×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

دوغلہ پن یاراست بازی؟

June 16, 2014 601

دوغلہ پن کوراست بازی کی ضد شمار کیا جاتا ہے۔تقسیم وطن کے بعدہندوستان میں پہلی بار ایک غیر کانگریسی جماعت کے اپنے زور پر

اقتدار میں آنے سے بی جے پی تو شادماں ہے ہی اس کے ساتھ ہی بہت سی ہندو جماعتیں مودی حکومت کی اس جیت کوملک میں ہندوئیت کا انقلاب سمجھنے لگی ہیں۔نئی حکومت، نئے وزیر اعظم نئی کابینہ، سب کچھ جیسے پہلی بار ہوا ہے۔ اتنی خوبصورت حلف برداری تقریب خوب مہمان نوازی کہ جن سے دشمنی تھی ان سے دوستی ایک وزیر اعظم سے اور کیا چاہیے؟ جب حلف بھی نہیں گئی تھی کہ ایک بلاوے پر سارک آ گئے، جن میں پاکستان اور سری لنکا مہمان خصوصی کے کردار میں تھے۔ کیا کسی نے معلوم کرنے کی زحمت اٹھائی کہ آخر اتنا شاندار پروگرام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ نہ میڈیا نے نہ کسی ’عام ‘آدمی نے۔ آپ پارلیمنٹ میں بولے، آنسو بہائے، صدر بولے، ایم پی بولے سب نے سنا سب سے زیادہ دیکھالیکن اسی دوران کرناٹک کا منگلور، مہاراشٹرا کا پونے، ہریانہ کا میوات آپ کے فرقہ وارانہ جنگجوو ں کے عطاکردہ زخموں پر چیخ رہا تھا۔ وہ آواز نہ تو آپ کے کانوں میں پہنچی اور نہ ہی میڈیا کے۔ جبکہ آپ ہی کہہ رہے تھے کہ حکومت وہ ہو جو غربت کی سنے، غریبوں کیلئے کام کرے۔ کیا جس کا جوان بیٹا فرقہ وارانہ مظالم کی نذر جاتا ہوکیا اس سے بھی غریب خاندان کوئی ہو سکتا ہے؟ ہماچل میں مرنے والے طالب علموں کو پارلیمنٹ میں خراج عقیدت پیش کیا گیالیکن پونے میں مرنے والے انجینئر محسن صادق شیخ کیلئے پارلیمنٹ میں ایک جملہ بھی کسی کی زبان سے نہیں نکلا۔ ہندو راشٹر سینا کے انتہا پسندوں نے مہاراشٹر کے شہر پونے میں اس نوجوان شہری کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ قتل سے پہلے انہوں نے مسلم نظر آنے والے کئی اور لوگوں کو نشانہ بنایا تھا اور ان کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔ نوجوان کے قتل کے بعد انتہا پسندوں نے مراٹھی زبان میں ایس ایم ایس پیغامات میں لکھا تھا ’ایک وکٹ گر گیا‘۔اس واقعہ سے پہلے کسی نامعلوم شخص نے فیس بک پر شیو سینا کے آنجہانی رہنما بال ٹھاکرے اور دور وسطیٰ کے ایک مراٹھا راجا شیوا جی کی ایک ہتک آمیزتصویر شائع کی تھی۔ ہندو راشٹر کے کارکن اسی کے جواب میں مسلمانوں پر حملہ کر رہے تھے۔ حالانکہ ابھی تک کسی کو نہیں معلوم کہ فیس بک پر یہ تصویر کس نے پوسٹ کی تھی۔پونے کے بی جے پی کے رکن پارلیمان نے مسلم نوجوان کے خوفناک قتل پر کہا کہ ’فیس بک پر شیوا جی کی ہتک آمیز پوسٹ پر یہ ایک فطری رد عمل تھا۔‘اسی ہفتہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ ایک تنظیم کی شکایت پر ملک کے ایک سرکردہ پبلشر نے ’مذہبی فسادات کے دوران جنسی تشد د‘ نام کی ایک کتاب کی فروخت اور اس کی مزید اشاعت بند کر دی۔ یہ دوسرا موقع ہے جب اس تنظیم کے خوف سے کسی پبلشر نے کسی کتاب پر پابندی عائدکی۔ملک میں ان واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔آخر کیوں کیا صرف اس لئے کہ ہماچل میں جو ہوا وہ ایک حادثہ تھا اور جو پونے میں ہوا وہ آپ کی طرف سے پالے گئے غنڈوں کے کرتوت ہیں جس پر سر شرم سے جھکتا۔ کیا ایسی ہی ترقی کے نعرے دئے تھے آپ نے؟ کیا یہ وہی ماڈل نہیں جسے گجرات میں اپنایا گیا اور اب مرکز کی باری ہے؟

