Print this page

پہلا وکٹ گرا!

خرداد 16, 1393 627
Rate this item
(0 votes)

ہندوستان کے انتخابی نتائج اور مودی کی جیت کی گونج دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے۔داخلی او ر خارجی تو پر اس کے اثرات صاف نظر

آرہے ہیں۔۔اندرون ملک سے لے کر مسلم دنیا کے ممالک بشمول عرب دنیا اور مشرق وسطیٰ کے اخبار‘ ٹی وی چینلوں پر تاثرات کی بھرمار ہے۔اپنے نام اور حلیہ کے سبب آئی ٹی پروفیشنل محسن صادق نفرت پر مبنی سیاست کا شکار ہوچکا ہے۔تین دن پہلے یہ واقعہ پیش آیا۔ پہلے تو یہی لگا تھا کہ یہ افواہ ہے جبکہ کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر شیواجی مہاراج کے قابل اعتراض تصاویر لگائے جانے پر فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔اس معاملہ میں گرفتاریاں بھی ہوئیں اس لئے لگا کہ معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا لیکن نہیں‘ پونے کے ہڈپسر علاقہ میں رہنے والے انجینئر محسن شیخ کو کچھ ہندو انتہا پسندوں نے پیر کی رات قتل کر دیا جس کے ساتھ ہی پیغام فاروڈ کیا گیا کہ پہلا وکٹ گرا!۔ محسن کام کے بعد گھر واپس آ رہا تھا۔اس کے ساتھ یوں تو ریاض بھی تھا تاہم مارنے والوں نے اسے نشانہ اس لئے بنایا کیونکہ اس نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی اورچہرہ پر داڑھی بھی رکھی ہوئی تھی۔ اگر یہ جرم ہے تو اس کے علاوہ اس کا اور کوئی جرم نہیں تھا۔ قابل اعتراض تصاویر کے پھیلاو ¿ سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اسے محض مخصوص شناخت کی وجہ ماردیا گیا۔ مہاراشٹرریاستی اسمبلی کے انتخابات کی تیاری زوروں پر ہے۔مرکز میں فرقہ اوریت کی بنیاد پر ووٹوں کے ارتکاز سے سبق حاصل کرتے ہوئے ریاست میںتشددکا باب کھل چکا ہے۔ ایسے میں ان مسلمانوں کی حالت نا قابل بیان ہے جہاںوہ کم تعداد میںآباد ہیں۔ان کی جان و مال کو زبردست خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
 
شرارت کا مل گیابہانہ :
چند روز قبل فیس بک پر شیواجی مہاراج اور شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے بارے میں انتہائی طور پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کیخلاف شیوسینکوں نے زبردست احتجاج کیا‘دریں اثنا کسی نے یہ افواہ پھیلادی کہ مذکورہ مواد کسی مسلمان نے پوسٹ کیا تھا ، بس پھر کیا تھا مسلمانوں کے خلاف محاذ قائم ہو گیا‘دکانیں مبینہ طور پر لوٹی اور جلائی جانے لگیں‘لیکن جب پولس نے تصدیق کی کہ ملزم مسلمان نہیں ہے اور اسکی نشاندھی بھی ہو گئی ہے جو غیر مسلم ہے ‘اس کے باوجود تشدد کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی اور شر پسندوں نے آزادی کے ساتھ دکانوں کو نشانہ بنایا۔جب پولس نے ان کے ساتھ اتنی سختی نہیں برتی جتنی کہ برتنی چاہئے تھی تو ان کے حوصلہ مزیدبلندہوگئے اور انکے نشانے پر مسجد اور مدرسے آگئے اور درجنوں مسجدوں کو ان شر پسندوں نے نشانہ بنایا‘آگ کے گولے پھینکے اور اندر گھس کر امام صاحب اور مدرسے کے بچوں کو مارا پیٹا‘پو نے ضلع کے کئی گاو ¿ں میں ایسے قابل مذمت واقعات ہوئے لیکن پولس کو جس طرح سے کاروائی کرنا چاہئے تھی نہیں کی۔ آج نہ صرف پونے بلکہ احمد نگر اور جام کھیڑ کے مسلمانوں میں زبردست خوف و ہراس پایا جا رہا ہے لیکن ان کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں؟ فیس بک پر کسی شرپسند نے جوبالآخر ہندوثابت ہو ‘سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی سزا مسلمانوں کو کیوں دی جارہی ہے‘آخرمسلمانوں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟مسلمان تو خود مظلوم ہے‘وہ اپنے تحفظ کیلئے ہی پریشان ہے‘بھلا وہ اس قسم کی شرارت کیوں کرے گا؟لیکن ایک بہانہ مل گیا جس کی آڑ میں شرپسندوں کو موقع مل گیا۔

