×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

محو پر واز مسلم خواتین

ارديبهشت 12, 1393 722

قدیم زمانے سے ہی انسان میں پرواز کرنے کا جذبہ موجزن رہا ہے۔علم و سائنس میں ترقی و پیشرفت اور انواع و اقسام کے چھوٹے

بڑے ہوائی جہازوں کے بننے سے انسان کے پرواز کرنے کا خواب کسی حد تک شرمندہ تعبیر ہوا۔ ماضی میں پائلٹ صرف مرد حضرات بنتے تھے لیکن آہستہ آہستہ خواتین نے بھی اس میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔مسلمہ معاشرتی اقدار پر ضرب لگاتے ہوئے ایک اور مسلم خاتون نے پائلٹ بننے کا’شوق‘ پورا کیا ہے۔
 یوں تو ہندوستان میںبنگلور کی سارہ حمیدگذشتہ برس اولین مسلم خاتون پائلٹ کے طور پر اپنی موجودگی کا احساس دلاچکی ہیںجبکہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو جہاز اڑانے کا لائسنس دیا گیا۔نہ جانے 35 سالہ خاتون حنادی الہندی کو کیا مجبوری پیش آئی ہے کہ اس نے شہزادہ الولید بن طلال کی سیاحتی کمپنی کیلئے بطورہواباز کام شروع کر دیا ہے جہاں وہ چھوٹے اور ’وائڈ باڈیڈ‘ لگڑری جہاز اڑ رہی ہیں۔ہندی پہلے ہی سے تربیت یافتہ پائلٹ تھیں لیکن ابھی تک انھیں سعودی عرب میں جہاز اڑانے کا موقع نہیں ملا تھا۔ تاہم اب شہزادہ الولید کی سفارش پر انھیں حکام کی طرف سے ملک کے اندر جہاز اڑانے کی اجازت کا سرٹیفیکیٹ نصیب ہو گیا ہے۔اسے عورتوں کی نام نہادآزادی پر مشتمل ذہنیت کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے کہ ہندی نے اپنے تاثرات میںکہا ہے کہ کسی پائلٹ کیلئے یہ انتہائی مشکل صورتحال ہے کہ وہ اپنے ہی ملک میں جہاز نہ اڑا سکے۔اخبار سعودی گزٹ کو جاری بیان میں ہندی نے اپنی اس بے لگامی کا ٹھیکرا اپنے باپ پر پھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے والد کی خواہش تھی کہ ان کے بچوں میں سے کوئی پائلٹ بنے۔ہندی کے بقول جب انھوں نے 2001کے دوران مڈل ایسٹ اکیڈمی آف ایوی ایشن میں درخواست دی تو کمپنی کا مینیجر اس قدر حیران ہوا کہ اس نے ان کے والد سے پوچھا کہ کیا وہ واقعی اس بات کے حق میں ہیں کہ ان کی بیٹی ایک ایسا پیشہ اختیار کرے جو روایتی طور پر محض مردوں کیلئے مخصوص ہے۔سعودی عرب میں اسلامی قوانین کے باوجود ہلری کلنٹن جیسی ذہنیت کی بدولت ہندی نے ایک ایسے ملک میں جہاز اڑانے کا لائسنس حاصل کر لیا جہاں عورتوں کو گاڑی چلانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔سعودی خواتین ایک عرصہ سے’مغربی لابی‘ کی بدولت گاڑی چلانے کی’ آزادی‘ حاصل کرنے کیلئے’ کوششیں‘ کر رہی ہیں لیکن گذشتہ سال اکتوبر میں حکومت کے ایک ترجمان نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
 افغانستان میں اتحادی فوجی کارنامہ:
