×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

رائی کا پہاڑ

November 07, 2014 364

تھوڑے سے پرانے زمانے کی بات ہے، سنا کرتے تھے بغیر تار کا ٹیلی فون آنے والا ہے جس کے ذریعے چلتی گاڑی سے بھی بات کی

جاسکے گی۔ ’’موبائل‘‘ میاں بڑے طمطراق سے تشریف لائے۔ مگر سہولتوں، آسانیوں کے ساتھ لامحدود برائیوں اور مصیبتوں کا طوفان بھی ساتھ آیا۔
پچھلے دنوں میری ملاقات ایک پرانی دوست عظمیٰ سے ہوئی، وہ بڑی باغ و بہار شخصیت کی مالک ہوا کرتی تھی۔ ہر بات میں ہنسنے کا پہلو نکال کر سامنے والے کو ہنسانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ جہاں بیٹھتی محفل کو زعفران زار بنا ڈالتی۔ اس کی شگفتہ مزاجی کی وجہ سے مجھے اس سے مل کر بڑا مزہ آتا تھا۔ پچھلے سال اس نے اپنی بیٹی زارا کی شادی کردی اور وہ بیاہ کر لاہور چلی گئی۔ اس کا میاں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا، اور بڑے اچھے عہدے پر فائز ایک سلجھا ہوا نوجوان ہے۔ یوں اس کی بیٹی اچھی پُرسکون زندگی گزار رہی تھی۔
اس دن عظمیٰ میرے گھر آئی تو کچھ بجھی بجھی سی تھی۔ میں نے کہا: ’’کیا بات ہے، آج تم نے کوئی شگوفہ نہیں چھوڑا!‘‘ یہ سنتے ہی اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے اور وہ غم کی مجسم داستان نظر آنے لگی۔ میں نے گھبرا کر پوچھا: ’’خیر تو ہے، زارا بیٹی تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ تو بڑے درد سے بولی: ’’کیا خاک ٹھیک ہے! میں نے اپنی بچی کی شادی کرکے اس کی ہنستی کھیلتی زندگی کو ٹینشنوں کے حوالے کردیا۔ میری نازوں پلی بچی اب سسرال کے عذاب جھیل رہی ہے۔‘‘
میں نے پوچھا: ’’تمہیں کیسے پتا چلا؟‘‘
اس نے بتانا شروع کیا: ’’میں ہر روز صبح سب سے پہلے اس کے موبائل پر فون کرکے اس سے پوچھتی ہوں میری جان کیا حال ہے؟ اگر وہ چہکتی ہوئی آواز میں کہہ دے ’’ماما ٹھیک ٹھاک‘‘ تو میرا دن سکون سے گزر جاتا ہے، اور جس دن وہ ذرا ڈھیلی ڈھیلی بولے تو بس میرا چین و سکون درہم برہم ہوجاتا ہے۔ میں نے اس سے ہمیشہ دوستوں والا رویہ رکھا ہے، اس لیے وہ اپنا ہر غم مجھ سے شیئر کرتی ہے۔ ایک دن زارا نے بتایا کہ ماما! کل فیصل کی امی نے مجھے کہا: بیٹا آٹا گوندھ کر روٹیاں گھر میں ہی پکانا، تندور کی روٹی نہیں کھائی جاتی…
لو بھلا بتائو، خود تو ساری عمر روٹی تندور سے منگواتی تھی، اب میری بچی مفت کی نوکرانی مل گئی ہے تو گھر کی ہی روٹی کھانا چاہتی ہے۔
ایک دن اس نے بتایا کہ آج میں نے دن میں چار دفعہ برتن دھوئے ہیں۔ میرا دل کٹ گیا… ہائے میں نے اس کے نازک نازک ہاتھوں سے کبھی اتنے برتن نہیں دھلوائے تھے۔
کبھی وہ کہہ دے فیصل بہت اچھے ہیں! میرا بہت خیال رکھتے ہیں! تو میں ہلکی پھلکی ہوجاتی ہوں… اور اگر کبھی اس کے ناروا سلوک کا بتائے تو بس میرا دل تڑپ جاتا ہے۔ پچھلے ہفتہ زارا نے بتایا: آج ساس کی بہن آئی تھیں۔ میں ان سے باتیں کرنے بیٹھ گئی۔ کھانے کو ذرا دیر ہوگئی۔ بس ساس کا منہ پھول گیا اور ان کو دیکھ کر فیصل کا موڈ بھی مجھ سے بگڑ گیا۔ بس جس دن زارا ایسی بات بتا دے تو میں اپنا آپ نہیں سنبھال سکتی۔ رات کو جائے نماز پر بیٹھ کر خوب روتی ہوں، میں اپنے میاں کو کچھ پتا نہیں چلنے دیتی ورنہ میرے ساتھ ساتھ وہ بھی اداس ہوجائیںگے۔‘‘
