×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

یہ خاموش رہنے اور برداشت کرنے کا وقت نہیں

June 06, 2014 572

بدایوں کی دو بہنوں کے غیر انسانی اور ظالمانہ قتل نے بھارت کے ' سول سوسائٹی ' کی پول کھول کر رکھ دی ہے . شرمناک واقعہ پہ وعدے ،

معاوضہ اور کارروائی ہوتی رہے گی لیکن کیا ہم سوال کے اصل تک جائیں گے اور حکومت سے جواب مانگیںگے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور کب تک حکومت ان کے بند ہونے کی ضمانت دے گی . یہ صرف عصمت دری اور قتل نہیں ہے . اس واقعہ نے ہمارے انتظامیہ اور اس کی ذات وفاداری کو بھی اجاگر کیا ہے اور بتایا ہے کیوں ہم اصل سوالات سے ہٹ کر اقتدار چاہتے ہیں اور لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں .

جمہوریت میں حکومت کی نہ ذات ہوتی نہ مذہب . اسے سب کے مفادات کے لئے کام کرنا ہوتا ہے . بھارت کا ہر ایک شخص کی حفاظت اور عزت کا حقدار ہے . لیکن کیا واقعی میں گاؤں سے پیدا سیاست میں ایسا ہے ؟ اقتدار ہمارے گاؤں میں اپنی جھوٹی شان اور طاقت کا ہتھیار بن چکی ہے . بھارت کی حکومت دہلی سے نہیں چلتی بلکہ  بھارت کے ذات وادی گاؤں سے چلتی ہے اس لئے مظفرنگر کے قاتل گھومتے ہیں اور فسادات کے ملزم وزیر بن جاتے ہیں . عصمت دری کے ملزم آرام سے عزت سے ہیں . ہریانہ کی کھاپیں ویسے ہی اقتدار کا مزہ لے رہی ہیں اور دلتوں کا قتل اور ان کی عورتوں پر بدکاری حکومت کے لئے معنی نہیں رکھتی . اتر پردیش میں بھی یہی حال ہے اور مدھیہ پردیش ، راجستھان ، مہاراشٹر ، آندھرا ، تامل ناڈو ، کرناٹکا وغیرہ بھی پیچھے نہیں ہے کیونکہ ذات کی سیاست میں دلت انسانی حقوق کا مسئلہ آلات ہو کر رہ گئی ہے .

بھارت کے گاؤں منو واد کا سب سے بڑا اڈہ ہیں . اتر پردیش میں بدایوں کی دو دلت بہنوں کی عصمت دری کے بعد سنگین قتل نے بھارت میں جمہوریت کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے . یہ حرکت کسی طالبان کارروائیوں سے کم نہیں ہے . شرمناک اس کے لئے بہت چھوٹا سا لفظ ہے . کیا اتنے سنگین جرائم پر ہم خاموش رہیں گے ؟ اتر پردیش کی حکومت میں ذات کا ننگا ناچ چل رہا ہے . لوہیا نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ جس معاشرے کا ہم تصور کر رہے ہیں وہاں ان کے شاگردوں کی حکومت میں غنڈے اور مجرم ذات کے نام پر اپنی چودھراہٹ دکھاتے رہیں گے . بھارت میں اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے براہمن وادی نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا جس نے ہماری آئینی نظام کو بالکل کمزور کر دیا ہے . کیا ایسے معاشرے سے ہم دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کا ڈرامہ کرتے رہیں گے ؟ یہ واقعات ذات کی برتری کو ثابت کرتی ہیں اور دلت عزت اور خود اعتمادی کو کچلنا چاہتی ہیں . آج جمہوریت کو  منو واد نے غلام بناکے رکھا ہے اور بد قسمتی سے شودر بر تری   براہمن واد کا ہی حصہ ہے . افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں لوگوں کے اس گھناؤنی فعل کو بھی صحیح ٹھرانے والے لوگ ملتے ہیں اس لئے ذات کی عزت کا دھندہ چلتا ہے . آج ضرورت اس بات کی ہے کہ غلط کو غلط کہنے کی ہمت ہم رکھیں چاہے وہ غلطی میں نے کی ہو ، میری ذات کی ہو یا اس برادری کے لیڈر کی ہو یا میرے خاندان کی ہی کیوں نہ ہو . اب ذات کے نام پر غلط کو صحیح ٹھہرنے والوں کے خلاف کھڑے ہونے کا  وقت ہے . یہ خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے . ایسے گھناؤنے جرم کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جا سکتا .