اسی طرح افغان ائیر فورس سیکینڈ لیفٹیننٹ نیلوفر رحمانی وہ پہلی خاتون ہیں جنھوں نے گذشتہ برس 14 مئی کو پائلٹ تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کر کے اور پائلٹ کا عہدہ حاصل کر کے’ نئی تاریخ رقم کی‘۔ 21سالہ رحمانی کابل کی مقامی، یوپی ٹی کلاس 12‘03 گریجویٹ میں سے ایک تھیں جو اپنی تربیت کے اگلے مرحلے میں جائیں گی جو کہ سیسنا 208 ائیر کرافٹ کی ہے۔’دکھاوے کی شوقین ‘اس خاتون کا کہنا ہے کہ’مجھے اس کو مکمل کرنے پر بہت فخر ہے۔ میں ایسا کرنے والی پہلی خاتون ہونے پر بھی فخر کرتی ہوں۔ مجھے اس کیلئے بہت سخت محنت کرنی پڑی لیکن میں اپنے ملک کی خواتین کو یہ دکھانا چاہتی تھی کہ ہم یہ کر سکتی ہیں۔‘انھوں نے وضاحت کی کہ افغانستان میں خاتون کی حیثت سے پلنے بڑھنے اور ایک پائلٹ ہونے کے خواب کیساتھ بہت سے مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن ان قربانیوں کا صلہ بہت اچھا تھاجبکہ کسی بھی چیز میں پہل کرنے والا ہونا مشکل کام ہوتا ہے۔ میں اپنے بھائیوں کیساتھ مل کر خدمت کرنے کے قابل ہونا چاہتی ہوں، شانہ بہ شانہ‘سعودی عرب کی پائلٹ کی طرح ہے۔ انھوں نے بھی اس کاسہرااپنے والد کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ جہاں تک انھیں یاد ہے انھیں آسمان سے محبت تھی اور وہ جانتی تھیں کہ پائلٹ بننا ہی وہ چیز تھی جو وہ چاہتی تھیں‘میرے والد ہمیشہ سے ایک پائلٹ بننا چاہتے تھے‘- یہ ان کا خواب تھا۔ لیکن 40 سال کی عمر میں وہ ایسا نہیں کر سکے۔ میں ان کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتی تھی لہذا پائلٹ بن گئی۔ ان کے والداس مقام تک پہنچانے کیلئے’محرک‘ تھے جبکہ پورے خاندان نے بھی شروع سے ہی ان کی حوصلہ افزائی کی۔رحمانی معترف ہیں کہ’انھوں نے ہمیشہ مجھ پر یقین رکھا اور میری حوصلہ افزائی کی۔ میں اپنے خاندان اور اساتذہ کی مدد کے بغیر ایسا نہ کر سکتی تھی۔‘جبکہ یوپی ٹی میں داخلہ کے اہل ہونے کیلئے، طالب علموں کو انگریزی کی بحیثیت ثانوی زبان کا کورس لازمی مکمل کرنا ہوتا ہے، جو 6 ماہ سے لے کر ڈیڑھ سال کے عرصہ پر مشتمل ہو سکتا ہے جس کا انحصار طالب علم پر ہوتا ہے۔داخلہ ملنے کے بعد، زیر تربیت پائلٹ ایک تین مراحل پر مشتمل پروگرام سے گزرتے ہیں جس میں تقریباً سال بھر لگ جاتا ہے اور اسے افغانستان کیخلاف جارحیت میں مشغول اتحادی فوجوں کے زیر استعمال یوپی ٹی کے ماڈ ل پر بنایا گیا ہے۔جنرل محمد کریمی، افغان قومی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف کے بقول’افغان ایئر فورس اور افغانستان کیلئے ایک اچھا دن ہے۔ نہ صرف ہم آج پائلٹوں کو گریجویٹ کرتے ہیں، لیکن بہتر افسران قیادت کرنے کیلئے بھی۔ یہ بہت ضروری ہے۔ یہ سامان کی طرح نہیں ہے۔ ہم وہ خرید سکتے ہیں جو لوگوں کو نہیں خرید سکتے۔ انھیں فیصلہ ساز بنانے کی تربیت میں بہت وقت اور پیسہ لگتا ہے۔ مجھے آپ سب پر فخر ہے اور آج ان کو یہاں پہنچنے میں تعاون دینے وا لوں کا شکریہ۔رحمانی اور اس کے’ نئے بھائی‘ اپنی کامیابی پر یقین کرنے اور جشن منانے میں وقت لے رہے ہیں، وہ جانتی ہیں کہ یہ ایک طویل اور مشکل سفر کا صرف آغاز ہے۔