×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

جاپانی وزیرِ اعظم کی دولت اسلامیہ کی تازہ ویڈیو کی مذمت

بهمن 08, 1393 0 401

ٹوکیو،جاپان کے وزیر اعظم شنزو ایبے نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کا تازہ ویڈیو ’قابل نفریں‘ ہے جس میں انھوں نے اغوا کیے جانے

والے جاپانی شہری کینجی گوٹو کو آئندہ 24 گھنٹے میں قتل کر دینے کی دھمکی دی ہے۔فوٹیج میں ایک آواز ہے جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ گوٹو کی آواز ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ اگر اردن سزائے موت کی منتظر ایک عراقی خاتون کو رہا نہیں کرتا تو انھیں اور ان کے ساتھ اردن کے ایک پائلٹ کو مار ڈالا جائے گا۔
جاپانی وزیر اعظم اردن کے حکام کے ساتھ مل کر ان دونوں مغویوں کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے جاپانی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس ویڈیو سے ’متنفر‘ ہو گئے ہیں اور جاپانی حکومت نے اردن سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ میڈیا کے مطابق انھوں نے وزیروں سے کہا کہ ’وہ ملک اور بیرون ملک دونوں جگہ جاپانی شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔‘
اس سے قبل دولت اسلامیہ نے اتوار کو کہا تھا کہ اس نے ایک اور جاپانی مغوی ہارونا یوکاوا کو قتل کر دیا ہے۔ تنظیم نے یوکاوا کے لیے 20 کروڑ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔منگل کو جاری کی گئی نئی ویڈیو میں ایک مخاطب کہتا ہے کہ ’گوٹو کی زندگی کے اب صرف 24 گھنٹے بچے ہیں‘ جبکہ اردن کے باشندے معاذ الکساسبہ کے پاس ’اس سے بھی کم وقت ہے‘ جب تک کہ اردن ساجدہ الریشاوی کو رہا نہیں کرتا۔
الریشاوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کی جنگجو ہیں اور انھیں اردن میں سنہ 2005 کے ایک حملے میں سزائے موت سنائی گئی ہے جس میں 60 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔دوسری جانب منگل کی رات اردن کے پائلٹ کے رشتہ داروں اور حامیوں نے عمان میں وزیر اعظم کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا اور ان پر دولت اسلامیہ کے مطالبے پورا کرنے کے لیے زور دیا۔
پائلٹ کے والد صفی الکساسبہ نے عالمی خبر رساں ایجنسی کو بتایا: ’معاذ کے تحفظ کا مطلب اردن کا استحکام ہے اور اس کی موت کا مطلب اردن کا انتشار ہے۔‘
واضح رہے کہ معاذ کو اس وقت پکڑ لیا گیا تھا جب اس کا طیارہ دسمبر میں دولت اسلامیہ کے علاقے میں گر گیا تھا۔47 سالہ کینجی گوٹو دستاویزی فلمیں بنانے والے آزاد صحافی ہیں جو اکتوبر میں شام گئے تھے۔کہا جاتا ہے کہ وہ دوسرے جاپانی شہری ہارونا یوکاوا کی رہائی کے سلسلے میں وہاں گئے تھے۔اتوار کو ایک ویڈیو میں بظاہر انھیں یوکاوا کی لاش کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.