×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

سارک ممالک کودعوت امریکہ کو مودی کاچیلنج تونہیں؟

May 28, 2014 437

خداخداکرکے بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے حکومت کاقیام شرمندۂ تعبیرہوگیا۔اس میںشبہہ نہیںہے کہ نریندرمودی نے اپنی حلف

برداری تقریب میں سارک ممالک کی شرکت بالخصوص ہندو ستان کے روایتی حریف پڑوسی ملک پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کوتقریب میںشرکت کی دعو ت اوران کے ذریعہ دعوت قبول کرکے اس عہدسازتقریب میںشرکت کرنا اگرچہ مودی کی مثبت اوروسیع سوچ کی عکاسی کرتاہے۔مگرایک سوال ذہن میںضرورآتاہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران دوٹو ک لفظوں میں خود کو ہند و تو او ادی کہنے والے نریندرمودی میںعوامی مینڈیٹ ملتے ہی اتنی بڑی تبد یلی کیسے آگئی۔ اسی کیساتھ مذہبی شدت پسندی کیلئے دنیابھرمیںبدنام شیوسیناکے طرزگفتگومیںتبدیلی اورسیکولرزم کی بالادستی میںہی ملک کی بھلائی ،خیرخواہی اورترقی کی ساری راہیںپوشیدہ کیوںنظرآنے لگیں۔یہ وہ حالات ہیںجوملک کے مستقبل کیلئے خوش آئندثابت ہوسکتے ہیں،بشرطیکہ این ڈی اے میںشامل جماعتوںکے یہ خوشنمابیانات کسی فریب ودغاسے پاک ہوںاوراس سوچ میںان کی نیت صدفیصددرست ہو۔اگرملک کے سیاسی آستانوںسے اس قسم کی سوچ کوحمایت ملتی رہی تووہ دن دورنہیںجب ہماراملک اپنی گنگاجمنی تہذیب کی کھوئی ہوئی عظمت کودو با رہ حاصل کرنے میںکامیاب ہوجائے گا۔مگرماضی کے تجربات چیخ چیخ کرپکاررہے ہیںکہ دونو ں طر ف موجود انسانیت دشمن عناصرشایدہی باہمی تعلقات اوراعتمادکی جڑمیںمٹھاڈالنے سے باز رہیں ۔اسی قسم کی ایک کوشش پہلے بھی ہوچکی ہے۔ہندوپاک کے درمیان روایتی خلیج کوپاٹنے کی کوشش اپنی عوام دوستی کیلئے معروف این ڈی اے کے قدآوروزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے کی تھی ۔مگردنیانے کھلی آنکھوںسے دیکھاکہ ہندوپاک کی باہمی دوستی میںاپنی تباہی کا احسا س کرنے والی طاقتوںکویہ راس نہیںآیااوردرپردہ کارگل جنگ چھیڑدی گئی،دونوںجانب سے قتل وغارت گری کی وہ تاریخ لکھی گئی جس کاتصورکرکے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔اس زمانے میںبھی عالمی ماہرین سیاست،جنگی مبصرین اوربالغ نظرتجزیہ نگاروںنے خوںریزی کی اس لاحاصل معرکہ آرائی میںان طاقتوںکی کرتوتوںکی جانب اشارے کئے جنہیںاسلحوںکی تجارت میںہی سارامادی نفع نظرآتاہے،بلکہ ایک اندیشہ تویہ بھی ظاہرکیاگیاتھاکہ دنیامیںاپنی چودھراہٹ کادبدبہ قائم رکھنے کیلئے مغربی استعمارنے جومنصوبے بنارکھے ہیںکارگل کاسانحہ بھی اسی منصوبہ کی کارستانی تھا۔بعض لکھاڑیوںنے تویہاںتک لکھا کہ کارگل ایشیامیںسرگرم مغرب کی خفیہ ایجنسیوںاوراسرائیل کی نفرت انگیز پا لیسیو ں کا نتیجہ تھا۔ بہرحال ماضی کے اس سانحہ میںکسی کابھی ہاتھ ہوہمیںیہ تواعتراف کرناہی پڑے گاکہ اگرہماری ڈپلو میسی،ایجنسیاںاورفوجی طاقت واقعہ سے پہلے سازشوںکاادراک کرنے میںناکام رہیںورنہ اس بڑی تباہی سے ملک کو بچا یا جا سکتاتھا۔آخرہم اتنی بڑی سازش کوناکام بنانے یاپہلے سے ہی اس کاپتہ لگا کر وقت رہتے خودکوبچانے میںکامیاب کیوں نہیں ہو سکے ۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم نے اس کی معلومات کیلئے اپنے سسٹم سے زیادہ بیرونی ایجنسیو ںکی اطلاعات پریقین کیااورانہوںنے اپنے منصوبہ کے تحت ہمیں حقیقت سے بھٹکائے رکھا۔ اگر سرحدپردشمن کی سرگرمیوںکوجاننے کیلئے ہمار ااپنا سسٹم متحرک ہوتا اور دوسروںپربھروسہ کرنے سے زیادہ اپنی حکمت عملی کومنظم کرنے میںہم کامیاب رہتے توشایدحالات اتنے زیادہ دھماکہ خیزنہیں ہو تے ۔ بہرحال یہ ہمارے ماضی کاایک المیہ ہے جسے تاریخ نے اپنے سینے میںمحفوظ کر لیا ہے۔ اب اس میںکس کی خامی ،کوتاہی اورغلطیوںنے اہم رول اداکیاتھایہ آج بھی ایک رازہے جس سے پردہ کب اٹھے گایہ کہنامشکل ہے۔ممکن ہے آنے والے وقت میںکوئی ویکی لیکس سربراہ جولین اسانجے یاروس میںپناہ گزین سابق سی آئی اے ایجنٹ ایڈو رڈ اسنو ڈین جیسا بیباک ہی اس سے پردہ اٹھانے کی ہمت کرسکے۔
اب مناسب معلوم ہوتاہے کہ ماضی کی تلخیوںکوبھول کر،زخموںکوکریدنے کے بجائے آگے کاسفرکیسے آسان ہو،باہمی رشتے میںوہ اعتمادکی فضاقائم کرنے میںہم کیسے کامیاب ہوںگے جوتقسیم سے پہلے کی تاریخ ہے اورآج بھی دنیا میںجس کی مثالیںدی جاتی ہیں۔وقت کامؤرخ وہ منظردیکھ کرانگشت بدندان رہ جاتاہے جب وہ ایک غیرمسلم ادیب کواپنے مسلم ساتھی سے امریکہ میںملاقات کے دوران دہاڑیں مار کر رو تا ہواد یکھتا ہے ۔تقسیم سے قبل کے ہندوستان کی روایت بتاتی ہے کہ وہاںآپسی تعلقات میل جول اورتہذیب کی سربلندی کے آگے مذہب کی دیواریںزمیںبوس ہوجایاکرتی تھیں۔مگرآج مغرب کی سازشو ںنے مذہب میںتشددکازہراس قدرگھول دیاہے کہ اب ہماری دکانیں بازار اور کھیت بھی ہندومسلمان میںتقسیم ہوگئے۔ ہمارے لئے اطمینان کی بات یہ ہے کہ حالیہ این ڈی اے حکومت میںشامل ایسی لگ بھگ سبھی جما عتیں جن کی شناخت مذہبی شدت پسندکے طورپرشہرت رکھتی تھی ان کے لب ولہجے میںتبدیلی آگئی ہے۔اسے ہم یکسر نظراندازکرکے ان کوشبہات کانشانہ بنانامناسب نہیں سمجھتے ۔مگریہ اندیشہ توکسی طرح بھی باقی رہتاہے کہ این ڈی اے کی کامیابی نے اسرائیل کے مکروہ چہرے پرچمک پیداکردی ہے،جس کااندازہ وزیراعظم نریندر مودی اورنیتن یاہوکے درمیان 16مئی کی رات طویل ٹیلی فونک گفتگوسے لگایا جاسکتا ہے ۔ یہا ں ہم ایک بارپھراسی کارگل کے زخم کویادکرناچاہتے ہیںجس کے بارودمیںاسرائیل کی بوبھی شامل تھی جس کی نشاندہی کئی عرب تجزیہ نگارو ں اورپاکستانی صحافیوںنے بھی کی تھی۔مودی کی لئے یہ امرخوش آئندہے کہ وہ بیور و کریسی جواپنی مذہبی شدت پسندانہ نظریات کی وجہ سے سیکولرجماعتوںکے خلا ف رہتی تھی اب وہ حکومت کی پالیسیوںکواپنی کھلی حمایت دیںگی۔