انھوں نے کہا کہ’یہ دشوار ہو گا، لیکن میں خوفزدہ نہیں ہوں۔ایک ایسے شخص کیلئے جس نے پابندیوں کو توڑا ہو اور نئی مثال قائم کر رہی ہو، آسمان کے علاوہ کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ ہونا چاہے گی، وہ کام انجام دیتے ہوئے جس سے وہ محبت کرتی ہے۔وہاں اوپر بہت سکون ہے۔میرا مقصد اپنے ملک کا ’روشن مستقبل ‘ہے اور عورتوں کے حق کیلئے کھڑا ہونا۔ میں نے انھیں پابندیوں کے دروازوں کو توڑنے میں مدد دی۔‘اگرچہ ایک افغان عورت کیلئے زندگی بھر کا خواب سچ ہو گیا ہے، ان کا مقصد اپنے بعد آنے والوں کی مدد کرنا اور ان کی اس پیغام کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ جو کچھ وہ کر سکتی ہیں اس کی آسمان حد ہے۔
 پہلی خاتون لڑاکا پائلٹ:
افغانستان سے متصل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والی عائشہ فاروق پاک فضائیہ کی پہلی لڑاکا پائلٹ ہیں۔ 26 سالہ عائشہ فاروق ان 19 خواتین میں سے ہیں جو گزشتہ10سال میں پاک فضائیہ میں بطور پائلٹ بھرتی ہوئیں۔ تاہم عائشہ پہلی خاتون پائلٹ ہیں جنہوں نے لڑاکا پائلٹ بننے کیلئے آخری ٹیسٹ بھی پاس کر لیا ہے۔ عائشہ فاروق پنجاب کے شہر سرگودھا کے مصحاف ایئر بیس میں تعینات ہیں۔ پاک فضائیہ میں 10سال قبل لگ بھگ ایک سو خواتین تھیں لیکن اب ان کی تعداد 316 ہو گئی ہے۔
 ایران کی پہلی پائلٹ خاتون
 ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ہوابازی سمیت مختلف شعبوں میں خواتین نے حصہ لینا شروع کر دیا۔ شہلا دہ بزرگی ایران کی پہلی پائلٹ خاتون ہیں۔ انہوں نے ہوابازی کا لائسنس حاصل کیا جبکہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد باپردہ خواتین کیلئے مخصوص کاموں کے حالات سازگار ہونے پر باقاعدہ طور پر ہوابازی اور پرواز کا آغاز کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پرواز عشق کا تقاضہ کرتی ہے اور صرف پرواز سے عشق اور دلچسپی ہی راستہ کو ہموار کرتی ہے۔ شہلا دہ بزرگی1957 میں شیراز میں پیدا ہوئیں اور کچھ عرصہ کے بعد اپنے گھرانے کیساتھ تہران آ گئیں اور اس شہر میں اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ انہیں بچپن سے ہی ہوائی جہازوں اور پرواز کا شوق تھا۔ وہ اس بارے میں کہتی ہیں کہ انیس سو چوہتر میں جب میں تعلیم حاصل کر رہی تھی تو مجھے فائنگ کلب کے بارے میں پتہ چلا میں نے اس کلب میں داخلہ لیا اور ہوابازی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔ وہاں پہلے میں نے تھیوری کی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد پرواز سے وسائل سے آشنا ہوئی۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد میں نے پہلی ایرانی خاتون پائلٹ کی حیثیت سے کامیاب پرواز انجام دی اور ہوابازی کا لائسنس حاصل کیا۔