×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

سماجی انصاف کی طاقتوں کا اتحاد

June 04, 2014 688

حالیہ پارلیمانی الیکشن میں ہندی پٹی میں بی جے پی کی شاندار  کامیابی نے سارے سیاسی پنڈتوں کو چونکا دیا ۔ بی جے پی  اچھی کار کردگی کا

مظاہرہ کرے گی  یہ تو سبھی کو معلوم تھا لیکن ایسی شاندار کامیابی کی امید تو بی جے پی کے لیڈروں کو بھی نہیں تھی ان کے اندازہ کے مطابق یوپی  اور بہار سے انہیں120 میں80سیٹیں مل سکتی  ہیں جبکہ تمام سیاسی مبصرین اسے بی جے  پی لیڈروں کی لن ترانی قرار دے  رہے تھے لیکن جب نتائج  سامنے آئے تو سب کے منھ کھلے کے کھلے رہ  گئے بی جے پی نے دونوں ریاستوں میں103سیٹیں حاصل کرکے سارے  رکارڈ توڑ دیئے ۔ در اصل یہ اس کی گذشتہ4برسوں کی سخت محنت اور  لگن کا ثمرہ تھا ۔2009 کی خلاف توقع شکست کے بعد آر ایس ایس  نے سمجھ لیا تھا کہ اگر منموہن سونیا کا جادو اسی طرح چلتا رہا تو2014 میں اسے اس سے بھی زیادہ بڑی شکست مل سکتی ہے ۔ اس لئے سنگھ پریوار نے اگلا یعنی 2014 کا پارلیمانی الیکشن جیتنے کی مہم اسی وقت  شروع کردی ۔ سنگھ کے سبھی کار کن اس مہم کو سر کرنے میں لگ گئے وہ گاؤں گاؤں   پھیل گئے اور اپنی فکر اور پالیسی کے مطابق عوام کو بھڑکانا شروع کیا ۔ دوسری جانب سو شل اور الکٹرانک میڈیا کا اتنا بھر پور اور بہترین استعمال کیا کہ ان کے مد مقابل کوئی کھڑا نہیں ہو پایا ہندو تو کا ورق  چڑھا کر ترقی کی ایسی تیر  بہ ہدف گولی  کھلائی گئی    کہ تمام بندھن ٹوٹ گئے اور تمام باتوں سے اوپر اٹھ کر ہندو تو بنام وکاس ( ترقی ) پر ایسے ووٹ پڑے کہ مخالفین کے سارے قلعہ  زمین  بوس ہوگئے ۔ کانگریس کی بد اعمالیوں کی اسے ایسی سخت سزا ملی کہ وہ تین  ہندسوں تک بھی نہیں پہنچ سکی اور لیڈر آف اپوزیشن کی کرسی بھی اس کے لئے دشوار ہوگئی ۔
 بھارتیہ جنتا پارٹی  نے ہندو تو کے نام پر  اجودھیا تحریک کے زمانہ میں بھی  گول  بندی کرائی تھی اور اس کا اچھا فائدہ بھی اسے ملا تھا لیکن اجودھیا یعنی کمنڈل کے ساتھ   ہی ساتھ وی پی  سنگھ کی قیادت میں سماجی انصاف  یعنی منڈل کی تحریک بھی پوری آب و تاب سے چلی تھی جس کے علاقائی  سر داروں ملائم سنگھ یادو ، لالو پرساد یادو ، بیجو پٹنائک وغیرہ   نے کمنڈل کو اتنا موثر نہیں ہونے دیا اور بی کے پی مرکز میں حکومت سازی کے قریب بھی نہیں پہنچ پائی تھی۔ 2014 کے پارلیمانی الیکشن نریندر مودی کی جارحانہ انتخابی مہم کی وجہ سے ایک ہی آدمی کا شو بن کر رہ گئے لوگوں نے بی جے پی سے بھی زیادہ نریندر مودی کے نام پر ووٹ  دئے کیونکہ ان کے د ماغ میں گجرات کا ترقیاتی ماڈل بیٹھ چکا تھا جسے نکالنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوئی عمومی خیال تھا کہ15فیصد مسلم ووٹ متحد ہوکر اس پارٹی کے  خلاف جائے گا جس کے قومی