×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

ریگولیٹری اتھاریٹی قانون میں ترمیم

June 05, 2014 526

حالیہ عام انتخابات میںبی جے پی کے نومنتخب وزیراعظم نریندرمودی کی حلف برداری کے بعد الیکٹر ا نک میڈیانے ملک ہی نہیں

بلکہ ساری دنیاکویہ پیغام دینے میںایڑی چوٹی کازورلگارکھاہے کہ مسٹرمودی کی قیادت میںہندوستان کوہمہ جہت ترقی ملے گی اوراس کے اثرات ملک کے ایک ایک عام آدمی میں نظر آ ئیںگے۔مگربی جے پی کے وزیراعظم نے اقتدارکی باگ ڈورہاتھ میںلیتے ہی جس قسم کی پالیسیا ں وضع کرناشروع کردی ہیںاگراس کابغورجائزہ لیاجائے تواندازہ ہوتاہے کہ ملک کے الیکٹر انک اور اکثرپرنٹ میڈیاکووزیراعظم نریندرمودی کی عوام مخالف پالیسیوںپرپردہ ڈالنے اور انہیں دنیا میںایک کامیاب ترین قائدکے طورپرمتعارف کرانے کی ڈیوٹی دے دی گئی ہے،جسے وہ ایک فرماں بردار گما شتہ کے طورپرپوری چابک دستی سے انجام دے رہے ہیں۔ بہرحال ہم نے مندرجہ بالاسطورمیںواضح کیاہے کہ نومنتخب حکومت جس طریقہ کارپرعمل پیراہے اس سے تویہی محسوس ہوتاہے کہ سوا سوکروڑ ہندو ستا نیو ںکی ترقی کی باتیںکرنے والی حکومت کے اس وعدے اوردعوے کی حقیقت ایک خوبصورت فریب سے زیادہ کچھ بھی نہیںہے۔
یہاںیہ اصول ذہن میںرہناچاہئے کہ کسی بھی معاشرہ، ملک یاریاست کی ترقی وخوشحالی میںحکومت کے ساتھ بیوروکریسی کاکرداربھی برابرکاحصہ دارہوتاہے۔اگرسابق یوپی اے حکومت کی ناکامی کا جا ئزہ لیںتویہ سچائی کھل کرسامنے آجاتی ہے کہ یوپی اے کے تمام رفاہی اورترقیاتی منصوبوں کو نا کا م بنانے میںبیوروکریسی نے مجرمانہ کرداراداکیاہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیںتھی کہ منریگا،صحت کیلئے بیمہ کی تجاویز،تعمیرات عامہ اوربے روزگاری کاعذاب جھیل رہے ہندوستانیوںکواس سے نجات دلانے کیلئے ایف ڈی آئی سمیت کئی ترقیاتی منصوبوںکومرتب کرنے والی حکومت ناکام ہوجاتی۔ آخر انہیں مفا د عا مہ سے جڑے خوش آئندمنصوبوںکے نتیجے میںہی یوپی اے کواس کی دوسری اننگ میںناقابل اعتبارکامیابی ملی تھی۔مگرالمیہ یہ ہے یوپی اے اپنی دوسری پاری میںبیوروکریسی کی مشتبہ کاکردگی اورذمہ داریوںسے لاپروائی کے نیتجے میںناکامی سے دوچارہوئی۔ ایساکیوںہوا،اس کے پیچھے کون سی سازشیںکارفرماںتھیںاس کے بارے میںمتعددتجزیہ نگاروںنے بہت کچھ لکھاہے اوریہ دعوے بھی کئے ہیںکہ سابقہ یوپی اے حکومت بیوروکریسی کی مشتبہ کارکردگی پرکبھی بھول کر بھی سوچنے اورغورکرنے کی زحمت گوارانہیںکی۔