×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ

June 06, 2014 509

سنہ 1930 میں یوروگوائے میں شروع ہونے والے فٹبال کے عالمی مقابلوں نے عالمی جنگ، قدرتی آفات اور دہشت گردی کے واقعات کے

پیش منظر میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔دعوتی بنیاد پر 13 ممالک کی شرکت سے جن مقابلوں کا آغاز ہوا تھا، آج ان میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے 200 ممالک کی ٹیمیں مقابلہ کرتی ہیں۔لاطینی امریکہ کے ملک یوروگوائے کے حصے میں 1930 میں ہونے والے پہلے ٹورنامنٹ کی میزبانی آئی جس کے بعد براعظم یورپ کے دو ممالک اٹلی اور فرانس اس کے میزبان ٹھہرے۔
پہلے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیم کی فتح کا رواج دوسرے ورلڈ کپ میں بھی جاری رہا لیکن پھر اٹلی کی ٹیم چار برس بعد فرانس میں یہ مقابلہ جیت کر اعزاز کا دفاع کرنے والی پہلی ٹیم بنی۔دوسری جنگِ عظیم نے دنیا بھر کی طرح کھیلوں کے ان عالمی مقابلوں کو بھی متاثر کیا اور فٹبال کا اگلا ورلڈ کپ 12 برس بعد ایک بار پھر لاطینی امریکہ میں منعقد ہوا۔اس مرتبہ میزبان اور ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم برازیل تھی جسے فائنل میں یوروگوئے کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔1954 میں اس ٹورنامنٹ کی میزبانی سوئٹزرلینڈ کو ملی اور مغربی جرمنی نے برن میں کھیلے گئے فائنل میں ہنگری کو شکست دی۔ اس میچ میں جرمنی کی فتح کو ’برن کا معجزہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
1958 میں یہ مقابلے یورپی ملک سویڈن میں منعقد ہوئے اور فائنل میں برازیل کے 17 سالہ فٹبالر پیلے نے دو گول کر کے نہ صرف اپنی ٹیم کو چیمپیئن بنوایا بلکہ وہ خود دنیا بھر میں مشہور ہوگئے۔چار برس بعد یہ مقابلے جنوبی امریکی ملک چلی میں اس وقت منعقد ہوئے جب ملک ایک شدید زلزلے کے اثرات سے نبردآزما تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں فتح ایک بار پھر برازیل کے حصے میں آئی۔
1966 میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کو اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کا موقع ملا اور انگلش ٹیم ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے فائنل میں پہنچی۔
فائنل میں جیف ہرسٹ مردِ میدان ثابت ہوئے اور ان کی ہیٹ ٹرک نے انگلینڈ کو پہلی بار جولیئیس ریمٹ ٹرافی اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔میکسیکو میں منعقد ہونے والا یہ ورلڈ کپ تاریخ کا پہلا فٹبال کا ٹورنامنٹ تھا جسے دنیا بھر میں ناظرین نے رنگین ٹی وی پر دیکھا۔اس ٹورنامنٹ میں آغاز سے اختتام تک برازیلی ٹیم چھائی رہی اور تیسری مرتبہ یہ اعزاز جیتنے میں کامیاب رہی۔
مغربی جرمنی نے سرد جنگ کے زمانے میں 1974 میں عالمی کپ کی میزبانی کی۔فائنل میں میزبان ملک کا مقابلہ ایک اور یورپی ملک دی نیدرلینڈز سے تھا جن کی ’ٹوٹل فٹبال‘ سے شائقین محظوظ تو ہوئے لیکن فتح مغربی جرمنی کے حصے میں ہی آئی۔لاطینی امریکی ملک ارجنٹائن جب 1978 میں فٹبال کے ورلڈ کپ کا میزبان بنا تو وہاں فوجی حکومت تھی۔میزبان ملک کے فاتح رہنے کا چلن ان مقابلوں میں بھی جاری رہا اور ماریو کیمپس نے ارجنٹائن کو پہلی بار فٹبال کی دنیا کا بادشاہ بنا دیا۔
