×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

اترپردیش حکومت، وقت رہتے اپنی اصلاح کرے

June 05, 2014 548

اتر پردیش جیسی ملک کی اہم ریاست میں امن وامان کی صورت حال بگڑتی جارہی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملائم سنگھ یادو اور ان کے بیٹے

اکھلیش یادو ریاست کے قانون وانتظام پر اپنی گرفت کھوتے جارہے ہیں، ابھی حال ہی میں وہاں عصمت دری کی پے در پے جو وارداتیں ہوئی ہیں جنہوں نے تو اس ریاست کو قومی ہی نہیںبین الاقوامی بحث کا موضوع بنادیا ہے خاص طور پر بدایوں میں دو دلت بہنوں کی عصمت دری کے بعد قتل کے واقعہ پر عالمی ادارے اقوام متحدہ نے بھی تشویش ظاہر کی ہے جس دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرکے مجرموں نے چاچا کی آنکھوں کے سامنے دونوں نابالغ لڑکیوں کا اغواء کیا اور پولس نے اغوا کی شکایت ملنے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ ایف آئی آر درج کرانے کا اصرار کرنے پر متعلقہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ، بعد میں دونوں دوشیزائوں کی لاشیں آم کے درخت پر جھولتی ہوئی ملیں، اسی طرح ایک اور بائیس سالہ لڑکی کی عصمت ریزی ۔دوسری طرف صرف ایک دن میں عصمت دری کے نووارداتوں کا ہونا، ایک لڑکی کی شناخت چھپانے کیلئے چہرے کو پیٹرول اور تیزاب سے جھلسا دینا اور اسے جبراً تیزاب پلا دینا، اس سے ملتے جلتے واقعات کا اعظم گڑھ ، اٹاوہ، علی گڑھ، اور دوسرے مقامات پر صادر ہونا، اگر کچھ ظاہر کرتا ہے تو وہ یہی ہے کہ اکھلیش یادو کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے اور وہ فضا میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ اسی لئے وہ اپنی قوت برداشت بھی کھوتے جارہے ہیں۔
    اترپردیش میں بدسے بدتر ہوتی اس صورت حال پر مرکزی حکومت نے بھی خاموش رہنا مناسب نہیں سمجھا اور ریاستی حکومت سے یہ سوال کردیا کہ دلتوں کے خلاف ایسے سنگین جرائم پر ایس سی ایکٹ کیوں نہیں لگایاگیا۔ ریاست کے متاثرہ لوگ اور عوام کی طرف سے سی بی آئی تحقیقات کی مانگ تو ریاستی حکومت نے مان لی ہے لیکن اس سلسلہ کی ضابطہ کے تحت کارروائی ہونے میں تاخیر پر لوگ کافی چراغ پا ہیں۔
    اترپردیش میں یہ صورت حال کارروائی نہ ہونے یا معاوضہ کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے اتنی خراب نہیں ہورہی ، جتنی کہ حکومت کے رویہ سے بگڑ رہی ہے، عوام کو بنیادی شکایت یہ ہے کہ جب سے اکھلیش یادو نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا ہے ، ان کی حکومت کی طرف سے ایسا کوئی سنجیدہ پیغام نہیں دیا گیا کہ ریاست میں قانون وانتظام کو لیکر کسی طرح کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کو ہاتھ میں لینے والا خواہ کوئی بھی ہو اسے  بخشا نہیں جائے گا اس کے بجائے شعوری یا غیر شعوری طور پر ایسی باتیں سامنے آئی ہیں کہ اقتدار پر فائز ذمہ داروں کو خوش کرنے اور خوش رکھنے میں ہی افسروں کی خیر ہے، خواہ واقعہ درگاشکتی، ناگپال، جیسی سخت افسر کے خلاف  کارروائی کا ہویا وہ ریاستی وزیر اعظم خاں کی بھینس ڈھونڈنے میں افسروں کی فوج کے استعمال کا ہو۔ عصمت دری جیسے سنگین جرائم پر بھی حکومت اپنی سنجیدگی کا کوئی معقول ثبوت دینے سے قاصر رہی ہے۔ اس بارے میں ملائم سنگھ یادو کے متنازعہ بیان کو اگر انتخابی نفع ونقصان قرار دیکر نظر انداز کردیا جائے تو بھی حکمراں سماجوادی پارٹی کی تصویر دھونس ودھمکی کی حمایت پر چلنے والی پارٹی کی سامنے آتی ہے جو اخلاق وقانون پر سیاسی مفاد پرستی کو ترجیح دے رہی ہے ۔
    ملائم سنگھ یادو ہوںیا اکھلیش یادو، اگر انہیں اترپردیش میں اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل کرنا ہیں تو جلد سے جلد ریاست کے قانون وانتظام کی صورت حال کو بہتر بنائیں، ورنہ پارلیمانی الیکشن میں ریاست کے عوام نے انہیں جو سبق دیا ہے اسے وہ دہرانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

Last modified on Thursday, 05 June 2014 22:25
Login to post comments