Print this page

اس سازش کو توڑنا صرف میڈیا کی ہی ذمہ داری نہیں

خرداد 12, 1393 470
Rate this item
(0 votes)

انتخابات ختم ہو چکے ہیں اور اسی کے ساتھ میڈیا کا پیک سیزن ختم ہو گیا ، سب نے جم کے کمائی کی ، پرائم وقت پر جم کے بحث ، تقاریر

اور عوامی جلسوں کا گھنٹوں لائیو کوریج دیا گیا ، کچھ اسٹنگ آپریشن بھی کیے گئے ، پر بھگانا میں چار دلت بچوں کے ساتھ ہوئے اجتماعی عصمت دری اور ان کا گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر دھرنا کے لئے دو منٹ کے کوریج کو بھی وقت نہیں ملا . ملے بھی کیسے ، وہ عالیشان پنڈالو ں، اسٹیج ، رنگ  برنگی ریلیوں کے سامنے کھلے آسمان میں چارکول کی لہلہاتی ننگی سڑک پر بیٹھے سینکڑوں مظاہرین کی کیا بساط . چلئے چھوڑیے ، ان معمولی متاثر بچیوں اور ان کی حمایت میں آئے لوگوں کی ہمدردانہ پکار ، یہ پکار سیاسی پارٹیوں کے نعرے یا تقریر نہیں ہیں جو ساون ( انتخابی موسم ) آنے ہی گرجتے ہیں ، یہ تو درد کی آواز ہے ، جن کے اندر انسانی دل ہوگا وہ صرف جنتر منتر پر بیٹھے ان بچیوں کے کپڑے سے ڈھکے چہرے کے درمیان سے جھلکتے ان خشک آنکھوں کو ہی دیکھ کر سمجھ لیں گے .

پر چونکہ انتخابات ختم ہے اور اب میڈیا پر نہ تو کوئی لالچ کی بندش ہے اور نہ ہی دباؤ ، اب تو وہ کچھ ضروری سوال اٹھا ہی سکتے ہیں . یہ سوال اٹھنا ہی چاہئے کہ آخر انتخابی مہم اور خرید فروخت ہونے والے اتنے سارے پیسے کہاں سے آتے ہیں ، اور کوئی دیتا ہے بھی تو کیوں ؟ اس کے پیچھے ان کا ارادہ کیا ہو سکتا ہیں ؟
آج گجرات کی ترقی کے ماڈل کی پول کھل چکی ہے . پر اس کے ہونے سے پہلے ہی مودی جی اور ان کا گجرات ماڈل ان کے حامیوں کے لئے ایک عقیدہ بن چکا تھا جس کی بنیاد افواہ اور جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے . اس عقیدے کو توڑنا ، اسے بنانے سے زیادہ مشکل ہے اور ہم یہ میڈیا سے امید بھی نہیں کرنا چاہتے ہے . یہ تو لمبی وقت کی پکار ہی اس عقیدہ کو توڑ سکتی ہے . جیسا کہ 1990 کی دہائی میں رام مندر کے نام پر بنائے گئے عقیدے کو وقت کے چکر نے ہی توڑا . پر سوال یہ بھی اٹھنا چاہئے کہ آخر وہ کون سا منتر ہے جس کے بناہ پہ ایک جھوٹ کو لوگوں کے عقیدے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے . رام مندر کے سوال پر ہی عقیدہ کی نہ تو بننے اور نہ ہی اس کے ٹوٹنے کے عمل کو سمجھانے کی کوشش کی گئی . اور جب تک ہم اس عمل کو نہیں سمجھ پائیں گے ، تب تک سیاسی طبقہ ایسے ہی ایک عقیدے کے ٹوٹنے پر دوسرے اور دوسرے کے ٹوٹنے پر تیسری عقیدہ کو پیدہ کرے گی اور اس کے نام پر عوام  بیوقوف بنتی رہے گی .


اور سوال صرف اس عقیدے کے بننے اور ٹوٹنے کے عمل کو سمجھانے تک محدود نہیں ہے ، ہمیں اس معاملہ کو گاؤں ، قصبہ اور چھوٹے بڑے شہروں کے گلی  کوچے اور چوراہوں کو مسئلہ بنانا ہوگا ، جو کہ بغیر میڈیا کی مدد کے شاید ہی ممکن ہو . رام مندر ہو یا سومناتھ مندر کے دروازے کے فی عقیدے کی سیاست ہو ، ہمارے ملک کا دانشور طبقہ نے بہت ہی مہارت سے اسے اجاگر کیا پر ان کی تلاش عوام تک آج بھی نہیں پہنچ پائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایسے عناصر ہر بار ایک نئی عقیدے کی بنیاد پر لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں . اب رام مندر کا سوال ہی لے لیجیے . ملک کے دانشور طبقہ نے اس سلسلہ میں جو تلاش کی وہ کتابوں اور مضامین تک محدود رہ گئی اور لوگوں کا رام مندر کے سوال پر عقیدے کے ٹوٹنے میں ان کی تلاش کی شاید ہی کوئی اہمیت ہوگی کیوںکہ وو تو عام عوام کی اس عام تصور سے ٹوٹی کہ جس مندر کے نام پر بی جے پی نے چھ برس تک حکومت کی اس مندر میں وہ ایک اینٹ تک نہیں لگا سکی .

اس لئے اگر ہمیں تبدیلی زمین کی سطح پر لانا ہے تو ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھانا ہوگا کہ عام لوگ مسائل کو کس طرح سمجھتے ہیں اور ہمیں اسی کے مطابق اپنی حکمت عملی بنانی ہوگی . ہمیں اس ملک کی دانشور طبقہ اور عوام کے درمیان بڑھتی دوریوں کو بھرنا ہوگا . اس سلسلہ میں میڈیا اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور اگر میڈیا وہ کردار ادا کرتی بھی ہے ، جس کے امکان بہت کم ہی ہے ، تب بھی ہم دانشور طبقہ اپنی ذمہ داریوں کو جھٹلا نہیں سکتے ہیں . ہمارا فرض صرف تحقیق کرنے اور لکھنے تک محدود نہیں ہونا چاہئے . ہمیں ملک کی عوام سے ایک گہرا تعلق ، ایک گہرا رابطہ بنانا ہوگا ورنہ ، یہ سیاسی طبقہ ہماری اس کمی کا ایسے ہی فائدہ اٹھاتے رہیں گے .سنجیو کمار " انتم "
(سنجیو کمار ، مصنف رنگ کرمی اور سماجی کارکن ہیں اور طالب علموں کے منچ " بھئی بھور " اور " بیداری منچ " کے بانی رکن ہیں .)

Login to post comments