×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

مہاراشٹر کی مہابھارت

June 07, 2014 545

جمہوری سیاست کی مثال آسمانی جھولے کی سی ہے۔ اس میں ایک طرف کچھ لوگ اوپر کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں تو دوسری

جانب کچھ اور لوگ نیچے کی طرف جارہے ہوتے ہیں۔ اس جھولے میں اوپر جانے والا اپنے سامنے نیچے آنے والے کو دیکھ کرخوش تو لیکن اس سے عبرت نہیں پکڑتا۔ اس کے برعکس نیچے آنے والے چونکہ آگیکی جانب ہوتے ہیں اس لئے وہ نہ بلندیوں کی سیر کرنے والے کو نہیں دیکھ پاتے ہیں۔ ویسے اگر عروج والے نظر بھی آئیں تو زوال خوردہ اپنی آنکھوں پر پردہ ڈال لیتے ہیں۔ اس سیاسی جھولے پر سوارکوئی نیچے آنے والا اپنی گرواٹ کوسرے سے تسلیم ہی  نہ کرتا ہیبلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس بیچارے کویہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ وہ بلندیوں سے پستیوں کی جانب محوِ سفر ہییہاں تک کہ وہ زمین پر چاروں شانے چت ہوجاتا ہے۔
عام آسمانی جھولوں اور سیاسی جھولے میں ایک بنیادی فرق  یہ ہے کہ یہ گھڑی کی مانند صرف ایک رخ پر نہیں گھومتا بلکہ کبھی کبھار درمیان ہی میں اس کی سمت بدل جاتی ہیجس کے نتیجے میں اچانک اوپر جانے والا نیچے آنے لگتا ہے اور نیچے آنے والا اوپر کی جانب چل پڑتا ہے۔ اس سیاسی جھولے کی آرامدہ کرسیوں پر براجمان ہوکرسیاستداں حضرات آسمان کی سیر کرتے ہیں۔ پارٹی کے عام  کارکنا ن زمین پر کھڑے ہوکر اسے گھماتے ہیں اورتماش بین  عوام اپنے رہنماوں کو اوپر نیچے آتے جاتے دیکھ کر بغلیں بجاتے ہیں۔ مہاراشٹر کی مہابھارت سے قبل دہلی کی  ایک دلچسپ خبرکو مندرجہ بالا مثال کی روشنی میں دیکھیں۔
دس سال قبل بھارت ورش پر متحدہ قومی محاذ کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ اس حکومت میں اڈوانی جی نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ تھے  اس طرح ان کے قبض? قدرت میں ایوانِ پارلیمان میں دو دفاتر تھے۔ جب اقتدار سے محروم ہوئیتو حزب اختلاف کے لیڈربنا دئیے گئے اور وزیر مملکت کے ٹھاٹ باٹ سمیت ایک دفتر سے نواز دئیے گئے۔ جب وہ کرسی بھی پارٹی نے چھین لی تو ان کو این ڈی اے کا کارگزار صدر بنا دیا گیا۔ چونکہ این ڈی اے کی صدارت اٹل جی کے نام تھی اور وہ سیاست سے سبکدوش ہوچکے تھے اس لئے اس کے دفتر پر اڈوانی جی کا بلا شرکت غیرے قبضہ ہوگیا اس طرح گویا دو دفاتر کا مالک ایک دفتر پر آگیا لیکن اس کے دروازے پر دو لوگوں کا یعنی اٹل جی اور اڈوانی جی کا نام لکھا تھا۔یہ اس دور کی بات ہے جب ہندوستان میں یو پی اے کی حکومت تھی۔