نجمہ ہپت اللہ کی مہربانی:
سونے پر سہاگہ قوم پرست بی جے پی کی نئی حکومت میں نجمہ ہپت اللہ کو ہندوستان میں اقلیتوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔نجمہ ہپت اللہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی نواسی ہیں۔جبکہ مولانا آزاد نے تقسیم ہند کی بھی مخالفت کی تھی اور پھر مسلمانوں سے اس بات کی پرزور وکالت بھی کہ وہ ہندوستان چھوڑ کر نہ جائیں کیونکہ انھیں خطرہ تھا کہ ’ایک ایسا وقت بھی آسکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جداگانہ حیثیت کا دعوی لے کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔‘نجمہ ہپت اللہ نے اپنی زیادہ تر سیاسی زندگی کانگریس میں گزاری لیکن 2004 میں کانگریس کی اعلی قیادت سے ناراض ہو کر بی جے پی میں شامل ہوگئی تھیں۔ اس وقت کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ کانگریس اقتدار میں لوٹنے والی ہے۔10سال کے سیاسی ’بن باس‘ کے بعد جب انھیں وزارتی کونسل میں شامل کیا گیا تو انھوں نے حلف اٹھانے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر ان لوگوں کے مسائل کا ازالہ کردیا جنہوں نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور جو اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ملک کی ترقی میں انھیںمساوی حیثیت نصیب نہیںہوئی۔حکومت کا واحد مسلم چہرہ ہونے کے ناطہ بھلا وہ کوئی تاریخ ساز کارنامہ کیسے نہ انجام دیتیں۔عہدہ سنبھالنے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر انھوں نے مسلمانوں کیلئے وہ کر دکھایا جو 67 سال میں تمام حکومتیں مل کر بھی نہیں کر سکیں۔نجمہ ہپت اللہ کا فارمولا کافی سادہ ہے: ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ نہ انھیں اقلیت کہا جاسکتا ہے اور نہ انھیں ریزرویشن کی ضرورت ہے، اقلیت تو پارسی ہیں، جنہیں بچانے کی ضرورت ہے!

اپنی صلاحیت کی وجہ سے:
نجمہ بہت پڑھی لکھی خاتون ہیں، لہذا یہ بات انھوں نے سوچ سمجھ کر ہی کہی ہوگی۔ اگر مسلمان اقلیت نہیں ہیں تو ظاہر ہے کہ بحیثیت اقلیت وہ جو شکایتیں کرتے رہتے ہیں ان کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔ انھوں نے غیر روایتی سوچ کا مظاہرہ کیا ہے، انھیں اکثریت کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری بھی سونپ دی جانی چاہیے!ظاہر ہے کہ کسی بھی نظام حکومت میں انصاف پسند حکمراں یہ کوشش کرتے ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو، اسی لیے نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ ملک کے پارسیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جبکہ خود پارسی مانتے ہیں کہ ملک میں ان کی تعداد اب تقریباً 45 ہزار سے زیادہ نہیں ہے، اور وہ تیزی سے کم ہو رہی ہے۔اسی لیے کانگریس کی حکومت نے ان کی افزائش نسل کیلئے ’جیو پارسی‘ کے نام سے مالی اعانت کی ایک سکیم شروع کی تھی۔اس سلسلہ میں تو حکومت شاید اور زیادہ کچھ نہ کرسکے لیکن اگر نجمہ ہپت اللہ انفرادی طور پر ہر پارسی سے ملنے کے بعد بھی ان کے باقی مسائل حل کرنا چاہیں گی تب بھی دو چار دن میں یہ کام نمٹ سکتا ہے۔ اس کے بعد باقی 5 سال وہ کیا کریں گی؟اور جہاں تک مسلمانوں کیلئے ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کا سوال ہے، نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اور انھوں نے خود اپنی مثال بھی دی کہ مجھے دیکھئے، میں اپنی صلاحیت کی وجہ سے یہاں تک پہنچی ہوں!بلا شبہ ان کی زندگی کا سفر غیر معمولی ہے اور ان کی یہ وضاحت بھی! ورنہ اس سے پہلے بہت سے لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ انھیں مسلمان ہونے کی وجہ سے ہی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے!