جنرل فرانکو کی موت کے سات سال بعد ایک جمہوری سپین ورلڈ کپ کا میزبان بنا۔لیکن یہ میزبانی اسے ٹائٹل نہ دلوا سکی اور فائنل میں فتح اٹلی کے ہاتھ آئی اور پاؤلو راسی نے اپنی اطالوی ٹیم کو تیسری مرتبہ عالمی چیمپیئن بنوا دیا۔ یہ میکسیکو کے لیے ورلڈ کپ کی میزبانی کا دوسرا موقع تھا اور یہ ٹورنامنٹ ایسے وقت میں ہوا جب اس کے آغاز سے آٹھ ماہ قبل وہاں شدید زلزلہ آیا۔یہ ورلڈ کپ ارجنٹائن کے سپر سٹار ڈیاگو میراڈونا کا ٹورنامنٹ کہا جاتا ہے جنھوں نے ایک لحاظ سے تنِ تنہا ارجنٹائن کو دوسری مرتبہ یہ اعزاز دلوا دیا۔
آٹھ برس کے وقفے کے بعد ورلڈ کپ کی میزبانی ایک بار پھر یورپ کو ملی اور میزبان تھا تین مرتبہ کا چیمپیئن اٹلی۔یہ ٹورنامنٹ ٹیموں کے دفاعی اور منفی کھیل اور کم گولوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔1966 کے بعد ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی بہترین کارکردگی کے باوجود فتح ان سے دور رہی اور مغربی جرمنی تین بار عالمی چیمپیئن بننے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوا۔
تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکہ کو فٹبال کا عالمی میلہ سجانے کا موقع ملا اور امریکی عوام کے جوش و خروش نے اس کا لطف دوبالا کر دیا۔اس ٹورنامنٹ کا فائنل اٹلی کے روبرٹو بیجیو کی پنلٹی کک کی وجہ سے یادگار بن گیا جو اٹلی کی شکست اور برازیل کے چوتھی مرتبہ چیمپیئن بننے کی وجہ بنی۔ ایک بار پھر ورلڈ کپ میں میزبان ملک کے جیتنے کی روایت زندہ ہوئی جب 1998 میں فرانس نے یہ ٹورنامنٹ جیتا۔فرانس کی کثیر الثقافتی ٹیم کے لیے زین الدین زیدان ایک مثال ثابت ہوئے اور ان کا جوش فرانس کے لیے پہلا ورلڈ کپ جیتنے کی اہم وجہ بنا۔
نئی صدی کا پہلا فٹبال ورلڈ کپ پہلی مرتبہ ایشیا میں منعقد ہوا اور میزبانی مشترکہ طور پر جاپان اور جنوبی کوریا کے حصے میں آئی۔اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز برازیل کے رونالڈو کو حاصل ہوا جنھیں سنہری جوتا اور ان کی ٹیم کو ورلڈ کپ کی سنہری ٹرافی ملی۔یہ برازیل کا پانچواں ورلڈکپ تھا۔
یہ مشرقی اور مغربی جرمنی کے ایک ہوجانے کے بعد پہلا موقع تھا کہ ورلڈ کپ کا میزبان یہ یورپی ملک بنا۔
فائنل میں بھی دو یورپی ٹیمیں ہی مدِمقابل آئیں لیکن فتح اٹلی کے حصے میں آئی اور نامرادی فرانس کا مقدر بنی۔اس ورلڈ کپ کے فائنل کو زین الدین زیدان کی اس ٹکر کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا جس کے نتیجے میں انھیں میدان بدر کر دیا گیا۔ ایشیا کے بعد اب براعظم افریقہ کے پہلی بار ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے کی باری آئی اور یہ موقع جنوبی افریقہ کو ملا۔اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ہی سپین کو فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا اور یہ پیشین گوئی صد فیصد صحیح ثابت ہوئی۔ہالینڈ کو شکست دے کر ہسپانوی ٹیم نے اپنا پہلا عالمی کپ جیتا اور اب چار برس بعد جب وہ برازیل میں اس کا دفاع کرنے جا رہی ہے تو وہ پھر فیفا کی عالمی درجہ بندی میں سرِ فہرست ہے۔

Last modified on Friday, 06 June 2014 13:59
Login to post comments