سیاسی پہیہ گھوم رہا تھا اور پھر یہ ہوا کہ این ڈی اے توکجابی جے پی کو اکثریت سے سرفراز ہوگئی۔ اڈوانی سات لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے پارلیمان میں  پہنچے  لیکن مودی نے 75 سال کا فرمان جاری کرکے اڈوانی جی کی وزارت کا پتہ صاف کر دیا۔ اس کے بعد یہ قیا س آرائی ہونے لگی کہ اڈوانی جی کو ایوان  زیریں کا صدر یعنی اسپیکر بنا دیا جائیگا لیکن آگے چل کراس کرسی پرسمترا مہاجن کو بٹھا دیا گیا۔ اڈوانی جی کی دنیا  اب این ڈی اے کے دفتر تک سمٹ گئی تھی جس کی اب کوئی خاص ضرورت تھی نہ اہمیت مگر سر چھپانے کا ایک آسرا ضرور تھا۔ اڈوانی جی کے ستارے ہنوز گردش میں تھے کہ جمعرات کی صبح اچانک این ڈی اے دفتر کے دروازے سے ان کے نام کی تختی ہٹا دی گئی۔ یہ حرکت اس لئے بلاضرورت معلوم ہوتی ہے کہ ابھی تک این ڈی اے کے نئے لیڈر کا انتخاب نہیں  ہوا ہے اور  پھر یہ حرکت صرف  اڈوانی جی کو رسوا کرنے کی غرض سے کی گئی جبکہ اٹل جی کا نام ہنوز اقائم و دائم(اٹل)ہے۔
اڈوانی جی کی یہ درگت دیکھ کر بی جے پی کی فتح کے بعد ان کے آنسو یاد آتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ خوشی کے آنسو تھے مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ اڈوانی جی غالباً اس وقت چشم تصور میں  اپنا یہ انجام ِ بد دیکھ رہے تھے  اور کیوں نہ دیکھتے اس لئے کہ سنگھ پریوار کی روایات سے وہ اچھی طرح واقف ہیں۔ خود انہوں نے بی جے پی کیبانی صدر اٹل بہاری واجپائی کو  1980 میں ہونے والی انتخابی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا کر جس طرح پارٹی کی صدارت سے ذلیل و رسوا کرکے نکالا تھا وہ منظراس وقت  ان کی آنکھوں میں گھوم گیا ہوگا اور وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ اب ان کے ساتھ کیا کچھ ہونے والا ہے  لیکن اس موقع پر مودی کو وہ کہانی یاد کرنی چاہئے جس میں ایک بچے نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ اس چادر کو جسے آپ داداجان کو گھر سے نکالتے ہوئے دے رہے ہیں دو حصے کردیجئے۔ جب باپ نے پوچھا وہ کیوں تو بچے کا جواب تھا تاکہ میں آپ کورخصت کرتے ہوئیباقیماندہ حصہ دے سکوں۔  
نریندر مودی بھی چونکہ اس جمہوری سیاسی  جھولے کا جھلکڑ ہے اس لئے اس کو بھی ایک دن  اوپر سے نیچے آنا ہی ہے لیکن اس سفر کا آغاز اس قدر جلد ہو جائیگا اس کا اندازہ اس کے بڑے سے بڑے دشمن کو نہیں رہا ہوگا۔  مشیت ایزدی نے جس طرح اڈوانی کو سزا دینے کا کام اس کے سب سے بڑے چیلینریندر مودی سے لیا اسی طرح مودی کے رتھ کی ہوا نکالنے کا  کام بی جیپی کے سب سے قدیم ہمنوا اور ہندوتوا کے علمبردار شیوسینا سے لے رہی ہے۔  سنا ہے ناکامی رشتوں کو توڑ دیتی ہے اور  کامیابی لوگوں کو جوڑ دیتی ہے لیکن اگرتعلقات میں حرص وہوس کا زہر گھل جائے تو فتحمندی کا سیسہ بھی بیکار ہوجاتا ہے۔  سینا اور بی جے پی نے اس بار مہاراشٹر میں  ایسی غیر معمولی کامیابی حاصل کی جس کا تصور بھی محال تھا۔ کانگریس کو ریاستِ مہاراشٹر میں  17 سے 2 پر پہنچا دینے کے بعد شیوسینا کو محسوس ہوا کہ اب بی جیپی اس پر منحصر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے بل بوتے پر کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔
