×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

آخر میں بھی تو انسان ہوں...

November 12, 2014 365

جلدی جلدی ناشتے سے فارغ ہوکر اس نے چائے کا مگ منہ سے لگاتے ہوئے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ ’’بھئی آج ایم ڈی صاحب کے ساتھ میٹنگ

کی وجہ سے دیر ہوجائے گی، کل ایک دوسری کمپنی کے ساتھ ایگریمنٹ کے سلسلے میں لوگ آرہے ہیں۔‘‘ ارشد کا لہجہ خاصا سپاٹ تھا۔
’’مگر آج تو آپ نے ضروری چیزوں کے لیے بازار چلنے کا کہا تھا۔ آپ کا خرچہ تو بس برائے نام ہی ہوگا۔ میرے پاس اپنی بچت کی ہوئی رقم ہے۔ آپ کو پتا ہے کہ میں اکیلی بازار نہیں جاتی‘‘۔ ربیعہ نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ ’’بھئی میں تم کو اپنی مصروفیت بتا رہا ہوں اور تم بغیر سوچے سمجھے اپنا راگ چھیڑ رہی ہو۔ گھر بیٹھی عورتیں کیا جانیں دنیا کہاں جارہی ہے۔ قدم قدم پر آفس کے فیصلے اثرانداز ہورہے ہوتے ہیں۔ باہر کی دنیا کی الجھنوں کا تم کیا پتا!‘‘ اس نے قدرے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
’’چلیں آپ ناراض نہ ہوں، کل کے بعد دیکھیں گے۔ اس وقت آفس کو دیر ہورہی ہے‘‘۔ ہمیشہ کی طرح ربیعہ نے ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا۔ واقعی یہ وقت الجھنے کا نہیں تھا۔
’’اللہ حافظ!‘‘ ویسے ارشد صاحب اندر کی دنیا بھی تو آپ کی ہی ہے‘‘۔ اس نے شکایت، اپنائیت، ناراضی سارے جذبوں کو اس ایک جملے میں سموتے ہوئے کہا۔
آنکھوں میں تحقیر آمیز انداز کی وجہ سے نمی آگئی تھی۔ گھر بیٹھی عورتیں اتنا ٹھکرائی کیوں جاتی ہیں؟ یہ سوال ایک چبھتا ہوا تیر تھا۔ اس میں بھلا موڈ خراب کرنے کی کیا ضرورت تھی! شاید مجھ کو جاتے وقت یاددہانی نہیں کرانی چاہیے تھی، کل کی مصروفیت کے بعد ہی کہہ دیتی… وہ گھر بیٹھی ایک ایسی عورت تھی جو شوہر کے پیچھے پیچھے چلتی ہیں اطمینان کے ساتھ۔ خواہشیں ان کی بھی ہوتی ہیں مگر وہ ضرورتیں تک مارنا جانتی ہیں اور اسی کو اپنی کامیابی سمجھتی ہیں۔ احمق اور اللہ میاں کی گائے سمجھا جانے والا یہ طبقہ خواتین میں کم کم ہی ہے، مگر اب بھی موجود ہے اور ہر ایک کے لیے Most Wanted (بے حد مطلوب) بھی۔ نہ جانے کیوں؟شاید!
رحمت سے ہیں لوگ گریزاں رحمت ہی درکار بھی ہے۔مگر آج ربیعہ کا دل تھوڑا سا باغی ہو رہا تھا جسے سرکش ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ بس نم آنکھوں میں کبھی ایک شکوہ ابھرتا تھا۔ آخر میں بھی تو انسان ہوں۔ ’دنیا کہاں سے کہاں جارہی ہے‘ کا جواز آخر یہاں کیوں نہیں چلتا! کھونٹے کی گیّا اور چار دیواری میں رہنے والی خاتون میں فرق سمجھنا اب ضروری ہوتا جارہا ہے۔
دونوں بچوں کو ڈیڑھ بجے تک اسکول سے آنا ہے، تب تک اس کو سارے کام سمیٹنے تھے۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھری اور کام کو ترتیب دینے لگی۔