شہلا دہ بزرگی نے ایران پر صدام کی فوج کے حملہ کے زمانہ میں اپنے دیگر ہم وطنوں کی طرح ملک کا دفاع کیا اور جاسوسی کی بہت سے پروازوں میں حصہ لیا۔ وہ اس بارے میں کہتی ہیں مجھے یہ فخر ہے کہ8 سالہ’ دفاع مقدس‘ 88-1980کے دوران میں نے ایران کے دوسرے پائلٹوں کیساتھ مل کر اپنے وطن کے دفاع میں حصہ لیا۔ محترمہ شہلا دہ بزرگی ایران کیخلاف صدام کی مسلط کردہ جنگ دوران اپنی پروازوں کو یادگار پروازیں قرار دیتی ہیں کہ جس کے دوران انہوں نے اپنی زندگی اور جان کو خطرے میں ڈالا۔ وہ اس بارے میں کہتی ہیں کہ مجھے یہ کہنا چاہیے کہ میری نظر میں ہر پرواز اپنی جگہ یادگار ہوتی ہے خاص طور پر وہ پروازیں جو جنگ کے زمانے میں وطن کے دفاع کیلئے انجام دی گئیں۔شہلا دہ بزرگی اس وقت چھوٹے اور بڑے ہوائی جہاز اڑانے کیساتھ فیلکن جیٹ ہوائی جہاز کی بھی پائلٹ ہیں۔ وہ ہواباز کیساتھ دیگر کاموں میں بھی مصروف ہیں۔ وہ اس بارے میں کہتی ہیں میں مہینے میں بیس گھنٹوں سے زائد ہوائی جہاز اڑانے کیساتھ دیگر دفتری پوسٹوں پر بھی کام کر رہی ہوں۔ یہ باہمت ایرانی خاتون ایک ماہر ہواباز ہیں کہ جو ملک کیلئے اچھے ہوابازوں کی تربیت کا کام انجام دے رہی ہیں۔ وہ اپنی ان کامیابیوں میں سب سے پہلے خدا کی توفیق اور لطف و کرم کو اہم قرار دیتی ہیں اور اس کے بعد اس شعبے میں اپنی دلچسپی کو اپنی کامیابی کی وجہ قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر آدمی اپنی جوانی میں ایسی چیزوں کے بارے میں سوچتا ہے کہ جو اس کے مستقبل کو بناتی ہیں میں نے بھی اپنی ذاتی دلچسپی کی بنا پر اس زمانے کے امکانات کے تحت یہ شعبہ اختیار کیا اور اپنے مقصد کو پا لیا۔کہا جاتا ہے کہ شہلا دہ بزرگی گھرانے کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ وہ اپنی شادی کے بارے میں کہتی ہیں کہ میرے شوہر میرے ساتھ کام کرتے تھے دفتر میں ہماری روزانہ ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی تھی آخرکار میرے شوہر اپنے گھر والوں کیساتھ میرا رشتہ مانگنے ہمارے گھر آئے اور پھر گھر والوں کی رضامندی سے ہماری شادی ہو گئی۔ میرے دو بیٹے ہیں اور دونوں ہی آرکیٹیکٹ بن رہے ہیں۔چونکہ محترمہ شہلا دہ بزرگی اور ان کے شوہر دونوں ہی پائلٹ ہیں تو ان کے بیٹوں خاص طور پر بڑے بیٹے کو ہوابازی سے بہت زیادہ دلچسپی ہے۔ وہ اس بارے میں کہتی ہیں کہ میرا بڑا بیٹا بچپن سے ہی کمرے کے درودیوار پر مختلف قسم کے ہوائی جہازوں کی تصویریں لگاتا تھا اسے بھی اپنے والدین کی طرح ہوابازی میں بہت زیادہ دلچسپی ہے۔بزرگی اس ہوائی سفر کو اپنی زندگی کا یادگار واقعہ قرار دیتی ہیں کہ جس میں ان کے شوہر جہاز پائلٹ تھے وہ اس بارے میں کہتی ہیں کہ شادی کے بعد ہم نے جو سفر پائلٹ کے طور پر اکٹھے کیا وہ میری زندگی کا ایک یادگار سفر تھا۔ اس سفر کے علاوہ کچھ اور سفر بھی تھے کہ جن میں میرے شوہر جہاز کے پائلٹ تھے اور میں اور میرے بیٹے مسافر کے طور پر اس جہاز میں موجود تھے۔ یہ سفر میرے بیٹوں کیلئے بھی یادگار تھا کیونکہ وہ ایسے جہاز پر سوار تھے کہ جس کے پائلٹ ان کے والد تھے۔
