×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

2023 تک ارب پتی افراد کے اضافے کا امکان

خرداد 24, 1393 0 347

دنیا میں امرا کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ایک پوری صنعت ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تخلیق کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ افراد

جو امیر سے امیر ہوتے جا رہے ہیں وہ کہاں رہتے ہیں اور ہم ان کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ایسی کمپنیاں اور ویب سائٹیں وجود میں آ رہی ہیں جو ان امرا کی کھوج لگاتی ہیں اور ان کے نام، نمبر اور ضروریات کا تجزیہ کرتی ہیں۔ آپ ان کے بارے میں  روزآنہ کی بنیاد پر یہ بھی معلوم کر سکتے ہیں کہ آج امیر ترین مرد کون ہے۔
ریسرچ کمپنی ویلتھی انسائٹ کی سالانہ ویلتھی رپورٹ میں پیشن گوئی کی گئی ہے کہ سنہ 2023 تک دنیا میں ارب پتیوں کی تعداد 38 فیصد بڑھ کر 2315 ہو جائے گی۔
ارب پتی افراد کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن رپورٹ میں پیشن گوئی کی گئی ہے کہ وہ افراد جن کے پاس تین کروڑ ڈالر سے زیادہ ہیں، ان کی تعداد 2023 تک 28 فیصد اضافے کے ساتھ 215000 ہو جائے گی۔امیر افراد کی تعداد میں اضافہ دنیا کے ہر خطے میں ہو گا، لیکن رپورٹ کے مطابق آئندہ دہائی میں ابھرتی ہوئی معیشت میں امرا کی تعداد زیادہ ہو گی۔
سالانہ ویلتھی رپورٹ کے مطابق ایشیا میں سب سے زیادہ ارب پتی افراد ہوں گے اور ایشیا میں ترقی شمالی افریقہ اور یورپ سے زیادہ ہو گی۔ لیکن اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ جب ایشیا کی بات کرتے ہیں تو زیادہ آبادی کی بات ہوتی ہے۔دوسری جانب اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ آج جو قدر ارب کی ہے وہ دس سال بعد نہیں ہو گی۔
اگر امرا کو ممالک کے اعتبار سے دیکھیں تو امریکہ ہی میں 2023 میں سب سے زیادہ امیر افراد ہوں گے لیکن اس کے مقابلے میں چین، روس اور بھارت ہوں گے۔سالانہ ویلتھی رپورٹ کے مطابق اپنی محنت سے کروڑ پتی بننے والوں کی تعداد ایسے افراد سے کہیں زیادہ ہے جن کو رقم وراثت میں ملی ہے۔لیکن خود کمانے والے کروڑ پتی افراد کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں کہ آیا وہ اپنی دولت اولاد کے نام لکھ دیں یا پھر زیادہ دولت کسی کو دے دیں۔
دو دہائی قبل چین سے امریکہ میں رہائش اختیار کرنے والے کروڑ پتی ایڈورڈ ڑو کا کہنا ہے کہ ذہین لوگوں کو خود کمانا چاہیے اور وہ اپنے بچوں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔ریسرچ میں جنس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تین کروڑ ڈالر کی دولت والے افراد میں 90 فیصد مرد ہیں۔ریسرچ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو کسی طور بھی حیرت کی بات نہیں ہے کہ امرا کو خاتون دوست یا پارٹنر تلاش کرنے میں مشکل نہیں ہوتی۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.