Print this page

ملبے کے مالک والی ذہنیت کے شکار کانگریسی

خرداد 31, 1393 660
Rate this item
(0 votes)

دسمبر 2013 میں ہوئے دہلی اسمبلی کے انتخابات میں ایک سیاسی طاقت بن کر ابھری عام آدمی پارٹی سے ملک کے مستقبل

سیاست کو سمت مل سکتی ہے. انتخابات میں بھاری شکست کے بعد کانگریس میں ایسا ماحول ہے جو حکمراں پارٹی پر سوال نہیں اٹھا سکتی. ملک کی سیاست کی ضرورت ہے کہ اب عوام راج کرنے والی پارٹیوں سے مشکل سوالات پوچھے. عوام کی طرف سے سوال پوچھنے کا کام اب تک کمیونسٹ پارٹیاں کرتی رہی ہیں لیکن کمیونسٹ پارٹیوں کی سیاسی حیثیت بہت کم ہو جانے کے بعد حالات بدل گئے ہیں. سکون کی بات یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کے طور پر ایک ایسی پارٹی سیاسی میدان میں تیار ہے جو دونوں ہی بڑی پارٹیوں سے مشکل سوال پوچھ رہی ہے. اس بات کے پورے امکان ہے کہ اب اسی طرح کے سوال پوچھے جائیں گے کیونکہ معلومات انقلاب اور عام آدمی پارٹی کے عروج نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ اب مشکل سوال پوچھنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے. بدعنوانی کے طرز عمل کو اپنی قسمت مان چکی سیاسی پارٹیوں کے درمیان سے عام آدمی پارٹی کا عروج ایک ایسا واقعہ ہے جس کے بعد لوگوں کو لگنے لگا ہے کہ اس ملک میں کنبہ پروری اور من مانی کی سیاسی قوتوں کو روکا جا سکتا ہے. یہ الگ بات ہے کہ عام آدمی پارٹی میں بھی آج کل بہت اٹھاپٹک چل رہی ہے. کہیں کوئی ناراض ہے تو کہیں ایسے لوگ پارٹی چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں جو دہلی اسمبلی میں اچھے مظاہرہ کے بعد اس پارٹی سے اس لئے جڑ گئے تھے کہ کچھ دھندہ پانی چلے گا لیکن پارٹی میں عبوری جمہوریت زبردست ہے اس لئے باتیں صاف ہوتی نظر آ رہی ہیں.

کانگریس میں لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد عجیب ماحول ہے. اعلی کمان کلچر متائثر پارٹی سے کسی سیاسی لڑائی کی توقع کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے کیونکہ اب بھی ایسے لوگوں کی برتری بنی ہوئی ہے جو پارٹی کی بری طرح سے ہوئی شکست کے بعد بھی کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہے. جو بھی پارٹی بچی ہے اس پر قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش چل رہی ہے. پارٹی کے رہنماؤں تک رسائی رکھنے والے 24 اکبر روڈ کے حاکم لوگ، نئے طریقہ کی سوچ کا کوئی موقع اعلی کمان تک نہیں پہنچنے دینا چاہتے ہیں. عجیب ذہنیت ہے. لگتا ہے کہ کچھ نیا تعمیر کرنے کی خواہش ہی نہیں ہیں، تمام ملبے کے مالک والی ذہنیت کا شکار ہیں. لیکن دہلی میں کانگریس اور بی جے پی کو چیلنج کرنے والی عام آدمی پارٹی سے امید کی جانی چاہئے.

گزشتہ ایک ہفتہ میں ایسے بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں سے بات چیت ہوئی ہے جو کہتے ہیں کہ یہ پارٹی چل نہیں پائیگی یا کہ اس میں ایسے لیڈر نہیں ہے جو صاف سمجھ کے ساتھ سیاست کو سمت دے سکیں. ان باتوں کا کوئی مطلب نہیں ہے. ایک تو یہ بات ہی بے مطلب ہے کہ عام آدمی پارٹی میں صحیح سیاسی سوچ کے لوگ نہیں ہے. ہم جانتے ہیں کہ وہاں کام کرنے والے، اروند کیجریوال، منیش سسودیا، پرشانت بھوشن، آنند کمار، یوگیندر یادو اور سنجے سنگھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس کے پہلے کئی بار قائم اقتدار کے خلاف جمہوری اقتدار کی بحالی کے لئے جدوجہد کی ہے اور ان کی سیاسی سمجھ کسی بھی راہل گاندھی یا نریندر مودی سے زیادہ ہے. اس لئے ان خدشوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہئے. لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس پارٹی کا جو اہم رول ہے اس میں اس نے اپنے آپ کو کھرا ثابت کر دیا ہے. قائم اقتدار کے دعویداروں کو چیلنج دے کر عام آدمی پارٹی اس بات کو پورے ملک میں ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ عوام کی طرف سے اگر صحیح سوال پوچھے جائیں تو سیاست کی ثقافت میں تبدیلی ممکن ہے.