کون ہیںنتاشا ؟
 نتاشا پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ ہیں جنھوں نے مشرق وسطیٰ میں خدمات انجام دیں ، ان کاتعلق ضلع غذر سے ہے۔ نتاشا نے ارددن میں عائلہ ایسوسی ایشن اکیڈمی میںانسٹرکٹر رہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں پائلٹ بننے کابچپن سے شوق تھا ، اس میں یہ شوق اس وقت پیدا ہوگیا جب و ہ بچپن میں اپنے والد کیساتھ کراچی اور گلگت کے درمیان فضائی سفر کیا کرتی تھیں۔ ان کے والد سلطان اللہ بیگ کا تعلق مرچنٹ نیوی سے تھا۔ سلطان اللہ بیگ کے بقول’ پائلٹ بننا بڑی بیٹی کاشوق تھا ، اس کیلئے اس نے محنت کی اورہم نے قربانیاں دیں ،ہم اس بات پرخوش ہیں کہ ہماری بیٹی کاشوق پورا ہوگیااو وہ پائلٹ بنیں۔نتاشاکے بقول انہوںنے 2004کے دوران ایف اے سی کا امتحان پاس کرنے کے بعد لاہور فلاینگ کلب میں داخلہ لیا او ردوسال تک کمرشل پائلٹ کی تربیت حاصل کی اس کے بعد انہوںنے پشاور میں فلائٹ انسٹرکٹر ٹریننگ ا سکول میں6 ماہ تربیت حاصل کی اور کمرشل پائلٹ کاباقاعدہ لائسنس حاصل کرلیا۔اس کے بعد انہیں اردن سے عائلہ ایوسی ایشن اکیڈمی کی طرف سے بطور انسٹرکٹر خدمات انجام دینے کی پیش کش کی گئی۔ انہوںنے یہ پیش کش قبول کرلی اور اب وہاں گلف ائیر کے پائلٹوں کوتربیت دے دی ہیں۔ نتاشا ابھی نوعمر پائلٹ ہیں اس کے باوجود وہ ا یک ہزار گھنٹے تک فلائٹ کرچکی ہیں۔
کہاں سے چلا سلسلہ؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ چلا کہاں سے؟ترکی کی پہلی خاتون ہوا باز صبیحہ گوکچن تھیں۔ وہ دنیا کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں جنہوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا۔ وہ ترکی کے پہلے آزاد خیال صدر مصطفٰی کمال اتاترک کے گود لئے گئے آٹھ بچوں میں سے ایک تھیں۔کہا جاتا ہے کہ مصطفٰی عزت بے اور خیریہ خانم کی بیٹی تھیںجبکہ ڈاکٹر ہانس لوکاس کیسر کا کہنا ہے کہ وہ آرمینیائی نڑاد تھیں۔ 1925میں جب اتاترک نے بروصہ کا دورہ کیا تو وہ محض 12 سال کی تھیں اور انہوں نے اتاترک سے گفتگو کرنے کی اجازت چاہی اور ایک بورڈنگ اسکول میں پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کے والدین کے پسماندہ معاشی حالات اور خواہش کے مدنظر اتاترک نے انہیں گود لینے کا فیصلہ کیا اور صبیحہ کے بھائی کی اجازت سے انہیں اپنے ساتھ انقرہ لے آئے۔ انقرہ میں وہ صدارتی رہائش گاہ میں اتاترک کی دیگر چار گود لی گئی بیٹیوں زہرہ، عفت اور رقیہ کیساتھ رہائش پذیر ہوئیں۔ انہوں نے پہلے چنکایا پرائمری اسکول، انقرہ میں اور بعد ازاں اسکودار کیز لسیسی‘اسکودار گرلز اسکول‘ استنبول میں داخلہ لیا۔21 جون 1934کو خاندانی نام اختیار کرنے کے قانون کے بعد اتاترک نے اسی سال 19 جون کو صبیحہ کو گوکچن کا خاندانی نام دیا۔ ترک زبان میں گوک کا مطلب’آسمان‘ ہوتا ہے اس لئے گوکچن کا مطلب ہواآسمان سے نسبت۔ انہوں نے یہ نام اختیار کرنے کے6 ماہ بعد ہوا بازی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔مصطفٰی کمال اتاترک ہوا بازی کو بہت اہمیت دیتے تھے اور اس مقصد کیلئے انہوں نے 1925میں ترکش ایروناٹیکل ایسوسی ایشن قائم کی۔ 5 مئی 1935کو ترکشو یعنی طائر ترکی فلائٹ اسکول کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وہ صبیحہ کو اپنے ہمراہ لے گئے۔ اس موقع پر کئی ممالک کے گلائیڈرز اور چھاتہ برداروں کو مدعو کیا گیا تھا جس میں صبیحہ نے انتہائی دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور اتاترک کے سامنے اپنی اڑان کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسکول کے سربراہ فواد بولجا کو صبیحہ کو پہلی خاتون تربیتی کارکن کی حیثیت سے بھرتی کرنے کی ہدایت کی۔ صبیحہ ہوا بازی کی تعلیم مکمل کی اور بعد ازاں سات مرد ہوا بازوں کیساتھ روس روانہ ہوئیں اور وہاں تربیتی مکمل کی۔ماسکو میں قیام کے دوران انہیں زہرہ کے انتقال کی خبر ملی جس نے انہیں ذہنی طور پر بہت زیادہ متاثر کیا اور وہ ترکی واپس آ گئیں اور معاشرتی سرگرمیوں سے بالکل کٹ گئیں۔1936کے آغاز میں اتاترک نے انہیں فضائیہ میں شمولیت کی ہدایت کی تاکہ وہ ترکی کی پہلی خاتون پائلٹ بن جائیں۔ انہوں نے اسکی شہر کے ہوائی اڈہ کی پہلی ایئر کرافٹ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی اور ہوائی جہاز اڑانے میں مہارت حاصل کرتی گئیں۔ 1937میں ایجین اور تھریس کی مشقوں میں حصہ لے کر اپنے تجربہ میں اضافہ کیا۔ اسی سال انہوں نے درسم فسادات کیخلاف ہونے والے فوجی آپریشن میں حصہ لیا اور اس طرح دنیا کی پہلی خاتون پائلٹ بن گئیں جنہوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا۔1938انہوں نے بلقان کے ممالک پر 5 روز تک پرواز کی اور اس ’کارنامہ‘ پر دنیا بھر میں سراہی گئیں۔ بعد ازاں انہیں ترکشو فلائٹ اسکول میں اعلیٰ تربیت کار کے طور پر تعینات کیا گیا جہاں انہوں نے 1955تک خدمات انجام دیں اور اس دوران ترک ہوابازی کے ادارے کی ایگزیکٹو بورڈ کی رکن رہیں۔ صبیحہ گوکچن 1964تک 28 سال دنیا بھر میں محوِ پرواز رہیں۔ ان کی کتاب’اتاترک کی راہوں پر زندگی‘ 1981 کے دوران اتاترک کی 100 ویں سالگرہ پر شائع ہوئی۔ترک فضائیہ میں اپنے دور میں انہوں نے 22 مختلف اقسام کے جہازوں میں 8 ہزار سے زائد گھنٹے پرواز کی جس میں 32 گھنٹے جنگوں میں صرف کئے۔وہ 1996 میں امریکی فضائیہ کے شائع کردہ پوسٹر تاریخ کے 20 عظیم ترین ہوا باز میں واحد خاتون تھیں۔ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں واقع دوسرا بڑا ہوائی اڈہ ان کے نام پر ’صبیحہ گوکچن بین الاقوامی ہوائی اڈہ‘ کہلاتا ہے۔
ایس اے ساگر

Last modified on پنج شنبه, 25 ارديبهشت 1393 18:45
Login to post comments