×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

لندن میں مساجد کو سنگین دھمکیاں، گستاخانہ خاکے بھیجے گئے

بهمن 11, 1393 0 2016

لندن،فرانسیسی جریدے پر حملے کے ردعمل میں لندن کی مساجد کو دھمکیاں اور گستاخانہ خاکے موصول ہو رہے ہیں۔ برطانیہ

میں اسلاموفیوبک ہیٹ کرائم ریکارڈ کرنے والی تنظیم ’’ٹیل ماما‘‘ کے مطابق ٹاور ہملٹس کی ایسٹ لندن مسجد اور فنسبری پارک مسجد کو خطرناک دھمکیوں پر مبنی ای میلز اور گستاخانہ خاکے موصول ہونے کی رپورٹس ملی ہیں۔ٹیل ماما کے جنرل سیکرٹری محمد کوثر نے سکائی نیوز کو بتایا کہ مسجدوں کو پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ اور قرآن کے بارے میں گستاخانہ خاکے موصول ہو رہے ہیں۔ ہماری کمیونٹی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، ہماری کمیونٹی اور ہماری مسجدیں خوف کا شکار ہوگئی ہیں۔ واضح رہے کہ فنسبری مسجد ماضی میں انتہا پسند مبلغ جمیل بغال کا مرکز تھی، جس نے جیل میں شریف خواشی کی برین واشنگ کی تھی۔ فنسبری مسجد میں M15کے مخبر کے بارے میں لکھی جانے والی کتاب کی مصنفہ ردا حسین کا کہنا ہے کہ بغال کے روابط ابو صخرہ اور ابو قتاویٰ سے تھے۔ ایک آنکھ اور ایک ہاتھ سے محروم ابو حمزہ ماضی میں فنسبری مسجد کا امام تھا، مگر اسے نیوپاک میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت جیل کی سزا ہوئی تھیں۔ فنسبری مسجد کی نئی انتظامیہ کمیونٹی ورک، انتہاپسندی کے سدباب اور بین المذاہب تعلقات میں بہتری پر توجہ دے رہی ہے۔ محمد کوثر نے کہا ہے کہ یہ امر مایوس کن ہے کہ فنسبری مسجد میں اصلاحات کے باوجود اس کا تعلق انتہا پسندی سے جوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ 2005ء کے بعد سے فنسبری مسجد میں تبدیلی آگئی ہے اور کمیونٹی محسوس کرتی ہے کہ دنیا میں کہیں بھی ہونے والے واقعے کو اسی مسجد سے نتھی کرنا غلط ہے۔ مسلم خواتین نے شکایت کی ہے کہ فرانسیسی جریدے پر حملے کے بعد سے وہ بدسلوکی کا نشانہ بنائی جا رہی ہیں، ان سے کہا جاتا ہے ’’میں چارلی ہوں، تم نہیں‘‘۔ 2013ء سے اب تک 50ساجد پر حملے ہو چکے ہیں۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.