حالانکہ کانگریس لوک سبھا 2014 میں بری طرح سے ہار گئی ہے لیکن اس کو ختم مان لینا کسی بھی سیاسی تجزیہ کے لئے جلدبازی ہوگی. حقیقت یہ ہے کہ حکمراں پارٹی کو چیلنج اب بھی کانگریس سے ہی ملے گا. بس کانگریس کو ایک بار اس ذہنیت کو اپنانا ہوگا جس میں ہاری ہوئی فوجیں ہتھیار ڈال کر بھاگ نہیں کھڑی ہوتیں بلکہ اپنے آپ  دوبارہ منظم کرتی ہیں. اعلی کمان کلچر کو چھوڑنا بھی پڑ سکتا ہے اور عام آدمی پارٹی کے سیاسی مہم کے طریقوں کو اپنانا پڑ سکتا ہے کیونکہ بنیادی طور پر وہ کانگریس کے ہی طریقے ہیں جو آزادی کے ابتدائی سترہ سال میں اپنائے جاتے رہے ہیں. جواہر لال نہرو کے جانے کے بعد کانگریس میں  سامراجی اور سرمایہ دارانہ طاقتوں کو موقع نظر آنے لگا تھا اور ایمرجنسی میں تو وہی طاقتیں کانگریس کی قسمت بن بیٹھی تھیں. نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی عوام دو پارٹیوں کی  سامراجی اور سرمایہ دارانہ سیاست کے درمیان پس رہی ہے. عام آدمی پارٹی نے ایک ایسی کھڑکی دے دی ہے جس کے راستے ملک کا عام آدمی قائم اقتدار کی دونوں کی پارٹیوں کو چیلنج کر سکتا ہے اور یہ کوئی معمولی کردار نہیں ہے. 1977 میں جس طرح سے عوام نے انتخابات لڑ کر ان لوگوں کو جتا دیا تھا جو قائم آمریت اقتدار کے خلاف الیکشن لڑ رہے تھے، اسی طرح اس بار دہلی اسمبلی میں عوام نے عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کو جتا کر یہ پیغام دے دیا ہے کہ اگر سیاسی گروپ کی نیت صاف ہو تو عوام کے پاس طاقت ہے اور وہ اپنے تبدیلی کے پیغام کو دینے کے لئے کسی بھی ایماندار گروپ کا ساتھ دے دیتی ہے اور تبدیلی کی آندھی کو رفتار دے دیتی ہے. 1977 میں آمریت افواج کے خلاف ہوئی جنگ میں جو نتائج نکلے ان کے اوپر اس دور کی ان پارٹیوں کے پست ہمت لیڈروں نے قبضہ کر لیا جو اندرا گاندھی کی طاقت کا لوہا مان کر ہتھیار ڈال چکے تھے. جنتا پارٹی کا قیام 1977 کے اس انتخاب کے بعد ہوا جس میں اندرا گاندھی اور سنجے گاندھی کی آمرانہ حکومت کو عوام شکست دے چکی تھی. لیکن عوام کے اس مہم کا وہ نتیجہ نہیں نکلا جس کی امید کی گئی تھی. جیل سے چھوٹ کر آئے رہنماؤں کو لگا کہ ان کی پارٹی کی مقبولیت اور ان کی اپنی سیاسی قابلیت کی وجہ سے 1977 کی انتخابی کامیابی ملی تھی. وہ لوگ بھی اقتدار سے ملنے والے کوٹہ پرمٹ کے فوائد کو سنبھالنے میں اسی طرح سے لگ گئے جیسے اس پارٹی کے لوگ کرتے تھے جس کو شکست دے کر وہ آئے تھے. نتیجہ یہ ہوا کہ دو سال کے اندر ہی جنتا پارٹی ٹوٹ گئی اور سب کچھ پھر سے پرانی سیاست کے حوالے ہو گیا اور سنجے گاندھی - اندرا گاندھی کی کانگریس پھر اقتدار میں واپس آ گئی. عام آدمی پارٹی کی مخالفت کر رہے بہت سے لوگ یہی بات یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں.