بسااوقات ایسابھی ہواکرتاہے کہ حکومت پربیوروکریسی کاٹال مٹول والارویہ بہت سارے مثبت منصوبوںکوعملی شکل دینے میںرکاوٹ بن جایاکرتاہے۔نریندرمودی کو ایسے حالات سے سابقہ پڑنے کااندیشہ نہ کے برابرہے۔اب وقت آگیاہے کہ ہندوستان نے جس قسم کی لچک دکھائی ہے ہمارے پڑوسی ممالک بھی شکوک شبہات کی زنجیروںسے آزادہوںاورباہمی اعتمادکی رسی کومضبوط کریں۔ نریندر مودی نے سارک ممالک کومدعوکرکے یہ اشارہ ضروردے دیاہے کہ ایشیاء میںبدنظمی اورخوںریزی کی فضاقائم کرکے اپنے اسلحوںکاکاروبارچلانے والے بیوپاری ممالک کی حقیقت سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔اگراسی پالیسی پرہندوستان کے قدم آگے بڑھے تووہ دن دورنہیںجب ہم دشمنوںکی سازشوںکوناکام بنانے والے کامیاب ملکوںکی فہرست میں سب سے اوپرہوںگے۔اگرچہ یہ بھی تشویش ظاہرکی جارہی ہے کہ نریندرمودی نے پاکستان کے وزیراعظم کوحلف برداری تقریب میںشرکت کی دعوت اپنے ایک کارباری معاون کی گزارش پردی تھی۔کہایہ جارہاہے کہ پاکستانی سرحدسے متصل گجرات کے کسی علاقہ میںاڈانی خاندان اپنابجلی پلانٹ لگارہاہے اس تقریب میںپاکستانی وزیراعظم کومدعوکرنے کامقصدیہ تھاکہ اس دوران ان سے اڈانی کی بجلی خریدنے کے معاہدہ پربات کی جائے گی ۔ بہر حا ل اس گلوبل دورمیںاگرکاروباری نسبت سے ہی ہمارے رشتے استوار ہوجاتے ہیںتواس میںکسی کواعتراض نہیں ہونا چاہئے،بلکہ اس کی تائید ہونی چاہئے ہمارے ملک کاایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم سیاسی مخاصمت کی بنیاد پر مثبت کاموںمیںبھی سوعیب نکال لیتے ہیںجس سے سیاسی جما عتیں ضرور مستفیدہوتی ہیںمگرملک کے125 کروڑعوام کواس کی جوقیمت چکانی پڑتی ہے اس دردکااحساس وہی کرسکتاہے جس کاکوئی سگااس دشمنی کی بھینٹ چڑھا ہو ۔ خوشی کامقام یہ ہے کہ اس مثبت اقدام کی کانگریس پارٹی نے بھی خاموش تائیدکی ہے ۔ جس سے یہ پیغام ضرورملاہے کہ کانگریس پارٹی حکومت کی مثبت اورعوامی مفادات سے متعلق پالیسیوںمیںکیڑے نکالنے کی بجائے اسے تائیدفراہم کرے گی۔یہی وہ جمہوری فکرہے جس سے بی جے پی محروم نظرآتی ہے۔ آپ (مناسب ہیکہ اس نام کوسننے کے بعد ہاتھ منھ دھولیں) نے ہرمثبت کاموںپر جن کاتعلق اقلیتوںکی بہبودسے رہاہومختارعباس نقوی کی احمقانہ تنقیدیں ضرور ملاحظہ کی ہوںگی جوابھی تک کانگریس کی جانب سے کسی نے بھی نہیں کیا ہے ۔ ملک پرُاعتماد ہے کہ مودی سبھی کے مفادات کی حفاظت کریں گے، مگراقلیتیںاس سوال پرپس وپیش کاشکارہیںکہ اگرفرقہ پرست عناصر کی منصوبہ بندیوںکے مطا بق کوئی ایساقانون بنایاگیاجوآنے والے وقت میںاقلیتوںکی ترقی کیلئے بیڑ یا ں ثابت ہوںتوپھروہ مودی یقین کیسے کرسکیںگے؟
فیض احمدفیض
(مضمون نگاروشوشانتی پریشدکے چیئرمین ہیں)

Last modified on Wednesday, 28 May 2014 13:55
Login to post comments