×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

کیا سچ میں نریندر مودی سے ڈرے ہوئے ہیں مسلمان

June 09, 2014 530

امرام ادریس نوجوان ہیں، پیشے سے ڈاکٹر ہیں. مودی حکومت بننے کے بعد انہوں نے فیس بک پر لکھا مسلمان اللہ کے علاوہ کسی سے

نہیں ڈرتا. اس سے ملتی جلتی باتیں الگ الگ کونے سے مسلسل سنائی پڑتی رہیں. ان باتوں کی گہرائی میں جائیں تو لگتا ہے ایک بے چینی ہے اس ملک کے مسلمانوں میں. وہ سکتے میں ہیں. انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے. اگرچہ ترقی پسند مسلمان ٹی وی چینل پر آ کر یہ یقین دلانے کی کوشش کریں کہ سب ٹھیک رہے گا مگر اس ملک کا مسلمان صحیح معنوں میں خوفزدہ ہے کہ پتہ نہیں اس ملک میں اب اس کا مستقبل کیا ہونے والا ہے.

عام مسلمان کو یہ ڈر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو سب سے پہلے اپنے اوپر لگے داغ کو دھونے کا موقع بھی دے سکتا ہے کہ وہ اقلیتی مخالف ہیں. حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد پہلی بار یہ ملک نظریاتی سطح پر اتنے شدید  ٹکراو کے ساتھ کھڑا ہوا ہے. ملک میں رہنے والے بیس فیصد آبادی اپنے مستقبل کو لے کر شک میں بھی ہے اور دہشت زدہ بھی. وہ اپنا درد کس سے کہے، یہ بھی اسے سمجھ نہیں آ رہا. نریندر مودی اتنی بڑے شخصیت اور اتنی بڑی طاقت کے ساتھ ان کے سامنے آئے ہیں کہ وہ انجان ہیں. اسے اس بات کا خواب میں بھی اندازہ نہیں تھا.

دراصل گجرات فسادات نے نریندر مودی کی تصویر مسلمانوں کے درمیان ولن جیسی بنا دی ہے. خود نریندر مودی نے بھی اپنی اس تصویر کو توڑنے کے کوئی  زیادہ  کوشش نہیں کی.  سخت گیر ہندوتو کے نظریہ کے لوگ نریندر مودی کی شکل کو پسند کرتے ہیں. نریندر مودی کی حکمت عملی اس ہندو کمیونٹی کے ووٹوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی تھی جو غیر جانبدار رہتے ہیں. ان کے سامنے ترقی کا لمبا چوڑا ماڈل رکھا گیا. مودی اس میں کامیاب ہوئے اور بھاری اکثریت کے ساتھ انہیں ملک کی باگ ڈور مل گئی.

ملک کے عام مسلمانوں کو خواب میں بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا مگر سیاسی تبدیلی نے انہیں بھاری تشویش میں ڈال دیا. نریندر مودی کی گجرات فسادات کی تصویر اور آر ایس ایس سے ان کے تعلق سے عام مسلمان خوفزدہ ہے. اس خوف سے نمٹنے کا کوئی راستہ بھی اسے نظر نہیں آ رہا. مگر اس کے برعکس ایک اور تصویر بھی بننے کی امید کچھ لوگوں کو پیدا ہوئی ہے. لکھنؤ کے امین آباد میں چائے کی دکان چلا رہے راشد کا کہنا ہے کہ اگر انہیں حکومت اچھی طرح سے چلانی ہے تو وہ مسلمانوں کی حفاظت کریں گے. تعلیم کے پیشے سے منسلک حسن زیدی کا کہنا ہے کہ یہ مودی کے لئے بھی ایک موقع ہے کہ جب وہ خود کو اٹل بہاری واجپئی جیسا سیکولر لیڈر ثابت کر سکتے ہیں. آخر باقی جماعتوں نے بھی مسلمانوں کو ایک ووٹ بینک کے علاوہ اور سمجھا بھی کیا ہے.

