×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

مطلق العنان قیادت کے پجاری

June 03, 2014 566

انتظامیہ میں اعلی عہدوں پر اپنے معتمدعملہ کی تعیناتی کے سلسلہ میںہندوستان کے نئے وزیراعظم کے ہاتھوں ملک کی قومی سلامتی کی ٹیم

میں فوری رد و بدل کرتے ہوئے خفیہ اداروں سے وابستہ رہنے والے ایک سخت گیر افسر کو قومی سلامتی مشیرکی تقرری اورسخت گیر ہندو نظریات کے حامل اجیت ڈوول اور ان کیساتھ ساتھ ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی شمال مشرقی ریاستوں کے وفاقی وزیر کی حیثیت میں تعیناتی نے بہت سے سوالات پیدا کردئے ہیں جبکہ اجیت ڈوول آر ایس ایس کے جس شعبہ کے سربراہ رہ چکے ہیں اس نے بی جے پی کے انتخابی منشور بنانے میںبھرپور مدد کی تھی۔دوسری جانب گجرات میں 2004 میں ہونے والے متنازع عشرت جہاں ’فرضی انکاو ¿نٹر‘ معاملہ میں معطل ملزم آئی پی ایس افسر جی ایل سنگھل کو ریاستی حکومت نے ان کے عہدہ پر پھر سے بحال کر دیاگیا ہے۔غنیمت یہ ہے کہ باخبر حلقے اس پر خاموش نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ سرمایہ داروں نے جو کئی ہزار کروڑ بی جے پی کی انتخابی مہم میں خرچ کئے ہیں ، اسے وصول بھی کریں گے۔ پھر مہنگائی کنٹرول ، صحت ، تعلیم ، روزگار کے مدو پر خرچ کرنے کی بجائے کارپوریٹ گھرانوں کو زیادہ سہولیات دینے پر فیصلہ لئے جائیں گے۔ ایسوچیم نے تو ابھی سے حکومت کو مشورہ دے ڈالا ہے کہ عوامی شعبہ کی نورتن کمپنیوں کے حصص فروخت کرکے ایک لاکھ کروڑ روپے کا انتظام تو فورا ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت جب بھی ایسے قدم اٹھائے گی ، بے چینی پیدا ہو گی۔ اس عدم اطمینان کو کچلنے کیلئے ہندوستانی ریاست اکثر2قسم کے راستے اختیار کرتی رہی ہے۔ پہلا ، پولیس اور نیم فوجی دستوں کا استعمال ، جس میں انتظامیہ کااہم کردار ہوتا ہے۔ دوسرا ہے ، فرقہ وارانہ فسادات کروانا تاکہ عوام آپس میں ہی گتھم گتھا ہوتے رہیں اور حکومت اپنی عوام مخالف پالیسیاں نافذ کرتی رہے۔مودی ان دونوں میںشعبوں ہی ماہر ہیں۔ وہ نہ صرف انتظامیہ میں اعلی عہدوں پر اپنے قابل اعتمادعملہ کو رکھتے ہیں تاکہ مصیبت کے وقت وہ حکم بجالانے میں دیر نہ کریں۔

