×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کیوں اتنا ارزاں ہے خونِ مسلم؟

ارديبهشت 18, 1393 748

آسام میں مسلمانوںکی آبادی ایک تہائی آبادی پرمشتمل ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی ہندوسیاست دانوں اورمذہبی انتہاپسندوں نے

یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم پر مبنی سیاست جاری رکھی اور بوڈو قبائل کو مسلمانوں کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ جس کے نتیجے میں بوڈوقبائل مسلمانوں کو وقتا فوقتا تشددکا نشانہ بناتے اوران کا قتل عام کرتے رہے۔ ہندوانتہا پسندوں کی یہ سازش آج بھی جاری و ساری ہے۔ آسام میں مسلمان چائے کی پتی کی تجارت کیا کرتے تھے حکومت نے یا تو انہیں قتل کرادیا، یا پھر منظم طریقوں سے ان کے کاروبار تباہ کردئیے گئے۔ آسام کے مسلمانوں کوتحصیل علم میں بھی پس ماندہ بنانے کے لئے عجیب وغریب حربے استعمال کئے گئے۔ ان میں شدیدطور پر احساس کمتری پیدا کیا گیا۔ ترقی توبہت دورکی بات ہے گذشتہ ہفتے انتہا پسندوں کی جانب سے مسلسل کارروائیوں اور قتل عام کی وجہ سے اب ان کے آگے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ اپنا وجود کس طرح بچائیں۔
آسام کے بارے میں عمومی تاثر یہ رہا ہے کہ یہ ایک پرامن ملک ہے لیکن وہاں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے آسام ایک ظالم ملک کے طور پر ابھرا ہے جو اس ملک کی حکومت کے لیے اچھا تاثر نہیں ہے۔ مسلم ممالک کوآسام کی حکومت سے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم رکوانے کے لیے سفارتی سطح پر بات کرنی چاہیے تاکہ ہونے والے مظالم دیگر مسلم ممالک کے عوام میں اشتعال کا باعث نہ بنیں۔ابھی تک تو 2012 کے فسادات کے بعد علاقے میں رہنے والے مسلمانوں کے زخم مندمل نہیں ہوئے تھے کہ ایک بار پھر مسلمانوں کا لہو پانی کی طرح بہا دیا گیا۔ اور اس قسم کے دلخراش واقعات سے ہر روز انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ ایک اقلیت ہیں۔ لیکن ان تمام مسائل و مشکلات کے باوجود مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا ملک ہے اور ہمارا جینا مرنا یہیں پر ہے۔ اور اس ملک کی ترقی و پیشرفت کیلئے قدم بڑھاتے رہیں گے۔ لیکن اب یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث انتہا پسند باغیوں کو لگام دے اور مجرموں کو ان کے کئے کی سزا دے اوراس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے انتظامات کرے۔اخبارات روزانہ مظلوم مسلمانوں کی خون میں ڈوبی لاشوں کی تصویریں شائع کررہے ہیں، لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں تباہ حال مسلمانوں کی خبر لینے کی فکر کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ کوئی مسلم حکمران تو ملی غیرت کا مظاہرہ کرے!

 

از:آصف جلیل احمد،مالیگاؤں،ناسک(مہاراشٹر)

 

Last modified on دوشنبه, 29 ارديبهشت 1393 07:18
Login to post comments