آفس میں داخل ہوتے ہوئے ارشد گھر کے مسائل اور بیوی بچوں کی ضرورتوں سے کچھ دیر کے لیے ہلکا ہوجاتا۔ باہر کی لپکتی گلیمرس اور اشتہاری دنیا کا ماحول اس کو یکدم تھوڑی ہی دیر کے لیے تروتازہ کردیتا تھا۔ کائونٹر پر بیٹھی استقبالیہ خاتون فروا کے چہرے کی کشش بہت سارے لوگوں کے آف موڈ آن کردیتی تھی۔ ہم آپ کتنی ہی دلیلیں دیں، کمپنی کے کامیابی سے چلتے رہنے میں استقبالیہ خاتون کی ڈریسنگ، میک اپ، ہیئر اسٹائل اور دلکش مسکراہٹ کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔ آخر فرسٹ ایمپریشن از دی لاسٹ ایمپریشن۔ سو کمپنی کا سارا ایمپریشن انہی کے نازک کندھوں پر رکھا نظر آتا ہے۔ اور فروا ان آداب کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔ ’’شریف گھرانے کی لڑکی ہے، مجبوری میں گھر سے نکلی ہے، عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے‘‘ کہنے والے مرد بھی عورت کی کاروباری دلکشی کو ہی طلب کرتے ہیں… یہ ہے باہر کی دنیا۔
عورت کا حسین چہرہ، اسٹائل، میک اپ، ایک مصنوعی مسکراہٹ سب ایک Fantacy، واہمہ ہے۔ ایک سراب! ایک دھوکا! مگر لوگ اس میں حقیقت کی تلخیاںبھلانا چاہتے ہیں۔ سچ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے بھاگنے کو تازہ دم اور فریش ہونا سمجھتے ہیں۔ اور شو پیس بننے والی یہ عورت جیسے خود کو منوا رہی ہوتی ہے۔ سامنے والے مرد کو جیسے کوئی جھوٹی خدائی ملنے لگتی ہے۔ ہاں یہ دو طرفہ غلط فہمیاں سراب ہیں، بالکل دھوکا… اس دھوکے پر نظر اور نظارے کے کھیل جاری ہیں۔
’’اوہ ونڈر فل مس فروا! آج ڈریسنگ اور ہیئر اسٹائل دونوں بہت کیوٹ ہیں، بہت اسمارٹ لگ رہی ہیں‘‘۔ ارشد دل کھول کر فروا کی تعریف کر رہا تھا، اور فروا جیسے خود کو مانے جانے پر شکریے کے طور پر مسکرائے جارہی تھی۔ یہی تو اس کی ڈیوٹی تھی۔ سب اسٹاف فروا سے خوش اخلاقی سے مل رہا تھا۔ ہائے رے باہر کی بے بصیرت دنیا۔ ہاں البتہ اس سے سینئر کولیگ شارق ہمیشہ کی طرح ان باتوں سے بے نیاز ہیلو ہائے کرتا اپنے روم کی طرف بڑھ رہا تھا۔ نہیں! وہ کوئی روکھا نہیں تھا، مصنوعی مسکراہٹ کا جواب اسی انداز سے دیتا تھا، اور ارشد بھی اس کو کم آمیزی کے باوجود اپنا خیر خواہ ہی سمجھتا تھا۔ مگر شارق کی کشش اپنے سے جونیئر اسٹاف میں تھی یعنی ماسیاں، نائب قاصد، حتیٰ کہ خاکروب۔ ارشد کا خیال تھا کہ دس سال سے بے اولاد اس شخص کے پاس مہنگائی اور گھریلو مسائل نہیں، بیوی بھی ہائی کوالیفائیڈ، بہت اچھی جاب پر ہے۔ ایک اچھی گاڑی Maintain کررہا ہے اس لیے نچلے طبقے کو خرچہ پانی دے سکتا ہے۔
کم بولتا ہے، گمان گزرتا ہے مغرور ہے۔ لیکن کام کے سلسلے میں اس کا رویہ ارشد اور دیگر اسٹاف کے ساتھ ہمیشہ تعاون اور خیرخواہی کا ہوتا۔ اس وقت تو کل کی مصروفیت کے حوالے سے سب اپنی جگہ متحرک تھے۔
ایم ڈی صاحب کی سیکریٹری مس کنول نیم برہنہ بازوئوں، دلکش چہرے اور میک اپ میں فروا سے کہیں آگے تھی۔ کاروباری دنیا میں پُراعتماد اور بولڈ کہی جانے والی ایسی عورت عام دنیا میں بے باکانہ حد تک بے حجاب سمجھی جاتی ہے اور گلی کا کلچر اس کو ناقابلِ اشاعت گالیوں سے بھی نوازنا اپنا حق سمجھتا ہے۔
