×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شامی فورسز کا فضائی حملہ بچوں سمیت درجنوںنمازی ہلاک

بهمن 04, 1393 0 252

دمشق،شامی حکومتی فورسز کے ایک تازہ فضائی حملے میں دمشق کے نزدیک باغیوں کے قبضے والے ایک علاقے میں کم از کم

32 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس اور اپوزیشن گروپ کے سرگرم عناصر کے مطابق فضائی حملہ دمشق کے مشرق میں واقع حاموریہ نامی ایک شہر کی ایک مارکیٹ کے نزدیک ہوا۔ دیگر ذرائع سے جمعے کی نماز کے بعد مسجد سے نکلنے والے 35 نمازیوں کی ہلاکت کی خبر مل رہی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی حتمی تعداد کے بارے میں فی الحال متضاد خبریں آ رہی ہیں جبکہ شامی حکومتی اہلکاروں کی طرف سے فوری طور پر اس خبر پر رد عمل ظاہر کرنے کے لیے کوئی دستیاب نہیں ہے۔
دمشق کے نزیک رہائش پذیر ابو یازان نامی ایک شخص کے مطابق فضائی حملہ دمشق کے مشرق میں واقع حاموریہ نامی ایک شہر کی ایک مارکیٹ کے نزدیک ہوا۔ دیگر ذرائع سے جمعے کی نماز کے بعد مسجد سے نکلنے والے 35 نمازیوں کی ہلاکت کی خبر مل رہی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی حتمی تعداد کے بارے میں فی الحال متضاد خبریں آ رہی ہیں۔
اپوزیشن سیریئن میڈیا آرگنائزیشن نے یوٹیوب پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں خون میں لت پت متعدد لاشوں کو زمین پر پڑے دکھایا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ لاشیں بچوں کی ہیں۔ شام میں جاری خانہ جنگی پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ تازہ ترین فضائی حملے میں 32 افراد مارے گئے ہیں، جن میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔ آبزرویٹری نے اسے ایک قتل عام سے تعبیر کیا ہے۔
آبزرویٹری کی مقامی رابطہ کمیٹیوں نے اپنے فیس بْک پیج پر پوسٹ کیے جانیوالے پیغام میں کہا ہے کہ یہ حملہ ایک پبلک اسکوائر پر ہوا جہاں سے لوگ جمعے کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہے تھے۔ایک اور اپوزیشن گروپ ’دی شام نیوز نیٹ ورک‘ نے اپنے فیس بْک پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اْس نے، اْس کے مطابق، ایک کھْلے اسکوائر میں ہونے والے دھماکے کے بعد کا منظر پیش کیا ہے۔ اس میں بھی لاشیں زمین پر بکھری دکھائی دے رہی ہیں اور متعدد عمارتیں تباہ شدہ نظر آ رہی ہیں۔
تاہم عالمی میڈیا فوری طور پر ان رپورٹوں کی تصدیق نہیں کر پایا ہے۔ دمشق میں وزرات اطلاعات کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ آج کے حملے کے بارے میں کیے جانے والے سوالات کا جواب دینے کے لیے کوئی بھی ہفتے کے روز سے پہلے دستیاب نہیں ہوگا۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2011ء سے عرب ریاست شام میں جاری خانہ جنگی اب تک دو لاکھ انسانی جانوں کی ہلاکت کا سبب بن چْکی ہے۔ یاد رہے کہ یہ تنازعہ جمہوریت کے حامیوں کی طرف سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے شروع ہوا تھا جو رفتہ رفتہ خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گیا۔

Last modified on شنبه, 04 بهمن 1393 12:20

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.