قول فعل میں تضاد:
تصویر کا دوسرا پہلوقطعی برعکس ہے۔ انتخاب جیتنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر کام کرنا شروع کر دیا۔اپنے بیس دن کی حکومت میں مودی حکومت نے کام کرنے کا طریقہ بدل دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اپوزیشن کو مودی کے کسی وزیر کا استعفی مانگنے کا 3بار موقع مل چکا ہے۔ اعلیٰ اہلکاروں سے کہاگیا ہے کہ وہ براہ راست وزیر اعظم سے مل سکتے ہیں۔اور انہیں اپنے کام میں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔مودی نے اپنی جماعت کے ارکان پارلیمان سے کہا کہ وہ بلاوجہ ادھر ادھر اپنی توانائی برباد کرنے کے اپنی توجہ صرف اپنے حلقہ کی ترقی پر مرکوز کریں اور حکومت کو کا اپنا کام کرنے دیں۔تمام وزیروں کو ان کے اہدف دے دئے گئے ہیں جو انہیں 3 مہینے میں پورے کرنے ہیں۔ کئی اہم پالیسی فیصلوں کا اعلان ہو چکا ہے۔کابینہ کی کئی میٹنگیں ہو چکی ہیں۔مودی آئندہ ہفتے بھوٹان کے دورے پر ہوں گے۔ وزیر خارجہ بنگلہ دیش جا رہی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹروں کی ملاقات ہونے والی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں چین کے وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ دلی آئے۔جاپان کے وزیر خزانہ بھی دلی آنے والے ہیں۔ امریکہ کے صدر سے مودی کی ملاقات کی تاریخ طے کی جا رہی ہے۔ مودی نے حکومت کو اتنے تیزگیئر میں رکھا ہے کہ ان کے بہت سے ساتھیون کو اپنی روش بدلنی پڑے گی۔وزیر اعظم مودی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کی حکومت کی ساری توجہ ترقی کے ایجنڈے پر مرکوز ہے جبکہ وہ ہر ہفتے ساری وزارتوں کے کام کاج کا جائزہ خود لیں گے۔یہ الگ بات ہے کہ مودی حکومت نے ابھی تک پونے میںمحسن صادق شیخ کے قتل اور کتابوں پر پابندی جیسے اہم سوالوں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ پارلیامنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں صدر مملکت پرنب مکرجی مودی حکومت کی پالیسیوں کا خاکہ بھی پیش کردیا جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت عدم رواداری اور مذہبی منافرت کے کلچر کی مذمت ہو گی۔عجیب بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی کو اچھی طرح علم ہے کہ مذہی منافرت، کتابوں پر پابندی اور فسادات صرف جمہوریت کے ہی منافی نہیں ہیںبلکہ یہ ترقی کے ان کے ایجنڈہ سے بھی قطعی مطابقت نہیں رکھتی۔

اجزائے ترکیبی:
مکمل دیانتداری، بھروسہ مندی، منصف مزاجی، مضبوط کردار اور اعلیٰ اخلاقی کردار۔ ان سب کو مجتمع کیا جائے تو حاصل کیا ہوگا؟اس کا سیدھا سے جواب ہے ‘راست بازی !سوال یہ پیدا ہوتا کہ یہ حاصل کیسے ہو؟غنیمت ہے کہ ماہرین نے چندایسے نکات پیش کئے ہیںجن پر عمل کرکے راست بازی حاصل کی جا سکتی
٭لیڈرکو چاہئے کہ وہ اپنے اختیار کو اپنی جماعت کے مقاصد کے حصول یا اپنے رفقاکی بہبود کیلئے ضرور استعمال کرے، اپنے ذاتی فائدے کیلئے نہیں۔
 ٭ جس بات اور جس چیز پرلیڈرپختہ یقین رکھتے ہوں، اس سے کبھی ہٹیں نہیں خواہ دوسرے اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔
٭ اپنے حکام اور اپنے ماتحتوں کے سامنے ہمیشہ سچ بولیں۔