انہوںنے بیوروکریسی کوشتربے مہارکی طرح چھوڑدیا،جبکہ حکومت میںاعلی عہدوںاورعوامی فلاح وبہبودکے اہم مناصب پرفائزنوکرشاہوںنے ترقیاتی ایجنڈ و ں کومعطل کر د ینے کی قسم کھالی۔اس کامقصدفرقہ پرست قوتوںبالخصوص آرایس ایس کی جانب سے دی جانے والی گائڈلائن پرکام کرناتھا،تاکہ حکومت کے ذریعہ نافذکئے گئے منصوبوںسے عام لوگوںکومحروم کردیاجا ئے اوربی جے پی سمیت دوسری اپوزیشن جماعتوںکے شاطربیان بازوں کو حکو مت کے خلاف نفرت کاماحول قائم کرنے کابھرپورموقع مل جائے۔یہاںیہ بات بھی ذہن میںرہنی چاہئے کہ عوام کے ذریعہ منتخب کردہ سیاسی نمائندوںکی پوزیشن بیوروکریسی سے اوپرہوتی ہے۔مگراس کیلئے سیاسی قائد ین کاپختہ عزم اورڈائنامک ہوناضروری ہوتاہے۔مگرالمیہ یہ ہے کہ اس جمہوری قوت کاحامل ایک بھی وزیریوپی اے کے ایوان میںنظرنہیںآیا۔جس کانتیجہ یہ ہواکہ افسرشاہوںکوکھلی آزادی مل گئی اورانہوںنے اپنے نظر یات کے مطابق فرقہ پرست عناصرکواقتدارمیںپہنچنے کاآسان ترین راستہ فراہم کردیا۔آپ اس کی دلیل کے طورپر منصوبہ بندی کمیشن کے سابق ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ اہلووالیہ کی غریب دشمن ضابطہ بندی کودیکھ سکتے ہیں،جنہوںنے دیہی ہندوستان میں  26روپے یومیہ اورشہری علاقوں میں 32 روپے یومیہ کمانے والے ہندوستانیوںکوبی پی ایل کی فہرست سے خارج کردیاتھا۔مونٹیک سنگھ اہلووالیہ کے اس بیان پرملک بھرمیںاحتجاج بھی ہوئے تھے۔خود بی جے پی کی خاتون لیڈرسشماسوراج اورمیناکشی لیکھی وغیرہ نے میڈیاکے سامنے اہلووالیہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے گھرمیںپلنے والے کتے پربھی اہلووالیہ یومیہ ہزاروںروپے خرچ کرتے ہوںگے۔ مگرامریکہ میںشاہی زندگی گذارنے والے اہلووالیہ کی صحت پر عوام کی بے بسی اوربے چینی کاکوئی اثرانہیںپڑا ۔ ہم کہنایہ چاہ رہے ہیںکہ اگروقت رہتے یوپی اے حکومت اہلووالیہ جیسے لوگوںکی ذہنیت کوجاننے کوشش کرتے توبآسانی سمجھ سکتے تھے کہ اہلووالیہ کے اس عوام مخالف بیان کامقصدبی جے پی اوردیگرسنگھی طاقتوںکوفائدہ پہنچاناتھا۔حکومت کی لاپروائی کاسب سے بڑانقصا ن کانگریس کوہی اٹھاناپڑامگراس نے ایک پل کیلئے بھی اس پہلوپرغورکرنے اورفلاحی منصوبو ں میں افسرشاہی کی لوٹ کھسوٹ پرلگام ڈالنے کی کوئی کوشش نہیںکی ۔نتیجہ کاربدعنوانی ،رشوت کی گرم بازاری اورسرکاری دولت کی بندربانٹ نے ملک کے خزانے کوہی نہیں،بلکہ عام لوگوںکوبھی بے قرار کردیا ۔ مہنگائی کاازدہاغریبوں،بے روزگاروںاوریومیہ محدوداجرت پرکام کرنے والے مزدروں اور پرا ئیو یٹ سیکٹرکی کمپنیوںمیں معمولی تنخواہ پراپناخون پسینہ ایک کرنے والے عام ہندوستانیوںکویوپی اے سے اتنامتنفرکردیاکہ وہ ان کی صورت دیکھنابھی گوارانہیںکرسکے۔جس کانتیجہ آ ج کانگریس اوریوپی اے کی تباہی کی صورت میںملک کے سامنے ہے۔  