کام آرہا ہے گجرات کا تجربہ :
 گجرات کا تجربہ بتاتا ہے کہ جن انتظامی افسروں نے سرکاری حکم کو ماننے کی بجائے اپنے ضمیر کی آواز کو سنا ، انہیں کنارے کر دیا گیا۔ انہیں اتنا پریشان کیا گیا کہ وہ خود استعفی دے کر الگ ہو جائیں۔حکومت میں بھی کسی قسم کے مخالف سر کو مودی نے کبھی برداشت نہیں کیا۔ ہرین پانڈیا ، سنجے جوشی ،کیشوبھائی پٹیل ، سریش مہتا ، ہرین پاٹھک تو محض چند نام ہیں جنہیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔ اس لئے آج بی جے پی کیلئے امتحان کی گھڑی بھی ہے ، جس میں بہت سے سہمے ہوئے چہرے ، جو وقتا فوقتا اپنے آزاد خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آئے ہیں ، اپنے مستقبل کیلئے خوف زدہ ہیں۔ بڑے سرمایہ داروں کیلئے آمریت آمیز رجحان ہونابیشک ایک صفت ہو ،لیکن جمہوریت کیلئے اور مخالف ذہنیت کیلئے وہ ایک سنگین خطرہ پیش کرتے ہیں۔فرقہ وارانہ شبیہہ سے نجات پانا نریندر مودی کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔وہ ’ ہم پانچ ، ہمارے پچیس‘ جیسے نعروں کا استعمال تو مسلسل کرتے رہے ہیں۔ جب گجرات پولیس نے سہراب الدین اور اس کی بیوی کی جعلی تصادم میں سرعام قتل کیا تو مودی نے 2007 میں ایک انتخابی ریلی میں لوگوں سے اپنے مخصوص انداز میں ، جس کے وہ ماہر ہیں ، پوچھاکہ’ آپ مجھ سے اور میرے آدمیوں سے کیا چاہتے ہیں کہ ہم سہراب الدین جیسے آدمی سے کیسے نبٹیں ؟ تو بھیڑ زور سے چلاتی تھی کہ’ اسے قتل کر دو۔‘ہندوستان کے حکمران طبقہ کو آج یہ یقین ہے کہ انہوں نے ایک ایسی مطلق العنان شخصیت کو ملک کی قیادت سپردکی ہے ، جو ان کے مفادات کو چیلنج کرنے والی ہر آواز کو خاموش کر سکے۔ امید کی کرن صرف اتنی ہے کہ ان انتخاببات میں69 فیصد ووٹروں نے مودی ازم سے انکار ہے۔
 
کیسے ماری بازی؟
آج ان وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ٹاٹا بڑلا کی چہیتی پارٹی کانگریس ملک کے سرمایہ داروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کیوں ناکام رہی ، جبکہ نریندر مودی اور بی جے پی نے اس میں بازی مار لی۔ حکومتوں سے تمام طرح کی مراعات حاصل کرنے کے عادی ہو چکے سرمایہ دار آج ملک کی عام عوام کو کوئی بھی سبسڈی یا رعایت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ اور تو اور ، کھانے جیسی بنیادی ضرورت کیلئے بھی اگر حکومت کوئی رعایت دیتی ہے یا دینا چاہے تو وہ ان کی آنکھوں میں چبھتی ہے۔ تحففظ اغذیہ قانون یا کسی بھی طرح کی کم از کم عوامی فلاحی منصوبہ اگر کانگریس نافذ کرتی تھی ، تو سرمایہ دار اس کی مخالفت کرتے تھے۔ سرمایہ داروں کو ساری مراعات اپنے لئے چاہئے ، عوام کا انتخاب۔ کانگریس نے اپنی پوری مہم میں دیہی صحت منصوبہ ، روزگار ، کسانوں کا مسئلہ جیسے مددو کو لیا۔ راہل گاندھی نے تو یہاں تک کہا کہ گجرات میں مودی نے زمین کوڑیوں کے بھاو میں صنعت کاروں کو دی تو ترقی کس کا ہوا ؟راہل گاندھی کو یاد دلانا ہوگا کہ آج ملک کے سرمایہ دار کیا چاہتے ہیں۔ اگر انہوں نے گجرات میں ہونے والے’ وائبریٹ گجرات ‘کے سالانہ کانفرنسوں کی کارروائیوں کو توجہ سے جانچا پرکھا ہوتا تو وہ یہ کھل کر کہتے کہ گجرات میں عوام کا نہیں ، وہاں کے صنعت کاروں کی ترقی ہوئی۔5 سال قبل 2009 کے’ وائبریٹ گجرات کانفرنس‘ میں اپنے ملک کے دو معروف صنعت کاروں انل امبانی اور سنیل متل نے کھلے طور پر مودی کو وزیر اعظم بنانے کی وکالت کی۔ انل امبانی نے کہاکہ’ نریندر مودی نے گجرات میں بہت اچھا کام کیا اور آپ تصور کریں کہ اگر وہ ملک کی قیادت کریں گے تو کتنا کچھ ہو جائے گا۔ ‘انہوں نے اس کے آگے شامل کہ’ مودی کی قیادت میں گجرات نے تمام شعبوں میں ترقی کی ہے۔ قابل غور ہے کہ اگر انہیں ملک کی قیادت کرنے کا موقع ملتا ہے تو ملک کتنی ترقی کرے گا۔ ان جیسے لوگوں کو آنے والے دنوں میں ملک کا لیڈر بننا چاہئے۔ ‘
 