اس کی باتیں ختم ہوئیں تو میں نے اپنا سر پکڑ لیا… اُف یہ آج کل کی نادان دوست مائیں اور منحوس موبائل… مائیں خود اپنے ہاتھوں سے بیٹیوں کی زندگی میں زہر گھول رہی ہیں۔ بیٹیوں کے پاس الہٰ دین کا چراغ آگیا ہے۔ ذرا بٹن دبایا اور ماں حاضر۔ بیٹیاں پھونک بھی ماریں تو پہلے ماں کو اطلاع دیتی ہیں، اور مائیں ان کے اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے کے سارے معمولات میں دخل اندازی کرکے ان کی زندگی خراب کررہی ہیں۔
پہلے زمانے میں جب یہ مُوا موبائل نہیں ہوتا تھا تب بھی لڑکیوں کو سسرال میں سردو گرم کا سامنا ہوتا تھا۔ مگر مائوں کو تازہ ترین اطلاعات پہنچانے کا کوئی ذریعہ تو تھا نہیں، اس لیے وہ خود ہی سب کچھ برداشت کرکے اچھا برا وقت گزار لیا کرتی تھیں۔ جب تک میکے جانے کا وقت آتا ہر بات پرانی ہوکر اپنی اہمیت گنوا چکی ہوتی اور لڑکیاں ہنستی مسکراتی میکے جاتیں، جنہیں دیکھ کر مائیں بھی بے فکر اور پُرسکون ہوجایا کرتیں۔
پچھلے دنوں ہمارے ایک جاننے والے بہت اونچے گھرانے سے لڑکی بیاہ کر لائے۔ وہ اپنے موبائل سے گھر کی ہر بات ماں کو بتایا کرتی… آج کریلے پکے ہیں، رات کو ساس نے باسی سالن کھلایا، میں نے فلاں کپڑے پہنے ہیں، آج ساس کی بہنیں آئی ہوئی ہیں اب میں ڈنر کرنے کیسے جائوں؟ کل میں اپنی دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں جانے کو نکل رہی تھی کہ سسر کے بھائی اپنی فیملی سمیت ٹپک پڑے۔ پھر میں جا ہی نہ سکی۔
اور پھر لڑکی کی والدہ وقت بے وقت آکر اس کی ساس سے گلے کرتیں… آپ نے فلاں چیز کیوں پکوائی؟ ہماری بچی یہ نہیں کھاتی۔ آپ کے گھر اتنے مہمان کیوں آتے ہیں؟ ہماری بیٹی اتنے شوروغل کی عادی نہیں، آپ میری بیٹی کو صبح اتنی جلدی نہ اٹھایا کریں، وغیرہ وغیرہ۔ ساس کی اس بے جا مداخلت سے تنگ آکر اس کے شوہر نے بیوی سے موبائل لے لیا اور کہا کہ تم آئندہ موبائل پر اپنی ماں سے بات نہیں کرو گی۔ بس پھر کیا تھا، ایک فتنہ فساد کھڑا ہوگیا۔ لڑکی کے گھر والے لڑنے آگئے کہ ہماری بچی کو حبس بے جا میں رکھا جارہا ہے، اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک پہنچ گئی اور شیطان کا چیلا ’’موبائل‘‘ ایک اور گھر تڑوا کر عرش کو ہلانے میں کامیاب ہوگیا۔
بلامبالغہ تقریباً ہر دوسرا گھر اپنی بہوئوں کے موبائل پر سسرال میں ہونے والے حالات و واقعات پر رواں تبصرہ میکے میں سنانے کی وجہ سے تنگ ہے۔ بظاہر یہ ایک بے ضرر سا عمل نظر آتا ہے مگر اپنے اندر بہت خراب انجام لیے ہوئے ہے۔
موبائل جہاں بے راہ روی پھیلانے میں ایک فعال کردار ادا کررہا ہے، وہیں یہ لڑکیوں کی شادی شدہ زندگیوں میں ان کی مائوں کے ہاتھوں بات کے بتنگڑ بنوا کر مشکلات پیدا کررہا ہے۔ میری سب مائوں سے گزارش ہے کہ شادی شدہ بیٹیوں کو اپنی زندگی خود جینے کی عادت ڈلوائیں اور ان کے ہر وقت، ہر لمحے کی خیر خبر لینے سے گریز کریں تاکہ بیٹیوں کا پل پل کی خبریں مائوں تک پہنچانے اور رائی کا پہاڑ بننے کا سلسلہ بند ہوسکے۔n

Login to post comments