×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

ایسے ہی آتے ہیں دلتوں کے اچھے دن!

June 11, 2014 717

دائیں بازو کی حکومت کی طرف سے اعلان اچھے دن دوسرے لوگوں کے لئے شاید دیر سے آنے والے ہوں گے، لیکن راجستھان کے دلتوں

کے لئے تو ابھی سے آنے لگ گئے ہیں. تبھی تو دلت مظالم کے لئے بدنام زمانہ ہندوتو کی لیبارٹری مانے گئے بھیل واڑہ ضلع میں دلتوں پر طرح طرح کے ظلم ہونے لگے ہیں. ظلم پیشرو حکومت میں بھی ہوتے رہے ہیں اور اس حکومت میں بھی ہو رہے ہیں، فرق صرف اتنا سا ہے کہ پہلے سماعت ہو جاتی تھی، تھوڑی بہت کارروائی بھی ہوتی تھی، لیکن اب تو کوئی سننے والا ہی نہیں ہے، الٹا  متاثرین کو ہی دھمکایا جانے لگا ہے. تھانہ سے لے کر پولیس ہیڈ کوارٹر تک کوئی بھی سماعت کرنے کو تیار نہیں ہے، اس سے اچھے دن دلتوں کے لئے کب آئیں گے بھلا؟

  بھیل واڑہ ضلع کا سب سے قریب کے تحصیل ہیڈ کوارٹر مانڈل ہے، مانڈل تھانہ کی ناک کے نیچے ایک گاؤں ہے تھابولا جو باوڑی پنچایت کا حصہ ہے، وہاں پر 20 دلت خاندان رہائش  پذیر  ہیں، باقی گاؤں میں زیادہ تر   اعلی ذات ہندو رہائش پذیر ہیں، جس میں براہمن اور جاٹ ذات کے لوگ بڑی تعداد میں ہیں. اس   گاؤں کے گزشتہ سو سال کے معلوم تاریخ میں دلتوں پر ظلم کے کئی   قصہ موجود ہے. کبھی دلت سنتوں کی طرف سے نکالے گئے رام دیو جی مہاراج (راماپیر) کے بیوان پر پتھراؤ کیا گیا تو کبھی کوئی دلت عورت ڈائن قرار دے کر مار ڈالی گئی. یہ گاؤں، گاؤں نہ ہو کر دلتوں کے لئے  جہنم سے کم نہیں ہے. یہاں کے بزرگ دلت بتاتے ہیں کہ ان اعلی ذات ہندوؤں نے ہمیں کبھی چین سے نہیں رہنے دیا. ناانصافی اور ظلم یہاں کی فضاء میں رچا بسا لفظ ہے. یہاں کے اعلی  ذات ہندو دلتوں کو کبھی انسان ہی ماننے کو راضی نہیں ہوئے. جب بھی دلتوں نے اپنے ساتھ ہو رہی ناانصافی کے خلاف بولنے کی ہمت کی تب تب انہیں سبق سکھایا. یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے. آج بھی پورا نظام لگا ہوا ہے دلتوں کی آواز کو دبانے اور کچلنے میں. ظلم کے نئے نئے طریقہ تلاش کئے جا رہے ہیں.