ایک روپیہ کے بدلہ میں ایک ڈالر :
ٹیلی مواصلات کے شعبہ میں اہم سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی بھارتی گروپ کے سربراہ سنیل متل کا کہنا تھاکہ’ مودی کو سی ای او کہا جاتا ہے ، لیکن اصل میں وہ سی ای او نہیں ہیں ، کیونکہ وہ کوئی کمپنی یا علاقے کا آپریشن نہیں کرتے ہیں۔ وہ ایک ریاست چلا رہے ہیں اور ملک بھی چلا سکتے ہیں۔‘ اس موقع پر موجود ٹاٹا نے بھی مودی کی ستائش میں قصیدہ خوانی کی۔ انہوں نے کہاکہ’ مودی کی قیادت میں گجرات دیگر تمام ریاستوں سے مختلف ہے‘ عام طور پر کسی پلانٹ کو منظوری ملنے میں 90 سے 180 دن تک کا وقت لگتا ہے ، لیکن’ نینو ‘ پلانٹ کے سلسلہ میں ہمیںمحض2 دن میں زمین اور منظوری مل گئی۔ ‘لفاظی میں تو نریندر مودی کا توجواب ہی نہیں۔ ایک ایسی ہی میٹنگ میں سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا تھاکہ’ اگر آپ گجرات کی مٹی میں ایک روپیہ بووگے تو اس کے بدلہ میں ایک ڈالر ملے گا۔ ‘ اپریل 2014کے سیمینار میگزین میں انگریزی روزنامہ’ دی ہندو ‘ کے سابق ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن نے لکھا کہ 2011 کے وائبریٹ گجرات تقریب میں مودی کے خیراندیش مکیش امبانی نے ان الفاظ میں کیا کہ’ گجرات سونے کے چراغ کی طرح چمک رہا ہے اور اس کا کریڈٹ نریندر مودی کی دور اندیشی ، کارگر اور موثرقیادت کو جاتا ہے۔ نریندر مودی میں ہمیں ایک مثالی قیادت ملی ہے جن کے پاس اپنے خوابوںکوشرمندہ تعبیرکرنے کی قوت ارادی ہے۔ 2013 میں مودی کے خوابوںکو شرمندہ تعبیرکرنے کی ذمہ داری ایک بار پھر انل امبانی نے لے لی۔ انہوں نے نریندر مودی کو لیڈروں کے لیڈر کہہ کر ان کی ستائش کی اور اکنامک ٹائمز کے مطابق انل امبانی نے سامعین سے مودی کو کھڑے ہو کر قدر کرنے کی بات کی ہے اور سامعین نے اسے قبول کیا۔ ‘
 
