پہلے ٹیسٹ کے ابتدائی روز ہیمسٹرنگ انجری نے انہیں کھیلنے سے محروم کر دیا اور بھارت کیلئے وہ دورہ ایک بھیانک خواب ثابت ہوا۔ سدھیر نائیک کا خیال ہے کہ ظہیر خان ٹیسٹ میچوں کی سنچری مکمل کر کے ریٹائرمنٹ کی سوچ رہے تھے لیکن اب ایسا ہونا بھی ممکن نہیں لگتا کیونکہ ان کی واپسی کے صرف پچیس فیصدی امکانات باقی رہ گئے ہیں۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.