قصہ مختصر یہ کہ نومنتخب این ڈی اے کے وزیراعظم نریندرمودی نے بھی انہیںخطوط پرکام کرناشروع کردیاہے۔نوکر شاہوںکوکھلی چھوٹ دینے کیلئے مودی کی طرف سے قانون میں تبدیلی کے جو اشار ے دئے گئے ہیںاس سے اندیشہ ہے کہ ترقیاتی وسائل اور عام آدمی سے متعلق فلاحی منصوبوںمیں لوٹ کھسوٹ کی راہیں آسان ہوجائیںگی۔سیاسی مبصرین وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ اپنی مشتبہ کارکردگی کی وجہ سے سرخیوںمیںرہنے والے سابق نوکر شاہ نرپیندر مشرا کو اپنا چیف سکریٹری مقرر کر نے کیلئے ریگولیٹری قانون میں تبدیلی کرنے کو دردناک ہی نہیںانتہائی نقصاندہبھی مانتے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ اس سے ملک کے ترقیاتی وسائل اور عام آدمی کی فلاح وبہبودجیسے اہم منصوبو ں میں شرمناک حدتک بدعنوانی کادوردورہ ہوجائے گا۔ ملک بھرمیں ٹیلی کام ، بجلی ، انشورنس ، شہری ہوا بازی ، قدرتی گیس ، بندرگاہ اورآبی وسائل جیسے اہم شعبوںمیں ریگولیٹری نظام نافذ ہے اوران شعبوںکی خدمات کو نجی ہاتھوںمیںدیاجاچکاہے،جس کے خلاف ماضی میںآوازیںبھی اٹھتی رہی ہیں۔مگراس و قت مرکزمیںحزب اختلاف بی جے پی تھی اورآرایس ایس کے سویم سیوک ان کی آواز میں دھار پیدا کرنے میںپوری مددکیاکرتے تھے،جبکہ آج صورت حال بالکل مختلف ہے اورحزب اختلاف اس سے بھی زیادہ کمزور۔ایسے میںاگرپی ایم اومیںایسے لوگوںکوکرسیاںدی جارہی ہیںجواپنی سنگھ نوازی اورفرقہ پرست ذہنیت کیلئے نمایاںرہے ہیںتویہ اندیشہ ظاہرکرنے والے سیاسی مبصرین حق بہ جانب ہیںکہ وزیراعظم کے دفترمیںاب عوام مخالف اورکارپوریٹ نواز پالیسیاں وضع کی جائیں گی اوراس سے ملک کے عام غریبوںبالخصوص اقلیتی  طبقے کاسب سے زیادہ خسارہ ہوگا۔
کہاجاتاہے کہ ریگولیٹری سسٹم حکومت اور صنعت کاروں کے درمیان تنازعہ حل کرنے والی اہم سیڑھی ہوتیہے۔ ریگولیٹری قوانین میں یہ تجویزرکھی گئی ہے کہ اس کے ممبران ریٹائرمنٹ کے بعد مقررہ مدت تک حکومت یا صنعتی گروپوں میں فائدہحاصل کرنے والاکوئی عہدہ پانے کے مجاز نہیں ہوں گے۔مگرتجربات ومشاہدات اس کی نفی کرتے ہیں۔ریگولیٹری اتھاریٹی قانون میںترمیم اور افسر شا ہو ںکوکسی بھی قسم کی بازپرس سے آزادکردینے کامقصدکیاہے اوراس کے پس پردہ آرایس ایس اورسنگھی طاقتوںکاکیامنشاہے یہ محتاج وضاحت نہیںہے۔