ایک نظر تجزیات پر:
خارجی طورپر مسلم اکثریت والے ممالک کے لوگ زیادہ تر مودی کو گجرات فسادات کے نظریہ اور ہندو لیڈر کے طور دیکھتے آئے ہیں لیکن اب جبکہ وہ ہندوستان کے وزیر اعظم بن گئے ہیں تو بیرونی دنیا ان کو ایک بین الاقوامی لیڈر کے طور پر پرکھ رہی ہے۔ مودی پر پاکستان سے آنے والے ردعمل کا کافی تجزیہ ہوا ہے اور ایسے میں یہ جاننا دلچسپ ہے کہ باقی مسلم اکثریت والے ممالک میں مودی کے بارے میں کیسی رائے ہے۔لندن میں بی بی سی نیوز روم میں عربی سروس اور فارسی سروس بھی خاموش نہیں ہے۔بی بی سی فارسی سروس کے امید پرسانی زاد بتاتے ہیں، ’یہ سچ ہے کہ مودی کہ تصویر ہندو رہنما کی رہی ہے اور ایران کے میڈیا میں بھی یہی تصویر ابھر کر آئی ہے۔ لیکن ایران میں ایک کلاس میں دوسری تصویر بھی سامنے آئی ہے اور وہ یہ کہ یہ ساکھ مکمل سچ نہیں ہے ، شاید ہمیں یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگوں نے مودی کو ووٹ دیا ہے۔‘جبکہ بی بی سی عربی سروس کی دینا دمرداش کے مطابق عرب ممالک میں مودی کی مشکوک تصویر ہے۔دیناکے بقول، ’گجرات فسادات سے مودی کا نام وابستہ رہا ہے اس لیے لوگوں کے دل میں شک ہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ان کا کام کرنے کا انداز کیسا ہو گا، مسلمانوں کو لے کر ان کا رخ کیسا ہوگا۔ تاہم جیت کے بعد تقریر میں مودی نے سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی ہے۔ لیکن مودی کی اسرائیل نواز پالیسی کے سبب عرب کے لوگوں میں تشویش بھی ہے۔‘مشرق وسطی میں سوشل میڈیا اور اخبارات میں بھی مودی کے حوالے سے مشترکہ رائے نظر آئی ہے۔ قطر کے وزیر اعظم نے تو مودی کو جیت کی مبارک باد بھی دی ہے جس کے جواب میں مودی نے ٹویٹ بھی کیا۔