اس احساسِ خوف نے شیوسینا کو چوکنا کردیا اور اس نے یکے بعد دیگرے بی جے پی کو تین جھٹکے دے دئیے۔ سب سے پہلے نواز شریف کی مخالفت جس کو بی جے پی نے  چالاکی کے ساتھ نظر انداز کردیا۔ اس کے بعد وزارت کے قلمدان کو لے کر  ناراضگی جو بجا معلوم ہوتی ہے۔  فی الحال پارلیمان میں ایل جے پی کے 6 ارکان ہیں اس کو ایک اہمیت کی حامل  کابینی وزارت مل گئی۔ آر ایل ایس کے واحد ایم پی خشواہا کوریاستی وزیر بنا دیا گیامگر شیوسینا کو 18 ارکان پارلیمان کے باوجودایک غیر اہم وزارت دے کر ٹرخا دیا گیا۔ اس کے برعکس مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والیبی جے پی کے کل پانچ لوگوں کو وزارت سے نوازہ گیا جن میں سے دو کابینی اور تین ریاستی وزیر بنے۔ اس ناانصافی کا ردعمل تو ہونا ہی تھا لیکن اس آگ  میں راج ٹھاکرے کے انتخاب لڑنے کے فیصلے نے تیل ڈال  دیا۔ اس سے پہلیکہ راج کا وزیراعلیٰ بن جاناذرائع ابلاغ میں بحث  کا موضوع بنتا سینا نے ادھو ٹھاکرے کو  وزیراعلیٰ کا امیدوار بنا دیا۔
ادھو ٹھاکرے کوجس جلسے میں امیدوار بنایا گیا اس میں  بی جے پی ممبئی کے کامیاب ہونے والے ارکان پارلیمان کی پذیرائی انل پرب نامی معمولی رہنما کے ذریعہ کرواکربی جے پی کی توہین کی گئی۔ اس کے بعد ادھو ٹھاکرے نے اپنی تقریر میں کہا کہ دہلی پر قبضہ سیآنجہانی  بال ٹھاکرے کا سپنا ساکار نہیں ہوا بلکہ مہاراشٹر میں کامیابی کے بغیر یہ خواب ادھورا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے اپنی 20 منٹ کی تقریر میں ایک مرتبہ بھی نریندر مودی کا ذکر نہیں کیا اور کامیابی کا سہرہ شیوسینکوں اور بال ٹھاکرے کے سر باندھ دیا۔ کون جانتا تھا کہ اولین اجلاس  پارلیمان سے قبل نریندر مودی کو اپنے قریب ترین حلیف کے ہاتھوں رسوائی کا یہ دن دیکھنا پڑے گا۔ بی جے پی اس اعلان  پر جز بزتو ہوسکتی ہے لیکن اعتراض نہیں کرسکتی کہ ادھو کو انتخاب سے قبل وزیراعلیٰ کا امیدوار کیوں بنا دیا گیا ؟ جبکہ خود بی جے پی نے نریندر مودی کو وزیر اعظم کا امیدوار بنا یا تھا۔ دہلی میں مودی تو ممبئی میں ٹھاکرے اس میں کیا مسئلہ ہے؟ بی جے پی کو چونکہ اس بار 23 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے اور شیوسینا کو صرف 18 پر اس لئے بی جے پی والے سوچ رہے ہیں وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ان کا حق بنتا ہے لیکن وہ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ سینا بی جے پی الحاق کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی اور صوبائی انتخاب میں شیوسینا زیادہ نشستوں پر انتخاب لڑے گی۔
اس بار شیوسینا کی کامیابی اس لئے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ اس نے 20 میں سے 18 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اوربیک وقت کانگریس، این سی پی کے علاوہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کا بھی مقابلہ کیا جبکہ  بی جے پی نے راج کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرلی  تھی۔ ماضی میں شیوسینکوں کو مودی کے ہندو ہردیہ سمراٹ کے لقب پر بھی اعتراض رہا ہے اس لئے کہ وہ صرف بالا صاحب ٹھاکرے کو اس کا حقدار سمجھتے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے کا گڈکری و مودی کی بنسبت  اڈوانی اور سشما سے قریب تر ہونا جگ ظاہر ہے۔  