×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حزب اللہ کے حملے کا یتن یاہو کا بدلہ لینے کا عزم

بهمن 09, 1393 0 462

تل ابیب،اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ لبنان سے متصل سرحدی علاقے میں اسرائیلی فوجی قافلے پر جان

لیوا حملے کے ذمہ داروں کو اپنے کیے کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔بدھ کو متنازع شیباعہ کے علاقے میں ایک فوجی گاڑی پر ٹینک شکن میزائل سے حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے اس حملے کے بعد مغربی لبنان کے کئی علاقوں میں گولہ باری بھی کی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی تصادم کے نتیجے اس کا سپین سے تعلق رکھنے والا ایک امن فوجی ہلاک ہوا ہے۔حزب اللہ نے اس حملے کی ذمہ دار قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ شام میں اس کے جنگجوؤں پر دس روز قبل ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کا جواب ہے جس میں ایک ایرانی جنرل اور حزب اللہ کے چھ جنگجو مارے گئے تھے۔
خطے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جمعرات کو نیویارک میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ اجلاس فرانس کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نے سکیورٹی امور پر ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’جو کوئی بھی اس حملے کے پیچھے ہے، اسے اس کی پوری قیمت چکانا ہوگی۔ کچھ عرصے سے ایران، گولان کے پہاڑی علاقے میں حزب اللہ کے ذریعے ہمارے خلاف ایک اور دہشت گرد محاذ کھولنے کی کوششیں کر رہا ہے جس کے خلاف ہم سخت اور ذمہ دارانہ کارروائی کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے لبنان اور شام کو بھی اس حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ’لبنانی حکومت اور شامی صدر بشار الاسد پر بھی ایسے حملوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو ان کے علاقوں سے ہورہے ہیں۔ ان تمام واقعات کی صورت میں ہمارا مقصد اسرائیلی کی ریاست کا دفاع کرنا اور اسرائیلی ریاست اور شہریوں کی سلامتی ہے۔ اس لیے ہم نے کارروائی کی اور کارروائیاں کرتے رہیں گے۔‘
اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم کے ایک ترجمان نے حملے کا الزام ایران پر عائد کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اپنی گماشتہ دہشتگرد تنظیم حزب اللہ کے ذریعے اس حملے کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ ایران اور دہشتگرد جنوبی شام میں ایک نیا دہشت گرد اڈہ قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ویسے ہی جیسا لبنان میں ہے۔ یہ وہی ایران ہے جو پوری دنیا میں دہشتگردوں کی مدد کرتا ہے جو جوہری طاقت بننے کی کوشش کررہا ہے۔ اپنی سرحدوں کے دفاع اور لوگوں کے تحفظ کے لیے ہمیں جو کرنا پڑا ہم کریں گے۔‘
دوسری طرف غزہ میں حماس کے ترجمان سمیع ابْو زہری نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج پر یہ حملہ جائز تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’حماس حزب اللہ کے اسرائیلی جرائم کا جواب دینے کے حق کی توثیق کرتی ہے۔ شمال میں قابض فورسز اپنے کیے کی قیمت ادا کر رہی ہیں بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے اس سے قبل نیتن یاہو کی بیوقوفی کی وجہ سے غزہ میں اس کی قیمت ادا کی۔‘اقوامِ متحدہ نے اس ساری صورت حال میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تحمل اور برداشت کے مظاہرے پر زور دیا ہے۔ لبنان میں تعینات اقوامِ متحدہ کے سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ ’فریقین حالات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے حتی الامکان تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.