انتخابی مہم میں کروڑوں کاصرفہ کیوں؟
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے بڑے بڑے کارپوریٹ گھرانوں کی طرف سے مودی کو وزیر اعظم بنوانے کی مہم کم سے کم 5 سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔ ان تمام کارپوریٹ گھرانوں نے مودی کی ستائش میں محض زبانی جمع خرچ نہیں کیا بلکہ ان کی انتخابی مہم میں کروڑوں روپے خرچ بھی کئے۔ یہ سب اس وقت کیا گیا جب وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ 2002 میں گجرات میں مودی کے زیرسایہ ہی ریاست میں قتل عام ہوا تھا۔ البتہ شروع شروع میں صنعت کاروں کے ایک شعبہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ جس ریاست میں قانون وانتظام کی اس حد تک درگت بنی ہوتو وہاں سرمایہ کاری کرنے کا خطرہ کون مول لے گا؟ جب گجرات فسادات کی فصل کاٹ کر مودی ریاست میں اقتدار میں آئے تو فروری 2003 میںکنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری عرف سی آئی آئی نے مودی کیساتھ دہلی میںایک اجلاس منعقد کیا جس میں کچھ بڑے صنعت کاروں جیسے گودریج ، راہل بجاج وغیرہ نے گجرات میں طاری عدم تحفظ پرتشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے سرمایہ کاری پر اثر پڑے گا۔نریندر مودی اس تنقید سے بہت بدمزہ ہوئے۔ انہوں نے گجرات کے صنعت کاروں کی مخالفت کو ختم کرنے کیلئے انھیں منظم کیا۔ تقریبا سو صنعت کاروں نے سی آئی آئی کو چھوڑنے کی دھمکی دے ڈالی۔ ونود کے جوس نے مارچ 2012 ’ کارواں ‘ میں لکھا کہ’ اس دھمکی کے سامنے سی آئی آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے گھٹنے ٹیک دیئے اور اس غلط فہمی کیلئے معذرت طلب کرتے ہوئے خط لکھاکہ’ آج اس واقعہ کے 10سال بعد حالات بالکل الٹ گئے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے صنعت کار سے لے کر بڑے سے بڑے صنعت کار تک نریندر مودی کو ملک کا’ چوکیدار‘ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس میں ملک کے ہی نہیں ، غیر ملکی صنعت کاروں کے تنظیموں کا بھی ہاتھ رہا۔ہند‘ امریکہ کاروبار کونسل کے صدر رون سمرس نے 2013 کے وابریٹ گجرات کانفرنس میں گجرات کی ترقی کو’ چونکانے والی‘ کہا تھا۔

ایسا فراخدل لیڈر اور کہاں ملے گا ؟
 امریکہ کی پی آر کمپنی ’ایپکو ورڈوائڈ‘ نے صرف مودی کو ہی فروغ نہیںبخشا بلکہ امریکی حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی سرمایہ کیساتھ ان کے تعلقات کو بھی مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔کانگریس سے صنعت کاروں کی ناراضگی کا ایک اور وجہ بھی رہی۔ کانگریس کے ہی دور حکومت میں سیاست دانوں اور صنعت کی ساز بازسے جاری بدعنوانیوں کا بھانڈا پھوٹا۔ صنعت کاروں کو بدعنوانی سے کبھی گریز نہیں رہا۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ حکومت بدعنوانی کا صحیح انتظام کرے تاکہ بدعنوانی کا کھیل ہمیشہ کی طرح چلتا رہے اور صنعت کاروں کی ساکھ بھی بچی رہے۔ اس ایشو پر عدلیہ کی انتہائی سرگرمی کے آگے حکومت کی لاچاری بھی صنعت کاروں کو ہضم نہیں ہوئی۔ انہیں تو ایسی حکومت اور ایسا لیڈر چاہئے جواتنا قابل ہوکہ بغیر کسی تکلف کے فیصلہ لے سکے اور صنعت کاروں کو مفت زمین ، بجلی ، پانی اور قرض دے سکے۔ وہ ان تمام رکاوٹوں کو بے جھجک‘ بغیر وقت گنوائے دور کر سکے، جو اس کے راستہ میں رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لاتا ہو۔ مودی نے جب ٹاٹا کو گجرات میں نینو فیکٹری لگانے کی دعوت دی تو انہوں نے وہاں اعلان کیاکہ’ مکمل گجرات ہی خصوصی اقتصادی زون ہے۔ وہ کہیں بھی صنعت لگا سکتے ہیں۔‘ ایسا فراخدل لیڈر سرمایہ داروں کو اور کہاں ملے گا ؟
 ایس اے ساگر

Last modified on Tuesday, 03 June 2014 10:05
Login to post comments