بی جے پی کا یہ اعتراض بھی بے بنیاد ہیکہ اعلان سے قبل اس کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیااس لئے کہ نتن گڈکری نے راج ٹھاکرے کے ساتھ الحاق کرنے سے قبل ادھو ٹھاکرے سے مشورہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی تھی اور نہایت خودغرضانہ شرائط پر شیوسینا کے مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس سے ہاتھ ملا لیا تھا۔ اگر بی جے پی اپنے حلیف کی پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتی ہے تو شیوسینا کو بھی اس کا حق حاصل ہے۔ مہاراشٹر کے انتخابات اکتوبر میں ہونے ہیں اور صرف چار ماہ کا وقفہ ہے  اس لئے جلدی بازی کا الزام بھی نہیں لگایا جاسکتا۔بی جیپی مہاراشٹر کے صدر دیوندرفردنویس نے یہ کہہ کر کہ ہم نے گوپی ناتھ منڈے کو چار ماہ کیلئے دہلی بھیجا ہے اپنے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کابلاواسطہ  اعلان کر ہی دیا تھا  اور ایسا کرنے سے پہلے انہوں نے بھی شیوسینا کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔
مہاراشٹر کے اندر شیوسینا کے ساتھ بی جے پی کے الحاق کا سہرہ گوپی ناتھ منڈے کے بہنوئی پرمود مہاجن کے سر ہے  اور شیوسینا بی جے پی حکومت میں گوپی ناتھ منڈے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائزر ہ چکے تھے۔ وہ ٹھاکرے خاندان سے خاصے قریب رہے ہیں۔ بالا صاحب ٹھاکرے منڈے کی علی الاعلان تعریف کیا کرتے تھے۔ فی الحال مہاراشٹر کے اندر ادھو ٹھاکرے سے زیادہ مقبول رہنما اگر حزب اختلاف کے پاس کوئی ہوسکتا تھاتو وہ گوپی ناتھ منڈے تھے  لیکن دہلی سیممبئی آتے ہوئے وہ ایک حادثے کا شکار ہو کر چل بسے۔ اس طرح بی جے پی نے اپنا وزارتِ اعلیٰ کا امیدوار کھودیا۔  منڈے کے علاوہ بی جے پی کے دیگر معروف رہنما نتن گڈکری اور ریاستی صدردیویندرفردنویس براہمن ہیں اس لئیان کی قیادت میں بی جیپی مہاراشٹر کاانتخاب نہیں جیت سکتی۔
گوپی ناتھ منڈے کا حادثہ اگر دہلی کے بجائے ممبئی میں ہوتا تو بی جے پی والے آسمان سر پر اٹھا لیتے۔ منڈے کے آبائی شہر پرلی میں عوام کے غم و غصے کا شکار نہ صرف کانگریسی وزراء   ہوئے بلکہ وزیرداخلہ و بی جے پی صدر راجناتھ، نتن گڈکری بھی ہوئے کئی بی جے پی رہنماؤں کو سنگ باری کا شکار ہوکر وہاں سیبھاگنا پڑا۔ گڈکری اور منڈے کے درمیان جاری سرد جنگ سے مہاراشٹر کا بچہ بچہ واقف ہے۔ دہلی میں بی جے پی کی حکومت کے چلتے مہاراشٹر حکومت سے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ احمقانہ ہے۔منڈے کی کار سے ٹکرانے والیگرویندر سنگھ کا خالصتانی دہشت گردی سے تعلق جوڑا جارہا ہے۔ اگلے دن آرایس ایس کے صدر موہن بھاگوت کے محافظ کی گاڑی سے ہریانہ سرکار کی گاڑی کا بھڑ جانا اور ڈرائیور سومپال کا گرفتار ی بھی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔
مہاراشٹر کے اندر بی جے پی سینا کوجو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے وہ نہ نریندر مودی کا چمتکار ہے اور نہ بالا صاحب ٹھاکرے کا آشیروادبلکہ اس کے پیچھے گوپی ناتھ منڈے کے ذریعہ قائم کئے جانے والے 6 جماعتوں کے اتحاد کا بہت بڑا دخل ہے۔ اس محاذ میں شامل رام داس اٹھاولے کے ریپبلکن دھڑے نے کسی  نہ کسی حد تک دلت ووٹوں کو بی جے پی جھولی میں ڈالا اور راج ٹھاکرے کے معاہدے نے شہری علاقوں میں بی جے پی کو فائدہ پہنچایا۔ ان کے علاوہ دیہی علاقوں میں راجو شیٹی کے سوابھیمان پکش نے مغربی مہاراشٹر کے اندر شرد پوار  اور کانگریس کے روایتی مراٹھاووٹ بنک میں سیندھ لگا کر بی جے پی کو بہت بڑا فائدہ پہنچایا۔ اس پارٹی کا ایک امیدوار کامیاب بھی ہوا۔ راجو شیٹی کے علاوہ شرد پوار کے دست راست مراٹھا رہنما ونایک میٹے کی جماعت شیوسنگرام پارٹی جو مراٹھا سماج کیلئے ریزرویشن کا مطالبہ کرکے اپنی مقبولیت میں اچھا خاصہ اضافہ کر چکی ہے اس بار زعفرانی محاذ میں شامل تھی۔ ان لوگوں نے ایک طرف تو کانگریس اور این سی پی جڑیں کھوکھلی کیں اور دوسری جانب بی جے پی کے وارے نیارے کئے۔
کانگریس این سی پی محاذ اگرصوبائی انتخاب میں دوبارہ کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے لازم ہے کہ نہ صرف ریاستی قیادت میں خاطر خواہ تبدیلی کرے بلکہ اپنے بھولے بسرے ساتھیوں  کو بی جے پی سے توڑ کر دوبارہ اپنا ہمنوا بنائے۔ اس کے بغیر مہاراشٹر کی مہابھارت میں کامیابی کا امکان  نہیں ہے۔ جس طرح بی جے پی نے پارلیمانی انتخاب کانگریسی انتشار کا فائدہ اٹھایا اگر اسی طرح کانگریس بھی زعفرانی سر پھٹول سے فیضیاب ہو جائے تو کوئی بعید نہیں کہ مہاراشٹر پھر سے کا نگریس کی جھولی میں آجائے گاورنہ اس ریاست میں زعفرانی پرچم کا لہرانا یقینی ہے۔
آج جبکہ مہاراشٹر کی مہا بھارت میں دشمنانِ اسلام آپس میں دست و گریباں ہیں۔مسلمانوں کا ایک کا قلیل  شکست خوردہ گروہ کوئی مثبت  سیاسی حکمت عملی اختیارکرنے کے بجائے دین کی دشمن سیاسی جماعتوں کے منشور میں اپنے مطالبات کا اندراج کرانے کی خاطر جھولی پسارنے پر غور کررہاہے۔ سیاسی گداگری کی  ایک شکل چند مراعات حاصل کرلینا ہے لیکن اس کی ادنیٰ ترین صورت  سیاسی جماعتوں کے مینی فیسٹو میں اپنے مطالبات شامل کروا لینا ہے اس لئے کہ فی زمانہ سیاسی جماعتوں کے نزدیک انتخابی منشور کی اہمیت ٹائلیٹ پیپر سے بھی کم ہے۔اللہ کا شکر ہے امت کا سوادِ اعظم اس احساسِ کمتری و محرومی سے محفوظ ہے۔ رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ اپنے اذنِ خاص سے دشمنانِ دین کی ہوا اکھاڑ دے اور اپنے دین کو غالب و سرخرو فرمائے کہ اسے غالب ہونا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ اس نازک گھڑی میں  امت کے اندر وہ قیادت برپا فرمائے جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا۔
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو      شرر فشاں ہو گی آہ میری، نفس مرا شعلہ بار ہو گا  
ڈاکٹر سلیم خان

Login to post comments