مار ڈالتا ہے یہ دُہرا معیار بھی! یہ ڈریسنگ، یہ فٹنس وغیرہ کا سارا جتن کمپنی کی ساکھ ہے، ارشد وقتی طور پر اس دلکشی سے مرعوب ہوتے ہوئے فریش ہوجاتا، جب کہ شارق کسی کو خاطر میں ہی نہ لاتا تھا۔ آج سب باس کے کمرے میں جمع تھے۔ کومل مسکرا کر ہر ایک کو ویلکم کررہی تھی۔
’’ہیلو شارق کیا حال ہیں، سارہ کیسی ہیں؟‘‘ وہ شارق سے مخاطب تھی۔
’’نائس میڈم، ہم دونوں ہی ٹھیک ہیں۔ سارہ نے جاب چھوڑ دی ہے‘‘۔
وہ بڑے سکون سے بتارہا تھا۔
’’اوہ، مگر کیوں؟ تم اتنے کنزرویٹو تو نہیں ہو۔ نہ ہی وہ اتنی احمق کہ اتنی اچھی جاب چھوڑ دے‘‘۔ اس نے حیرانی سے کہا۔
’’بس ہم دونوں کو اس کی ضرورت نہیں۔ اب ایک دوسرے کو اور اپنے گھر کو ٹائم دے سکیں گے‘‘۔ یہ کہہ کر وہ فائل پر نظریں دوڑانے لگا۔
کل ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے وفد آرہا تھا۔ پروجیکٹ کے سلسلے میں کمپنی کو ایک گرانٹ ملنی تھی۔ اس میں سے آفس کو منافع ملنے کا امکان تھا۔
’’دیکھو سب کلیئر ہونا چاہیے۔ سارا ریکارڈ سامنے رکھنا ہے۔ پھر پروجیکٹ پر بات ہوگی۔ کوئی چیز مس نہ ہو‘‘۔ شیراز صاحب اسٹاف سے مخاطب تھے۔ یہ کمپنی کی بقا اور ساکھ کا معاملہ تھا، اور کچھ لوگوں کی ترقی بھی ممکن تھی۔ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ اور کمپنی کی ساکھ میں خواتین کولیگ کا گیٹ اپ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا سب کو پتا تھا۔ مگر عورت کی ساکھ؟ اس کا خیال اندر کی دنیا سے باہر کی دنیا تک کسی کو نہ آیا۔
کیا عورت کوئی پیرا سائیٹ ہے (طفیلی کیڑا)؟
کوئی ضمیمہ ہے؟ کوئی آبجیکٹ ہے؟
روشن خیال ذہن سے بھری جدید دنیا کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں۔ فائنل میٹنگ ہوئی۔ آفس کی صفائی ستھرائی، فریش پھولوں سے سجاوٹ، ریکارڈ، کوئیک سروس، ریفریشمنٹ، سارا اہتمام ہر پہلو سے زیربحث آچکا تھا۔ آج واقعی خاصی دیر ہوگئی تھی۔ تھکن بھی روز سے زیادہ تھی۔ اس کو اتنی تھکن کے وقت ہمیشہ گھر یاد آتا۔ بیوی بچے یاد آنے لگتے۔ میں نے گھر سے نکلتے وقت خواہ مخواہ بے چاری کو ڈانٹ دیا۔ آخر وہ کس سے اپنے کام کرائے! چلو آج اس کو منالوں گا اور بچوں کے لیے آئسکریم بھی لیتا جائوں گا۔ وہ کچھ تلافی کی سوچ رہا تھا۔
ادھر مس کومل نے کئی افراد کو اسنیک بار چلنے کی آفر کردی تھی۔ بڑے گریڈ کی دلکش عورت، باہر کی دنیا کی ایک عورت… اس کی پیشکش بھلا کون ٹھکرائے! مگر شارق نے صاف انکار کردیا کہ اسے سارہ کے ساتھ ڈنر پر جانا ہے، اور اپنے سیل فون پر اسے تیار رہنے کا کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ ارشد بھی معذرت کرکے آگے بڑھ گیا۔ جب سارے دن کی تھکن سے دماغ اور جسم شل ہونے لگیں تو پرسنل سیکریٹری، آفس کولیگ، پسندیدہ ہیروئن، ساری راج کماریاں اور رانیاں یک دم بے جان لگتی ہیں۔
کاغذ پہ چھپے پوسٹر کی طرح۔ اپنائیت کی طلب ہوتی ہے۔ آخر تصنع اور بناوٹ انسان کو کتنی دیر تروتازہ رکھ سکتی ہیں؟

Login to post comments