اس کاثبوت تو16مئی2014کوعام انتخابات کے نتائج سامنے آنے سے دوروزپہلے ہی دست درازی اوربدفعلی کے الزام میںقیدآشارام نے دے دیاتھا۔جب انہوںنے کہاتھاکہ ہمیںاب بہت دنوںتک قیدمیںنہیںرکھاجاسکتا،بس نتیجہ آجانے دو۔ان کے اس بیان اوروزیراعظم کے ذریعہ افسرشاہوںوریگولیٹری اتھاریٹیزکوکھلی چھوٹ دینے کے اشارے نے ثابت کردیاہے کہ اب ملک بھرمیںنوکرشاہوںسے کیاکام لئے جائیںگے اورکس کوان کے عتاب کاشکار ہوناپڑیگا۔این ڈی اے کی حکومت سے کس کابھلا ہوگا،کس کی ترقی ہوگی اورکس کوروٹی کے لالے پڑنے والے ہیںیہ دیکھناہے توجائیے اورگجرات کے سوراشٹرمیںمایوس کسا نوںکی خودکشی کانظارہ کرلیجئے۔عدم تغذیہ (Mullnutrition)کی شکار گجراتی بہنوںکی حالت زار اورشری نریندربھائی دامودرداس مودی کے ذریعہ ان کی بے بسی پراڑائے جانے والے مذاق کی ریکاڈنگ سن لیجئے۔آپ جان جائیںگے کہ ان کی مہربانیاں،کرم فرمائیاں اورہمدردیاںکن کیلئے رواہیں، غریبوں، مزدوروں، بچوں،عورتوںاوراقلیتوںکیلئے یاگنے چنے کارپوریٹ خاندانوں کیلئے جنہیںفائدہ پہنچانے کیلئے ریگولیٹری قانون تک میںتبدیلی لانے کی تیاریاںکی جارہی ہیں۔
یہ بات توعام انتخابات2014کیلئے انتخابی مہم میںمصروف نریندرمودی کے بارے میںپہلے ہی جگ ظاہرہوگئی تھی کہ وہ کن کارپوریٹ طاقتوںکی سواری پریومیہ 5ہزارکیلومیٹرکاسفرکررہیتھے۔کن کی شاہی آرام گاہوںکے اندرگواسے آسام اورکشمیرسیکنیاکماری کے درمیان واقع سیاحتی شہروں میں اپنی راتیں گزار تے تھے۔کون کون سے کارپوریٹ اوربالی ووڈگھرانے ان کی کامیابی کیلئے اپنے خزانوںکے دہانے کھولے ہوئے تھے۔کیاان حقائق سے یہ بات واضح نہیںہوجاتی ہے کہ کن مقاصدکے حصول کیلئے انہیںدہلی کی پارلیمنٹ اسٹریٹ تک پہنچایاگیاہے۔کیااب بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مودی جی عام لوگوںکے مکھیایاادیوگ جگت کے کمانڈران چیف ہیں۔میڈیاکاغلغلہ بھی یہی گواہی دیتاہے کہ ان کے پرچارپرسارمیںجولگ بھگ دسہزارکروڑروپے خرچ کئے گئے تھے یہ دکشناکے طورپردی گئی خیرات نہیںتھی ،بلکہایک کے بدلے ایک ہزار کمانے کافارمولہ تھا۔جس میںکارپوریٹ اداروںکے میڈیاہاؤسوںنے کمرتوڑمحنت کی،جی جان لگادیااورسرمایہ داروںاور سا ہو کا روںکے خوابوںکوشرمندۂ تعبیرکرکے ہی دم لیا۔  
فیض احمدفیض
(مضمون نگاروشوشانتی پریشدکے چیئرمین ہیں)
E-mail:This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Last modified on Thursday, 05 June 2014 10:35
Login to post comments