نیوز پلس کے یوپی ہیڈ آلوک پانڈے کا خیال ہے کہ مسلمان مودی سے نہیں ڈرتے. ان کے ڈرنے کی بات بے وجہ کچھ لوگوں نے پھیلائی ہے. ان کا کہنا ہے کہ گجرات میں مسلمان عوامی طور پر مودی کو ووٹ دیتے ہیں. غریب مسلمان اپنے کام میں ترقی چاہتا ہے اس لئے وہ کسی سے نہیں ڈرتا ہے. سوشل ویب سائٹ پر کچھ مسلمان ضرور ڈرتے نظر آجاتے ہیں. ملک کے مشہور شاعر منور رانا کا کہنا ہے کہ ڈر آدمی کا نہیں ہوتا نظام کا ہوتا ہے. گجرات فسادات پر انہوں نے کبھی معافی نہیں مانگی. جس سسٹم نے بے گناہوں کو گھر سے اٹھا کر انکائوٹر کے نام پر مار دیا جاتا ہو، وہاں مسلمانوں میں خوف تو واجب ہی ہے. کسی بھی مسلمان کو دہشت گرد کہہ کر بند کر دیا جاتا ہے اور کئی سال گزر جانے پر وہ عدالت سے چھوٹ جاتا ہے مگر اس کے اور اس کے خاندان کے دامن پر جو داغ لگ جاتا ہے وہ کبھی نہیں چھوٹتا. مگر ان سب حالات کے درمیان مسلمانوں کو یہیں رہنا ہے. اچھا ہو کہ مودی ایماندار بادشاہ ثابت ہوں. وہ ایک شعر کے ذریعہ اپنی بات کہتے بھی ہیں کہ مجاہدین سے اچھے تو پرندے ہیں
 شکار ہوتے ہیں لیکن کہیں نہیں جاتے.
منور رانا کا کہنا ہے کہ اگر ملک کا نصیب اچھا ہو گا تو مودی اچھا کام کر کے جائیں گے.
بی جے پی کے ریاستی ترجمان چندرموہن اس بات کو بے بنیاد بتاتے ہیں کہ مسلمان بی جے پی سے ڈرتے ہیں. مسلمانوں نے بڑی تعداد میں مودی جی کو ووٹ دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مودی جی کی حکومت میں سب کی ترقی ہو گی. ان کا کہنا ہے کہ راجستھان میں یونس خان کوپی ڈبلوڈی کا وزیر بنایا گیا ہے اور بہتر کام کر رہے ہیں. مودی جی نے کہا ہے کہ وہ 125 کروڑ عوام کے لیڈر ہیں. بی جے پی سب کا ساتھ اور سب کا یقین لے کر چلنے والی پارٹی ہے.

این ڈی ٹی وی کے مقامی ایڈیٹر اور ملک کے جانے مانے صحافی کمال خان مانتے ہیں کہ مودی کو لے کر مسلم خوف زدہ رہتے ہیں. 2002 کے فسادات میں بھلے ہی مودی جی بے قصور ثابت ہو جائیں مگر عام مسلمان کے دل میں یہ بات تو ہے ہی کہ ان فسادات میں کہیں نہ کہیں ریاست اور ریاستی حکومت کو چلانے والے لوگ شامل ہیں. ان کا کہنا ہے کہ وہ کھانا کھانے ہوٹل گئے تو وہاں کا ویٹر اور بال کٹوانے گئے تو وہاں کا حجام کہہ رہا تھا کہ انشا ء اللہ ہم ٹھیک تو رہیں گے، آخر یہ ڈر ہی تو ہے. کیونکہ یہ لائن وہ واجپئی یا منموہن سنگھ کے وزیر اعظم بننے پر کبھی نہیں بولا. ان کا کہنا ہے کہ جس طرح 1984 کے فسادات کو سکھ نہیں بھلا پاتے اسی طرح 2002 کے فسادات کو مسلمان نہیں بھلا پاتے.

کمال خان کا کہنا ہے کہ عام مسلمانوں کو لگتا ہے کہ دہلی کی حکومت میں جو آدمی بیٹھا ہے وہ ہماری قوم کا دوست نہیں ہے، اسے ہر حالت میں اپنا احترام چاہئے. جس طرح مایاوتی نے دلتوں کو زمین نہیں دی مگر آسمان دے دیا. عام مسلمانوں کو بھی لگتا ہے کہ مذہب کے نام پر اس کے ساتھ بھید بھائو نہ ہو. ان کا کہنا ہے کہ مودی جی کے اوپر بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو واجپئی کی طرح سیکولر لیڈر ثابت کریں اور مسلمانوں میں اعتماد پیدا کریں.

انڈیا نیوز یوپی کے ہیڈ وپن چوبے کا خیال ہے کہ یہ پروپیگنڈہ ہے کہ مسلمانوں کو مودی کا ڈر ہے. انتخابات سے پہلے کچھ جماعتوں نے مودی پر اسی طرح کے الزامات لگائے. مگر عوام اب بیدار ہو چکی ہے. ترقی سب سے بڑا مسئلہ ہے اب مسلم بھی حقیقت سمجھنے لگے ہیں. یہ ممکن نہیں ہے کہ مودی ملک کو بہتر بنانے کے لئے مسلمانوں کو نظر انداز کریں.

حالات کچھ بھی ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک کا مسلم سانس روکے اب وزیر اعظم نریندر مودی کے اگلے قدم کا انتظار کر رہا ہے جس پر اس کا مستقبل ٹکا ہے.
 سنجے شرما
(سنجے شرما، مصنف ویک اینڈ ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں)

Login to post comments