سطح پر جیتنے کے امکانات سب سے زیادہ  ہوں گے لیکن کمال ہوشیاری سے سبرامنیم سوامی کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے سنگھ پریوار نے ہندو ووٹ متحد اور مسلم ووٹ منتشر کردیئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف بی جے پی کو شاندار کامیابی  ملی بلکہ ہماری پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی سب سے کم ہوگئی ۔کہتے ہیں جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے مگر اب اس میں سیاست کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے یعنی سیاست میں وہ  سب کچھ جائز جس سے ووٹ ملیں ۔ بی جے پی نے اس فارمولہ پر عمل کیا اور  ووٹوں کی شاندار فصل کاٹی جس پر کسی کو نہ تو اعتراض کرنے کا حق ہے اور نہ ہی واویلا مچأنے کا ۔ اب نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی بلا شرکت غیرے اقتدار پر قابض ہے اور امید ہے کہ وہ سماج کے ہر طبقہ کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے گی جس میں مسلمان بھی شامل ہیں فی الوقت نریندر مودی کی حکومت کا کام دیکھے بغیر اس پر کوئی تبصرہ کرنا جمہوری روایت کے منافی ہوگا۔
 سماجی   انصاف کی طاقتوں کی کمزوری کی اصل وجہ اس کے لیڈروں کی خود غرضی اور انا پرستی رہی ہے جس کی وجہ  سے منڈل  مسیحا کہے جانے والے آنجہانی وزیر اعظم وی پی سنگھ نامراد موت کے آغوش میں چلے گئے ۔لالو پرساد یادو  نے بہار میں شروع میں تو اچھا کام کیا لیکن بعد میں اتنا گرتے چلے  گئے کہ عوام نے انہیں بری طرح مسترد کردیا ۔ یوپی میں ملائم اور مایاوتی بھی عوام کا جذباتی استحصال کرکے بر سر اقتدار تو آتے گئے لیکن عوام کی تمناؤں اور امنگوں  پر پورے نہیں اترے۔ بہار میں لالو پر ساد یادو نے2014 کے پارلیمانی الیکشن میں شرمناک شکست کے بعد سماجی انصاف کی طاقتوں کو پھر سے متحد کرکے ایک مضبوط  محاذ بنانے کی مہم شروع کردی ہے ۔ نتیش کمار سے جن  سے ان کی سیاسی مخالفت ذاتی دشمنی میں بدل گئی تھی سیاسی مفاہمت کرکے ایک ٹھوس قدم اٹھایا ہے جبکہ اس سے قبل نتیش کمار نے وزیر اعلیٰ کی کرسی چھوڑ کر اس کے لئے راہ ہموار کردی تھی ۔ لالو پر ساد یادو نے ملک گیر سطح پر ایک سیکولر اتحاد کے قیام کے لئے کام کرنے کا عندیہ  ظاہر کیاہے  ان کا دوسرا قدم یوپی میں ایسا اتحاد قائم کرنا ہوگا مگر ملائم اور مایاوتی کا رد عمل  کیا ہوگا اس پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا ہواہے ۔ پھر بھی لالو یادو کی پہل کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے کیونکہ ملک میں جذباتی ہم آہنگی فرقہ وارانہ یکجہتی اور سماجی انصاف کے بغیر ترقی کا کوئی بھی تصور بے معنی ہوگا۔
عبید اللہ ناصر
(مضمون نگار روزنامہ’ قومی خبریں‘  لکھنؤ کے ایڈیٹر ہیں)

Login to post comments