یہ جمہوری ملک ہے جہاں دلت جمہوریت میں ووٹ کے اتحاد میں پس رہا ہے . ہریانہ میں جاٹ دہشت نے ابھی تک دلتوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے اور حکومت خاموش ہے . اتر پردیش میں اب بھی یہی  بر تری جاری ہے . کشمیری پنڈتوں کے لئے ہم یو این میں جانے کو تیار ہیں ، انہیں دہلی میں بسنے دیا جاتا ہے لیکن لاکھوں دلتوں کا کوئی انتظام نہیں ہے . ہندوستان کی حکومت نے زمینی اصلاحات کے قانون ایمانداری سے کبھی نافذ نہیں کئے اور اس لئے ہر ایک ریاست میں دو چار بڑی ذاتیں دلت عزت کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہتی ہیں ، زمینوں پر قبضہ کرتی رہتی ہیں اور انہیں احترام کی زندگی بھی نہیں جینے دیتیں . بھارت کے ذات وادی گاؤں دلتوں کو رکھنا نہیں چاہتے اور اگر رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی عزت کو کچل کر اور غلامی کی زندگی جی کر . کشمیری برہمنوں کی فکر کرنے والی حکومت اور وہ تمام رہی ہیں دلتوں کی عزت اور احترام کے لئے انہیں کیوں نہیں  دوبارہ  بساتی . کیوں نہیں حکومت دلتوں کو دہلی ، بمبئی ، کلکتہ ، بنگلور، چنئی ، لکھنؤ ، حیدرآباد وغیرہ جگہوں پر عزت کے ساتھ بساتیں ؟ اگر ایسا ہوا تو دلتوں کو گائوں سے باہر بھگانے والوں کے منہ پر سب سے بڑا طمانچہ ہو گا . لیکن منو وادی نظام میں ایسا شاید ہی ممکن ہو پھر بھی ہم خاموش نہیں رہ سکتے .

بابا صاحب  کی کمیونٹی اب لڑنے کے لئے تیار ہے ، وہ مرنے کے لئے تیار ہے لیکن اپنی عزت پر ایسے ظالمانہ حملہ نہیں برداشت کرے گی . بھارت کی تمام سرکار یںمکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ  منو واد کے شاگرد اقتدار کے ہر کوریڈور پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور جب تک ایسا رہے گا بھارت میں جمہوریت لٹتی رہے گی کیونکہ ان کی  وفاداری اپنی ذات سے ہے نہ بھارت کے آئین سے . اس سوال پر ہمیں آخری جنگ کے لئے تیار رہنا پڑے گا. سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی روٹی سیکیں گی اور نفع نقصان کے حساب سے باتیں کریں گے . کچھ اب چپ رہیں گے اور ' وقت ' پر بولیں گے . ایسے تمام لوگوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے . آج میں کھل کر کہتا ہوں لعنت ہے ایسے ملک اور ایسے معاشرے پر جہاں ایسے غلط کاموں کے باوجود بھی ہم گھروں پر بیٹھے رہیں . جب تک ایک بھی عورت کے ساتھ ایسے سنگین حرکت ہوتی رہیں گیں ہم بھارت کو ناشائستہ ثقافت کا اڈہ کہتے رہیں گے جہاں انتخابات کی سیاست آپ کے سارے گناہ دھو دیتی ہے اور اس لئے دلتوں کو آج تک انصاف نہیں مل پایا ہے .
ودیا بھوشن راوت
(ودیا بھوشن راوت ، مصنف انسانی حقوق کے کارکن اور امبیڈکروادی سماجی کارکن ہیں .)

Login to post comments