×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

'جہادیوں' کی جانب سے تاجک صحافیوں کو دھمکیاں

بهمن 04, 1393 0 239

دوشنبہ ، تاجک صحافی انتہاپسندوں کی دھمکیوں کے آگے سر جھکانے سے انکار کر رہے ہیں۔احمد ابراہیم، خاتلون صوبہ کے

واحد آزاد اخبار، پیک، کے مدیرِ اعلیٰ کو شام سے فون کالوں پر دھمکیاں دی گئیں کہ کلیاب میں ان کے دفتر کو بم سے اڑا دیا جائے گا۔ اخبار باقاعدگی کے ساتھ اسلامی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے ساتھ جنگ کی کوششوں اور ساتھ ہی ساتھ شام اور عراق میں رونما ہونے والے واقعات کی خبریں دیتا ہے۔
ابراہیم نے بتایا کہ دوپہر کے وقت، کسی نے اْسے ایک نامعلوم نمبر سے کال کی۔ اگرچہ کال کرنے والے نے اپنی شناخت نہیں کروائی، ابراہیم نے نصرت اللہ نزاروف کی آواز پہچان لی تھی، جو کہ الطبقہ، الراقہ صوبہ، شام میں تاجک جنگجوؤں کا رہنما ہے۔ابراہیم نے کہا، "نزاروف بھی کلیاب کا رہنے والا ہے۔ وہ باقاعدگی کے ساتھ ویڈیو ٹیپ کی صورت میں تقاریر آن لائن پوسٹ کرتا ہے۔ وہ لڑنے کے لیے شام جانے سے بہت عرصہ پہلے سے میرا واقف ہے۔"
ابراہیم نے کہا کہ نزاروف، جو کہ شامی حلقوں میں ابو خالد یا محسومی نورات کے نام سے بھی مشہور ہے، نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ذبح کرنے کی دھمکی دی۔
مدیر نے کہا، "نزاروف نے دھمکی دی کہ اگر وہ خود نہ بھی آ سکا تو کلیاب میں اس کے ہمدرد۔۔۔ آئیں گے اور ہمیں ختم کر ڈالیں گے۔"ابراہیم نے فوری طور پر دھمکی کی اطلاع ملک کی قومی سلامتی کمیٹی (جی کے این بی) کو دی تاکہ وہ کال کا سراغ لگا سکے۔ ابراہیم کو جو شک تھا کہ کال شام سے آئی تھی، ایجنٹوں نے اس کی تصدیق کر دی۔
ابراہیم نے کہا، "میں نے نزاروف کے ساتھ 'جہاد' کی روح پر تبادل? خیال کرنے میں 20 منٹ لگائے اور میں نے ساری بات چیت کو ریکارڈ کر لیا اور اسے کو تحریری صورت میں منتقل کر کے اپنے اخبار پیک میں شائع کر دیا۔"ابراہیم نے کہا کہ جواب میں انہوں نے نزاروف کو خیریت کے ساتھ تاجکستان واپس لوٹنے اور اس نے جو نقصان کیا ہے اور جو جانیں لیں ہیں ان پر پچھتانے کا موقع ملنے کی دعا دی۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.