جنتا پارٹی کے تجربہ کو ناکامی کے طور پر پیش کرنے کی  دلیل میں غلطی ہے. 1977 میں جنتا پارٹی کی انتخابی کامیابی کسی سیاسی پارٹی کی کامیابی نہیں تھی. وہ تو ملک کے عوام کا غم و غصہ تھا جس نے آمریت کے خلاف ایک تحریک چلائی تھی. عوام کے پاس اپنی کوئی سیاسی پارٹی نہیں تھی، اس نے جن سنگھ، سسوپا، مسلم مجلس، بھارتی لوک دل،  سوتنتر پارٹی وغیرہ سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کو مجبور کر دیا تھا کہ اندرا گاندھی کے اقتدار کے خلاف سیاسی جنگ کی ان کی مہم میں سامنے آئیں. عوام کے پاس سیاسی پارٹی نہیں تھی لہذا جنتا پارٹی نام کا ایک نیا نام سیاست کے میدان میں ڈال دیا گیا اور اس طرح سے بغیر کسی تیاری کے جنتا پارٹی کا اعلان ہو گیا.

37 سال پرانی جنتا پارٹی کے حوالہ جات کا ذکر کرنے کا صرف یہ مطلب ہے کہ جب عوام طے کرتی ہے تو تبدیلی ناممکن نہیں رہ جاتی. عام آدمی پارٹی کے قیام کے وقت بھی ملک کے عوام عام طور پر بے سمتی کا شکار ہو چکی تھی. ملک میں دو بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں، کچھ ریاستوں میں بڑی قومی پارٹیاں تو نہیں ہیں لیکن وہاں کی مقامی پارٹیوں کے درمیان ساری سیاست سمٹ کر رہ گئی ہے. عوام کے سامنے کوئی متبادل نہیں ہے. اسے ناگ ناتھ اور سانپ ناتھ کے درمیان کسی کا انتخاب کرنا ہے لیکن دہلی اسمبلی کے انتخابات میں جس طرح سے عام آدمی پارٹی نے اختیار دیا تھا اس کے بعد پورے ملک میں سیاسی پارٹیوں کے درمیان سرگرمی صاف نظر آ رہی ہے. امید کی جانی چاہئے کہ اس کے بعد عوام کی ان خواہشات کو احترام ملے گا جس کے تحت وہ تبدیلی کر دینا چاہتی ہیں.

 گزشتہ 20 سال کی بھارت کی سیاست پر نظر ڈالیں تو صاف نظر آ جائے گا کہ جب تک ملک کے عاشق اور اقتصادی بدعنوانی کے مخالفین لوگ سیاسی عہدوں پر نہیں پہنچتے، ملک کا کوئی بھلا نہیں ہونے والا ہے.

اسی خلا کو بھرنے کی کوشش عام آدمی پارٹی نے کی ہے لیکن ان کا سیاسی معاشیات بہت گڈمڈ ہے. دسمبر 2013 میں صنعت کاروں کی ایک میٹنگ میں انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ  سرمایہ دارانہ سیاست کے حامی ہیں. اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ چاہ کر سرمایہ  داری کے لئے کام کریں گے اور اسی طرح سے ملک کا بھلا کریں گے جیسا ایسٹ انڈیا کمپنی، برطانوی سلطنت اور 1970 کے بعد کی باقی حکمراں پارٹیوں نے کیا ہے. صرف مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو کی سیاسی اہمیت کے دور میں ملک کے عام آدمی کے مفاد کی سیاست ہوئی ہے باقی تو چاہ کر سرمایہ کی خدمت ہی چل رہی. سیاسی ا ٹھا پٹک کی سیاست سے اگر عام آدمی پارٹی باہر نکل سکی تو ملک کے مستقبل سیاست میں عام آدمی کی شرکت کے لحاظ سے اہم ہو گا. اس کام میں ضروری نہیں ہے کہ اروند کیجریوال نے جو پارٹی بنائی ہے وہ جذبات کا ہراول دستہ بنے. کوئی بھی سیاسی گروپ جو عوام کی شرکت کی بات کرے گا وہی اصل میں اس ملک کے مستقبل سیاست کی سمت طے کرے گا. وہ گروپ کانگریس پارٹی بھی ہو سکتی ہے. لیکن اس کے لئے کانگریس کو اپنی آمرانہ سیاست کی روایت کو بالائے طاق  رکھناپڑے گا.
 شیش نارائن سنگھ

Login to post comments