کیسے جانچیں اور پرکھیں؟
جانچ اور پرکھ سے مراد ہے حقائق کو منطق کے ترازو میں تولنے، ہر ممکنہ حل پر غور و فکر اوردرست فیصلے کرنے کی اہلیت۔ اس میں عقل سلیم یعنی کامن سنس اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس خصوصیت کو اجاگر کرنے کیلئے آپ مندرجہ ذیل نکات پر عمل کر سکتے ہیں۔ ٭ کسی بات پر شک و شبہ کا شکار ہونے کی صورت میں کسی اچھے مشیر سے مشورہ طلب کریں۔
٭ صورتحال کو دوسرے فریق کے نکتہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں۔
٭ وقتی اضطراری کیفیت کے تحت کبھی فیصلہ نہ کریں۔ جو کچھ بھی کریں، اس کے ممکنہ اثرات کے متعلق پہلے اچھی طرح سوچ لیں۔ رچرڈ نکسن اپنی کتاب ’لیڈرز‘ میں لکھتے ہیںکہ’جو خصوصیات ایک بڑے لیڈر کو چھوٹے لیڈروں سے ممتاز بناتی ہیں، وہ یہ ہیں۔ بڑا لیڈر زیادہ پ ±راثر ہوتا ہے، زیادہ مو ¿ثر انداز میں کام کر سکتا ہے اور اس کے پاس معاملات کو جانچنے اور پرکھنے کی وہ اہلیت ہوتی ہے جو اسے مہلک غلطیوں سے محفوظ رکھتی ہے اور اسے آنے والے مواقع کو پہچاننے کے قابل بناتی ہے۔‘

صورتحال کا درست تجزیہ:
 جب مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے برصغیر پر حملہ کیا اور اس وقت کے سلطانِ ہند ابراہیم لودھی کے مدمقابل ہوا تو اس وقت بابر کی افواج، ابراہیم لودھی کی افواج کے مقابلہ میں بہت کم تھیں لیکن بابر بذاتِ خود فنونِ حرب میں ماہر تھا۔ میدانِ جنگ میں اس نے اپنی کسر کو پورا کرتے ہوئے اپنی جانچنے اور پرکھنے کی اہلیت کو صورتِ حال کا تجزیہ کرنے کیلئے استعمال کیا۔ اس نے اپنی فوج کو اس انداز میں پھیلایا کہ وہ اپنی حقیقی تعداد سے کہیں زیادہ نظر آنے لگی اور انہیں اطراف سے محفوظ آڑ بھی میسر رہی۔ جنگی حکمت عملی کے طور پر بابر نے لودھی کے ہاتھیوں کو نشانہ بنایا جو زنجیروں کے ذریعہ نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے بلکہ بابر کی فوج کے گھوڑوں کو خوفزدہ کر رہے تھے۔ بابر نے اپنی قوت کا زیادہ تر حصہ ہاتھیوں کو ہراساں کرنے پر استعمال کیا اور نتیجہ کے طورپر ہاتھیوں نے بے قابو ہو کر اپنی ہی فوجوں کو کچل دیا۔ انجام کار بابر فتح یاب ٹھہرا اور شہنشاہ ہند بن گیا۔ سیاست میں بھی صورتحال کا درست تجزیہ کرنا اور اسے سمجھنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ احتجاج، جلوس اور عوامی اجلاس کے انعقاد کیلئے صورتِ حال کا درست تجزیہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ جن افراد سے آپ ملتے ہیں، جن معاملات کو آپ ہینڈل کرتے ہیں اور جن صورتِ حالات سے آپ کا سابقہ پڑتا ہے، ان کا درست تجزیہ کرنا، انہیں جانچنا، ان کے تمام پہلو?ں کا جائزہ لینا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ درست اندازہ لگانا اور فیصلہ کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ لیکن مختلف تجربات سے گزرنے کے بعد ایسے اندازے بتدریج لگانے کی اہلیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ رچرڈ نکسن ’لیڈرز‘ میں چرچل کے متعلق لکھتے ہیںکہ’اپنے مقاصد اور اہداف کے درست ہونے کے متعلق اس کے اندازے اکثر درست ہوا کرتے تھے، اور یہ اس کی خوش نصیبی تھی کہ وہ اس وقت تک زندہ رہا جب اس کے ملک کو اس تجربے اور قیادت کی ضرورت پڑی جو اس وقت یعنی 1940کے دوران صرف وہی فراہم کر سکتا تھا۔‘