 پرانی نسل نے تو تمام ظلم امن اور صبر کے ساتھ برداشت کرلئے لیکن دلت نوجوانوں نے سوچا کہ آخر کب تک سہتے رہیں گے ہم؟ انہوں نے مخالفت کرنے کا عہد کیا اور لگ گئے کام پر. حال ہی میں دو تعلیم یافتہ دلت نوجوانوں کی شادی ہونی تھی. تھابولا کے نوجوان ساتھیوں نے بزرگوں سے رائے مشورہ کیا اور طے کیا کہ اس بار دلت دولہوں کی بارات گھوڑوں پر نکالی جائے گی. 8 جون 2014 کو شادی ہونی تھی اور 6 جون کو بندوری نکالنی تھی. اس بات کی بھنک گاؤں کے اعلی ذات کو لگی تو انہوں نے صاف اعلان کر دیا کہ اگر دلت گھوڑے پر بندوری نکالیں تو دولہو ںکو جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا. آخر اعلی ذات بھی تو  باعزت ہندو ٹھہرے. وہ کس طرح نیچ کہے جانے والوں کو گھوڑے پر بیٹھا ہوا دیکھ پاتے. ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگیں. جب ان کی سماجی صحت گڑبڑانے لگی تو انہوں نے دلت دولہوں کو سبق سکھانے کی حکمت عملی بنانا شروع کر دی. دوسری طرف دلتوں نے گاؤں کے مخصوص لوگوں کی طرف سے دی گئی دھمکی کی تحریری شکایت   انتظامیہ اور تھانیدار مانڈل کو کر دی. مقررہ وقت پر پولیس سیکورٹی میں بندوری تو نکل گئی، لیکن بہت مخالفت برداشت کرناپڑی. جیسے تیسے دلت دولہے نارائن اور کیلاش تو گھوڑے پر سوار ہو کر نکل گئے پر وہ گاؤں والوں کی آنکھ کی کرکری بن گئے.

  6 مئی 2014 کو بندوری نکالی گئی اور 7 مئی سے ہی گاؤں والوں نے دلتوں کا سماجی بائیکاٹ کر دیا. دلتوں کو کرانہ تاجروں نے سامان دینا بند کر دیا. دودھ ڈیری پر دودھ لینا اور دینا بھی بند کر دیا گیا. اناج پسائی بند کر دی گئی. یہاں تک کہ جانوروں کی خوراک دینا بھی محدود کر دیا گیا. حلوائی نے دلتوں کی شادی میں مٹھائی بنانے سے انکار کر دیا اور اعلی ذات آٹو ڈرائیوروں نے دلت بچوں کو اسکول لانے لے جانا بند کر دیا. یہاں تک کہ دونوں دلت دولہوں کی بارات لے جانے کے لئے بک کی گئی گاڑی بھی آخری وقت پر نہیں آنے دی گئی. دلت محلہ میں لگنے والے سرکاری ہینڈپپ کو بھی عوامی مقام پر نہیں لگانے دیا گیا. مجبوراً دلتوں کو اپنی کھاتیداری زمین میں بورویل کھدوانا پڑا، گاؤں میں دلتوں کے گھومنے پھرنے پر اور دلتوں کے جانوروں کے سرکاری زمین پر چرنے پر بھی پابندی لگی ہوئی ہے. شکار دلت ایف آئی آر درج کروانے کے لئے تھانیدار سے لے کر پولیس سپرنٹنڈنٹ تک کے پاس جا کر فریاد لگا چکے ہیں، مگر کہیں پر بھی کوئی سنوائی نہیں ہو رہی ہے. سب سے شرمناک بات تو یہ ہے کہ سماجی بائیکاٹ کے چلتے اب ایک ماہ سے زیادہ ہو چکا ہے، لیکن مقدمہ تک درج نہیں کیا جا رہا ہے. انتظامیہ دلتوں کو ہی ڈرانے دھمکانے میں لگا ہوا ہے، جبکہ تحصیل دار سے لے کر تھانیدار اور ذیلی   افسر اور ضلع افسر تک سب کے سب  دلت کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، پر وہ صرف اپنے آقاؤں کی حاضری بجا لانے کی کوششوں میں ہیں، ان کو اپنے ہی دوست رشتہ داروں کی تکلیف سے کوئی مطلب نہیں ہے. شاید ڈاکٹر امبیڈکر نے ایسے ہی پڑھے لکھے دلتوں کو دھوکہ باز کہا ہوگا.

ٹھیک ہے، جیسا کہ انتخابات سے پہلے وعدہ کیا گیا تھا کہ اچھے دن آنے والے ہیں، تھابولا کے دلت شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ اس دور حکومت میں ان کی یہی حالت ہونے والی تھی. ایسے ہی تو آتے ہیں بی جے پی حکومت میں دلتوں کے اچھے دن!

  بھنور میگھونشی
(بھنور میگھونشی، مصنف آزاد صحافی اور سماجی کارکن ہیں.)

Last modified on Wednesday, 11 June 2014 11:17
Login to post comments