کیسی ہوگی خاجہ پالیسی؟
یوں تو گزشتہ 10‘15 سال میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی کم و بیش ایک جیسی ہی رہی ہے لیکن اب کئی لوگوں کی نظریں مودی کی نئی غیر ملکی پالیسی پر ہوں گی جس میں عرب ممالک اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی کے آنے سے مسلم اکثریت والے ممالک میں ہندوستان کی شبیہ اور رشتوں پر کتنا اثر پڑے گا۔مشرق وسطی امور کے ماہر قمر آغا کے بقول ’جہاں تک عرب ممالک میں عام لوگوں کی رائے ہے تو یہ معنی نہیں رکھتی کیونکہ وہاں جمہوریت نہیں ہے۔ جہاں تک مودی کی تصویر کی بات ہے تو ایک شخص کی وجہ سے عرب ممالک سے رشتے خراب ہونے والے نہیں ہیں۔ ویسے بھی عرب اور مشرق وسطی میں ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی رشتے رہے ہیںجبکہ ہندوستان کی پالیسی واضح ہے۔ وہ عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیتا اور جہاں ضرورت ہو وہاں حمایت بھی کرتا ہے جیسے فلسطینیوں کے مسئلے پر وہ حمایت کرتا آیا ہے۔‘ایک طرف جہاں ہندوستان کے ایران جیسے ممالک کے ساتھ اہم تجارتی اور ثقافتی رشتے ہیں تو نریندر مودی کو اسرائیل کے بھی نزدیک سمجھا جاتا رہا ہے۔ 2002، 2003 میں بی جے پی کی حکومت میں ایریل شیرون وہ پہلے اسرائیلی لیڈر تھے جو ہندوستان آئے جبکہ گجرات میں اسرائیل نے بڑے پیمانہ پر سرمایہ کاری بھی کی ہے۔اسرائیلی میڈیا میں مودی کی جیت کو لے کر زبردست جوش ہے۔ ایک اسرائیلی اخبار کی شہ سرخی تھی۔ کیا مودی اسرائیل کیلئے سب سے بہترین وزیر اعظم ہوں گے؟

مسئلہ ہے تحفظ کا:
 انٹرنیشنل بزنس ٹائمز نے کچھ وقت پہلے لکھا تھا، ’مودی جنوبی ایشیا میں اسرائیل کے بہترین دوست ہوں گے۔‘ایسے میںسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عرب دنیا، مشرق وسطی کے ممالک اور اسرائیل کے درمیان مودی حکومت کیسے تال میل پیدا کرے گی؟جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ویسٹ ایشین اسٹڈیز کے پروفیسر گرجیش پنت اس بات سے متفق ہیں کہ بی جے پی اسرائیل کی حامی رہی ہے اور اسرائیل بھی چاہے گا کہ دونوں ممالک کے تعلقات آگے بڑھیں لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسلامی ممالک سے ٹکراو رکھنے کا معاملہ نہیں ہوگاجبکہ ہندوستان کو متوازن انداز میں ہی چلنا ہوگاجبکہ فریقین کا ایک دوسرے پر کافی انحصار ہے۔ ایران کے ساتھ ہی دیکھئے تیل کی وجہ سے، ہندوستان وہیں دیکھے گا۔عجیب بات یہ ہے کہ پوری انتخابی مہم کے دوران خارجہ پالیسی پر مودی بہت زیادہ کچھ نہیں بولے تاہم آنے والے دنوں میں لوگوں کی نظر ان کی خارجہ پالیسی پر ضرور رہے گی۔تاہم داخلی صورتحال قابل تشویش ہے۔فیس بک پر جس نے بھی ایسی شرمناک حرکت کی ہے اس کی سخت الفاظ میں نہ صرف مذمت کی چاہئے بلکہ ایسے شخص کو سخت سے سخت سزا دینا چاہئے لیکن اس کی بجائے اس معاملہ کو بلا وجہ ہندو مسلم بنیا دیا گیا جس کے نتیجہ میں مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں فساد برپا ہوگیا اور مسلمانوں کی دکانیں چن چن کر لوٹی اور جلائی گئیں۔اس وقت مہاراشٹر کے مسلمانوں کا سب سے اہم مسئلہ ان کے تحفظ کا ہے جبکہ حفاظت کرنا سرکار کی ذمہ داری ہے لیکن سرکار نے ابھی تک اس جانب کوئی موثر اقدام نہیں کیاہے۔ مہاراشٹر حکومت سے وزارت داخلہ کی رپورٹ طلبی دیکھئے کیا گل کھلاتی ہے جبکہ وزارت داخلہ نے انجینئر کے قتل معاملہ میں از خود نوٹس لیا ہے۔اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وزارت داخلہ نے مہاراشٹر حکومت سے پوچھا ہے کہ اس معاملہ میں اب تک کیا کارروائی ہوئی ہے ؟
ایس اے ساگر

Login to post comments