کہاں گئی وفاداری؟
وفاداری نام ہے اپنے اصولوں، اپنے ملک، اپنی جماعت، اپنے حکام اور اپنے ماتحتوں کے اعتماد پر ہمیشہ پورا اترنا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ ایک ’یس مین‘ بن کر رہ جائیں۔ مورٹن کے پبلک پالیسی پراسیس کے 21 ویں قانون کا کہنا ہے کہ’وفاداری کا ایک اونس ہوشیاری کے ایک پاونڈ سے بہتر ہے۔‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاداری کی صفت کن نکات پر عمل پیرا ہو کے حاصل کی جا سکتی ہے؟
 ٭ اپنے جماعتی مسائل اور رفقائے کار کے مسائل کے متعلق صرف ان لوگوں کے ساتھ گفتگو کریں جو ان مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ غیرمتعلقہ لوگوں کے ساتھ ایسی کوئی بات نہ کریں۔
 ٭ اگرلیڈر کی جماعت یا اس کے ارکان کو غیرمنصفانہ نکتہ چینی اور حملوں کا نشانہ بنایا جائے تو ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں۔
 ٭ وفاداری ایک دو رویہ راستہ ہے۔ اپنے حکام اور اپنے ماتحت، دونوں کے ساتھ وفادار رہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ’جنہوں نے اپنی وفاداری ثابت کر دی ہو ان پر اعتماد کرو۔ جو بے وفائی کے مرتکب ہو چکے ہوں، ان پر اعتماد کرو‘ نہ ان کی تائید و حمایت کا یقین رکھو۔‘مضبوط لیڈر شپ کیلئے وفاداری ایک اہم عنصر اور ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ مذہبی اور روحانی قائدین کو بھی اس کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان کی دعا?ں کے صلے میں مذہب اور سلطنت کو پھیلانے اور بڑھانے کے مشکل فریضے کی انجام دہی کیلئے وفادار اور قابل اعتماد ساتھی عطا ہوئے۔ ان کی دعا?ں کے نتیجہ میں ان کے بہادر چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور چند دوسرے وفادار دوستوں نے اسلام قبول کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت اور اسلامی عقائد، دونوں حیرت انگیز طور پر تیزی سے پھیلے۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ بے وفا اور ناقابل اعتماد ساتھی بڑی بڑی سلطنتوں کے زوال کا سبب بنے۔ ’بروٹس، تم بھی۔‘وہ تاریخی جملہ ہے جو جولیس سیزر کے ہونٹوں سے اس وقت نکلا جب اس کے وفادار دوست نے اس پر خنجر سے وار کیا۔ ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی عظیم الشان سلطنت کا سقوط خلیفہ کے وزیراعظم کی غداری کے سبب ممکن ہو سکا۔ سیاہ فام غلام یاقوت نے رضیہ سلطانہ کی خاطر اپنی جان قربان کی۔ چندرگپت موریہ اور چانکیہ کوٹلیہ کے مابین وفادارانہ تعلق نے برصغیر ہند‘ پاک میں پہلی بڑی مرکزی سلطنت کا قیام ممکن بنایا۔ انگریزوں کے ہاتھوں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ساتھیوں کی غداریوں اور سازشوں کے باعث ہواجبکہ میر جعفر کی غداری نے سراج الدولہ کو شکست سے دوچار کروایا، ہندوستان کی تاریخ میں غداری اور بے وفائی کی علامت بن چکا ہے۔ ٹیپو سلطان کو اس کے قریبی ساتھی میرصادق کی غداری نے شہید کرایا۔ محفوظ تاریخ میں سے یہ چند مثالیں یہ ثابت کرنے کیلئے پیش کی گئی ہیں کہ لیڈروں کی زندگی میں وفادار دوست قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔’تاریخ عالم کی جھلکیاں‘اندرا کے نام خط 8 مئی 1932میں نہرو لکھتے ہیںکہ’ایک سپاہی کا سب سے عمدہ جوہر اپنے سالار اور اپنے ساتھیوں سے وفاداری ہے… اپنے ساتھیوں یا اپنے نصب العین سے وفادار رہنا یقینا ایک قابل قدر صفت ہے۔‘
ایس اے ساگر

Login to post comments